خواتین پردہ کریں ورنہ گھرماتم کدہ بنادینگے،چارسدہ میں طالبان کےخطوط

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

amirnawazkhan

محفلین
چارسدہ (آئی این پی) چارسدہ میں تحریک طالبان وزیرستان نے دھمکی آمیز خطوط میں بے پردہ خواتین سے کہا ہے کہ وہ پردہ کریں بصورت دیگر ان کے گھروں کو ماتم کدہ بنا دیں گے، خطوط میں خواتین کو برقعہ پہن کرگھر سے نکلنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تفصیلات کے مطابق گزشتہ شب نامعلوم افراد نے تحریک طالبان وزیرستان کے نام سے مندنی کے علاقہ شکور اورغزن کلی میں دھمکی آمیز خطوط پھینکے ہیں، جن میں کہاگیا کہ علاقے میں خواتین بے پردہ گھومتی ہیں اوربے پردہ بازاروں کو جاتی ہیں،اسلئے علاقے کی خواتین اور اسکولوں کی طالبات برقعہ پہن کر گھر سے باہر نکلیں۔ ان ہدایات پرعمل نہ کرنے کی صورت میں گھر ماتم کدہ بن جائے گا۔

http://beta.jang.com.pk/NewsDetail.aspx?ID=175166
 

S. H. Naqvi

محفلین
واہ طالبانی شریعت، ہوے تم دوست جس کے، اسلام کہاں کہاں کس کس کا مقابلہ کرےآج کے دور میں۔۔۔۔!
 

سید ذیشان

محفلین
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ کچھ محفلین نے اس خبر کو پر مزاح کی ریٹنگ دی ہے۔ جن کے گھر ماتم بپا ہوں گے یا ہوئے ہیں ان کو یہ خبر قطعا پر مزاح نہیں لگے گی۔
 

قیصرانی

لائبریرین
مجھے یقین نہیں آ رہا کہ کچھ محفلین نے اس خبر کو پر مزاح کی ریٹنگ دی ہے۔ جن کے گھر ماتم بپا ہوں گے یا ہوئے ہیں ان کو یہ خبر قطعا پر مزاح نہیں لگے گی۔
آپ کی بات سے اتفاق کرتا ہوں لیکن میرا خیال ہے کہ اس دھمکی کو عملی جامہ (یا پاجامہ) پہنانے سے قبل ہی ظالمان کے خلاف آپریشن شروع ہو جائے گا اور پھر ظالمان اپنے گھروں کو ماتم کدہ بنانے چل پڑیں گے، انشاء اللہ
 

سید ذیشان

محفلین
جو وہاں کے باسی ہیں ان کو طالبان کی کارکردگی کا خوب اندازہ ہے اور وہ کئی مرتبہ اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ پہنا بھی چکے ہیں۔
 

مقدس

لائبریرین
سوری زیش بهیا۔۔ آپ کو اچها نہیں لگا۔۔۔ لیکن مجهے واقعی میں ہنسی آتی ہے طالبان کے اسلام پر۔۔۔ اور لوگوں کی منٹیلٹی پر جو ان کو صحیح سمجهتے ہیں۔۔۔ میں نے پر مزاح کی ریٹنگ ہٹا دی ہے بهیا۔۔۔
 
تعجب اس دھمکی کی ٹائمنگ پر ہے۔۔۔وہاں تو ان پر بمباری ہورہی ہے اور انکو اپنی پڑی ہوگی، ایسے میں چارسدہ میں جا اس دھمکی کا ظہور پذیر ہونا۔۔۔مجھے طالبان سے قطعا ہمدردی نہیں ہے لیکن اس خبر کی ٹائمنگ سے یہ شک پیدا ہورہا ہے کہ یہ صرف رائے عامہ کو مزید ہموار کرنے کیلئے ہے تاکہ پوری قوم طالبان کے خلاف آپریشن کے حق میں یکسو ہوجائے۔۔۔بہرحال واللہ اعلم
جنگ اور محبت میں ویسے بھی بہت کچھ جائز ہے۔۔۔۔
 
آخری تدوین:

سید ذیشان

محفلین
تعجب اس دھمکی کی ٹائمنگ پر ہے۔۔۔ وہاں تو ان پر بمباری ہورہی ہے اور انکو اپنی پڑی ہوگی، ایسے میں چارسدہ میں جا اس دھمکی کا ظہور پذیر ہونا۔۔۔ مجھے طالبان سے قطعا ہمدردی نہیں ہے لیکن اس خبر کی ٹائمنگ سے یہ شک پیدا ہورہا ہے کہ یہ صرف رائے عامہ کو مزید ہموار کرنے کیلئے ہے تاکہ پوری قوم طالبان کے خلاف آپریشن کے حق میں یکسو ہوجائے۔۔۔ بہرحال واللہ اعلم
مسئلہ یہ ہے کہ یہ دھمکی پہلی مرتبہ نہیں ملی۔ پشاور میں گاہے بگاہے ایسی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ اور اپنی دھونس بٹھانے کے لئے چند "بے پردہ" خواتین کو اٹھا بھی لیتے ہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ پشاور میں ننانوے فی صد خواتین نقاب کرتی ہیں۔ بہت کم خواتین ایسی ہیں جو سر پر صرف چادر اوڑھتی ہیں۔ کھلے سر پھرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
 

حسینی

محفلین
طالبان اسلام کے دشمنوں کی اس بات کی عملی تصدیق کرنا چاہتے ہیں کہ نعوذ باللہ اسلام تلوار کے زور پر پھیلا تھا۔
اسلام نے رسول خدا کو عالمین کے لیے سراپا اخلاق قرار دیا ہے، بلکہ رسول کی رسالت کا مقصد ہی اخلاق کو قرار دیا ہے۔
رسول اسلام تو اپنے اوپر کوڑا پھینکنے والی کافرہ عورت کی بھی عیادت کیا کرتے تھے۔ اپنے پر پتھر پھینکنے والے طائف والوں کے لیے بھی دعا کرتے تھے۔
اور ایک یہ ظالمان ہیں کہ عورت ذات کو وہ بھی مسلمان عورت کو جبرا پردے کروانے نکلے ہیں۔ اگر یہی کام اخلاق کے راستے سے اور تبلیغ کے ذریعے کریں تو کتنا اچھا کام ہے؟
لیکن ظالمان کو دھمکی، اسلحے اور بموں کے علاوہ کوئی زبان نہیں آتی۔
 
آخری تدوین:
مذہب پسند لوگ اور علماء وغیرہ ہمیشہ یہ کہتے آئے ہیں کہ "ہمارا مذہب خطرے میں ہے، اسلام خطرے میں ہے" ۔۔۔لیکن اب یہ زمانہ آگیا ہے کہ مسلمانوں کے لبرلز اور سیکولرز بھی یہ کہنے پر مجبور ہوگئے ہیں کہ اسلام خطرے میں ہے۔ ہمارے دین کو ان لوگوں سے خطرہ ہے"۔۔۔کیونکہ نوبت بہ این جا رسید کہ موڈریٹ اور لبرل طبقے کو بھی اب یہ فکر لاحق ہوگئی ہے کہ جس طرح کے اسلام کا ان مذہبی لوگوں کی طرف سے مظاہرہ کیا جارہا ہے اس سے کہیں انکے ( موڈریٹ مسلمز کے) بچے اور آنے والی نسلیں اسلام سے برگشتہ ہی نہ ہوجائیں۔۔۔۔
 

ساجد

محفلین
بلا شبہ اس علاقے میں بھی آپریشن ہے اور طالبان کو کافی زک پہنچ رہی ہے لیکن ان کے حامی بھی تو ہیں جو ایسا کام کر سکتے ہیں ۔ ایک پین سے یا کمپیوٹر پسے پرنٹ لے کر پیپر تقسیم کرنا ان کے لئے کیا مشکل کام ہے ۔ یہاں لاہور جیسے گنجان آباد شہر میں بھی راتوں رات "کافر کافر ۔۔۔۔کافر" کے نعرے لکھ دئیے جاتے ہیں وہ تو پھر کم آبادی والا پہاڑی علاقہ ہے ۔
 

فرحت کیانی

لائبریرین
مسئلہ یہ ہے کہ یہ دھمکی پہلی مرتبہ نہیں ملی۔ پشاور میں گاہے بگاہے ایسی دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔ اور اپنی دھونس بٹھانے کے لئے چند "بے پردہ" خواتین کو اٹھا بھی لیتے ہیں۔ یہ ذہن میں رہے کہ پشاور میں ننانوے فی صد خواتین نقاب کرتی ہیں۔ بہت کم خواتین ایسی ہیں جو سر پر صرف چادر اوڑھتی ہیں۔ کھلے سر پھرنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
متفق. مجهے 2010 میں ٹل کے علاقے تک جانے کا اتفاق ہوا تها. اس کے علاوہ کوہاٹ ، مردان، اکوڑہ خٹک، ہنگو اور ڈی آئی خان بهی دیکها ہے.. پشاور اور نوشہرہ تو اکثر جانا ہوتا ہے . مجهے بهی پشاور میں چند خواتین ہی چادریں اوڑهےدکهائی دیں ورنہ باقی ہر جگہ خواتین، لڑکیاں حتی کہ چهوٹی بچیاں بهی برقعوں میں ملبوس دیکهیں. میں نے پرائمری سکول جاتی بچیوں کو باقاعدہ برقعے میں جاتے دیکها ہے. پهر بهی ان خدائی فوجداروں کو معلوم نہیں کہاں بےپردگی نظر آتی ہے.
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top