دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے - حکیم آزاد انصاری

کاشفی

محفلین
غزل
(حکیم آزاد انصاری)

دلبرِ صد عشوہ زا مطلوب ہے
خوبصورت تر بلا مطلوب ہے

اہلِ دل ہوں، دلربا مطلوب ہے
بندہ بننا ہے خدا مطلوب ہے

بے وفا! کیا کہئیے، کیا مطلوب ہے
طاقتِ ترکِ وفا مطلوب ہے

اذن ہو تو عرضِ حالِ دل کروں
طبع ِ نازک کی رضا مطلوب ہے

اے وفا کے خبط! لےکچھ اور سُن
اب اُنہیں شکرِ جفا مطلوب ہے

او ستمگر!‌کچھ خطا ہو یا نہ ہو
اب بہر حالت سزا مطلوب ہے

پھر گرفتارِ غمِ حاجات ہوں
پھر کوئی حاجت رو ا مطلوب ہے

مضطر آیا ہوں، سکوں درکار ہے
درد لایا ہوں دوا مطلوب ہے

کچھ بھی ہو، اب میں ہوں اور تیری تلاش
کچھ بھی ہو، تیرا پتا مطلوب ہے

واہ اُس طالب کی قسمت، جو مدام
شاغِل تسبیح "یا مطلوب" ہے

اے ترے قربان!‌اب اتنی سُدھ کہاں
تو مِرا طالب ہے یا مطلوب ہے

شورِ فریادِ گدا ناحق نہیں
التفاتِ بادشاہ مطلوب ہے

شیخ! آپ اور حُبِّ زر سے یہ جہاد
ہو نہ ہو، کچھ فائدہ مطلوب ہے

رند ہیں اور بادہ و شاہد کا قحط
حضرتِ زاہد!‌دعا مطلوب ہے

پائے لنگِ فقر لے کر کیا کروں
بازوئے کشور کشا مطلوب ہے

قطعہ

حضرت ِ آزاد! جلد اُٹھئیے، اگر
منصبِ عزت فزا مطلوب ہے

یوں سنا ہے، بندگانِ شاہ کو
اک غلامِ باوفا مطلوب ہے
 

فرخ منظور

لائبریرین
عمدہ انتخاب ہے کاشفی صاحب۔ دو مصرعوں میں ٹائپو ہے ۔ ہو سکے تو درست کر دیجیے۔
کچھ بھی ہو، اب میں ہو
ں اور تیری تلاش

التفاتِ بادشا
ہ مطلوب ہے
 
Top