حسان خان

لائبریرین
از فُنونِ شعر فنِّ بهترین آمد غزل
چون نکورویان که در صورت بِه‌اند از جنّ و اِنس
(عبدالرحمٰن جامی)

شعر کی اَقسام میں سے بہترین قِسم غزل ہے

زیبا رُویوں کی طرح، کہ جو صورتاً جنّ و اِنس سے بہتر ہیں
 

حسان خان

لائبریرین
تا دلِ او را توانم نرم کرد
مُعجِزِ داود می‌باید مرا
(واله داغستانی)

مجھے داؤد (ع) کے معجزے کی حاجت ہے تاکہ میں اُس کے دل کو نرم کر سکوں۔
 

حسان خان

لائبریرین
دِی کسی می‌کرد وصفِ ذوالفقارِ حیدری
تُندیِ شمشیرِ ابرویِ تو یاد آمد مرا
(واله داغستانی)
دِیروز ایک شخص ذوالفقارِ حیدری کے وصف بیان کر رہا تھا؛ مجھے تمہاری شمشیرِ ابرو کی تیزی و تُندی یاد آ گئی۔
× دِیروز = روزِ گذشتہ، گذشتہ کل، گذرا ہوا کل
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گُویِ سبقت هر که بُرد از دیگران مرد است مرد
ورنه هر زالی‌ست رُستم، چون شود میدان تهی
(صائب تبریزی)
جو بھی شخص [میدان میں] دیگروں سے گُوئے سبقت لے گیا (یعنی دیگروں پر برتری لے گیا)، وہ مرد ہے۔۔۔۔ ورنہ جب میدان خالی ہو جائے تو ہر پِیرزَن ہی رُستم ہے۔
× پِیرزَن = بوڑھی عورت
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گُویِ سبقت هر که بُرد از دیگران مرد است مرد
ورنه هر زالی‌ست رُستم، چون شود میدان تهی
(صائب تبریزی)
جو بھی شخص [میدان میں] دیگروں سے گُوئے سبقت لے گیا (یعنی دیگروں پر برتری لے گیا)، وہ مرد ہے۔۔۔۔ ورنہ جب میدان خالی ہو جائے تو ہر پِیرزَن ہی رُستم ہے۔
× پِیرزَن = بوڑھی عورت
'زال' اور 'رُستم' کے درمیان ایک نسبت یہ بھی ہے کہ 'زال' رُستم کے والد کا نام تھا، کیونکہ وہ سفید بالوں کے ساتھ متولّد ہوا تھا۔ میر تقی میر کا یہ اردو شعر دیکھیے:
زالِ دنیا کو جن نے چھوڑ دیا
وہی نزدیک اپنے رُستم ہے
لفظِ 'زال' بنیادی طور پر سفید بالوں والے سال خوردہ و فرتُوت شخص، خصوصاً معمّر عورت، کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
هر کس به جهان هست به چیزی سر و کارش
ما را به غمِ عشقِ تو جانا سر و کار است
(واله داغستانی)

ہر شخص کو دنیا میں کسی نہ کسی چیز سے سروکار ہے؛ اے جان! ہمیں تمہارے عشق کے غم سے سروکار ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
گفتی که مکن نامِ مرا داخلِ دیوان
دیوان که در او نامِ تو نبْوَد به چه کار است
(واله داغستانی)

تم نے کہا کہ "میرے نام کو دیوان میں داخل مت کرو"؛ جس دیوان میں تمہارا نام نہ ہو، وہ کس کام کا؟
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
یک روز دلم برایِ تو سوخته بود
آتش به تنورِ سینه افروخته بود
در بوسه‌گهِ رُویِ تو با شور و هوس
حَرف و سبقِ عاشقی آموخته بود
(صَفَر امیرخان)
ایک روز میرا دل تمہارے لیے جلا تھا؛ [اور] سینے کے تندور میں آتش روشن کی تھی؛ [اور] تمہارے چہرے کی بوسہ گاہ میں اُس نے ہیجان و اشتیاق کے ساتھ عاشقی کا حَرف و سبق سیکھا تھا۔
× شاعر کا تعلق تاجکستان سے ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
بس تیره‌شبِ فصلِ تَمُوز آخر شد
بس عالَمِ درد و داغ و سوز آخر شد
یک عمرِ دراز انتظارت بودم
نوبت که به ما رسید، روز آخر شد
(صَفَر امیرخان)
موسمِ گرما کی کتنی ہی تاریک شبیں ختم ہو گئیں؛ درد و داغ و سوز کے کتنے ہی عالَم ختم ہو گئے؛ میں ایک طویل عمر سے تمہارا منتظر تھا؛ [لیکن] جب باری ہم تک پہنچی، روز ختم ہو گیا۔
× شاعر کا تعلق تاجکستان سے ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
پیراهنی، که در تنِ ما بوده قرن‌ها
این گُرگ‌هایِ گُشنه، بِبین، چاک کرده‌اند
(فردوس اعظم)

جو پیرہن ہمارے تن پر صدیوں سے تھا، اُسے اِن بھوکے گُرگوں نے، دیکھو، چاک کر دیا ہے۔
× گُرگ = بھیڑیا

× شاعر کا تعلق تاجکستان سے ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
از عشقِ تو مثلِ لاله داغم، ای گُل
آتش‌به‌سری مثلِ چراغم، ای گُل
چون بادِ بهار می‌روی کُوی به کُو
امّا نکنی گذر ز باغم، ای گُل
(صَفَر امیرخان)
اے گُل! تمہارے عشق سے میں لالہ کی طرح داغ ہوں؛ اے گُل! میں چراغ کی ظرح آتش بہ سر ہوں؛ تم بادِ بہار کی طرح کوچہ بہ کوچہ جاتے ہو؛ لیکن، اے گُل!، تم میرے باغ سے گذر نہیں کرتے۔
× شاعر کا تعلق تاجکستان سے ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
دردا، که گُلِ بهارِ من زرد شده
پژمُرده ز گَردِ حسرت و درد شده
کاشانهٔ دل کُویِ فرح‌مندان بود
این لحظه ز هَجرِ دوستان سرد شده
(صَفَر امیرخان)

افسوس! کہ میرا گُلِ بہار زرد ہو گیا ہے؛ [اور] حسرت و درد کی گَرد سے پژمُردہ ہو گیا ہے؛ [میرا] کاشانۂ دل شاد و مسرور افراد کا کُوچہ تھا؛ [لیکن] اس لمحے دوستوں کی جدائی سے سرد ہو گیا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
هنگامهٔ نَکهَتِ بهار است امشب
دل مستِ وصال و حُسنِ یار است امشب
از شرم و حیا و بوسهٔ لب‌سوزم
رُخسارهٔ یار لاله‌زار است امشب
(صَفَر امیرخان)
اِس شب بہار کی خوشبو کا ہنگامہ و اِزدِحام ہے؛ اِس شب [میرا] دل وصال و حُسنِ یار سے مست ہے؛ شرم و حیا اور میرے لب سوز بوسے سے اِس شب یار کا رُخسار لالہ زار ہے۔
× اِزدِحام = لوگوں کا رَش
 

حسان خان

لائبریرین
صائب تبریزی اپنی ایک غزل کے مقطع میں کہتے ہیں:
هنگامهٔ اربابِ سخن چون نشود گرم

صائب سخن از مولویِ رُوم دراَفکَنْد
(صائب تبریزی)
اربابِ سخن کا ہنگامہ کیوں نہ گرم ہو؟ [کہ] صائب نے مولانا رومی کا ذکر چھیڑا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گر آن‌ها که می‌گفتمی، کردمی
نکو‌سیرت و پارسا بودمی
(سعدی شرازی)

میں جو چیزیں کہا کرتا تھا، اگر اُنہیں کرتا بھی، تو میں نیک سیرت و پارسا شخص ہوتا۔
 

حسان خان

لائبریرین
در دلم بود که جان بر تو فِشانم روزی
باز در خاطرم آمد که متاعی‌ست حقیر
(سعدی شیرازی)
میرے دل میں تھا کہ میں ایک روز تم پر [اپنی] جان افشاں کروں گا۔۔۔ لیکن پھر میرے ذہن میں آیا کہ یہ تو ایک حقیر متاع ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
آب و آتش خلافِ یک دگرند
نشنیدیم عشق و صبر انباز
(سعدی شیرازی)

آب و آتش ایک دوسرے کی ضد ہیں؛ [اِسی لیے] ہم نے [کبھی] عشق و صبر کا [باہم] ہمراہ ہونا نہیں سنا۔
 

حسان خان

لائبریرین
ارمَنی شاعر ادوارد حق‌وردیان کی ایک نظم کا فارسی ترجمہ:
روزهایم را

چون رویایی بی‌معنا
به دیوار نیستی كوبیدم
نمی‌دانستم
كه جسد خونین‌شان را
باید در قلبم دفن كنم
(ادوارد حق‌وردیان)
مترجم: واهه آرمن

میں نے اپنے ایّام کو
ایک بے معنی خواب کی طرح
دیوارِ عدم پر دے مارا
میں نہیں جانتا تھا
کہ اُن کے خونیں اجساد کو
مجھے اپنے دل میں دفن کرنا چاہیے
 

حسان خان

لائبریرین
کجایی ای وطن ای رشکِ گلزارِ اِرم کابُل
که تا دور از تو ماندم دارم از آرام رم کابُل

(الحاج محمد ابراهیم خلیل)
کہاں ہو؟ اے وطن! اے رشکِ گلزارِ جنّت! اے کابُل!۔۔۔ کہ جب سے میں تم سے دور ہوا ہوں، اے کابُل!، میں آرام سے دور ہوں۔
 

حسان خان

لائبریرین
به شوقِ دیدنِ رُویت گریبان چاک می‌سازم
به دامن‌هایِ پاکِ کوهسارانت قسم کابُل
(الحاج محمد ابراهیم خلیل)
اے کابُل! تمہارے کوہساروں کے دامن ہائے پاک کی قسم کہ میں تمہارا چہرہ دیکھنے کے اشتیاق میں [اپنا] گریبان چاک کرتا ہوں۔
 
Top