خط میں نے تیرے نام لکھا

سیما علی

لائبریرین
آپ تین دن کا کہہ رہی ہیں، مجھے تو تین ماہ سے لگ رہے ہیں کہ ترس رہے ہیں۔

yx7vqqj_d.jpg

وزارتِ عظمیٰ پڑھتے ہی ہمیں مفتی صاحب یاد آگئیے۔
فضلُ الرحمنٰ کی طرح کہنے لگے ہیں وزارت نہیں عظمیٰ چاہیے:cool:
 

صابرہ امین

لائبریرین
ناراض ہوکر میکے بیٹھی بیگم کے نام
اری نیک بخت جب دارِ فانی سے جانا ہر نفس کو ٹھہرا، تم میکہ چلی گئیں تو کون سا غضب ہوگیا۔ اصل غضب تو یہ ہوا کہ کوئی چیز اپنی جگہ پہ چھوڑ کے نہ گئیں۔ احساس اس قضیہ کا تب ہوا جب مدتوں بعد طبیعت نے جوش مارا اور برسوں کی سُستی کو چستی نے ڈھیر کیا۔ یعنی میں نے دل میں غسل کرنے کی ٹھان لی۔ کوئی ظہر کا وقت ہوگا، اذان کی آواز کانوں میں پڑی تو غیرت ایمانی نے جوش مارا کہ صاحب خدا سےا یسی بھی کیا بیگانگی کہ اس کے گھر ہی جانا چھوڑ دیا۔ ارے میاں ذرا دیر کو ہی سہی کبھی کبھار جھانکی مار لینے میں حرج ہی کیا ہے۔ سو چا برسوں بعد پہلی بار خدا کے گھر جارہے ہیں اسی بہانے نہادھو لیں، صاف کپڑے پہن لیں۔

کپڑے تو سمجھو تین ماہ پہلے گھر چھوڑتے وقت تم جو پہنا کر گئی تھیں وہی آج تک زیب تن کیے پھر رہا ہوں۔ کئی بار سوچا تبدیل کرلوں پر طبیعت ادھر نہیں آتی۔ خیر خدا کا نام لے کر نہانا شروع کیا۔ اب تم تو جانتی ہو برسوں بعد یہ کام کیا تو کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کہاں سے شروع کیا جائے اور کیسے ختم ہو۔ بہرحال جتنا یاد آتا گیا ہاتھ پاؤں مارتا گیا۔ اسی اثناء میں یاد آیا کہ اس عمل کے دوران صابن کا استعمال بھی لوازمات میں شامل ہے۔سو ادھر اُدھر نظریں دوڑائیں مگر اس جنس کی کسی شے کو پاس نہ پایا۔ کئی بار دل میں آیا کہ اس نوعیت کی دیگر اشیاء مثلاً کپڑے دھونے کا سفوف یا بال دھونے کے محلول کو استعمال میں لایا جائے مگر نتائج معلوم نہ ہونے کے باعث احتراز برتا۔

اب غسل کو درمیان میں چھوڑ رکھا ہے۔ اور بیان اس ساری تفصیل کرنے کا یہ ہے کہ بے شک لڑائی جھگڑا اپنی جگہ، نہ تم اپنی ضد چھوڑو گی نہ ہم حق سے ہٹیں گے۔ تاہم دل پر جبر کا پتھر رکھ کر دنیا سے جاتے جاتے اتنی مہربانی ضرور کرجاؤ کہ دو گھڑی کا وقت نکالو اور گھر آکر صابن اس کی جگہ پر دھر جاؤ۔

امید پہ دنیا قائم ہے۔ نہ جانے زندگی میں پھر کبھی غسل کرنے کا ارداہ جاگ اٹھے تو کم از کم صابن کی عدم دستیابی کی مصیبت کا رونا نہیں رونا پڑے گا۔ ورنہ تم تو جانتی ہو کام نہ کرنے کے لیے طبیعت ہزار بہانے ڈھونڈتی ہے۔ ایسا نہ ہو زندگی اس بات کی مصداق بن جائے کہ یا تو نہلائے دائی یا نہلائیں چار بھائی!


والسلام
افقط
ہاتھ پر ہاتھ دھرے منتظر فردا
اففففف ۔ ۔ ۔ :noxxx::noxxx::noxxx:
:thumbsup2::thumbsup2::thumbsup2::thumbsup2:
 

شمشاد

لائبریرین
اب تو سردیاں شروع ہو گئی ہیں، معلوم نہیں عمران بھائی کو صابن کی ٹکیہ ملی کہ نہیں، ایسا نہ ہو کہ نہانے کا یہ کارنامہ گرمیاں آنے تک دراز ہو جائے۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
مورخہ 29 مارچ 2021
بمقام اردو محفل

پیارے اراکینِ محفل
کہنے کو ہمارا یہاں نزول چند روز قبل ہی ہوا ہے لیکن جیسے جیسے دن گزرتے جا رہے ہیں، ایسا محسوس ہونے لگا ہے جیسے اس محفل سے جنم جنم کا رشتہ ہو۔ اب رشتے صرف خونی یا کاغذی تو نہیں ہوتے نا۔ کچھ رشتے اپنے آپ دل سے بھی بندھ جاتے ہیں اور یہاں بھی کچھ ایسی ہی صورتِ حال ہمارے دل کے ساتھ بھی پیش آ گئی ہے۔ گستاخی معاف، کہتے ہوئے دل دُکھتا ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ ہم یہاں کسی کو بالواسطہ یا بلا واسطہ نہیں جانتے۔ بس یہاں سے گزر ہوا اور یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ ہنسئیے گا مت۔ ہم عشق نہیں بگھار رہے محفل سے، مگر مزاج کچھ ایسا پایا ہے کہ عشق کا ہی گمان ہوتا ہے۔
اس نامہ کے ذریعے آپ لوگوں سے ایک التماس کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں کہ یہاں کے قاعدے اور قوانین سے ہم یکسر نا واقف ہیں۔ مگر ایک انسان ہونے کے ناطے ایک محفل کے آداب سے بخوبی واقف ہیں۔ تو اگر کسی وجہ سے کوئی گستاخی سرزد ہو ہی جائے تو قابلِ گرفت سمجھتے ہوئے اصلاح کر دیجئیے گا۔ نا کہ نالائق سمجھ کر قابِ سزا گردانئیے گا۔ اور معذرت کہ ہم نے اپنے آپ کو انسان لکھا۔۔ ہمیں اپنے آپ کو اچھا انسان لکھنا چاہئیے تھا۔ نہیں نہیں ہم بالکل اپنے منہ میاں مٹھو نہیں بن رہے۔ ایسا لکھنے اور سمجھنے میں ہم حق بجانب ہیں۔ یہ بات آپ جلد یا بدیر جان ہی لیں گے۔
اسی کے ساتھ اجازت
دعاؤں میں یاد رکھنے کی التجا ہے۔

دعاگو
گُلِ یاسمین
 
آخری تدوین:

شمشاد

لائبریرین
"دعا گو" عموماً بڑی عمر کےخواتین و حضرات چھوٹوں کے لیے لکھتے ہیں۔ اور "طالب دعا" تو ہر کوئی لکھ سکتا ہے۔

تو اگر آپ اپنے آپ کو نانی اماں سمجھتی ہیں تو پھر "دعاگو" ہی ٹھیک ہے۔
 
Top