محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ

لطف وہ عشق میں پائے ہیں کہ جی جانتا ہے
رنج بھی ایسے اٹھائے ہیں کہ جی جانتا ہے

سادگی، بانکپن، اغماز، شرارت، شوخی
تُو نے انداز وہ پائے ہیں کہ جی جانتا ہے

مسکراتے ہوئے وہ مجمعِ اغیار کے ساتھ
آج یوں بزم میں آئے ہیں کہ جی جانتا ہے

انہی قدموں نے تمھارے انہی قدموں کی قسم
خاک میں اتنے ملائے ہیں کہ جی جانتا ہے

تم نہیں جانتے اب تک یہ تمھارے انداز
وہ مرے دل میں سمائے ہیں کہ جی جانتا ہے

داغِ وارفتہ کو ہم آج ترے کوچے سے
اس طرح کھینچ کہ لائے ہیں کہ جی جانتا ہے
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ زونی اور سخنور (ٖفرخ صاحب)

عذر آنے میں بھی ہے اور بلاتے بھی نہیں
باعث ترک ملاقات بتاتے بھی نہیں

منتظر ہیں دمِ رخصت کہ یہ مرجائے تو جائیں
پھر یہ احسان کہ ہم چھوڑ کے جاتے بھی نہیں

سر اٹھاؤ تو سہی آنکھ ملاؤ تو سہی
نشہء مے بھی نہیں نیند کے ماتے بھی نہیں

کیا کہا؟، پھر تو کہو، “ہم نہیں سنتے تیری“
نہیں سنتے تو ہم ایسوں کو سناتے بھی نہیں

خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں

مجھ سے لاغر تری آنکھوں میں کھٹکتے تو رہے
تجھ سے نازک مری نظروں میں سماتے بھی نہیں

دیکھتے ہی مجھے محفل میں یہ ارشاد ہوا
کون بیٹھا ہے اسے لوگ اٹھاتے بھی نہیں

ہوچکا قطع تعلق تو جفائیں کیوں ہوں
جن کو مطلب نہیں رہتا وہ ستاتے بھی نہیں

زیست سے تنگ ہو اے داغ تو کیوں جیتے ہو؟
جان پیاری بھی نہیں، جان سے جاتے بھی نہیں
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ

مانندِ گل ہیں‌ میرے جگر میں‌ چراغِ داغ
پروانے دیکھتے ہیں تماشائے باغِ داغ

مرگِ عدو سے آپ کے دل میں چُھپا نہ ہو
میرے جگر میں اب نہیں ملتا سراغِ داغ

دل میں قمر کے جب سے ملی ہے اسے جگہ
اس دن سے ہو گیا ہے فلک پر دماغِ داغ

تاریکیٔ لحد سے نہیں دل جلے کو خوف
روشن رہے گا تا بہ قیامت چراغِ داغ

مولا نے اپنے فضل و کرم سے بچا لیا
رہتا وگرنہ ایک زمانے کو داغِ داغ
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ محمد نعمان و سخنور

عجب اپنا حال ہوتا، جو وصال یار ہوتا
کبھی جان صدقے ہوتی، کبھی دل نثار ہوتا

کوئی فتنہ تا قیامت نہ پھر آشکار ہوتا
ترے دل پہ کاش ظالم مجھے اختیار ہوتا

جو تمہاری طرح تم سے کوئی جھوٹے وعدے کرتا
تمہیں منصفی سے کہہ دو تمہیں اعتبار ہوتا

غمِ عشق میں مزا تھا جو اسے سمجھ کے کھاتے
یہ وہ زہر ہے کہ آخر مے خوشگوار ہوتا

یہ مزہ تھا دل لگی کا، کہ برابر ٓاگ لگتی
نہ تجھے قرار ہوتا، نہ مجھے قرار ہوتا

یہ مزا ہے دشمنی میں، نہ ہے لطف دوستی میں
کوئی غیر غیر ہوتا، کوئی یار یار ہوتا

ترے وعدے پر ستمگر، ابھی اور صبر کرتے
مگر اپنی زندگی کا، ہمیں اعتبار ہوتا

یہ وہ دردِ دل نہیں ہے کہ ہو چارہ ساز کوئی
اگر ایک بار مٹتا تو ہزار بار ہوتا

گئے ہوش تیرے زاہد جو وہ چشمِ مست دیکھی
مجھے کیا الٹ نہ دینے جو نہ بادہ خوار ہوتا

مجھے مانتے سب ایسا کہ عدو بھی سجدے کرتے
درِ یار کعبہ بنتا جو مرا مزار ہوتا

تمہیں ناز ہو نہ کیونکر کہ لیا ہے داغ کا دل
یہ رقم نہ ہاتھ لگتی نہ یہ افتخار ہوتا
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ سخنور (فرخ صاحب)

ناروا کہیے ناسزا کہیے
کہیے کہیے مجھے برا کہیے

تجھ کو بد عہد و بے وفا کہیے
ایسے جھوٹے کو اور کیا کہیے

پھر نہ رکیے جو مدّعا کہیے
ایک کے بعد دوسرا کہیے

آپ اب میرا منہہ نہ کھلوائیں
یہ نہ کہیے کہ مدّعا کہیے

وہ مجھے قتل کر کے کہتے ہیں
مانتا ہی نہ تھا یہ کیا کہیے

دل میں رکھنے کی بات ہے غمِ عشق
اس کو ہرگز نہ برملا کہیے

تجھ کو اچھا کہا ہے کس کس نے
کہنے والوں کو اور کیا کہیے

وہ بھی سن لیں گے یہ کبھی نہ کبھی
حالِ دل سب سے جابجا کہیے

مجھ کو کہیے برا نہ غیر کے ساتھ
جو ہو کہنا جدا جدا کہیے

انتہا عشق کی خدا جانے
دمِ آخر کو ابتدا کہیے

میرے مطلب سے کیا غرض مطلب
آپ اپنا تو مدّعا کہیے

صبر فرقت میں آ ہی جاتا ہے
پر اسے دیر آشنا کہیے

آگئی آپ کو مسیحائی
مرنے والوں کو مرحبا کہیے

آپ کا خیر خواہ میرے سوا
ہے کوئی اور دوسرا کہیے

ہاتھ رکھ کر وہ اپنے کانوں پر
مجھ سے کہتے ہیں ماجرا کہیے

ہوش جاتے رہے رقیبوں کے
داغ کو اور باوفا کہیے
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ سخنور (فرخ صاحب)

کعبے کی ہے ہوس کبھی کوئے بتاں کی ہے
مجھ کو خبر نہیں مری مٹی کہاں کی ہے

سن کر مرا فسانہ انہیں لطف آگیا
سنتا ہوں اب کہ روز طلب قصہ خواں کی ہے

پیغامبر کی بات پر آپس میں رنج کیا
میری زباں کی ہے نہ تمہاری زباں کی ہے

کچھ تازگی ہو لذتِ آزار کے لئے
ہر دم مجھے تلاش نئے آسماں کی ہے

جانبر بھی ہوگئے ہیں بہت مجھ سے نیم جان
کیا غم ہے اے طبیب جو پوری وہاں کی ہے

حسرت برس رہی ہے ہمارے مزار پر
کہتے ہیں سب یہ قبر کسی نوجواں کی ہے

وقتِ خرامِ ناز دکھا دو جدا جدا
یہ چال حشر کی یہ روش آسماں کی ہے

فرصت کہاں کہ ہم سے کسی وقت تو ملے
دن غیر کا ہے رات ترے پاسباں کی ہے

قاصد کی گفتگو سے تسلی ہو کس طرح
چھپتی نہیں وہ بات جو تیری زباں کی ہے

جورِ رقیب و ظلمِ فلک کا نہیں خیال
تشویش ایک خاطرِ نامہرباں کی ہے

سن کر مرا فسانہء غم اس نے یہ کہا
ہوجائے جھوٹ سچ یہی خوبی بیاں کی ہے

دامن سنبھال باندھ کمر آستیں چڑھا
خنجر نکال دل میں اگر امتحاں کی ہے

ہر ہر نفس میں دل سے نکلنے لگا غبار
کیا جانے گردِ راہ یہ کس کارواں کی ہے

کیونکر نہ آتے خلد سے آدم زمین پر
موزوں وہیں وہ خوب ہے جو سنتے جہاں کی ہے

تقدیر سے یہ پوچھ رہا ہوں کہ عشق میں
تدبیر کوئی بھی ستمِ ناگہاں کی ہے

اردو ہے جس کا نام ہمیں جانتے ہیں داغ
ہندوستاں میں دھوم ہماری زباں کی ہے
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ پیاسا صحرا

جہاں تیرے جلوہ سے معمور نکلا
پڑی آنکھ جس کوہ پر طور نکلا

یہ سمجھے تھے ہم ایک چرکہ ہے دل پر
دبا کر جو دیکھا ۔ تو ناسور نکلا

نہ نکلا کوئی بات کا اپنی پورا
مگر ایک نکلا تو منصور نکلا

وجود و عدم دونوں گھر پاس نکلے
نہ یہ دور نکلا ۔ نہ وہ دور نکلا

سمجھتے تھے ہم داغ گمنام ہو گا
مگر وہ تو عالم میں مشہور نکلا
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ پیاسا صحرا

وہ زمانہ نظر نہیں آتا
کچھ ٹھکانہ نظر نہیں آتا

دل نے اس بزم میں بٹھا تو دیا
اٹھ کے جانا نظر نہیں آتا

رہئے مشتاق جلوہ دیدار
ہم نے مانا نظر نہیں آتا

لے چلو مجھکو رہروان عدم
یہاں ٹھکانہ نظر نہیں آتا

دل پر آرزو لٹا اے داغ
وہ خزانہ نظر نہیں آتا
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ پیاسا صحرا

دل میں ہے غم و رنج و الم ۔ حرص و ہوا بند
دنیا میں مخمس کا ہمارے نہ کھلا بند

موقوف نہیں دام و قفس پر ہی اسیری
ہر غم میں گرفتار ہوں ہر فکر میں پابند

اے حضرت دل !جائیے ۔ میرا بھی خدا ہے
بے آپ کے رہنے کا نہیں کام مرا بند

دم رکتے ہی سینہ سے نکل پڑتے ہیں آنسو
بارش کی علامت ہے جو ہوتی ہے ہوا بند

کہتے تھے ہم ۔ اے داغ وہ کوچہ ہے خطرناک
چھپ چھپ کے مگر آپ کا جانا نہ ہوا بند
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ کاشفی

بھنویں تنتی ہیں، خنجر ہاتھ میں ہے، تَن کے بیٹھے ہیں
کسی سے آج بگڑی ہے کہ وہ یوں بَن کے بیٹھے ہیں

دلوں‌ پر سیکڑوں سّکے ترے جوبن کے بیٹھے ہیں
کلیجوں پر ہزاروں تیر اس چتون کے بیٹھے ہیں

الہٰی کیوں نہیں‌ اُٹھتی قیامت ماجرا کیا ہے
ہمارے سامنے پہلو میں‌ وہ دُشمن کے بیٹھے ہیں

یہ گستاخی یہ چھیڑ اچھی نہیں‌ ہے اے دلِ ناداں
ابھی پھر سے روٹھ جائیں‌ گے ابھی وہ مَن کے بیٹھے ہیں

اثر ہے جذب الفت میں تو کھینچکر آہی جائیں گے
ہمیں‌ پرواہ نہیں ہم سے اگر وہ تَن کے بیٹھے ہیں

سبک ہو جائیں گے گر جائیں‌گے وہ بزمِ دشمن میں
کہ جب تک گھر میں بیٹھے ہیں تو لاکھوں مَن کے بیٹھے ہیں

فسوں ہے یا دعا ہے یہ معّما کُھل نہیں سکتا
وہ کچھ پڑھتے ہوئے ، آگے میرے مدفن کے بیٹھے ہیں

بہت رویا ہوں میں‌جب سے یہ میں‌ نے خواب دیکھا ہے
کہ آپ آنسو بہائے سامنے دُشمن کے بیٹھے ہیں

یہ اُٹھنا بیٹھنا محفل میں اُن کا رنگ لائے گا
قیامت بن کے اُٹھیں گے بھبوکا بن کے بیٹھے ہیں

کسی کی شامت آئیگی کسی کی جان جائیگی
کسی کی تاک میں وہ بام پر بن ٹھن کے بیٹھے ہیں

قسم دے کر اُنہیں سے پوچھ لو تم رنگ ڈھنگ اُس کے
تمہاری بزم میں‌ کچھ دوست بھی دُشمن کے بیٹھے ہیں
 

محمد وارث

لائبریرین
اصل پوسٹ بشکریہ کاشفی

تم کو چاہا تو خطا کیا ہے بتا دو مجھ کو
دوسرا کوئی تو اپنا سا دکھا دو مجھ کو

دل میں سو شکوہء غم پوچھنے والا ایسا
کیا کہوں حشر کے دن یہ تو بتا دو مجھ کو

مجھ کو ملتا ہی نہیں‌ مہر و محبت کا نشان
تم نے دیکھا ہو کسی میں تو بتا دو مجھ کو

ہمدموں اُن سے میں‌کہہ جاؤنگا حالت دل کی
دو گھڑی کے لیئے دیوانہ بنا دو مجھ کو

بیمروت دل بیتاب سے ہو جاتا ہے
شیوہء خاص تم اپنا ہی سکھا دو مجھ کو

تم بھی راضی ہو تمہاری بھی خوشی ہے کہ نہیں
جیتے جی داغ یہ کہتا ہے مِٹا دو مجھ کو
 
Top