حسان خان

لائبریرین
در آن زمان که شود شخصِ ناتوانم خاک
کند عِظام رمیمم هوایِ خاک درش
(خواجو کرمانی)

اُس وقت کہ جب میرا ناتواں تن خاک ہو جائے گا، میرے بوسیدہ اُستُخوان اُس کے در کی خاک کی آرزو کریں گے۔
× اُستُخوان = ہڈی
 

حسان خان

لائبریرین
گذشت و بر منِ بی‌چاره‌اش نظر نفتاد
چه اوفتاد کزینسان فتادم از نظرش
(خواجو کرمانی)

وہ گذر گیا اور مجھ بیچارے پر اُس کی نظر نہ پڑی۔۔۔ ایسا کیا واقع ہو گیا کہ میں اُس کی نظر سے اِس طرح گر گیا؟
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
میانِ اهلِ طریقت نماز جایز نیست
مگر کنند تیمّم به خاکِ ره‌گذرش
(خواجو کرمانی)

اہلِ طریقت کے نزدیک نماز اُسی صورت میں جائز ہے کہ جب اُس کی راہ گذر کی خاک سے تیمّم کیا جائے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
از جاں بروں نیامدہ، جانانت آرزوست
زُنار نابریدہ و ایمانت آرزوست


شیخ سعدی شیرازی

تُو اپنی جان سے باہر آیا ہی نہیں (جان دی ہی نہیں) اور تجھے جاناں کی آرزو ہے؟ تُو نے زنار (ہوا و ہوس کا دھاگہ) تو کاٹا ہی نہیں اور تجھے ایمان کی آرزو ہے؟
 

حسان خان

لائبریرین
کَی چنین مستی روا می‌داشتم،
تو نمی‌بودی اگر هم‌جامِ من؟
(لایق شیرعلی)

اگر تم میری ہم جام نہ ہوتی تو میں کب ایسی مستی کو روا رکھتا؟
 

حسان خان

لائبریرین
در دلم گر آتشِ مِهرت نبود،
پخته کَی می‌شد کلامِ خامِ من؟
(لایق شیرعلی)

اگر میرے دل میں تمہاری محبت کی آتش نہ ہوتی تو میرا کلامِ خام کب پختہ ہوتا؟
 

حسان خان

لائبریرین
تا دمی، که شاخِ ما نشْکسته بود از سنگِ وقت،
چون درختان هم گل و هم برگ و هم بر داشتیم.
(لایق شیرعلی)

جس لمحے تک ہماری شاخ سنگِ وقت سے نہ ٹوٹی تھی، ہم درختوں کی طرح گُل بھی، برگ بھی اور ثمر بھی رکھتے تھے۔
 

حسان خان

لائبریرین
"گر نباشی، خانه دارد بویِ غم،
گر تو باشی، خانه دارد بویِ مُشک.
گر تو باشی، خاک گیرم، زر شود،
گر نباشی، زر بگیرم، خاکِ خشک..."
(لایق شیرعلی)

اگر تم موجود نہ ہو تو گھر سے بوئے غم آتی ہے؛ اگر تم موجود ہو تو گھر سے بوئے مُشک آتی ہے؛ اگر تم موجود ہو تو میں خاک اٹھاؤں، زر ہو جائے؛ اگر تم موجود نہ ہو تو میں زر اٹھاؤں، خاکِ خشک ہو جائے۔
 
چون خاكِ كربلا نشود سجده گاهِ عرش ؟
خونِ حسين ريخت بر آن خاكِ مشكبار
(صایب تبریزی)

خاکِ کربلا عرش کی سجدہ گاہ کیوں نہ ہو؟ امام حسین علیہ سلام کا خون اس خاکِ مشک بار پر گرا ہے۔
 

محمد وارث

لائبریرین
سعی ناپیدا و حسرتہا دویدن آرزوست
شمعِ تصویریم و اشکِ ما چکیدن آرزوست


ابوالمعانی میرزا عبدالقادر بیدل

سعی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے اور حسرتوں کو دوڑنے بھاگنے اور نکل نکل جانے کی آرزو ہے، ہم تصویر میں بنی ہوئی شمع ہیں اور ہمارے اشکوں کو ٹپکنے کی آرزو ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
من آن وُلقانِ احساسم، که اندر خویش می‌جوشم
ز سیلِ آتش و وُلقانِ آتش‌زا ‌نمی‌ترسم
(لایق شیرعلی)

میں وہ آتش فشانِ احساس ہوں کہ اپنے اندر جوش کھاتا ہوں؛ میں آتش کے سیلاب اور آتش زا کوہِ آتش فشاں سے نہیں ڈرتا۔
× 'وُلقان' ایرانی فارسی میں استعمال نہیں ہوتا۔
× آتش زا = آتش پیدا کرنے والا
 

حسان خان

لائبریرین
کشتی‌هایی بگذشتند ز اُقیانوس‌ها
نرسیده‌ست یگان کشتی‌ای بر ساحلِ دل
(لایق شیرعلی)

چند کشتیاں اُقیانوسوں سے گذر گئیں [لیکن] کوئی بھی کشتی ساحلِ دل پر نہیں پہنچی ہے۔
 

حسان خان

لائبریرین
تا صفحهٔ زمانه ز نامم تهی شود
یک صفحهٔ زمانه را پُر از غزل کنم
(لایق شیرعلی)

جب تک صفحۂ زمانہ میرے نام سے خالی ہو گا، میں زمانے کے ایک صفحے کو غزل سے پُر کر دوں گا۔
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
زان پیش‌تر، که بی‌مَحَل از دهر بگذرم
در گوشِ دهر ولولهٔ بی‌مَحَل کنم
(لایق شیرعلی)

قبل اِس کے کہ میں دہر سے بے محل گذر جاؤں، میں دہر کے گوش میں ولولۂ بے محل کر دوں گا۔
× گوش = کان
× ولوله = شور و غوغا؛ آشوب
 
آخری تدوین:

حسان خان

لائبریرین
تا یک نگارِ زُهره‌جبین پهلویِ من است
پروا کَی از فریب و نهیب زُحَل کنم
(لایق شیرعلی)

جب تک ایک زُہرہ جبیں نگار میرے پہلو میں ہے میں کب زُحَل کے فریب و نہیب کی پروا کروں گا؟
× سیارۂ زُحَل کو نحس مانا جاتا تھا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
نے تختِ جم نہ مُلکِ سلیمانم آرزوست
راہے بہ خلوتِ دلِ جانانم آرزوست


صائب تبریزی

نہ تُو مجھے جمشید بادشاہ کے تخت کی آرزو ہے اور نہ ہی حضرت سلیمان کی سلطنت کی، مجھے تو بس ایک ایسی راہ کی آرزو ہے جو مجھے محبوب کے دل کی گہرائیوں تک پہنچا دے
 

حسان خان

لائبریرین
(رباعی)
چون درگذرم، روحِ مرا شاد بکن،
نامم به زبان بیار و فریاد بکن.
هر گاه، که جامِ مَی فتاد از دستت،
از جامِ شکستهٔ دلم یاد بکن.
(لایق شیرعلی)

جب میں دنیا سے گذر جاؤں تو میری روح کو شاد کرنا؛ میرا نام زبان پر لانا اور فریاد کرنا؛ جب بھی تمہارے دست سے جامِ مے گر جائے، میرے دل کے جامِ شکستہ کو یاد کرنا۔
 

محمد وارث

لائبریرین
صُحبتِ زاہد ہمہ خارِ غم است
شاہدِ گُل پیرہنم آرزوست


فیض کاشانی

زاہد کی صحبت تو ایک مسلسل چُبھتا ہوا غم کا کانٹا ہے، مجھے پھولوں کے پیراہن والے محبوب کی آرزو ہے۔
 
از دیو و پری روئے زمین بزمِ شرابست
حرفی نتوان گفت بجز نام خدا، ہیچ


دیوؤں اور پریوں سے روئے زمیں شراب کی محفل ہو گئی ہے۔
کوئی حرف سوائے خدا کے نام کے نہیں لیا جا سکتا۔

مرزا جلال اسیر
 

حسان خان

لائبریرین
یاد کن از من، که اندر چار فصلِ عمرِ عشق
هم‌زبان، هم‌آشیان، هم‌داستانت بوده‌ام
(لایق شیرعلی)

مجھے یاد کرو کہ میں عمرِ عشق کے چار موسموں میں تمہارا ہم زبان، ہم آشیان اور ہم داستان رہا ہوں۔
 
Top