دعا زہراہ کا معاملہ - دعوتِ فکر

اکمل زیدی

محفلین

موضوع پیشِ نظر ہے امید ہے غالب اکثریت معاملے کی پوری جزیات سے واقف ہوگی مختصر طور پر یہ کے مبینہ طور پر ایک لڑکی دعا زہراہ اپنے گھر سے فرار ہوئی اور لاہور میں جا کر ظہیر نامی لڑکے سے نکاح کر لیا دکھنے میں بظاہر معاشرے کا یہ ایک عام سا واقعہ ہے اور اسطرح کی خبریں تواتر سے ہمارے سامنے آتی رہتی ہیں تو بظاہر کچھ خاص نہیں مگر کچھ باتوں نے بہرحال اسے ایک خاص نہج پر لیجانے میں کردار ادا کیا ہے لڑی کا مقصد خاص طور پر صرف ّٗ دعا زہراہ ّٗ کے معاملے کو ڈسکس نہیں کرنا اس پر آپ کو تفصیلی طور پر صرف ایک کلک پر سب کچھ بلکہ بہت کچھ مل جائے گا پورا سوشل میڈیا بھرا ہوا ہے یہاں ہم کیوں نہ ان کڑیوں پر بات کریں جو ہمارا مشترکہ مسئلہ ہے اور جس طرح اس سارے معاملے کو ہینڈل کیا گیا اور اب تک جس طرز عمل اختیار کیا جا رہا ہے قانونی طور پر کیا وہ کسی مہذب معاشرے کے قانونی نظام کی عکاسی کر رہا ہے؟ ماں باپ اور قانونی دستاویز کی حیثییت خود مشکوک نہیں بنا دی گئی؟ رشوت سے کیا کیا ہو سکتا ہے دو نمبر کام کتنا آسان ہے یہاں اور ہمارے یہاں اکثر جملہ بولا جاتا ہے ّٗ ارے یہ پاکستان ہے سب ہو سکتا ہے ّٗ کیا یہ سب صحیح ہے ؟ مان لیتے ہیں لڑکی کا ب فارم غلط ہے دستاویز میں عمر غلط ہے مگر شادی کو ہی ابھی سترہ سال ہوئے ہیں تو لڑکی بھی سترہ سال کی کیسے ہو سکتی ہے ؟ اسطرح کے قانون سے تو کسی گدھے کو بھی شیر ثابت کیا جا سکتا ہے کے رپورٹ یہ کہہ رہی ہے اور گدھا خود بھی کہہ رہا ہے کہ میں شیر ہوں ۔۔۔

آپ تمام احباب سے گذراش ہے کے اس موضوع پر اپنی قیمتی آراء خیال شیئر کریں یہ سمجھ کر نہیں کہ یہ صرف " دعا زہراہ" نامی لڑکی کا مسئلہ ہے بلکہ اس طور کے ؛

بچوں کو کس طرح تربیتی طور پر خود سے اٹیچڈ کیا جائے ایک ماں کا زیادہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد خصوصا بیٹی کی حرکات و سکنات سے با خبر رہے تو غلطی کہاں پر ہوئی ؟

پھر وہی بات کہ موبائیل اور دوسرے ذرائع کی بچوں کی رسائی کو کسطرح محفوظ بنایا جائے ؟

باپ کس طرح بچوں میں اعتماد پیدا کریں کہ بچے اُں سے بے خوفی سے اپنی بات کر سکیں .

چور چوری کرنے آیا چوری کر کے چلا گیا اب چور کو کوسا جائے یا اپنی غفلت پر بھی نظر کی جائے ؟۔

ہماری قانونی کمزوریاں کیا اسطرح کچھ بھی فیصلہ دیا جا سکتا ہے بچہ اگر قانونی طور پر مائنر ہے تو اس کا ولی باپ ہے۔

اور بہت ساری باتیں ہیں جو میں بیان نہیں کر سکا آپ کے ذہن میں بھی جو اس بارے میں ہے برائے مہربانی اس پر ڈسکس کیجیے یہ سوچ کر کے یہ ہم سب کا مسئلہ ہے کیونکہ ہم اسی معاشرے کا حصہ ہیں۔


کسی کو خاص طور پر ٹیگ نہیں کر رہا جو بھی اس پر جس نوعیت سے بات کرنا چاہے
 

زیک

تقریباً غائب
مان لیتے ہیں لڑکی کا ب فارم غلط ہے دستاویز میں عمر غلط ہے
اس طرح عمر چھوٹی لکھوانا پاکستان میں عام ہے۔
شادی کو ہی ابھی سترہ سال ہوئے ہیں تو لڑکی بھی سترہ سال کی کیسے ہو سکتی ہے ؟
ریڈیالوجسٹ کی رپورٹ میں جس وثوق سے عمر سولہ اور سترہ کے درمیان مگر سترہ کے قریب بیان کی گئی ہے ایسا یقین میڈیکل ٹیکنالوجی میں نہیں۔ ہڈیوں، دانتوں کے ایکسرے سے یا ڈی این اے کے ذریعہ عمر کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے اور 13 اور 17 سال کی عمر میں فرق کرنا ممکن ہے لیکن مہینوں کی ایکوریسی ناممکن۔
 

علی وقار

محفلین
بچوں کو کس طرح تربیتی طور پر خود سے اٹیچڈ کیا جائے ایک ماں کا زیادہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد خصوصا بیٹی کی حرکات و سکنات سے با خبر رہے تو غلطی کہاں پر ہوئی ؟

پھر وہی بات کہ موبائیل اور دوسرے ذرائع کی بچوں کی رسائی کو کسطرح محفوظ بنایا جائے ؟

باپ کس طرح بچوں میں اعتماد پیدا کریں کہ بچے اُں سے بے خوفی سے اپنی بات کر سکیں .

چور چوری کرنے آیا چوری کر کے چلا گیا اب چور کو کوسا جائے یا اپنی غفلت پر بھی نظر کی جائے ؟۔

ہماری قانونی کمزوریاں کیا اسطرح کچھ بھی فیصلہ دیا جا سکتا ہے بچہ اگر قانونی طور پر مائنر ہے تو اس کا ولی باپ ہے۔
میرے خیال میں قانون کے لحاظ سے اٹھارہ سال کی عمر میں لڑکی اس حوالے سے کوئی فیصلہ کرنے کی پوزیشن میں ہوتی ہے۔ بظاہر اس کیس میں لڑکی کی عمر چھپائی گئی ہے اور شاید وہ اٹھارہ برس کی ہی ہو سو اس صورت میں قانون و شریعت کے لحاظ سے دعا زہرہ کی شادی ہو گئی ہے اور اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو والدین کو یہ فیصلہ قبول کرنا ہو گا۔ جہاں تک یہ معاملہ ہے کہ آیا دعا نے غلط فیصلہ کیا ہے یا درست تو اس حوالے سے عرض ہے کہ بظاہر والدین کو اعتماد میں لیے بغیر زندگی سے متعلق اتنا بڑا فیصلہ غیر معقول ضرور ہے، مگر قانون و شریعت کے مطابق اسے جیون ساتھی کے انتخاب کا حق حاصل ہے۔ کورٹ میں بھی دعا زہرہ یہ بیان دے چکی ہے کہ وہ شوہر کے ساتھ ہی رہنا چاہتی ہے سو اس سے تو یہی لگتا ہے کہ اس شادی میں اس کی رضامندی شامل ہے۔ اسے میں اخلاقی زوال تصور کروں گا کہ والدین کو شادی سے متعلق آگاہ ہی نہ کیا جائے مگر بات پھر وہی ہے کہ جہاں معاملہ قانون کا آ جائے تو پھر قانون تو ہوتا ہی اس لیے ہے کہ اس کے مطابق ہی چلا جائے۔ والدین کو بھی چاہیے کہ بچوں پر نگاہ رکھیں اور انہیں بالخصوص ٹین ایج میں اچھے برے میں تمیز سکھائی جائے اور اس کے بعد بھی اولاد کوئی فیصلہ کرے تو اس میں والدین کا کوئی قصور نہیں۔ بچوں کی تربیت میں اساتذہ، معاشرے، دوست احباب، اور میڈیا کا بھی ہاتھ ہے۔ اس کے علاوہ بسا اوقات ایسی شادیاں بلیک میلنگ کا بھی نتیجہ ہوتی ہیں۔ ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ معاملے کا ڈراپ سین ابھی ہوا نہیں۔
 

سیما علی

لائبریرین
بچوں کو کس طرح تربیتی طور پر خود سے اٹیچڈ کیا جائے ایک ماں کا زیادہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد خصوصا بیٹی کی حرکات و سکنات سے با خبر رہے تو غلطی کہاں پر ہوئی ؟
بچوں کی غلطیاں ماں باپ کے لئے زیادہ بڑے صدمہ اور بدنامی کا سبب بنتی ہیں۔ خصوصا ً نوعمری کے مرحلہ میں لڑکیوں کو سنبھالنا بہت صبر آزما کام ہے ۔ یہ ہر زمانے میں والدین خاص طور پر ماں کے لئے بہت چیلنجنگ رہا ۔۔ہر وقت آپکو اُنکے دوست احباب پر نظر رکھنا ضروری ہے ۔اُنکی غیر معمولی حرکات سکنات پر نظر رکھنا اور وہ بھی اس طرح کہ اُنکو بُرا نہ محسوس۔ ہو !یہ عمر کا نازک دور ہوتا ہے ۔چھوٹی چھوٹی باتوں پر جذباتی ہوجاتے ہیں بچے ۔ماں کو اپنے بچوں کے ساتھ دوستانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔کیونکہ جب آپ اُنکے دوست بن جاتے ہیں تو انکا ڈر کسی حد تک کم ہوجاتا ہے اور وہ آسانی سے آپ کے ساتھ باتیں شئیر کر سکتے ہیں ۔۔اسی لڑکوں سے بھی آپکو اپنا رویہ نرم رکھنا ہے ۔وقت بہت بدل چکا ہے ۔ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مختلف ہیں ۔ ہمارے گھروں میں ایسا نہیں ہوسکتا۔پر ایسا نہیں ہے ۔سوشل میڈیا کے طوفان کی زد سے شاید ہی کوئی گھر بچا ہو۔۔۔اُنکے دوستوں کے بھی دوست بن کے رہنا ہے تاکہ آپ اُنکے بارے میں جان سکیں ۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
پھر وہی بات کہ موبائیل اور دوسرے ذرائع کی بچوں کی رسائی کو کسطرح محفوظ بنایا جائے ؟
ڈیجیٹل آلات کے حد سے بڑھتے استعمال کو روکنا پھر نظر رکھنا بہت ضروری ہے !!!!یہ آلات بچوں کو اصلی زندگی سے دور لے جارہے ہیں ۔۔ایک عرصے سے ویڈیو گیمز نے اُنکی زندگیوں کو آن لائن چیزوں تک محدود کردیا ہے ۔۔۔اور اپنی اردگرد کی دنیا سے بے خبر ہیں ۔۔یہ ایک ایسا سحر ہے جس نے سب کو جکڑا ہوا ہے ۔۔ہم اس کو مان لیں کہ ہم صرف اسے کم کروا سکتے ہیں پر کیونکہ اُنکی تعلیم کرونا کے دونوں میں انہی آلات کی بدولت جاری رہی ۔۔ضرورت ہے چیک اینڈ بیلینس کی ۔۔۔ اس دور کے بچے بہت ذہین ہیں کیونکہ آنکھ کھولتے ہی اُنکا واسطہ ان آلات سے ہوتا ہے ۔۔۔پہلے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ نئی پَود کا دماغ گزشتہ نسلوں سے قطعاً مختلف ہے۔۔ڈیجیٹل ایجادات کی افادیت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا پر بچوں پر نظر ضرور رکھی جاسکتی ہے ۔۔۔بچوں کو کھل کر ان کے فوائد اور نقصان بتائیں !!
 
انتہائی ادب کے ساتھ جس دِن دُعا زہرا یا دُعائے زہرا مبینہ طور پر اغواء ہوئی اور اُس کے ماں باپ قومی ٹی وی چینلز پر نظر آئے۔ تو میں نے اُس کی ماں کو پہلی نظر میں دیکھ کر کہا کہ اُن سے بچوں کی پرورش میں غلطی ہوئی ہوگی۔ آپ پوچھیں گے کہ کیوں؟ تو اُن کی والدہ کے کان میں تین چھید تھے اور تینوں میں ٹاپس وغیرہ لگے تھے۔ جو کہ میرے خیال میں غلط بالکل بھی نہیں ہے۔ مگر جوان بچیوں کی والدہ کو اُن کے لیے رول ماڈل بننا ہوتا ہے۔ بچے اپنی بالکل بھی نہیں کرتے بلکہ بچے ہم بڑوں کو دیکھ کر تقلید کرتے ہیں۔ جب والدہ محترمہ کو اتنا وقت کثرت سے میسر تھا کہ وہ اپنی بالیوں کانوں اور فیشن پر توجہ دے سکیں۔ اور اگر ایسا ہوا تو ظاہری بات ہے کہ بچوں کو وقت نہیں دیا گیا‘ چنانچہ بچی کے پاس بھی بہت وقت تھا کہ ماں اُسے وقت نہ دے تو وہ انٹرنیٹ یا موبائل کے ذریعے اپنا وقت برباد کرے۔ اور پھر نتیجہ اُس بچی کے والدین سمیت ساری قوم نے دیکھ لیا کہ کیسے ماں باپ اور خاندان کی عزتوں کو روند کر ایک بچی جو کہ مبینہ طور پر چودہ سال کی ہے (اور میرے خیال میں میڈیکل ٹیسٹ والےحضرات خواہ مخواہ بچی کو فائدہ دینے کے لیے زیادہ عمر بتا رہے ہیں) وہ ماں باپ کی ساری عمر کی محنت اور محبت کو یکسر نظر انداز کرکے چھٹانک بھر کی موبائل محبت کو دِل دے بیٹھی۔ میرے خیال میں باپ سے زیادہ ماں کو بچیوں کے قریب ہونا چاہیے بالکل سہیلیوں کی طرح۔ اگر ایسا کوئی کیس ہو جو اس بچی کے ساتھ ہوا تو ماں اُسے سمجھائے کہ یہ ٹین ایجز کے چونچلے ہیں‘ عملی زندگی اس سے کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے۔ میرے خیال میں نہ تو وہ بچہ اس قابل ہے کہ کما کر دُعائے زہرا کو کھلا سکے اور نہ وہ عمر اور میچورٹی کے لحاظ سے اتنا قابل ہے کہ دیگر ذمہ داریاں بطریق احسن ادا کر سکے۔ آج کل کے والدین اپنے بچوں کو ٹیبلٹ‘ موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچوں کو مطلوبہ آسائشات مہیا کر دی ہیں مگر یہ دراصل اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کو دلدل میں دھکیل رہے ہوتے ہیں۔
میں نے ایک والد کو تیرہ سال کے اکلوتے بیٹے کو ہونڈا 125 لے کر دیتےدیکھا‘ خاندان والوں اور دیگر جاننے والوں نے بہتیرا سمجھایا کہ میاں یہ عمر نہیں ہے کہ تیرہ سال کے بچے کو اتنی ہیوی بائیک دے دی جائے۔ مگر والد صاحب کا خیال تھا کہ ایسا مشورہ دینے والے میرے بچے کو دیکھ نہیں سکتے اور حسد کے مارے ایسا کہہ رہے ہیں کیونکہ وہ اپنے بچوں کو ایسی بائیک نہیں دے سکتے اور شاید اُن کو یہ خطرہ ہو کہ میرے کم عمر بیٹے کے پاس ایسی شاندار بائیک دیکھ کر اُن کے بچے بھی اپنے والدین سے بائیک کی فرمائشیں کرنے لگ جائیں گے۔
اور پھر میں نے مشورے دینے والوں سمیت دیکھا کہ وہ بچہ ہائی وے پر بائیک کی ریس لگاتے ہوئے ٹرالے سے ایکسیڈنٹ کر بیٹھا۔ باپ کی اپنے بچے سے بے لوث محبت تو جیت گئی لیکن بچہ اپنی زندگی کی بازی ہار گیا۔ لہٰذا بھائیو اور بہنو ! زمانہ بہت نازک ہے‘ ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑے گا۔
وما علینا الا البلغ المبین
 
السلام علیکم
دعاء زہرا کیس کے متعلق سوال بہت سے ہیں لیکن ان سوالات کا تعلق جہاں لوگ تربیت سے بنا کر والدین کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں ، وہیں ایسے ساتھیوں کی بھی کمی نہیں ہے جو موبائیل کی لت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ سوال کیا جاتا ہے کہ جی لڑکی کی عمر کیا ہے چودہ برس؟ نہیں نہیں اٹھارہ برس؟ نہیں نہیں سولہ سترہ برس ؟ نہیں نہیں سولہ برس سے زیادہ سترہ برس کے قریب۔ کم عمر ہے تو والدین کو حق ہے فیصلہ کرنے کا ، نہیں نہیں عمر کم ہے تو بھی والدین دخل نہیں دے سکتے، نہیں نہیں والدین ہی ہٹلر بن گئے ہونگے، نہیں نہیں لڑکی کو ورغلایا گیا ہے، نہیں نہیں دونوں کا چکر تھا ۔ یہ سب باتیں غیر متعلقہ بھی کہلائی جا سکتی ہیں اور نفس الموضوع بھی۔

ایک خود ساختہ سی کہانی سناتا ہوں جس کی کسی سے بھی مشابہت اتفاقی ہوسکتی ہے۔

لیلیٰ کے والدین کی شادی جنوری 2005 میں ہوتی ہے۔ اکتوبر میں لیلیٰ پیدا ہو جاتی ہے ۔ رشتہ دار کہتے ہیں تھوڑا ٹھہر جاتے ہیں لڑکیوں کی عمر کم ہی اچھی ہوتی ہے ۔ سال دو سال بعد پیدائش رجسٹر کروا کر بچی بڑی ہوتی ہے تو گھر میں ہونے والے معاملات ، سختی، پسند نا پسند ، چھوٹے چھوٹے مسائل سے تنگ آ کر وہ گھر سے نکل جاتی ہے۔ کوئی مقصد سامنے نہیں ہوتا پنجاب پہنچ جاتی ہے۔ غلط لوگوں کی نظر پڑ جاتی ہے وہ اسے ساتھ رکھ لیتے ہیں۔ علاقے کا ایک طرح دار زمیندار دیکھ لیتا ہے ان کے چنگل سے نکال کر اپنی بیٹی بنا لیتا ہے۔ لڑکی کے والدین شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہماری نوعمر لڑکی جس کی عمر 14 سال ہے اغوا ہو گئی ہے۔ میڈیا میں موجود ہم خیال لوگ اس بات کو قومی سطح پر اٹھاتے ہیں اور یہ مسئلہ میڈیا پر ہائی لائیٹ ہو جاتا ہے ۔ شور مچ جاتا ہے لڑکے کا باپ لڑکی کو پوچھتا ہے وہ کہتی ہے مر جاؤں گی واپس نہیں جاؤں گی میں جانتی ہوں میرے گھر والے میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ صورت حال دیکھ کر زمیندار اپنے بیٹے سے اس لڑکی کا نکاح کر دیتا ہے۔ لیکن اس دوران وکیل کا مشورہ پیش نظر رکھ کو قانونی ضرورتیں بھی پوری کر دیتا ہے۔ لڑکی کا نکاح ہو جاتا ہے اور اسے نیا گھر مل جاتا ہے دوسری طرف لڑکی کے والدین میڈیا دوستوں کے ذریعے پریشر بنا لیتے ہیں۔ جس کے تحت صوبے کا آئی جی تک اپنی نوکری کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ آخر لڑکی کا ویڈیو بیان سامنے آتا ہے جس میں وہ اپنی شادی کا اعلان کرتی ہے۔ پنجاب پولیس اسے تلاش کر کے اسکے گھر جاتی ہے ۔لڑکی کو ملتی ہے تو دیکھتی ہے کہ لڑکی نہ گفتگو میں ، نہ جسمانی ساخت میں ، نہ ذہنی طور پر یعنی کسی طرح سے بھی چودہ برس کی نہیں لگتی اور لڑکی کا اپنا بیان بھی یہی ہے کہ وہ چودہ نہیں بلکہ سولہ برس سے زیادہ اور سترہ برس کے قریب ہے (نکاح نامہ پر تقریباً سترہ برس لکھا ہے) اب تمام صورت حال میں وہ لڑکی کا بیان لے کر عدالت میں جمع کروا دیتے ہیں ۔ میڈیا شور مچا رہا ہے کہ لڑکی چودہ برس کی ہے۔ معاملہ سنجیدہ ہے لہذا پنجاب کی عدالت عالیہ ہائی کورٹ صاحب بہادر لڑکی لڑکے کو بمع نکاح خواں اور گواہان کے طلب کر لیتی ہے۔اور حالات و واقعات اور لڑکی کے بیانات اور اس کی جسمانی، ذہنی، دماغی ساخت و ردعمل کی بنیاد پر سمجھ کر کہ لڑکی کی عمر کے معاملے میں میڈیا پر غلط بیانی ہو رہی ہے ۔ لڑکی کی مرضی کے مطابق اسے اپنے خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیتی ہے۔ اس دوران سندھ میں بھی عدالت عالیہ ہائی کورٹ صاحب بہادر ازخود نوٹس لے کر پولیس کو حکم دیتے ہیں کہ لڑکی کو برآمد کر کے پیش کیا جائے۔ پراسیس میں وقت لگ جاتا ہے ۔ میڈیا میں موجود دوست احباب کے دباؤ میں عدالت آئی جی سندھ کی نوکری کھا جانے کی دھمکی دیتی ہے اور پھر آخر کار پنجاب پولیس سے مدد مانگ کر سندھ پولیس لڑکی لڑکے اور نکاح خواں بمعہ گواہان کے سندھ کی عدالت عالیہ ہائی کورٹ صاحب بہادر میں پیش کرتے ہیں۔ عدالت لڑکی کی جسمانی حالت دیکھ کر اس سے گفتگو کر کے پھر بھی اسے احتیاطا دو وجوہات سے دارالامان بھیجتی ہے پہلی یہ کہ اگر یہ لڑکی کسی دباؤ میں ہے تو اس کے اثر سے نکل جائے دوسری اس کا طبی معائینہ کیا جا سکے کہ اس کی عمر کیا ہے ۔اس دوران نکاح خواں ، گواہان اور لڑکا سب حوالات میں رکھے جاتے ہیں جہاں اثرو رسوخ سے پہلے نکاح خواں کو نکاح رجسٹر نہ کروانے کا مجرم کہا جاتا ہے پھر آخر اسے اس بات پر راضی کر لیا جاتا ہے کہ وہ نکاح کروانے سے ہی مکر جائے۔دوسری طرف ایک اور گواہ کو یہ کہہ کر اپنی گواہی سے انکاری کر دیا جاتا ہے کہ نکاح خواں ہی مکر گیا ہے تو تم نے گواہی کس نکاح میں دی ہے۔ بندہ پہلے ہی اس سارے چکر میں مفت کی خواری کاٹ کر تنگ پڑ چکا ہے اس وعدے کا یقین کر لیتا ہے اور اپنی گواہی سے مکر جاتا ہے اب ایک گواہ اور نکاح خواں مکر چکے ہیں اور لڑکی لڑکے میں مفارقت ہو چکی ہے کل عدالت میں پیشی کے بعد تو سب ٹھیک ہو جانا چاہیئے۔ لڑکی کی رپورٹ آتی ہے کہ لڑکی سولہ سے زیادہ سال کی ہے اب قانونی پوزیشن مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ لڑکی کا نکاح قانونی ہے ۔ نکاح خواں اور گواہ عدالت میں تمام صورت حال بیان کر دیتے ہیں ۔ عدالت حالات و واقعات کی بنیاد پر لڑکی کو اپنے نئے گھر جانے کی اجازت اس بنیاد پر دے دیتے ہیں کہ نکاح جس صوبہ میں ہوا وہاں کے قوانین کے مطابق درست ہے ۔ البتہ رجسٹریشن نہ ہوئی ہونے کی وجہ سے جو کوتاہی ہوئی ہے وہ بوجہ قانونی مدت کے بقاء کے ابھی جرم کی صورت اختیار نہ کی ہے۔البتہ گواہ اور مولوی کے بیان جو پولیس کی حراست میں دیا گیا تھا کو بنیاد بنا کر میڈیا پر پھر شور مچایا جاتا ہے۔ لیکن عدالت عالیہ سندھ ہائی کورٹ کو فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق کرنا ہے نہ کہ خواہشات کی بنیاد پر کیونکہ یہی فیصلہ پنجاب ہائی کورٹ کو بھی بھیجا جانا ہے۔ جیسے ہی یہ فیصلہ ہوتا ہے تو لڑکی کے والدین اور ان کے ساتھی شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے۔ لڑکی کی عمر کا ثبوت کاغذات پر دیکھنے کی بجائے اپنا ہی ٹسٹ کرایا گیا تھا وغیرہ وغیرہ ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا لڑکی کو واپس بھیجنا اس کے بہترین مفاد میں ہے یا نہیں اور یہ مفاد کون طے کرے گا ۔ لڑکی؟ لڑکی کے والدین؟ یا پھر عدالت موجود ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ لڑکی کے والدین کا کیس لڑکی کے ان کے خلاف ہونے کی وجہ سے اور موجود عمر کے کاغذات کا سامنے موجود لڑکی کی بادی النظر میں عمر کے مطابق نہ ہونا اور نکاح کا دوسرے صوبے میں ہونا جسے قانونی تحفظ حاصل ہے ایسے فیصلہ کن عوامل ہیں جن کی بنیاد پر عدالت ہائے عالیہ پنجاب و سندھ اور دونوں صوبوں کی پولیس کی رپورٹس جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شامل ہے جس میں لڑکی اکیلی نکل کر جاتی ثابت ہو رہی ہے تو فیصلہ اس کے علاوہ کیا آنا تھا۔
2005 کی شادی کو 2022 میں سترہ برس مکمل ہو جاتے ہیں جس سے کم از کم لڑکی کا سولہ برس کی ہونا ممکن ہے اور سولہ برس کی لڑکی کی شادی پنجاب کے قوانین کے مطابق بالکل درست ہے۔

اس کہانی کو جو مکمل طور پر فرضی ہے۔ ذہن میں رکھیں تو دعاء زہرا کے کیس کا ایک منظر نامہ سامنے آتا ہے ۔ جو ہو سکتا ہے اس کے عین مطابق نہ ہو لیکن اس کے قریب قریب ضرور ہو سکتا ہے ۔ اس سب میں کیا عوامل ہو سکتے ہیں جن سے یہ مسئلہ پیدا ہوا

1۔ آج کے بچے ہمارے غلام نہیں ہیں نہ ہی وہ ہماری مرضی ماننے کے قانونا پابند ہیں
2۔ ہم کب انہیں الگ مکمل انسان سمجھنا شروع کریں گے بجائے اپنی ملکیت سمجھنے کے؟
3۔ ان کی ضروریات پورا کرنے کی دوڑ میں ہم کہیں انہیں خود سے دور تو نہیں کر بیٹھے؟
4۔ کھانا پینا، سونا ٹی وی ، میک اپ ، شادیاں بس؟؟ ان بچوں کی اور کوئی ضرورت نہیں ہے؟
5۔ بچیوں کی تربیت ان کی ہوش سنبھالنے سے شروع ہوتی ہے اور وہ وعظ سے زیادہ سامنے نظر آنے والی مثالوں یعنی والدین کو نقل کرتے ہیں لہذا ہمیں خود ایک مثال بننا ہوگا اگر ہم بچوں کو کسی خاص ڈھب پر ڈھالنا چاہتے ہیں گو کہ یہ ضمانت نہیں ہے کہ ایسا ہی ہوگا لیکن ہاں اس سے فرق ضرور پڑتا ہے
 

اکمل زیدی

محفلین
اس طرح عمر چھوٹی لکھوانا پاکستان میں عام ہے۔

ریڈیالوجسٹ کی رپورٹ میں جس وثوق سے عمر سولہ اور سترہ کے درمیان مگر سترہ کے قریب بیان کی گئی ہے ایسا یقین میڈیکل ٹیکنالوجی میں نہیں۔ ہڈیوں، دانتوں کے ایکسرے سے یا ڈی این اے کے ذریعہ عمر کا تخمینہ لگایا جا سکتا ہے اور 13 اور 17 سال کی عمر میں فرق کرنا ممکن ہے لیکن مہینوں کی ایکوریسی ناممکن۔
جی سر جی ایسا ہی ہے ۔ ۔ ۔
 

اکمل زیدی

محفلین
شاید وہ اٹھارہ برس کی ہی ہو سو اس صورت میں قانون و شریعت کے لحاظ سے دعا زہرہ کی شادی ہو گئی ہے
وقار صاحب۔۔ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا کہ لڑکی کی عمر غلط لکھوائی جا سکتی ہے مگر ابھی تو والدین کی شادی کو اٹھارہ سال نہیں ہوئے ہیں۔۔
اگر وہ اپنے شوہر کے ساتھ رہنا چاہتی ہے تو والدین کو یہ فیصلہ قبول کرنا ہو گا۔
نکاح ہی پروف نہیں ہو پارہا کہ ہوا بھی ہے یا نہیں نکاح خواں بھی انکار کر چکا ہے ۔۔ تو شوہر ہونا بھی مشکوک۔۔
جہاں تک یہ معاملہ ہے کہ آیا دعا نے غلط فیصلہ کیا ہے
یہ بالکل الگ موضوع ہے کہ اسطرح کے اقدام کیوں اٹھائے جاتے ہیں اور اس کے پیچھے کیا عوامل ہیں ۔۔۔
 

اکمل زیدی

محفلین
ڈیجیٹل آلات کے حد سے بڑھتے استعمال کو روکنا پھر نظر رکھنا بہت ضروری ہے !!!!یہ آلات بچوں کو اصلی زندگی سے دور لے جارہے ہیں ۔۔ایک عرصے سے ویڈیو گیمز نے اُنکی زندگیوں کو آن لائن چیزوں تک محدود کردیا ہے ۔۔۔اور اپنی اردگرد کی دنیا سے بے خبر ہیں ۔۔یہ ایک ایسا سحر ہے جس نے سب کو جکڑا ہوا ہے ۔۔ہم اس کو مان لیں کہ ہم صرف اسے کم کروا سکتے ہیں پر کیونکہ اُنکی تعلیم کرونا کے دونوں میں انہی آلات کی بدولت جاری رہی ۔۔ضرورت ہے چیک اینڈ بیلینس کی ۔۔۔ اس دور کے بچے بہت ذہین ہیں کیونکہ آنکھ کھولتے ہی اُنکا واسطہ ان آلات سے ہوتا ہے ۔۔۔پہلے تو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ نئی پَود کا دماغ گزشتہ نسلوں سے قطعاً مختلف ہے۔۔ڈیجیٹل ایجادات کی افادیت سے انکار بھی نہیں کیا جاسکتا پر بچوں پر نظر ضرور رکھی جاسکتی ہے ۔۔۔بچوں کو کھل کر ان کے فوائد اور نقصان بتائیں !!
جی بالکل استعمال سے نہ روکیں بلکہ ڈائریکشن دے دیں اُن کی پوٹنیشلیٹی کو ۔ ۔ ۔
 

اکمل زیدی

محفلین
۔ تو میں نے اُس کی ماں کو پہلی نظر میں دیکھ کر کہا کہ اُن سے بچوں کی پرورش میں غلطی ہوئی ہوگی۔ آپ پوچھیں گے کہ کیوں؟ تو اُن کی والدہ کے کان میں تین چھید تھے
غلطی تو کہیں نہ کہیں ہوئی ہے مگر میں آپ کے اس پیمانے سے متفق نہیں ہوں صرف کان کے تین چھید دیکھ پر ہی آپ نے پوری تربیت کو سوالیہ نشان بنا دیا۔۔
میرے خیال میں باپ سے زیادہ ماں کو بچیوں کے قریب ہونا چاہیے بالکل سہیلیوں کی طرح
بالکل متفق
آج کل کے والدین اپنے بچوں کو ٹیبلٹ‘ موبائل اور انٹرنیٹ تک رسائی دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچوں کو مطلوبہ آسائشات مہیا کر دی ہیں مگر یہ دراصل اپنے ہاتھوں اپنے بچوں کو دلدل میں دھکیل رہے ہوتے ہیں۔
صحیح بات ہے نظر رکھنا بھی بہت ضروری ہے ۔ ۔ ۔
 

اکمل زیدی

محفلین
السلام علیکم
دعاء زہرا کیس کے متعلق سوال بہت سے ہیں لیکن ان سوالات کا تعلق جہاں لوگ تربیت سے بنا کر والدین کو قصور وار ٹھہرا رہے ہیں ، وہیں ایسے ساتھیوں کی بھی کمی نہیں ہے جو موبائیل کی لت کو برا بھلا کہہ رہے ہیں۔ سوال کیا جاتا ہے کہ جی لڑکی کی عمر کیا ہے چودہ برس؟ نہیں نہیں اٹھارہ برس؟ نہیں نہیں سولہ سترہ برس ؟ نہیں نہیں سولہ برس سے زیادہ سترہ برس کے قریب۔ کم عمر ہے تو والدین کو حق ہے فیصلہ کرنے کا ، نہیں نہیں عمر کم ہے تو بھی والدین دخل نہیں دے سکتے، نہیں نہیں والدین ہی ہٹلر بن گئے ہونگے، نہیں نہیں لڑکی کو ورغلایا گیا ہے، نہیں نہیں دونوں کا چکر تھا ۔ یہ سب باتیں غیر متعلقہ بھی کہلائی جا سکتی ہیں اور نفس الموضوع بھی۔

ایک خود ساختہ سی کہانی سناتا ہوں جس کی کسی سے بھی مشابہت اتفاقی ہوسکتی ہے۔

لیلیٰ کے والدین کی شادی جنوری 2005 میں ہوتی ہے۔ اکتوبر میں لیلیٰ پیدا ہو جاتی ہے ۔ رشتہ دار کہتے ہیں تھوڑا ٹھہر جاتے ہیں لڑکیوں کی عمر کم ہی اچھی ہوتی ہے ۔ سال دو سال بعد پیدائش رجسٹر کروا کر بچی بڑی ہوتی ہے تو گھر میں ہونے والے معاملات ، سختی، پسند نا پسند ، چھوٹے چھوٹے مسائل سے تنگ آ کر وہ گھر سے نکل جاتی ہے۔ کوئی مقصد سامنے نہیں ہوتا پنجاب پہنچ جاتی ہے۔ غلط لوگوں کی نظر پڑ جاتی ہے وہ اسے ساتھ رکھ لیتے ہیں۔ علاقے کا ایک طرح دار زمیندار دیکھ لیتا ہے ان کے چنگل سے نکال کر اپنی بیٹی بنا لیتا ہے۔ لڑکی کے والدین شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ ہماری نوعمر لڑکی جس کی عمر 14 سال ہے اغوا ہو گئی ہے۔ میڈیا میں موجود ہم خیال لوگ اس بات کو قومی سطح پر اٹھاتے ہیں اور یہ مسئلہ میڈیا پر ہائی لائیٹ ہو جاتا ہے ۔ شور مچ جاتا ہے لڑکے کا باپ لڑکی کو پوچھتا ہے وہ کہتی ہے مر جاؤں گی واپس نہیں جاؤں گی میں جانتی ہوں میرے گھر والے میرے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔ صورت حال دیکھ کر زمیندار اپنے بیٹے سے اس لڑکی کا نکاح کر دیتا ہے۔ لیکن اس دوران وکیل کا مشورہ پیش نظر رکھ کو قانونی ضرورتیں بھی پوری کر دیتا ہے۔ لڑکی کا نکاح ہو جاتا ہے اور اسے نیا گھر مل جاتا ہے دوسری طرف لڑکی کے والدین میڈیا دوستوں کے ذریعے پریشر بنا لیتے ہیں۔ جس کے تحت صوبے کا آئی جی تک اپنی نوکری کے خطرے سے دوچار ہو جاتا ہے۔ آخر لڑکی کا ویڈیو بیان سامنے آتا ہے جس میں وہ اپنی شادی کا اعلان کرتی ہے۔ پنجاب پولیس اسے تلاش کر کے اسکے گھر جاتی ہے ۔لڑکی کو ملتی ہے تو دیکھتی ہے کہ لڑکی نہ گفتگو میں ، نہ جسمانی ساخت میں ، نہ ذہنی طور پر یعنی کسی طرح سے بھی چودہ برس کی نہیں لگتی اور لڑکی کا اپنا بیان بھی یہی ہے کہ وہ چودہ نہیں بلکہ سولہ برس سے زیادہ اور سترہ برس کے قریب ہے (نکاح نامہ پر تقریباً سترہ برس لکھا ہے) اب تمام صورت حال میں وہ لڑکی کا بیان لے کر عدالت میں جمع کروا دیتے ہیں ۔ میڈیا شور مچا رہا ہے کہ لڑکی چودہ برس کی ہے۔ معاملہ سنجیدہ ہے لہذا پنجاب کی عدالت عالیہ ہائی کورٹ صاحب بہادر لڑکی لڑکے کو بمع نکاح خواں اور گواہان کے طلب کر لیتی ہے۔اور حالات و واقعات اور لڑکی کے بیانات اور اس کی جسمانی، ذہنی، دماغی ساخت و ردعمل کی بنیاد پر سمجھ کر کہ لڑکی کی عمر کے معاملے میں میڈیا پر غلط بیانی ہو رہی ہے ۔ لڑکی کی مرضی کے مطابق اسے اپنے خاوند کے ساتھ جانے کی اجازت دے دیتی ہے۔ اس دوران سندھ میں بھی عدالت عالیہ ہائی کورٹ صاحب بہادر ازخود نوٹس لے کر پولیس کو حکم دیتے ہیں کہ لڑکی کو برآمد کر کے پیش کیا جائے۔ پراسیس میں وقت لگ جاتا ہے ۔ میڈیا میں موجود دوست احباب کے دباؤ میں عدالت آئی جی سندھ کی نوکری کھا جانے کی دھمکی دیتی ہے اور پھر آخر کار پنجاب پولیس سے مدد مانگ کر سندھ پولیس لڑکی لڑکے اور نکاح خواں بمعہ گواہان کے سندھ کی عدالت عالیہ ہائی کورٹ صاحب بہادر میں پیش کرتے ہیں۔ عدالت لڑکی کی جسمانی حالت دیکھ کر اس سے گفتگو کر کے پھر بھی اسے احتیاطا دو وجوہات سے دارالامان بھیجتی ہے پہلی یہ کہ اگر یہ لڑکی کسی دباؤ میں ہے تو اس کے اثر سے نکل جائے دوسری اس کا طبی معائینہ کیا جا سکے کہ اس کی عمر کیا ہے ۔اس دوران نکاح خواں ، گواہان اور لڑکا سب حوالات میں رکھے جاتے ہیں جہاں اثرو رسوخ سے پہلے نکاح خواں کو نکاح رجسٹر نہ کروانے کا مجرم کہا جاتا ہے پھر آخر اسے اس بات پر راضی کر لیا جاتا ہے کہ وہ نکاح کروانے سے ہی مکر جائے۔دوسری طرف ایک اور گواہ کو یہ کہہ کر اپنی گواہی سے انکاری کر دیا جاتا ہے کہ نکاح خواں ہی مکر گیا ہے تو تم نے گواہی کس نکاح میں دی ہے۔ بندہ پہلے ہی اس سارے چکر میں مفت کی خواری کاٹ کر تنگ پڑ چکا ہے اس وعدے کا یقین کر لیتا ہے اور اپنی گواہی سے مکر جاتا ہے اب ایک گواہ اور نکاح خواں مکر چکے ہیں اور لڑکی لڑکے میں مفارقت ہو چکی ہے کل عدالت میں پیشی کے بعد تو سب ٹھیک ہو جانا چاہیئے۔ لڑکی کی رپورٹ آتی ہے کہ لڑکی سولہ سے زیادہ سال کی ہے اب قانونی پوزیشن مکمل طور پر تبدیل ہو چکی ہے۔ لڑکی کا نکاح قانونی ہے ۔ نکاح خواں اور گواہ عدالت میں تمام صورت حال بیان کر دیتے ہیں ۔ عدالت حالات و واقعات کی بنیاد پر لڑکی کو اپنے نئے گھر جانے کی اجازت اس بنیاد پر دے دیتے ہیں کہ نکاح جس صوبہ میں ہوا وہاں کے قوانین کے مطابق درست ہے ۔ البتہ رجسٹریشن نہ ہوئی ہونے کی وجہ سے جو کوتاہی ہوئی ہے وہ بوجہ قانونی مدت کے بقاء کے ابھی جرم کی صورت اختیار نہ کی ہے۔البتہ گواہ اور مولوی کے بیان جو پولیس کی حراست میں دیا گیا تھا کو بنیاد بنا کر میڈیا پر پھر شور مچایا جاتا ہے۔ لیکن عدالت عالیہ سندھ ہائی کورٹ کو فیصلہ قانون اور شواہد کے مطابق کرنا ہے نہ کہ خواہشات کی بنیاد پر کیونکہ یہی فیصلہ پنجاب ہائی کورٹ کو بھی بھیجا جانا ہے۔ جیسے ہی یہ فیصلہ ہوتا ہے تو لڑکی کے والدین اور ان کے ساتھی شور مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ یہ فیصلہ غلط ہوا ہے۔ لڑکی کی عمر کا ثبوت کاغذات پر دیکھنے کی بجائے اپنا ہی ٹسٹ کرایا گیا تھا وغیرہ وغیرہ ۔ اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا لڑکی کو واپس بھیجنا اس کے بہترین مفاد میں ہے یا نہیں اور یہ مفاد کون طے کرے گا ۔ لڑکی؟ لڑکی کے والدین؟ یا پھر عدالت موجود ثابت شدہ حقائق کی بنیاد پر فیصلہ کرے گی۔ لڑکی کے والدین کا کیس لڑکی کے ان کے خلاف ہونے کی وجہ سے اور موجود عمر کے کاغذات کا سامنے موجود لڑکی کی بادی النظر میں عمر کے مطابق نہ ہونا اور نکاح کا دوسرے صوبے میں ہونا جسے قانونی تحفظ حاصل ہے ایسے فیصلہ کن عوامل ہیں جن کی بنیاد پر عدالت ہائے عالیہ پنجاب و سندھ اور دونوں صوبوں کی پولیس کی رپورٹس جس میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی شامل ہے جس میں لڑکی اکیلی نکل کر جاتی ثابت ہو رہی ہے تو فیصلہ اس کے علاوہ کیا آنا تھا۔
2005 کی شادی کو 2022 میں سترہ برس مکمل ہو جاتے ہیں جس سے کم از کم لڑکی کا سولہ برس کی ہونا ممکن ہے اور سولہ برس کی لڑکی کی شادی پنجاب کے قوانین کے مطابق بالکل درست ہے۔

اس کہانی کو جو مکمل طور پر فرضی ہے۔ ذہن میں رکھیں تو دعاء زہرا کے کیس کا ایک منظر نامہ سامنے آتا ہے ۔ جو ہو سکتا ہے اس کے عین مطابق نہ ہو لیکن اس کے قریب قریب ضرور ہو سکتا ہے ۔ اس سب میں کیا عوامل ہو سکتے ہیں جن سے یہ مسئلہ پیدا ہوا

1۔ آج کے بچے ہمارے غلام نہیں ہیں نہ ہی وہ ہماری مرضی ماننے کے قانونا پابند ہیں
2۔ ہم کب انہیں الگ مکمل انسان سمجھنا شروع کریں گے بجائے اپنی ملکیت سمجھنے کے؟
3۔ ان کی ضروریات پورا کرنے کی دوڑ میں ہم کہیں انہیں خود سے دور تو نہیں کر بیٹھے؟
4۔ کھانا پینا، سونا ٹی وی ، میک اپ ، شادیاں بس؟؟ ان بچوں کی اور کوئی ضرورت نہیں ہے؟
5۔ بچیوں کی تربیت ان کی ہوش سنبھالنے سے شروع ہوتی ہے اور وہ وعظ سے زیادہ سامنے نظر آنے والی مثالوں یعنی والدین کو نقل کرتے ہیں لہذا ہمیں خود ایک مثال بننا ہوگا اگر ہم بچوں کو کسی خاص ڈھب پر ڈھالنا چاہتے ہیں گو کہ یہ ضمانت نہیں ہے کہ ایسا ہی ہوگا لیکن ہاں اس سے فرق ضرور پڑتا ہے
سر جی کہانی گو کہ آپ نے خود ساختہ کہی مگر پوری ساخت الگ ہی کہانی سنا رہی ہے ۔۔خیر جو بھی آپ نے بیان کیا شاید اسی بات کو لے کر کیس کا فیصلہ ہو گیا خیر میں تو صرف اتنا عرض کرونگا کہ پوری کہانی میں سارے عوامل پیش نظر رکھے گئے کہ آگے کیا معاملات ہو سکتے ہیں اور جس طرح ظہیر کو سپونسر کیا جا رہا ہے اس سے کچھ اور کہانیاں بھی بن سکتی ہیں میرا صرف یہ کہنا ہے کہ لڑکی کو ماں سے اور باپ سے عدالت میں ہی ملایا جا تا جج کی موجودگی میں لڑکی کو نشہ کے زیرِ اثر رکھا جانا یا کسی اور بنیاد پر بلیک میل کیا جانا بھی کچھ بعید نہیں ہے ۔۔۔اور جسطرح عجلت کا مظاہرہ کیا گیا وہ بھی سمجھ سے باہر ہے ماں بہرحال ماں ہوتی ہے اور باپ کے ولی ہونے کو کسی بھی طرح چیلنج نہیں کیا جاسکتا ۔۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
غلطی تو کہیں نہ کہیں ہوئی ہے مگر میں آپ کے اس پیمانے سے متفق نہیں ہوں صرف کان کے تین چھید دیکھ پر ہی آپ نے پوری تربیت کو سوالیہ نشان بنا دیا۔۔
ہم بھی متفق نہیں بیچاری جوان خاتون ہیں ۔۔اور اس بات سے ہم تربیت کے بارے میں کچھ نہیں سکتے ۔۔
 

سیما علی

لائبریرین
ہ لڑکی کو ماں سے اور باپ سے عدالت میں ہی ملایا جا تا جج کی موجودگی میں لڑکی کو نشہ کے زیرِ اثر رکھا جانا یا کسی اور بنیاد پر بلیک میل کیا جانا بھی کچھ بعید نہیں ہے ۔
سب سے زیادہ اُس بچی کی آنکھیں بولتیں ۔۔وہ آنکھوں سے اتنی پریشان لگتی ہے ۔اور پتہ نہیں کیسے لوگ ہیں اور کسی بلیک میلنگ کا شکار ہے بچی ۔نشہ کے زیر اثر رکھا گیا ہوگا !!وہ اُسکی آنکھوں سے صاف ظاہر ہے ۔۔۔۔
 

علی وقار

محفلین
بلیک میلنگ کا خدشہ اپنی جگہ پر موجود ہے، اس معاملے کا ڈراپ سین ہو گا تو اصل بات معلوم ہو گی۔ والدین کو اس قدر مورد الزام ٹھہرانا مناسب نہیں۔ بظاہر والدین سلجھے ہوئے اور معاملہ فہم معلوم ہوتے ہیں۔
 
آخری تدوین:
شاید یہ اپنی نوعیت کا کوئی نیا کیس نہیں،
ہمارے معاشرے کی تاریخ اس قسم کے واقعات سے بھری پڑی ہے۔
اس کیس میں کئی اہم معاملات نظر آئے ،جیسے موبائل انٹرنیٹ کا غلط استعمال،والدین کی کوتائی اور غفلت ،بیٹی کو غیر ضروری آزادی۔
اکثر جب ایسے حالات میسر ہوں تو نتیجہ مندرجہ بالا ہی ہوتا ہے۔
ہم بچپن میں اکثر ایک کہاوت سننا کرتے تھے کہ بچے کو کھلاو سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر سے مگر صد افسوس دور جدید کی جدت نے بہت کچھ بدل ڈالا۔
والد محترم زندگی کی بقاء اور اسٹیٹس بنائے رکھنے کی دوڈ میں سرپٹ دوڈے جارہے ہیں۔ماں بے چاری خاندان اور گھریلوں مسائل میں گھیری ،اپنے زیب وآرائش میں اتنی مصروف ہے کہ آج کے بچے کی اخلاقی تربیت اسکول،ٹیوشن والی باجی یا سر اور سپارہ پڑھانے والوں کی ذمہ داری ہوگئی ہے۔جب گھر میں بچے کو دوستانہ ماحول فراہم نہیں ہو گا تو وہ لازمی گھر سے باہر اپنا دل بہلائے گا۔درحقیقت کمی بنیادی پرورش سے شروع ہوتی ہے اور بچے کی بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ اگر معاملات درست نہ کیجیے جائیں تو نتیجہ کسی بھی صورت میں ملتا ہے۔بچہ غیر نصابی سرگرمیوں میں دلچسپی لیتے ہوئے جرم اور غیر اخلاقی راستوں پر چلا پڑتا ہے ۔جب والدین کا ہوش آتا ہے تو ان کے ہوش ٹھکانے آچکے ہوتےہیں۔
ہم جب تک تعلیمی سرگرمیوں کے ساتھ اپنے بچوں کو وقت نہیں دیں گے اس وقت تک ایسے افسوس ناک واقعات کا سامنا کرتے رہنا پڑے گا۔
اس کیس کو میڈیا پر جو اتنا اچھلا گیا اور اچھلا جا رہا ہے اس کے پیچھے بھی بہت سے اہم لوگ شامل ہے۔
خیر عدالت نے فیصلہ دے کر سلگھتی آگ کو بھڑکنے سے بچا لیا۔
اللہ کریم سے ہماری یہی دعاو التجاء ہے کہ سب کی بہو بیٹیوں کی عزت و حرمت سلامت رہے۔آمین
 

علی وقار

محفلین
ہم بچپن میں اکثر ایک کہاوت سننا کرتے تھے کہ بچے کو کھلاو سونے کا نوالہ اور دیکھو شیر کی نظر
بچوں پر منحصر ہے، کئی بچے حساس ہوتے ہیں، شیر کی نظر سے دیکھیں گے تو مزید سہم جائیں گے اور دل کی بات زبان پر نہ لا پائیں گے اور راہِ فرار اختیار کریں گے۔ آپ نے جو فرمایا ہے نا کہ دوستانہ ماحول گھرمیں رہے تو بہتر ہے؛ بس یہی بات مناسب ہے۔ گھر میں دوستانہ ماحول ہو گا تو نوے فی صد سے زائد مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔
 
بات دعا زہرہ پر فوکس ہوتی جا رہی ہے اور دھاگے کا مقصد پیچھے رہتا جا رہا ہے۔ تھوڑی سی ری وائینڈ کرنے سے ہم واپس پہلی سیڑھی پر چلتے ہیں جہاں اکمل بھائی نے مندرجہ ذیل سوالات کی طرف اشارہ کیا تھا۔ آئیں دیکھتے ہیں کہ میں اس سلسلے میں کیا نقطہ نظر رکھتا ہوں

بچوں کو کس طرح تربیتی طور پر خود سے اٹیچڈ کیا جائے ایک ماں کا زیادہ فرض بنتا ہے کہ وہ اپنی اولاد خصوصا بیٹی کی حرکات و سکنات سے با خبر رہے تو غلطی کہاں پر ہوئی ؟
سب سے پہلے یہ سمجھ لیں کہ وہ ایک مکمل الگ شخصیت ہیں جو آپ سے سیکھ کر اس دنیا کو ڈیل کریں گے ۔ ان کی شخصیت پر آپ کے علاوہ آپ کے گھر کے ماحول، جس علاقے محلے میں وہ پل بڑھ رہے ہیں اس ماحول ، لوگوں پھر اسکول مدرسے کے ساتھیوں اور ان کے ماحول کے اثرات ہونگے ۔ایسے میں حاکمانہ رویہ یا حد سے زیادہ لاپروائی کے نتائج ہونگے۔ ان کی ضروریات میں یہ احساس کہ اپنے گھر میں میں سب سے زیادہ محفوظ ہوں ، میری بات میرے گھر میں سنی اور سمجھی جاتی ہے اور میرے والدین یا سرپرست یا گھر میں کوئی گھر کا فرد میری ہر بات کو سمجھتا اور خیال رکھنے والا ہے ۔ انسانی تربیت ایک فرد کی نہیں بلکہ گھر، خاندان، محلے، سکول ، دوست ان سب کی مشترکہ کاوش کا نتیجہ ہے جس میں بڑا کردار والدین اور گھر خاندان کا ہے۔
پھر وہی بات کہ موبائیل اور دوسرے ذرائع کی بچوں کی رسائی کو کسطرح محفوظ بنایا جائے ؟
بالکل منع نہ کریں بلکہ استعمال کو ریگولیٹ کریں ، استعمال آپ کی نگرانی میں آپ کے سامنے ہو بغیر اس احساس کے کہ آپ اس پر تھانیدار ہیں۔ بچہ غلطی کر رہا ہو تو منطقی استدلال کے ساتھ اسے سمجھائیں ۔ یہ کہنا کافی نہیں کہ ۔ کہہ دیا تو بس کہہ دیا
باپ کس طرح بچوں میں اعتماد پیدا کریں کہ بچے اُں سے بے خوفی سے اپنی بات کر سکیں .
بچوں کے ساتھ اپنی تربیت کا بھی خیال کریں۔ ان کے معصومانہ سوالوں کو سن کر بجائے غصہ ہونے کے محبت سے حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ان کے سوالوں کے جواب دیں اور ایسے جواب دیں جو ان کی عمر کے مطابق سمجھ آجائیں۔ میرا بیٹا طلحہ سات سال کا تھا تو اپنی والدہ سے پوچھنے لگا ماما۔ یہ پریگننسی کیا ہوتا ہے؟ والدہ کو جواب سمجھ نہ آیا تو اسے جھڑک دیا ۔ بکواس نہ کر ایسی باتیں نہیں پوچھتے۔ ابھی تم بہت چھوٹے ہو۔ میں رات کو واپس آیا تو بچے کا موڈ دیکھ کر سمجھ گیا آج اس کی لتر پریڈ ہوئی ہے۔ پیار سے سینے پر لٹایا اور پوچھا کیا ہوا تھا۔ بچہ تھوڑی سی جھجک کے بعد مان گیا کہ یہ سوال میں نے ماں سے پوچھا تھا اور یہ جواب سننے کو ملا۔اب سات سال کا بچہ (اب وہ ماشاء اللہ ایک جوان آدمی ہے) یہ سوال پوچھے تو اس کی سمجھ کے مطابق ہی جواب دینا ہے۔ جواب دیا تو کہا یار تم سوال شوال مجھ سے پوچھ لیا کرو ماما سے پوچھا ہی نہ کرو اب میں بتاتا ہوں کہ پریگنینسی کیا ہوتی ہے ۔ جب اللہ تعالیٰ کسی گھر میں بے بی دینے کا فیصلہ کرتے ہیں تو اس سے پہلے کہ بے بی اس گھر میں آجائے اس گھر کی جو ماما ہونی ہوتی ہے اسے کچھ نشانیاں ملتی ہیں جو تھوڑے تھوڑے ٹائم میں ماما کے بیمار ہونے اور بیلی بڑی ہونے کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں ۔ اس ٹائم کو جس میں یہ ساری نشانیاں آتی ہیں اس ماما کے لئے پریگنینسی کہتے ہیں۔بچے کو جواب مل گیا، لیکن کتنے ہیں جو بچوں سے ایسا ماحول اور آبزرویشن رکھتے ہیں۔ یہ آج کی ضرورت ہے
چور چوری کرنے آیا چوری کر کے چلا گیا اب چور کو کوسا جائے یا اپنی غفلت پر بھی نظر کی جائے ؟۔
چور کا کام ہے چوری کرنا اور اس کا وقت آئے گا تو سزا بھی اسے ضرور ملے گی ۔ زندگی رکتی نہیں ہے اس چوری سے سیکھئیے اور آئیندہ جو پاس بچا ہوا ہے اسے بچا کر کیسے رکھنا ہے۔ غفلت کا نوحہ پڑھتے رہنے کی بجائے اسباب کو دیکھیں اور آئیندہ کے لئے اس سے بچیں۔ اپنی یا کسی کی غلطی سے سیکھنا ہی سمجھ داری ہے۔
ہماری قانونی کمزوریاں کیا اسطرح کچھ بھی فیصلہ دیا جا سکتا ہے بچہ اگر قانونی طور پر مائنر ہے تو اس کا ولی باپ ہے۔
سر قانونی طور پر مائنر کی تعریف ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ ایک طرف اٹھارہ سے کم عمر مائنر ہے تو دوسری طرف اسی مائنر کا کیا ہوا معاہدہ عقد نکاح قانونی ہے۔ ولی باپ ہونا اس کی ضروریات کی حد تک ہے اس کی زندگی کے فیصلے کرنے کا نہیں ۔1993 میں ایک بڑے عالم کی دختر نیک اختر کے متعلق عدالت یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ ولی امر کا مفہوم اس کی مرضی کے خلاف اس کی زندگی کا فیصلہ کرنا ہرگز نہیں ہے۔البتہ ولی امر کا مفہوم اس کی زندگی کی ضروریات کا خیال رکھنا اور انہیں پورا کرنا ضرور ہے۔ مطلب ولی امر ہونے کا مفہوم بچے کی غلامی نہیں ہے بلکہ ولی پر بارِ ذمہ داری ہے
 

سیما علی

لائبریرین
گھر میں دوستانہ ماحول ہو گا تو نوے فی صد سے زائد مسائل خود بخود حل ہو جائیں گے۔
صد فی صد درست بات ۔۔اب بچے ایسے نہیں کہ شیر کی نظر سے دیکھا جائے ایسے وہ اور آپکے ہاتھوں سے نکل جاتے ہیں اور باہر کے لوگوں میں پناہ ڈھونڈتے ہیں۔۔/
 
آخری تدوین:

علی وقار

محفلین
آج دعا اور ظہیر کا انٹرویو دیکھنے کو ملا۔ اس سے معلوم ہوا کہ لڑکی نے والدین پر مارنے پیٹنے کا الزام لگایا اور اس ردعمل میں اُس نے خود ظہیر کے پاس جانے کا فیصلہ کیا۔ اس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ والدین صورت حال کو صحیح طور پر سمجھ نہیں پائے۔ لڑکی پر بظاہر دباؤ کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
 
Top