محمد وارث

لائبریرین
مردہ بدم زندہ شدم، گریہ بدم خندہ شدم
دولتِ عشق آمد و من دولتِ پایندہ شدم


(مولانا رُومی)

میں مُردہ تھا زندہ ہو گیا، گریہ کناں تھا مسکرا اٹھا، دولتِ عشق کیا ملی کہ میں خود ایک لازوال دولت ہو گیا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
مستِ خراب یابد ہر لحظہ در خرابات
گنجے کہ آں نیابد صد پیر در مناجات

(شیخ فخرالدین عراقی)

مے نوش کو میخانے میں ہر لحظہ جو خزینے ملتے ہیں، وہ سینکڑوں بزرگوں کو مناجات میں بھی نہیں ملتے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
جماعتے کہ بہ تقویٰ و شرع می کوشند
چرا بہ بادہ پرستی نمی کنند شروع؟

(امیر خسرو)

وہ جماعت کہ جو تقویٰ اور شریعت کی باتیں کرتی ہے، وہ اپنی تبلیغ کا آغاز بادہ پرستی سے کیوں نہیں کرتی؟
 

محمد وارث

لائبریرین
ہر سال تازہ می شَوَد ایں دردِ سینہ سوز
سوزے کہ کم نگردد و دردے کہ بے دواست


(اوحدی مراغی)

ہر سال یہ دردِ سینہ سوز تازہ ہو جاتا ہے، وہ سوز کہ جو کم نہیں ہوتا اور وہ درد کہ جس کی کوئی دوا نہیں ہے۔

(یکم محرم الحرام 1432ھ)
 

محمد وارث

لائبریرین
مرزا غالب کے ایک نوحے کے دو اشعار

کینہ خواہی بیں کہ بااولاد امجادش کنی
آں چہ با مہ کردہ اعجازِ بنانِ مصطفیٰ

ان لوگوں کی کینہ پروری دیکھو کہ ان کی اولاد کے ساتھ وہی سلوک کیا جو مصطفیٰ (ص) کی انگلیوں کے اعجاز نے چاند کے ساتھ کیا تھا۔ معجزہ شق القمر کی طرف تلمیح ہے کہ حضورِ پاک (ص) نے اپنی انگلیوں کے اشارے سے چاند کو دو لخت کر دیا تھا اور ان کینہ پرور لوگوں نے انکی اولاد کو دو لخت کر دیا۔

یا تو دانی مُصطفیٰ را فارغ از رنجِ حُسین
یا تو خواہی زیں مُصیبت امتحانِ مُصطفیٰ

اے خدا یا تو تُو سمجھتا ہے کہ مصطفیٰ (ص) کو حسین (ع) کا کوئی غم نہیں ہے، یا تو اس مصیبت سے (جو حسین پر آئی) مصطفیٰ (ص) کا امتحان چاہتا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
با پر توِ جمالت، بُرھاں چہ کار دارد؟
با عشقِ زلف و خالت، ایماں چہ کار دارد؟

(شیخ فخر الدین عراقی)

تیرے جمال کے پرتو کے آگے عقل و دانش کا کیا کام؟ تیری زلف و خال کے عشق کے سامنے ایمان کا کیا کام؟
 

محمد وارث

لائبریرین
گرفتم سہل سوزِ عشق را اوّل، ندانستم
کہ صد دریائے آتش از شرارے می شود پیدا


(صائب تبریزی)

اول اول میں نے سوزِ عشق کو آسان سمجھا اور یہ نہ جانا کہ اسی ایک چنگاری سے آگ کے سو سو دریا جنم لیتے ہیں۔
 

محمد وارث

لائبریرین
شہِ اقلیمِ فقرم، بے خودی تختِ روانِ من
نہ چوں فرہاد مزدورم، نہ چوں مجنوں زمیندارم


(نامعلوم)

میں فقر کی سلطنت کا بادشاہ ہوں اور بیخودی میرا تخت و تاج ہے، نہ میں فرہاد کی طرح مزدور ہوں اور نہ مجنوں کی طرح زمیندار۔ مجنوں کیلیے زمیندار کی تشبیہ ایک نادر تشبیہ ہے اور کم از کم اس سے پہلے میری نظر سے نہیں گزری۔

---------------
تدوین
فیس بُک پر ایک ایرانی دوست نے بتایا ہے کہ یہ شعر "مرزا معز فطرت" کا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
عرفی شیرازی کی یہ غزل درکار ہے۔

زباں ز نکتہ فرو ماند و رازِ من باقیست۔
بضاعتِ سخن آخر شد و سُخن باقیست۔

تعاون فرمائیے گا۔

غزل حاضر ہے آسی صاحب:

زباں ز نکتہ فرو ماند و رازِ من باقیست
بضاعتِ سخن آخر شد و سُخن باقیست

گماں مبر کہ تو چوں بگذری جہاں بگذشت
ہزار شمع بکشتند و انجمن باقیست

کسے کہ محرمِ بادِ صباست می داند
کہ با وجودِ خزاں بُوئے یاسمن باقیست

ز شکوہ ہائے جفایت دو کون پُر شد لیک
ہنوز رنگِ ادب بر رُخِ سخن باقیست

نماند قاعدۂ مہرِ کوہکن بہ جہاں
ولے عداوتِ پرویز و کوہکن باقیست

مگو کہ ہیچ تعلق نماند عرفی را
تعلقے کہ نبودش بہ خویشتن باقیست

کیا خوبصورت غزل ہے واہ واہ واہ۔
 

محمد وارث

لائبریرین
چو عشق را تو ندانی، بپرس از شب ھا
بپرس از رُخِ زرد و ز خشکیِ لب ھا


چونکہ تو عشق کے متعلق کچھ بھی نہیں جانتا سو پوچھ ان راتوں سے (جو عشاق پر گزرتی ہیں)، پوچھ (عشاق کے ان) زرد چہروں اور لبوں کی خشکی سے (کہ عشق کیا ہے)۔

ہزار گونہ ادب، جاں ز عشق آموزَد
کہ آں ادب نتواں یافتن ز مکتب ھا


جان، عشق سے، ہزار قسم کے ادب آداب سیکھتی ہے اور یہ ایسے ادب آداب ہیں کہ کسی مکتب میں نہیں سکھائے جاتے۔

خرد نداند و حیراں شَوَد ز مذہبِ عشق
اگرچہ واقفِ باشد ز جملہ مذہب ھا


خرد، مذہبِ عشق کے بارے میں کچھ نہیں جانتی سو (مذہب عشق کے معاملات سے) حیران ہو جاتی ہے۔ اگرچہ خرد اور تو سب مذاہب کے بارے میں سب کچھ جانتی ہے۔

(مولانا رُومی)
 

محمد وارث

لائبریرین
چہ گنہ کرد دلم کز تو چنیں دُور افتاد؟
من چہ کردم کہ ز وصلِ تو جدا افتادم؟


(شیخ فخر الدین عراقی)

میرے دل نے ایسا کون سا گناہ کر دیا ہے کہ اسطرح تجھ سے دُور ہو گیا ہے؟ اور میں نے ایسا کیا کر دیا ہے کہ تیرے وصل سے جدا ہو گیا ہوں؟
 

محمد وارث

لائبریرین
دل را بہ چمن بردم، از بادِ چمن افسرد
میرد بہ خیاباں ہا، ایں لالۂ صحرا مست

(اقبال)

میں اپنے دل کو چمن یعنی دنیا کی محفلوں میں لے گیا لیکن وہ بادِ چمن (محفل کی رونقوں) سے اور افسردہ ہو گیا، (اور ایسا ہی ہونا تھا کیونکہ) صحرا میں مست رہنے والا لالہ جب شہر کے چمن کی کیاریوں میں جاتا ہے تو مرجھا جاتا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
از صراحی دو بار قلقلِ مے
پیشِ جامی بہ از چہار قُل است


﴿مولانا عبدالرحمٰن جامی﴾

صراحی میں سے دو بار شراب کی قلقل کی آواز ﴿وہ آواز جو بوتل یا صراحی سے گلاس میں کوئی چیز انڈیلتے وقت آتی ہے﴾، جامی کے نزدیک چاروں قُل سے بہتر ہے۔
 

mgkr11

محفلین
بحث و جدال بجای مان، میکدہ جو کہ اندر آن
کس نفس از جمل نزد، کس سخن از فدک نخواست
﴿مرزا اسد اللہ خان غالب﴾

ترجمہ جنابِ وارث کے ذمّے۔۔۔۔
 

mgkr11

محفلین
آہم بسرِ راہے، ماہم بسرِ بامے
دیوار بامیدے، اُمید بدیواے
حضرت غلام قادر گرامی(رح)
 

محمد وارث

لائبریرین
زر از بہرِ خوردن بُوَد اے پسر
برائے نہادن چہ سنگ و چہ زر

(شیخ سعدی شیرازی)


اے پسر، روپیہ پیسہ اور مال و دولت کھانے پینے اور استعمال کرنے کیلیے ہوتا ہے، اگر رکھ ہی چھوڑنا ہے اور استعمال نہیں کرنا تو پھر کیا پتھر اور کیا دولت (یعنی رکھے ہوئے دونوں ایک برابر ہیں۔)
 

محمد وارث

لائبریرین
اگر سیاہ دِلم داغِ لالہ زارِ تو اَم
وگر کشادہ جبینم گلِ بہارِ تو اَم

اقبال

اگر میں سیاہ دل والا ہوں تو تیرے لالہ زار ہی کا داغ ہوں، اور اگر میں کشادہ جبیں والا ہوں تو تیری بہار ہی کا پھول ہوں۔
 
Top