خمار بارہ بنکوی ۔ انتخاب کلام

فاتح نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 20, 2009

  1. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    آج بتاریخ 20 فروری 2009 خمار بارہ بنکوی کی دسویں برسی منانے کے حوالے سے محفل پر خمار بارہ بنکوی کے کلام کا انتخاب جمع کرنے کا ارادہ کر رہا ہوں۔
    اس دھاگے میں ان کی غزلیات اکٹھی کی جائیں گی اور جہاں ممکن ہوا ان کی آواز یا ان کی ویڈیوز بھی شامل کی جائیں گی۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
    • زبردست زبردست × 3
  2. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے



    اک پل میں اک صدی کا مزا ہم سے پوچھیے
    دو دن کی زندگی کا مزا ہم سے پوچھیے

    بھولے ہیں رفتہ رفتہ انہیں مدّتوں میں ہم
    قسطوں میں خود کشی کا مزا ہم سے پوچھیے

    آغازِعاشقی کا مزا آپ جانیے
    انجامِ عاشقی کا مزا ہم سے پوچھیے

    وہ جان ہی گئے کہ ہمیں ان سے پیار ہے
    آنکھوں کی مخبری کا مزا ہم سے پوچھیے

    جلتے دلوں میں جلتے گھروں جیسی ضَو کہاں
    سرکار روشنی کا مزا ہم سے پوچھیے

    ہنسنے کا شوق ہم کو بھی تھا آپ کی طرح
    ہنسیے مگر ہنسی کا مزا ہم سے پوچھیے

    ہم توبہ کر کے مر گئے قبلِ اجل خمار
    توہینِ مے کشی کا مزا ہم سے پوچھیے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 10
    • زبردست زبردست × 2
  3. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے



    نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے
    دیا جل رہا ہے ہوا چل رہی ہے

    سکوں ہی سکوں ہے، خوشی ہی خوشی ہے
    ترا غم سلامت، مجھے کیا کمی ہے

    وہ موجود ہیں اور ان کی کمی ہے
    محبت بھی تنہائی یہ دائمی ہے

    کھٹک گدگدی کا مزا دے رہی ہے
    جسے عشق کہتے ہیں شاید یہی ہے

    چراغوں کے بدلے مکاں جل رہے ہیں
    نیا ہے زمانہ، نئی روشنی ہے

    جفاؤں پہ گھُٹ گھُٹ کے چُپ رہنے والو
    خموشی جفاؤں کی تائید بھی ہے

    مرے راہبر! مجھ کو گمراہ کر دے
    سنا ہے کہ منزل قریب آ گئی ہے

    خمارِ بلا نوش! تُو اور توبہ!
    تجھے زاہدوں کی نظر لگ گئی ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 3
  4. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت خوب فاتح بھائی ، میں نے بھی ابھی ایک غزل اور دو ایک مطلع پیش کیے ہیں پسندیدہ کلام میں ویڈیو کے ساتھ ۔ ملاحظہ کیجیے ۔ گھر جاؤں گا کچھ تصاویر پیش کروں گا۔
    جب جناب کراچی تشریف لائے تھے اس وقت کی ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے


    یہ مصرع نہیں ہے وظیفہ مرا ہے
    خدا ہے محبت، محبت خدا ہے

    کہوں کس طرح میں کہ وہ بے وفا ہے
    مجھے اس کی مجبوریوں کا پتا ہے

    ہوا کو بہت سر کشی کا نشا ہے
    مگر یہ بھولے دیا بھی دیا ہے

    میں اس سے جدا ہوں وہ مجھ سے جدا ہے
    محبت کے ماروں پہ فضلِ خدا ہے

    نظر میں ہے جلتے مکانوں کا منظر
    چمکتے ہیں جگنو تو دل کانپتا ہے

    اُنہیں بھولنا یا انہیں یاد کرنا
    وہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے

    "آہنگ خمار" میں درج بالا شعر یوں درج ہے:
    کبھی لمحے گننا، کبھی سانسیں گننا
    وہ بچھڑے ہیں جب سے یہی مشغلہ ہے


    گزرتا ہے ہر شخص چہرہ چھپائے
    کوئی راہ میں آئینہ رکھ گیا ہے

    بڑی جان لیوا ہیں ماضی کی یادیں
    بھُلانے کو جی بھی نہیں چاہتا ہے

    کہاں تُو خمار اور کہاں کفرِ توبہ!
    تجھے پارساؤں نے بہکا دیا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 4
  6. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے




    حسن جب مہرباں ہو تو کیا کیجیے
    عشق کی مغفرت کی دعا کیجیے

    اس سلیقے سے ان سے گلہ کیجیے
    جب گلہ کیجیے ہنس دیا کیجیے

    دوسروں پر اگر تبصرہ کیجیے
    سامنے آئینہ رکھ لیا کیجیے

    آپ سُکھ سے ہیں ترکِ تعلق کے بعد
    اتنی جلدی نہ یہ فیصلہ کیجیے

    زندگی کٹ‌رہی ہے بڑے چین سے
    اور غم ہوں تو وہ بھی عطا کیجیے

    کوئی دھوکا نہ کھا جائے میری طرح
    ایسے کھُل کے نہ سب سے ملا کیجیے

    عقل و دل اپنی اپنی کہیں جب خمار
    عقل کی سُنیے، دل کا کہا کیجیے
    اس غزل کے چند اشعار نصرت فتح علی خان نے بطور قوالی بھی گائے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • زبردست زبردست × 3
  7. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں



    وہ ہیں پاس اور یاد آنے لگے ہیں
    محبت کے ہوش اب ٹھکانے لگے ہیں

    وہی پھر مجھے یاد آنے لگے ہیں
    جنہیں بھولنے میں زمانے لگے ہیں

    سنا ہے ہمیں وہ بھلانے لگے ہیں
    تو کیا ہم انہیں یاد آنے لگے ہیں

    ہٹائے تھے جو راہ سے دوستوں کی
    وہ پتھر مرے گھر میں آنے لگے ہیں

    یہ کہنا تھا ان سے محبت ہے مجھ کو
    یہ کہنے میں مجھ کو زمانے لگے ہیں

    قیامت یقیناً قریب آ گئی ہے
    خمار اب تو مسجد میں جانے لگے ہیں


    یہی غزل سلمان علوی کی آواز میں


    یہی غزل حسین بخش گلو کی آواز میں

     
    • زبردست زبردست × 3
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  8. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھے



    ہم انہیں، وہ ہمیں بھلا بیٹھے
    دو گنہگار زہر کھا بیٹھے

    حالِ غم کہہ کے غم بڑھا بیٹھے
    تیر مارے تھے، تیر کھا بیٹھے

    آندھیو! جاؤ اب کرو آرام
    ہم کود اپنا دیا بجھا بیٹھے

    جی تو ہلکا ہوا مگر یارو
    رو کے ہم لطفِ غم گنوا بیٹھے

    بے سہاروں کا حوصلہ ہی کیا
    گھر میں گھبرائے در پہ آ بیٹھے

    جب سے بچھڑے وہ مسکرائے نہ ہم
    سب نے چھیڑا تو لب ہلا بیٹھے

    ہم رہے مبتلائے دیر و حرم
    وہ دبے پاؤں دل میں آ بیٹھے

    اٹھ کے اک بے وفا نے دے دی جان
    رہ گئے سارے با وفا بیٹھے

    حشر کا دن ابھی ہے دُور خمار
    آپ کیوں زاہدوں میں جا بیٹھے​
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    بہت خوب بہت خوب ، کیا کہنے فاتح صاحب
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے



    کبھی شعر و نغمہ بن کے، کبھی آنسوؤں میں ڈھل کے
    وہ مجھے ملے تو لیکن، ملے صورتیں بدل کر

    یہ وفا کی سخت راہیں، یہ تمہارے پائے نازک
    نہ لو انتقام مجھ سے، مرے ساتھ ساتھ چل کے

    وہی آنکھ بے بہا ہے جو غمِ جہاں میں روئے
    وہی جام جامِ ہے جو بغیرِ فرق چھلکے

    یہ چراغِ انجمن تو ہیں بس ایک شب کے مہماں
    تُو جلا وہ شمع اے دل! جو بجھے کبھی نہ جل کے

    نہ تو ہوش سے تعارف، نہ جنوں سے آشنائی
    یہ کہاں پہنچ گئے ہم تری بزم سے نکل کے

    کوئی اے خمار ان کو مرے شعر نذر کر دے
    جو مخالفینِ مخلص نہیں معترف غزل کے​
     
    • زبردست زبردست × 4
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  11. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں



    ترے در سے اٹھ کر جدھر جاؤں میں
    چلوں دو قدم اور ٹھہر جاؤں میں

    اگر تُو خفا ہو تو پروا نہیں
    ترا غم خفا ہو تو مر جاؤں میں

    تبسّم نے اتنا ڈسا ہے مجھے
    کلی مسکرائے تو ڈر جاؤں میں

    سنبھالے تو ہوں خود کو تجھ بن مگر
    جو چھُو لے کوئی تو بکھر جاؤں میں

    مبارک خمار آپ کو ترکِ مے
    پڑے مجھ پر ایسی تو مر جاؤں میں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 3
  12. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    جھنجھلائے ہیں، لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں



    جھنجھلائے ہیں، لجائے ہیں پھر مسکرائے ہیں
    کس اہتمام سے انہیں ہم یاد آئے ہیں

    دیر و حرم کے حبس کدوں کے ستائے ہیں
    ہم آج مے کدے کی ہوا کھانے آئے ہیں

    اب جا کے آہ کرنے کے آداب آئے ہیں
    دنیا سمجھ رہی ہے کہ ہم مسکرائے ہیں

    گُزرے ہیں مے کدے سے جو توبہ کے بعد ہم
    کچھ دُور عادتاً بھی قدم لڑکھڑائے ہیں

    اے جوشِ گریہ دیکھ! نہ کرنا خجل مجھے
    آنکھیں مری ضرور ہیں، آنسو پرائے ہیں

    اے موت! اے بہشت سکوں! آ خوش آمدید
    ہم زندگی میں پہلے پہل مسکرائے ہیں

    جتنی بھی مے کدے میں ہے ساقی پلا دے آج
    ہم تشنہ کام زُہد کے صحرا سے آئے ہیں

    انسان جیتے جی کریں توبہ خطاؤں سے
    مجبوریوں نے کتنے فرشتے بنائے ہیں

    سمجھاتے قبلِ عشق تو ممکن تھا بنتی بات
    ناصح غریب اب ہمیں سمجھانے آئے ہیں

    کعبے میں خیریت تو ہے سب حضرتِ خمار
    یہ دیر ہے جناب یہاں کیسے آئے ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
    • زبردست زبردست × 3
  13. فاتح

    فاتح لائبریرین

    مراسلے:
    15,751
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Hungover
    ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی



    ایسا نہیں کہ ان سے محبت نہیں رہی
    جذبات میں وہ پہلی سی شدّت نہیں رہی

    ضعفِ قویٰ نے آمدِ پیری کی دی نوید
    وہ دل نہیں رہا، وہ طبیعت نہیں رہی

    سر میں وہ انتظار کا سودا نہیں رہا
    دل پر وہ دھڑکنوں کی حکومت نہیں رہی

    کمزوریِ نگاہ نے سنجیدہ کر دیا
    جلووں سے چھیڑ چھاڑ کی عادت نہیں رہی

    ہاتھوں سے انتقام لیا ارتعاش نے
    دامانِ یار سے کوئی نسبت نہیں رہی

    پیہم طوافِ کوچۂ جاناں کے دن گئے
    پیروں میں چلنے پھرنے کی طاقت نہیں رہی

    چہرے کو جھُرّیوں نے بھیانک بنا دیا
    آئینہ دیکھنے کی بھی ہمت نہیں رہی

    اللہ جانے موت کہاں مر گئی خمار
    اب مجھ کو زندگی کی ضرورت نہیں رہی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 2
  14. محمد امین

    محمد امین لائبریرین

    مراسلے:
    9,454
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Flirty

اس صفحے کی تشہیر