حسان خان

لائبریرین
کند چون دُخترِ رز جلوه زاهد
تماشا کن که یک دیدن حلال است

(محمد قُلی سلیم تهرانی)
اے زاہد! جب دُخترِ انگور (شراب) جلوہ کرے تو نظارہ کرو، کیونکہ ایک [بار] دیکھنا حلال ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
از دو دیوانم به تازی و دری
یک هِجا و فُحش هرگز کس ندید

(خاقانی شروانی)
عرَبی و فارسی میں میرے دو دیوانوں میں سے ہرگز کسی شخص نے کوئی ہَجْو یا فُحْش نہیں دیکھا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
پاک طینت را کمالے نیست دانشور شدن
ہیچ حاجت نیست خاکِ کربلا را زر شدن


صائب تبریزی

پاک طینت، نیک سرشت، اچھی فطرت والے کے لیے کوئی کمال نہیں ہے کہ وہ دانشور بھی ہو جائے، جیسے کربلا کی خاک کو کسی قسم کی کوئی حاجت نہیں ہے کہ وہ سونے کی بن جائے۔
 

حسان خان

لائبریرین
این زبانِ پارسی گنجینهٔ فرهنگِ ماست
وز سرِ گنجینه باید دُور کردن مُوش و مار

(علام‌علی رعدی آذرَخشی)
یہ زبانِ فارسی ہماری ثقافت کا گنجینہ ہے، اور گنجینے کے نزد سے چوہے اور سانپ کو دُور کرنا لازم ہے۔

تشریح: یعنی یہ زبانِ فارسی ہماری ثقافت کا مخزن ہے، یعنی ہماری جُملہ ثقافت و ہماری کُل روایات اِس زبانِ فارسی کے اندر موجود ہیں، اور اِس زبان نے ہمارے تمدُّن و ہماری گُذشتہ تاریخ کو ایک گنجینے کی مانند محفوظ رکھا ہوا ہے، اور جس طرح کسی عام خزانے کے پاس سے مُوذی چیزوں کو دُور کرنا ضروری ہوتا ہے، اُسی طرح ہم کو اِس گنجینۂ زبانِ فارسی سے بھی مُوذی و ضررآور چیزوں کو دُور کرنا لازم ہے، مبادا یہ شریر و مُوذی جانور و اشیاء ہماری زبان کے خزانے کو مخدوش و معیوب کر دیں۔ «مُوش و مار» (چُوہا و سانپ) سے شاید زبانِ فارسی کے دُشمنوں وَ بدخواہوں کی جانب اشارہ ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
عربی شاعر «ابو نُواس» کی چند ابیات کا فارسی ترجمہ:
"ای دیده، تُرا ملامت کنم نه دل را
که دل را گُناهی نیست.
تو او را به هر بلا و محنت مُبتلیٰ ساختی،
و سِرِشکِ ریزانِ خود، هر بار به کامِ او ریختی.
تا آن‌گاه که نهالِ عشق باروَر شد،
و او اُلفت‌کدهٔ عشق‌ها گردید."

(مترجم: عبدالمحمد آیتی)

اے چشم! میں تم کو ملامت کرتا ہوں، نہ کہ دل کو
کیونکہ دل کا کوئی گُناہ نہیں ہے۔
تم نے اُس کو ہر بلا و رنج میں مُبتلا کیا،
اور اپنے اشکوں کے قطراتِ ریزاں کو ہر بار اُس کے دہن میں بہایا۔
یہاں تک کہ نِہالِ عشق ثمردار ہو گیا،
اور وہ (دل) عشقوں کا اُلفت کدہ بن گیا۔
 
آیت اللہ خامنہ‌ای کواہدا کردہ نظم"کشتیِ نجات" کے مطلع میں شہریار تبریزی کہتے ہیں:

گل و شمعم به مزارِ دلِ خونین آمد
گفت پا شو که مسیحات به بالین آمد
(شهریار تبریزی)

میرے گل و شمع دلِ خونیں کے مزار پر آئے اور کہا کہ ایستادہ ہوجاوٗ کہ تیرا مسیحا تیرے بسترِ(مرگ) پر آگیا ہے (تاکہ اپنی مسیحانَفَسی سے تجھے شفایاب کردے)۔

محترماں محمد وارث محمد ریحان قریشی پہلے مصرعے کی ابتدا ہجائے کوتاہ جبکہ دوسرے مصرعے کی ابتدا ہجائے بلند سے ہورہی ہے۔ کیا وزن میں نقص نہیں ہے یہ؟
 

محمد وارث

لائبریرین
آیت اللہ خامنہ‌ای کواہدا کردہ نظم"کشتیِ نجات" کے مطلع میں شہریار تبریزی کہتے ہیں:

گل و شمعم به مزارِ دلِ خونین آمد
گفت پا شو که مسیحات به بالین آمد
(شهریار تبریزی)

میرے گل و شمع دلِ خونیں کے مزار پر آئے اور کہا کہ ایستادہ ہوجاوٗ کہ تیرا مسیحا تیرے بسترِ(مرگ) پر آگیا ہے (تاکہ اپنی مسیحانَفَسی سے تجھے شفایاب کردے)۔

محترماں محمد وارث محمد ریحان قریشی پہلے مصرعے کی ابتدا ہجائے کوتاہ جبکہ دوسرے مصرعے کی ابتدا ہجائے بلند سے ہورہی ہے۔ کیا وزن میں نقص نہیں ہے یہ؟
اس بحر میں ان دونوں اوزان کا اختلاط جائز ہے، یعنی
فاعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن
اور
فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

مزید یہ کہ آخری فعلن کی جگہ بھی فَعِلن، فعلان اور فَعِلان آ سکتے ہیں یوں آٹھ اوزان ایک ہی غزل میں اور کوئی سے دو اوزان ایک شعر میں اکھٹے ہو سکتے ہیں۔

مثال کے طور پر حافظ شیرازی

دوستان عیب نظربازی حافظ مکنید
که من او را ز محبان شما می‌بینم
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی شاعر «قارامان‌لې نظامی» کی ایک بیتِ مُلمّع، جس کا مصرعِ اوّل فارسی میں اور مصرعِ ثانی تُرکی میں ہے:
گفتم که به من رحم کن ای یارِ جفاکیش
تۆرک اۏغلانې مئن آنگلامانام دیدی عجم‌نی

(قارامان‌لې نظامی)
میں نے کہا: اے یارِ جفاکیش! مجھ پر رحم کرو۔۔۔ اُس نے کہا: میں تُرک لڑکا ہوں، میں [زبانِ] عجم کو نہیں سمجھتا۔

Türk oġlanı men anglamanam didi 'acemni

× تُرکی مصرع چغَتائی تُرکی میں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
تیرِ دل‌دوز به هر دل زنی، ای قاتلِ مست
ناوکی چند نِگه دار برایِ دلِ ما

(امیر علی‌شیر نوایی)
اے قاتلِ مست! تم دل چھیدنے والا تیر ہر دل پر مارتے ہو۔۔۔ ہمارے دل کے لیے [بھی] چند ایک تیر بچا کر رکھو۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
عُثمانی شاعر «قارامان‌لې نظامی» کی ایک فارسی بیت:
تن چیست بهرِ دوست نظامی ز جان گُذر
کین لاشه پیشِ اهلِ حقیقت چو لاشَی است

(قارامان‌لې نظامی)
اے نظامی! تن کیا چیز ہے، دوست کی خاطر جان سے گُذر جاؤ۔۔۔ کیونکہ یہ لاشہ اہلِ حقیقت کے نزدیک لاشَے کی مانند ہے۔
(یعنی تنِ انسانی بے قیمت چیز ہے، اگر یار کی خاطر کچھ قُربان کرنا ہے تو جان کو قُربان کرو۔)
 
آخری تدوین:

یاسر شاہ

محفلین
عُثمانی شاعر «قارامان‌لې نظامی» کی ایک فارسی بیت:
تن چیست بهرِ دوست نظامی ز جان گُذر
کین لاشه پیشِ اهلِ حقیقت چو لاشَی است

(قارامان‌لې نظامی)
اے نظامی! تن کیا چیز ہے، دوست کی خاطر جان سے گُذر جاؤ۔۔۔ کیونکہ یہ لاشہ اہلِ حقیقت کے نزدیک لاشَے ہے۔
(یعنی تنِ انسانی بے قیمت چیز ہے، اگر یار کی خاطر کچھ قُربان کرنا ہے تو جان کو قُربان کرو۔)

عاشقی چیست بگو بندۂ جاناں بودن
دل بدستِ دگرے دادن و حیراں بودن


(غالباً حافظ شیرازی )

aashiqii che.st bago bandah e jaanaaN boodan
dil badast e digaray daadan o hairaaN boodan

اٹکلی ترجمہ :عاشقی کیا ہے -کہو محبوب کا بندہ(غلام ) ہو جانا -دل کسی اور کے ہاتھ میں دے کر حیراں ہو جانا -

اس شعر کا کچھ کچھ اثر مفتی تقی عثمانی صاحب نے اپنے ایک اردو شعر میں پیدا کیا ہے :

محبّت کیا ہے دل کا درد سے معمور ہوجانا
متا عِ جاں کسی کو سونپ کر مجبور ہوجانا

آگے فرماتے ہیں :

یہاں تو سرسے پہلے دل کا سودا شرط ہے یارو
کوئی آسان ہے کیا سرمد و منصور ہو جانا


یعنی پہلے "دل بدستِ دگر ے دادن" کا مقام ہے پھر "ز جاں گزر" کا مقام -

بہر حال آپ کے اس شعر کو پڑھ کے یہ سب کچھ یاد آگیا -
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
عاشقی چیست بگو بندۂ جاناں بودن
دل بدستِ دگرے دادن و حیراں بودن


(غالباً حافظ شیرازی )

aashiqii che.st bago bandah e jaanaaN boodan
dil badast e digaray daadan o hairaaN boodan

اٹکلی ترجمہ :عاشقی کیا ہے -کہو محبوب کا بندہ(غلام ) ہو جانا -دل کسی اور کے ہاتھ میں دے کر حیراں ہو جانا -
یہ بَیت حافظ شیرازی کی نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
آنان که خاک را به نظر کیمیا کنند
آیا بُوَد که گوشهٔ چشمی به ما کنند

(حافظ شیرازی)
جو افراد خاک کو [اپنی ایک] نظر سے کیمیا کر دیتے ہیں۔۔۔ کیا ایسا ہو گا کہ وہ ایک گوشۂ چشم ہماری جانب [بھی] کر دیں؟
امام بخش ناسِخ کی ایک بیتِ مُلمّع، جس کا مصرعِ اوّل فارسی میں اور مصرعِ ثانی اردو میں‌ ہے:
آنان که خاک را به نظر کیمیا کُنند
ناسخ ہیں خاک رہگُذرِ بوتُراب میں

(امام بخش ناسخ)
اے ناسخ! جو افراد خاک کو [اپنی ایک] نظر سے کیمیا کر دیتے ہیں، وہ ابوتُراب (حضرتِ علی) کی رہ گُذر میں خاک ہیں۔

× فارسی مصرع حافظ شیرازی کا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
یہودی فارسی شاعر «عِمرانی» کی مثنوی «ساقی‌نامه» کی ابتدائی دو ابیات:
دی مرا خوانْد پِیرِ مَی‌خانه
گُفت کای نیک‌بختِ فرزانه
فصلِ نوروز و نوبهار آمد
کار کن هان که وقتِ کار آمد

(عمرانی)
گذشتہ روز مجھ کو پِیرِ مَیخانہ نے پُکارا اور کہا: اے نیک بخت و دانشمند! موسمِ نوروز و نوبہار آ گیا۔۔۔ ہاں، کار کرو کہ وقتِ کار آ گیا۔
 
آخری تدوین:

فاخر

محفلین
میری طرف سے بھی حافظؔ شیرازی کا ایک مقطع اور اس کا ترجمہ پیش خدمت ہے،ترجمہ کچھ حد تک آزاد ہے:
’’ز بے خودی طلب یار می‌کند حافظؔ
چو مفلسی کہ طلب کار گنج قارون است‘‘
( بشکریہ گنجور)

ترجمہ: (عشق کی)بے خودی اور بے قراری میں محبوب کی طلب ہوتی ہے جيسے مفلسی اور تنگ دستی ہو تو ایسے میں مال و دولت اور سرمایہ ہی کام دیتا ہے۔
 
مدیر کی آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
ز بی‌خودی طلبِ یار می‌کند حافظ
چو مفلسی که طلب‌کارِ گنجِ قارون است

(حافظ شیرازی)
بے خودی کے سبب 'حافظ' یار کی طلب کرتا ہے۔۔۔ اُس مُفلِس کی طرح کہ جو خزانۂ قارُون کا طلب کار [ہوتا] ہے۔
 
آخری تدوین:
حکایتِ لبِ شیرین کلامِ فرهاد است
شکنجِ طره‌ی لیلی مقامِ مجنون است
(حافظ شیرازی)

لبِ شیریں کا قصہ فرہاد کی بات ہے. لیلیٰ کی زلف کا پیچ مجنون کا مقام ہے

مترجم:قاضی سجاد حسین
 
آخری تدوین:
زاهد غرور داشت سلامت نبرد راه
رند از رهِ نیاز به دارالسلام رفت
(حافظ شیرازی)

زاہد کو تکبر تھا، سلامتی سے راستہ طے نہ کرسکا. رند عاجزی سے جنت میں پہنچ گیا (یعنے زاہد کا غرور تباہی کا سبب بنا اور رند کا عجز اس کو جنت میں لے گیا)

مترجم :قاضی سجاد حسین
 
نمی داند کسی کاندر سرِ زلفش چه خون‌ها شد
ولیکن، موبه مو، این داستان را شانه می داند
(ابوالقاسم لاہوتی)

کوئی نہیں جانتا کہ اس کی زلف کے خیال میں کتنے خون ہوئے امّا اس داستان کو شانہ(کنگھی) جزبجز جانتا ہے
 

محمد وارث

لائبریرین
بجز خارے کہ مجنوں داشت در دل
بیابانِ جنوں خارے ندارد


ہمت خان

اُس ایک کانٹے کے سوا کہ جو مجنوں کے دل میں تھا، بیابانِ جنوں میں کوئی اور کانٹا ہی نہیں ہے۔
 
Top