حسان خان

لائبریرین
مرا دادی عجب یاری، خُداجان،
عجب شوخِ ستم‌گاری، خُداجان.
دلم را دادَمَش بِگْرفت و بِگْریخت،
رسان او را به من باری، خُداجان.
(صَفَر ایوب‌زادهٔ محزون)
اے خدا جان! تم نے مجھے ایک عجب یار دیا؛ اے خدا جان! ایک عجب شوخ و ستم گار [دیا]۔ میں نے اُسے اپنا دل دیا، اُس نے لیا اور [مجھ سے دُور] فرار کر گیا؛ اے خدا جان! اُسے ایک بار مجھ تک پہنچا دو۔
× شاعر کا تعلق تاجکستان سے ہے۔
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
در محفلِ ایں مُردہ دلاں شمعِ مزارم
میسوزم و از سوزِ من آگاہ کسے نیست


شیخ علی حزیں لاھیجی

اِن مُردہ دلوں کی محفل میں، میں کسی مزار پر جلتی ہوئی شمع کی طرح ہوں (کہ جس کے چاروں طرف بس مُردے ہی ہوتے ہیں) کہ میں تو (ہر دم) جلتا ہوں اور میرے سوز سے کوئی بھی آگاہ نہیں ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
بابائے پشتو خوشحال خان خٹک اپنی ایک پشتو رباعی میں کہتے ہیں:
ښکلی که ډېر دی په قندهار کښې
یا په کشمیر کښې، یا په فرخار کښې
لکه دا ښکلې د پیښور دی
هسې به نه وی په هیڅ دیار کښې


ترجمہ:
اگرچہ خُوب رُو قندہار میں بِسیار ہیں
یا پھر کشمیر اور فرخار میں [بکثرت ہیں]
[لیکن] جس طرح کے خُوب رو پیشاور کے ہیں
ویسے کسی بھی دیار میں نہ ہوں گے


کابُل سے ‌۱۳۶۱هش/۱۹۸۲ء میں شائع ہونے والی ایک کتاب 'صد پندِ سودمندِ خوشحال' میں اِس رباعی کا منظوم فارسی ترجمہ یوں کیا گیا ہے:
همه خوب‌رُویانِ عالم شمار
به کشمیر و فرخار و هم کندهار
پشاور به زیبایی طاق است طاق
نیابی مثالش به دیگر دیار

کتابِ مذکور میں خوشحال خان خٹک کی پشتو رباعیات کے فارسی مترجمین سلیمان لایق اور عبدالسلام آثم تھے۔

ترجمہ:
دنیا کے تمام خُوب رُویوں کو تم کشمیر، فرخار اور قندہار میں شمار کرو۔۔۔ [تاہم] شہرِ پشاور زیبائی و جمال میں یکتا و بے نظیر ہے، اور تمہیں اُس [کے حُسن و جمال] کی مثال [کسی] دیگر دیار میں نہ ملے گی۔


لیکن اگر دیدۂ انصاف سے دیکھا جائے تو فارسی منظوم ترجمہ پشتو رباعی کا حق ادا نہیں کر پایا ہے۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
یار در عالَم نمانْد از هیچ کس یاری مخواه
در چنین عهدی کسی کو یار می‌خواهد خر است
(خوشحال خان خٹک)

دنیا میں [کوئی] یار نہیں رہا ہے، کسی بھی شخص سے یاری مت چاہو؛ اِس طرح کے زمانے میں جو شخص یار کی خواہش کرتا ہے، خر ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
بر حدیثِ من و حُسنِ تو نیفزاید کس
حد ہمیں است سخن دانی و زیبائی را


شیخ سعدی شیرازی

میرے کلام اور تیرے حُسن سے آگے کوئی بھی نہیں بڑھ سکتا، سخن دانی اور زیبائی کی حد بس یہی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
گفته بودی با تو در خواهم کشیدن جامِ وصل
جُرعه‌ای ناخورده شمشیرِ جفا برداشتی

(سعدی شیرازی)
تم نے کہا تھا کہ "میں تمہارے ساتھ جامِ وصل نوش کروں گا"، [لیکن] قبل اِس کے کہ تم ایک جرُعہ بھی پیو، تم نے شمشیرِ جفا اُٹھا لی۔
× جُرْعہ = گھونٹ
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
گفته بودی که شوم مست و دو بوست بِدهم
وعده از حد بِشُد و ما نه دو دیدیم و نه یک
(حافظ شیرازی)
تم نے کہا تھا کہ "میں مست ہو جاؤں گا اور تمہیں دو بوسے دوں گا"؛ وعدے [کا زمانہ] حد سے گذر گیا، [لیکن] ہم نے نہ دو دیکھے اور نہ ایک۔
 
آخری تدوین:
هر سنگی که بر سینه زدم نقشِ تو بگرفت
آن هم صنمی بهرِ پرستیدنِ من شد
(طالب آملی)

جس پتھر کو بھی دل سے لگایا، وہ تیری تصویر بنا اور وہ بھی میرے لئے ایک صنم بنا تاکہ میں اس کی ترستش کرسکوں۔۔

حوالہ:۔
 
آخری تدوین:
یہ میری پہلی شمولیت ہے اس گرانقدر سرمائے میں۔ اگر کوئی صاحب سعدی کے اس شعر کا مطلب بتا دیں تو بہت نوازش ہوگی۔ اور یہ بھی تائید کر دیں کہ آیا یہ شعر سعدی کا ہی ہے۔

افسوس برآں دیدہ کہ روے تو نہ دیداست
یا دیدہ و بعد از توبہ روے نگر ید است

سعدی
 
یہ میری پہلی شمولیت ہے اس گرانقدر سرمائے میں۔ اگر کوئی صاحب سعدی کے اس شعر کا مطلب بتا دیں تو بہت نوازش ہوگی۔ اور یہ بھی تائید کر دیں کہ آیا یہ شعر سعدی کا ہی ہے۔

افسوس برآں دیدہ کہ روے تو نہ دیداست
یا دیدہ و بعد از توبہ روے نگر ید است

سعدی

اس محفل میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔۔۔
جی یہ سعدی شیرازی کا شعر ہے

افسوس بر آن دیده که روی تو ندیدست
یا دیده و بعد از تو به رویی نگریدست
(سعدی شیرازی)

اس چشم پر افسوس کہ جس نے تیرا چہرہ نہ دیکھا ہو۔یا (تیرا چہرہ) دیکھنے کے بعد (بھی) کسی دوسرے چہرے کو دیکھا ہو۔
 

حسان خان

لائبریرین
گر مُدّعیان نقش ببینند پری را
دانند که دیوانه چرا جامه دریده‌ست
(سعدی شیرازی)

اگر دعویٰ کرنے والے [بدخواہ] افراد [اُس] پری کا نقش دیکھ لیں تو جان جائیں گے کہ دیوانے نے کیوں [اپنا] جامہ پھاڑا ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
دانی که چون همی‌گُذَرانیم روزگار؟
روزی که بی تو می‌گُذَرد روزِ محشر است
(سعدی شیرازی)

[کیا] تم جانتے ہو کہ ہم کیسے زمانہ گذارتے ہیں؟ جو روز تمہارے بغیر گذرتا ہے، روزِ محشر ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
سنایی غزنوی حضرتِ علی (رض) کی مدح میں کہتے ہیں:
ذوالفقارت گر بِدیدی کرگَدَن در روزِ جنگ

کاه گشتی در زمان گر کوه بودی کرگَدَن
(سنایی غزنوی)
اگر کرگَدَن (گینڈا) بہ روزِ جنگ تمہاری ذوالفقار دیکھ لیتا تو اگرچہ وہ کوہ ہوتا، فوراً کاہ ہو جاتا۔
× کَرگَدَن = گینڈا؛ کوہ = پہاڑ؛ کاہ = تِنکا
 
آخری تدوین:

محمد وارث

لائبریرین
بہ تسبیحِ کواکب کاش دستِ من رسد واقف
جفا ہائے فلک را دل شمردن آرزو دارد


واقف لاہوری (بٹالوی)

اے واقف، کاش میرا ہاتھ ستاروں کی تسبیح تک پہنچ سکتا کہ میرا دل آسمان کی جفاؤں کو گننے کی آرزو رکھتا ہے۔
 
اس محفل میں ہم آپ کو خوش آمدید کہتے ہیں۔۔۔
جی یہ سعدی شیرازی کا شعر ہے

افسوس بر آن دیده که روی تو ندیدست
یا دیده و بعد از تو به رویی نگریدست
(سعدی شیرازی)

اس چشم پر افسوس کہ جس نے تیرا چہرہ نہ دیکھا ہو۔یا (تیرا چہرہ) دیکھنے کے بعد (بھی) کسی دوسرے چہرے کو دیکھا ہو۔
گریدن کے کیا معنی ہیں؟
 

حسان خان

لائبریرین
تحصیلِ علم و دانش خوش بود لیک واله
عشقِ جنون‌طبیعت فرصت نداد ما را
(واله داغستانی)

اے والہ! علم و دانش کی تحصیل [ایک] خوب [چیز] تھی، لیکن عشقِ جنوں فطرت نے ہمیں فرصت نہ دی۔
 

محمد وارث

لائبریرین
اینجا غمِ محبت، آنجا سزائے عصیاں
آسائشِ دو گیتی، بر ما حرام کردند


قدسی مشہدی

اِس جہاں میں محبت کا غم اور اُس جہاں میں گناہوں کی سزا، یعنی دونوں جہانوں کی آسائش انہوں (کارکنانِ قضا و قدر) نے ہم پر حرام کر دی۔
 

حسان خان

لائبریرین
رفتی و بیتِ مَقدِس گردید دل ز یادت
باز آ و دیده‌ام را بیت‌الحرام گردان
(واله داغستانی)
تم چلے گئے اور تمہاری یاد سے [میرا] دل بیت المقدّس ہو گیا؛ واپس آ جاؤ اور میری چشم کو بیت الحرام بنا دو۔
 
Top