حسان خان

لائبریرین
ندامت هم دلیلِ عبرتِ مردُم نمی‌گردد
درین جا سُودنِ دست است مِقراضِ پشیمانی

(بیدل دهلوی)
ندامت بھی مردُم کے لیے عبرت کا سبب نہیں بنتی۔۔۔ اِس جگہ [پشیمانی سے] دست مَلنا پشیمانی کے [لیے] قینچی [جیسا] ہے۔ (یعنی پشیمانی سے دَست مَلنا قینچی کی مانند آہستہ آہستہ پشیمانی ہی کو کاٹ کر ختم کر دیتا ہے۔)
 

حسان خان

لائبریرین
ز تشویشِ حوادث نیست بی سعیِ فنا رَستن
پُل از کشتی شکستن بسته‌ام بر رُویِ جَیحونی

(بیدل دهلوی)
فنا کی سعی و کوشش کے بغیر تشویشِ حوادث سے رہائی نہیں پائی جا سکتی۔۔۔ میں نے [اپنی] کشتی توڑنے سے (یا کشتی توڑنے کے ذریعے سے) جَیحون [جیسے ایک دریا] پر پُل باندھا ہے۔
× جَیحون = افغانستان اور تاجکستان کی سرحد پر بہنے والے دریا کا نام
 

حسان خان

لائبریرین
غمِ بی‌حاصلی زین گفت‌وگوها کم نمی‌گردد
عبارت باید اِنشا کرد و پیدا نیست مضمونی

(بیدل دهلوی)
بے حاصلی کا غم اِن گفتگوؤں سے کم نہیں ہوتا۔۔۔ عِبارت تحریر کرنا لازم ہے [لیکن] کوئی مضمون ظاہر [و حاصل] نہیں [ہو پا رہا] ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
هستیِ موهومِ ما یک لب گشودن بیش نیست
چون حُباب، از خجلتِ اظهار، خاموشیم ما

(بیدل دهلوی)
ہماری ہستیِ موہوم ایک لب گُشائی سے بیش تر نہیں ہے (یعنی جتنی مُدّت لب کھولنے میں لگتی ہے اُتنی ہی مدّت ہماری ہستیِ موہوم کی ہے، یا یہ کہ ہم جیسے ہی لب کھولتے ہیں ہماری ہستیِ موہوم معدوم ہو جاتی ہے)۔۔۔ حُباب کی مانند ہم شرمندگیِ اظہار کے باعث خاموش ہیں۔
× حُباب = بُلبُلہ
 

حسان خان

لائبریرین
چراغِ ابلهان عُمری‌ست می‌سوزد درین محفل
چه باشد یک شرر بالد فُروغِ طبعِ آگاهی

(بیدل دهلوی)
احمقوں کا چراغ ایک عُمر سے اِس محفل میں جل رہا ہے۔۔۔ کیا ہو جائے اگر ایک شرر [جتنی مُدّت ہی کے لیے] کسی [شخصِ] آگاہ و عارف کا نُور یہاں رونق و نُمو پیدا کرے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
بس که موزونان ز شرمِ قامتت گشتند آب
صورتِ فوّاره باید ریخت از اجزایِ سرو

(بیدل دهلوی)
موزوں اندام رکھنے والے [خُوباں] تمہاری قامت کی شرم سے اِتنے زیادہ آب ہو گئے ہیں کہ [درختِ] سَرْوْ کے اجزا سے فوّارے کی صورت کا بہنا لازم ہے۔ (درختِ سَرْوْ اپنی موزوں قامتی کے لیے مشہور ہے۔)
 

حسان خان

لائبریرین
تیغت چه فسون داشت که چون بیضهٔ طاووس
گُل می‌کند از خاکِ شهیدِ تو شفق‌ها

(بیدل دهلوی)
تمہاری تیغ کس قسم کا افسُوں و جادو رکھتی تھی کہ بیضۂ طاؤس کی طرح تمہارے شہید کی خاک سے شَفَقیں ظاہر ہوتی ہیں؟
× بیضۂ طاؤس = مور کا انڈا
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
دُویی در کیشِ از خود رفتگان کُفر است ای زاهد
من و محوِ صنم گشتن تو و یادِ خدا کردن

(بیدل دهلوی)
اے زاہد! جو افراد خود سے بے خبر ہوں اُن کے دین میں دُوئی و ثنَویت کُفر ہے۔۔۔ میں صنم میں محو و نیست ہوتا ہوں [جبکہ] تم خُدا کی یاد کرتے ہو۔

تشریح: 'از خود رفته' اُس شخص کو کہتے ہیں جو خود کی ذات سے بے خبر و بے ہوش ہو اور مندرجۂ بالا بیت میں یہ اُس شخص کے لیے استعمال ہوا ہے جو خود کی ذات کو تَرک کر کے محبوب میں زائل ہو گیا ہو۔ دیگر مُتصوِّف شاعروں کی طرح بیدل بھی 'از خود رفتگی' کو توحیدِ حقیقی کے لیے ایک اہم شرط سمجھتے ہیں۔ 'کِیش' فارسی میں 'دین' کا مترادف لفظ ہے، جبکہ 'دُوئی' کا معنی 'دوگانگی' ہے اور یہاں خدائے یگانہ کے وجود کے سوا کسی دیگر چیز کے وجود کا معتقد ہونے کے مفہوم میں بروئے کار لایا گیا ہے۔ بیدل، از خود رفتگاں کے کِیش و دین میں 'دُوئی' کو جائز نہیں جانتے، بلکہ اُس کو کُفر جانتے ہیں۔ وہ زاہد پر اِستہزا کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ اے زاہد، تم ہمیشہ خدا کو یاد کرتے اور خود کو خدا سے جدا تصوُّر کرتے ہو، لیکن میں سعی کرتا ہوں کہ محض یاد کرنے کی بجائے میں خود کو صنم میں محو و نابود کر لوں۔ اے زاہد تم خود کو خدا سے جدا دیکھتے ہو، جو ہم از خود رفتَگاں کی نظر میں کُفر ہے، جبکہ میں خود کو اُس میں کاملاً محو دیکھتا ہوں، اور یہی ہماری نظر میں اصل و حقیقتِ ایمان و توحید ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
اهلِ مشرب از زبانِ طعنِ مردُم فارغ‌اند
دامنِ صحرا چه غم دارد ز زخمِ خارها؟

(بیدل دهلوی)
اہلِ مشرَب، مُردم کی زبانِ طعن سے آسودہ خاطِر ہیں۔۔۔ دامنِ صحرا کو خاروں کے زخم کا کیا غم ہے؟

× مصرعِ اوّل میں 'فارغ‌اند' کی بجائے 'فارغ است' بھی نظر آیا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
خود را بدرِ صومعہ گم کردہ ام امروز
امید کہ در گوشۂ میخانہ بیابم


طالب آملی

آج میں نے اپنے آپ کو خانقاہ کے دروازے پر گم کر دیا ہے، اُمید ہے کہ میخانے کے کسی گوشے میں خود کو پا لوں گا۔
 

حسان خان

لائبریرین
خون به دل، خاک به سر، آه به لب، اشک به چشم،
بی جمالِ تو چه‌ها بر منِ مسکین آمد

(بیدل دهلوی)
دل میں خون، سر پر خاک، لب پر آہ، چشم میں اشک۔۔۔ تمہارے جمال کی غیر موجودگی میں مجھ مسکین پر کیا کیا آیا۔
 

حسان خان

لائبریرین
ز شورِ بی‌نشانی بی‌نشانی شد نشان بیدل
که گُم گشتن ز گُم گشتن بُرون آورد عنقا را

(بیدل دهلوی)
اے بیدل! 'بے نشانی' کے شور و آشوب سے 'بے نشانی' نمودار و مشہور ہو گئی۔۔۔
کہ 'گُم ہونا' عنقا کو 'گُم ہونے' (یعنی گُم نامی) سے بیرون لایا [تھا]۔
 

حسان خان

لائبریرین
چو شمع از کُشتنم پنهان نشد داغِ تمنّایت
به بزمِ حسرتم سازِ خموشی هم صدا دارد

(بیدل دهلوی)
میرے قتل ہو جانے سے شمع کی طرح تمہاری تمنّا کا داغ پنہاں نہ ہوا (یعنی شمع کو اگر خاموش کر دیا جائے تو اُس کا داغِ تمنّا پنہاں ہو جاتا ہے، لیکن اگر مجھے قتل کر دیا جائے، تو بھی میرا داغِ تمنّائے محبوب پنہاں نہ ہو گا)۔۔۔ میری بزمِ حسرت میں سازِ خاموشی بھی صدا رکھتا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
ز مِهرش مبادا تهی ایچ دل
ز فرمانْش خالی مباد ایچ مرْج

(رودکی سمرقندی)
کوئی بھی دل اُس کی محبّت سے تہی نہ ہو!۔۔۔ کوئی بھی سرزمین اُس کے فرمان سے خالی نہ ہو!
× ظاہراً یہ بیت پادشاہ کی مدح میں کہی گئی تھی۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
مرا جودِ او تازه دارد همی
مگر جودش ابر است و من کِشت‌زار؟!

(رودکی سمرقندی)
مجھے اُس کا جُود و کرَم [مُسلسل] تازہ رکھتا ہے۔۔۔ کیا اُس کا جُود و کرَم ابر ہے اور میں کِشت زار [ہوں]؟
× کِشت زار = کھیت

× ظاہراً یہ بیت پادشاہ کی مدح میں کہی گئی تھی۔
 

حسان خان

لائبریرین
خود خصمِ خودیم ورنه گردون
با خلقِ ضیعف کین ندارد

(بیدل دهلوی)
ہم خود [ہی] خود کے دشمن ہیں۔۔۔ ورنہ فلک خَلقِ کمزور و ناتواں کے ساتھ دشمنی و عداوت نہیں رکھتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
چند کنم فکر آبِ دیدهٔ بیدل
قطرهٔ این بحر هم کنار ندارد

(بیدل دهلوی)
میں 'بیدل' کے آبِ دیدہ (اشک) کی فکر کب تک کروں؟۔۔۔ اِس بحر کا قطرہ بھی کنارہ و ساحل نہیں رکھتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
خرامِ سیل در ویرانه‌ها دارد تماشایی
ز رفتارت قیامت می‌رود بر دل بیا بِنْگر

(بیدل دهلوی)
ویرانوں میں سیلاب کا خِرام ایک تماشا رکھتا ہے۔۔۔ تمہاری رفتار سے دل پر قیامت گُذرتی ہے، آؤ نگاہ کرو۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
با خیالِ اُو نگنجد یادِ خوباں در دلم
ہر کجا سلطاں کند خلوت حشم نامحرم است


ابوالفیض فیضی دکنی

میرے دل میں، اُس کے خیال کے ساتھ، دوسرے خوبصورت لوگوں کی یاد نہیں سماتی، کہ بادشاہ جہاں کہیں بھی خلوت اختیار کرتا ہے وہاں خدمت گذاروں اور لوگوں کا جمگھٹا نا محرم ہو جاتا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
رُباعی از شیخ شرف الدین پانی پتی (معروف بہ بُوعلی قلندر)

یادش بدلِ کافر و دیندار یکیست
چوں رشتہ کہ در سبحہ و زنار یکیست
گر چشمِ بصیرتِ تو باز است شرف
در دیر و حرم جلوۂ دلدار یکیست


کافر اور دیندار دونوں کے دلوں میں اُس کی یاد ایک جیسی ہی ہے، جیسے دھاگہ کہ تسبیح اور زُنار دونوں میں ایک ہی ہے۔ اے شرف، اگر تیری بصیرت کی آنکھیں کھلی ہوئی ہیں (تو دیکھ لے کہ) بتخانے اور حرم میں ایک ہی دلدار کا ایک جیسا ہی جلوہ ہے۔
 
Top