اسکین دستیاب خاں صاحب از ظریف دہلوی

21
نہ کیا وہ آدمی نہیں آدمی کی شکل میں کسی طرح کا جانور ہے۔ کون سا جانور ہے؟ یہ اس کے افعال اور کردار پر منحصر ہے۔ تو بات یہ ہے کہ اس ترازو میں لوگوں کو تولو۔ اس کانٹے میں جانچو اور اس کسوٹی پر کسو تو معلوم ہو گا کہ یہ تو سب کے سب اتنے سارے آدمی نظر آ رہے ہیں ان میں سے دراصل بڑی تعداد آدمی کی شکل کے جانوروں کی ہے۔ ہاں تو وہ تم کیا بات پوچھ رہے تھے؟“ خان صاحب نے گنّا چھیلتے ہوئے کہا۔
”آپ کا اسمِ مبارک مرزا قربان علی بیگ خاں ہے؟“ میں نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
”اس میں دریافت طلب کون سی بات ہے۔ سب ہی جانتے ہیں۔“ خان صاحب نے ڈاڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔
”مگر یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ آپ مرزا ہیں یا خان۔ یعنی مغل ہیں یا پٹھان؟“ میں نے جی کڑا کر کے کہدیا۔
”تمہاری سمجھ تو ہمالیہ پہاڑ کے نیچے دب گئی، اس نے عرصہ سے ہمیں دیکھ رہے ہو آخر کیا اندازہ لگایا تم نے۔ تمہاری نظروں میں ہم مرزا جی جچتے ہیں یا خان؟ خان صاحب نے تن کر کہ جتنا ان سے پچپن برس کی عمر میں تنا گیا۔
”ایمان کی بات تو ہے کہ آپ پور پور خان جچتے ہیں؟“ میں نے اپنی آنکھوں میں تعریف کی چمک پیدا کر کے کہا۔
”تو پھر ہم خانہ ہی ہیں۔ ہر کہ شک آدر کافر گردد۔“ خان صاحب نے ریوڑی کھلاتے ہوئے ہنس کر کہا۔
22
”بیشک بیشک آپ خان تو ہیں ہی مگر اک ذرا سی بات یہ ہے کہ آپ کے نام کے الفاظ مرزا اور بیگ چغلی کھا رہے ہیں۔“ میں نے بھی ہنس کر کہا۔
”اچھا یہ بات ہے۔ آپ کی بھی ان ہی سے مخالطہ ہوا؟“ خان صاحب نے گردن کو جھٹکا دے کر کہا۔
”جی ہوں۔“ میں نے آہستہ سے کہا۔
”میاں میرے سنو، بات یہ ہے کہ یہ سب تعظیمی الفاظ ہیں۔ موٹی سی اور سیدھی سادی مثال تو میں یہ دیتا ہوں کہ مسلمانوں میں سب سے زیادہ تعظیم کا لفظ خان ہے۔ تم کہو گے کہ سید سب سے زیادہ قابلِ تعظیم ہیں۔ تو بات یہ ہے کہ تم حالات اور واقعات سے اپنی بات کو وزنی نہیں بنا سکتے۔ تم روز مرہ دیکھتے رہتے ہو کہ مغل ہے تو شیخ ہے تو اور سید ہے تو پٹھان بننے پر ہی اُدھار کھائے بیٹھا ہے۔ پٹھان ہی بننے کی فکر میں دن رات غلطاں پیچاں ہے۔ اسی کے لئے لوگوں کی خوشامد درآمد کرتا پھرتا ہے۔ ہزاروں روپے خرچ کر کے میونسپل کمشنر بنتا ہے۔ پھر صپٹی کمچنر کی کوٹھی کے تاوے کاٹتا ہے، دعوتیں دیتا ہے، سوغاتیں پہنچاتا ہے اور آخر کار خان صاحب بن جاتا ہے۔ اور اسی پر بس نہیں کرتا بلکہ خان بہادر بن کر دم لیتا ہے اور بھئی بات یہ ہے کہ ہم سے جو پوچھو تو بہادر تو کیا وہ تو نِرا خان بھی نہیں بنتا جس میں بہادری نہ ہو۔ جس میں غصّہ نہ ہو جس کے بدن میں خون جوش نہ مارتا ہو، جس کا خوامخواہ اُلجھ پڑنے کو دل نہ چاہے، جو ذرا سی بات پر مرنے مارنے کو تیّار ہو جائے
23
جو ہر وقت ماش کے آٹے کی طرح اینٹھتا رہتا ہو وہ خان نہیں، خان کی کاغذی تصویر ہے۔ اور ناموں کا کیا ہے جو ماں باپ نے رکھ دیے ہہی عمر بھر کے لیے ہو گئے۔ میاں بات یہ ہے کہ نام فقط پہچان کے لئے ہوا کرتے ہیں کہ سمجھنے سمجھانے میں آسانی ہو۔ ورنہ آدمی افعال سے، عادات سے پہچانا جاتا ہے۔ تم ہی ایمان سے کہو سیّدوں کو شراب پیتے نہیں دیکھا؟ سارے ہی کام کرتے ہیں پھر سیّد کے سیّد۔ تو ایسے سیّدوں کو تم سردار سمجھو تو سمجھو ہم تو سرے سے انہیں مسلمان ہی نہیں سمجھتے۔ اب تمہاری بات کا جواب دیتا ہوں۔ بات یہ ہے کہ ماں باپ نے تو مرزا قربان علی بیگ نام رکھا۔ ہم نے اپنی طبیت میں صلاحیت دیکھ کر اور اندازہ لگا کر لفظ خان اور بڑھا دیا۔ ہم پٹھان وٹھان تو جانتے نہیں۔ ہوں اتنا ضرور جانتے ہیں کہ ہم خان ہیں بلکہ خان بہادر۔ روپیہ خرچ کرتے تو سرکاری خان بہادر بن جاتے مگر نقلی۔ اب غیر سرکاری ہیں اور اصلی۔ ہمارے اس عمر بھر کے یہ دم خم ہیں کہ تم جیسے چار چیتھڑے بھی مقابلہ پر آ جائیں تو ہم دم بھر میں دھجیاں اڑا دیں۔ دھجیاں!“ خان صاحب نے گرجتے ہوئے اپنی تقریر ختم کی۔
اس گفتگو کے بعد چونکہ خان صاحب کا پاره ذرا تیز ہو گیا تھا میں نے ٹھہرنا مناسب نہ سمجھا اور چپ چاپ کھسک آیا۔ اب تک جو گفتگو خان صاحب کی آپ نے سُنی اس سے آپ نے ان کو مردِ معقول سمجھا ہو گا، ان کی یہ باتیں تھیں بھی وزنی۔ مگر اب جو لکھتا ہوں اسے پڑھ کر آپ بھی چکرا جائیں گے۔ میری خود اپنی سمجھ
24
میں اب تک نہیں آیا کہ خان صاحب دراصل معقول آدمی ہیں اور محض تفنن طبع کے لئے ایسی باتیں کرنے لگتے ہیں جو میں اب لکھ رہا ہوں یا بیٹھے بٹھائے ایک دم سے ان کے دماغ کی کوئی چول ڈھیلی ہو جایا کرتی ہے۔ بہرحال آپ سنئے۔
خان صاحب کی بیٹھک میں آٹھ دس نئی روشنی کے لوگ جمع ہیں۔ بیچ میں خان صاضب تشریف فرما ہیں۔ سامنے حقّہ رکھا ہے۔ ہاتھ میں افیون کی پیالی ہے۔ ایک طشتری میں ریوڑیاں رکھی ہوئی ہیں۔ دو تین پوریاں گنّے کی بھی موجود ہیں۔ افیون گھولتے جاتے ہیں، ایک دو کش حقّہ کے لگائے، ایک چسکی افیون کی لی، دو تین ریوڑیاں منہ میں ڈالیں۔ گھلاتے جاتے ہیں۔ گنّا چھیلتے جاتے ہیں۔ مزے مزے کی باتیں کر رہے ہیں، سب ہنس رہے ہیں۔ ضان صاحب ہیں کہ نہایت متانت و سنجیدگی کے ساتھ بیٹھے رموز و نکات بیان فرما رہے ہیں۔
”خان صاحب! یہ ہاررت اور ماروت کون تھے؟“ میرے دوست اصفر لے پوچھا۔
”یہ دونوں الفاظ ہار اور مار سے نکلے ہیں۔ ایران کے سب سے بڑے شاعر بزرجمہر نے اپنے دیوان جامِ خم میں بڑی تشریح کے ساتھ یہ واقعہ لکھا ہے کہ جب محمود غزنوی نے اپنی فوج لے کر ایران پر چڑھائی کی تو اس وقت لڑائی کا قاعدہ تھا کہ ایک ایک آدمی دونوں فوجوں سے نکل کر آتا تھا۔ پہلے اپنے کان کو ہاتھ لگا کر زمین چھوتا تھا۔ فریقِ ثانی سے گلے مل کر خوب روتا تھا۔ پھر لڑنا
25
شروع کر دیتا تھا۔ اس وقت جو ہار جاتا تھا اسے ’ہاروت‘ کہتے تھے اور جو دوسرے کو مار دیتا تھا اسے ’ماروت‘ کہتے تھے۔ تو محمود کی فوج میں اس وقت ایک حبشی ملک کافور تھا جس نے پینتالیس آدمی یکے بعد دیگرے مارے تھے۔ وہ اس زمانے کا ماروت مشہور ہوا اور ہاروت تو جتنے ہارے، یعنی مارے گئے سب ہی تھے۔“
”خان صاحب! ہم نے تو سنا ہے کہ ہاروت اور ماروت دو فرشتے تھے جو زہره طوائف سے وشق کرنے کی بدولت چاہِ بابل میں اُلٹے لٹکائے گئے تھے۔“ میرے دوست قدیر نے کہا۔
”اوہو! تم اس واقعہ کی طرف اشارہ کر رہے ہو! میاں بات یہ ہے کہ بات کو توڑ مروڑ کر یہ لکھنے والے چاہے جو کچھ لکھ دیں اور پڑھنے والے جو کچھ سمجھ لیں۔ مگر سينہ بہ سینہ علم کی کیا بات ہے۔ سچی باتیں تمہیں ہم نہ بتائیں گے تو اور کون بتانے آئے گا۔ لو سنو! امریکہ کے لوگ بڑے جیوٹ اور جی دار ہوتے ہیں۔ ہانگ کانگ کے پاس ایک کنواں ہے۔۔۔“
”امریکہ میں کون سا ہانگ کانگ ہے۔“ قدیر نے حیران ہو کر کہا۔
”تمہاری بات کاٹنے کی عادت بہت بُری ہے جی۔“ خان صاحب نے جھڑک کر کہا ”میں خود ہی سب کچھ بتا دیتا۔ اچھا سنو! ہانگ کانگ امریکہ کا دارالخلافہ ہے۔ وہاں ایک کنواں ہے بہت گہرا۔ اتنا گہرا کہ دنیا کے
26
دوسری طرف پھُوٹ نکلا ہے۔ وہاں کے آدمی ایسے جیوٹ ہوتے ہیں کہ کبھی ہمالیہ کی چوٹی پر چڑھ جاتے ہیں، کبھی زمین کے شمالی سرے پر جا پہنچتے ہیں۔ مرتے بھی ہیں لنگڑے لولے بھی ہو جاتے ہیں مگر باز نہیں آتے۔ تو دو آدمی اس کنویں میں رسّی پکڑ کر اُترے۔ دو تین میل تک تو رسّی کے سہارے سہارے اُترتے رہے اور ختم ہوئی تو انہوں نے ہاتھ چھوڑ دیے۔ ایک رات اور ایک دن متواتر چلتے رہے۔ تیسرے دن صبح کو چاہِ بابل کے کنویں میں سے کچھ عورتیں پانی بھر رہی تھیں جو ایک کی ٹانگ سے ڈول میں پھنسی اور دوسرے کی دوسری عورت کے ڈول میں۔ وہ عورتیں چلّائیں تو مرد آ گئے اور دونوں کو اُلٹا ہی کھینچ لیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ نکلے دونوں بابل ہی کے کنویں میں سے تھے اور اُلٹے مگر یہ حسن و عشق کا قصّہ! یہ سب کا سب شاعری ہے۔ کوری شاعری۔ میں ایسی لغو باتوں کو نہیں مانتا۔“
”اور خان صاحب! یہ یاجوج ماجوج کون تھے؟“ میرے دوست مسعود نے دریافت کیا۔
”اس باب میں مختلف روایات ہیں۔“ خان صاحب نے افیون کی چُسکی لیتے ہوئے کہا۔ ”بزرجمہر نے اپنے ’جام خم‘ میں لکھا ہے کہ جب افراسیاب کی فوج نے دارا کی فوج پر حملہ کیا تو دارا شکست کھا کر بھاگا۔ اس لئے کہ افراسیاب کی فرج میں دو عفریت یاجوج اور ماجوج بھی تھے جنہوں نے دارا کی فوج
27
کے آدمیوں کو گھوڑوں سمیت کچا ہی کھانا شروع کر دیا رو دارا بیچارا بھاگا اور بچی کھچی فوج کے ساتھ بغداد شریف پہنچا۔ وہاں جا کر حضرت سلیمان علیہ السلام سے فریاد کی۔ اتنے میں افراسیاب کی فوج بھی بغداد شریف پہنچ گئی۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کو تو الللہ نے بڑی طاقت بخشی تھی۔ ان کے تو جنات تابع تھے۔ بس انہوں نے یاجوج ماجوج دونوں عفریتوں کو پکڑ کر ایک غار میں قید کر دیا اور افراسیاب سے دارا کا سارا ملک واپس دلوا دیا۔ بلکہ تاوان میں ایران کا وہ حصّہ بھی دلوا دیا جسے آج کل ترچنا پلی کہتے ہیں۔ تو ان دونوں یاجوج ماجوج کو ایک غار میں بند کر کے اُسے ایک بڑی سی سِل سے ڈھک دیا اور اس پر اسم اعظم دم کر دیا۔ کہتے ہیں کہ یہ دونوں اس وقت سے اب تک اندر ہی اندر زمین کھودتے چلے جا رہے ہیں جب کوئی بڑا سا پہاڑ راستے میں آ جاتا ہے اور اسے یہ دونوں زور لگا کر ہلاتے ہیں تو ساری زمین ہل جاتی ہے اور زلزلہ آجاتا ہے جسے تم لوگ بھونچال کہتے ہو اور۔۔۔۔
”اچھا تو خان صاحب یہ زلزلے اس وجہ سامنے آیا کرتے ہیں؟“ میرے دوست حمید نے پوچھا۔
”اور تم کیا سمجھتے ہو کہ زمین گائے کے سینگ پر ہے اور جب وہ گائے سینگ بدلتی ہے تو زمین ہل جاتی ہے اور زلزلہ آ جاتا ہے۔ میں ایسی لغو اور فضول باتوں کو نہیں مانا کرتا۔ ہاں تو ایک دن وہ آئے گا جب یہ دونوں یاجوج اور
28
ماجوج زمین سے باہر نکل آئیں گے اور بس جب ہی قیامت آ جائے گی۔“
”سبحان اللہ سبحان اللہ! خان صاحب آپ تو بحر العلوم ہیں۔ کیسے کیسے تاریخی واقعات بیان فرمائے ہیں آپ نے دل خوش ہو گیا۔“ حمید نے جھومتے ہوئے کہا۔
”خان صاحب کی کیا بات ہے۔ ہر فن میں ہر طرف سے ماہر ہیں۔“ حامد نے کہا۔
”خان صاحب کسی علم میں بند تھوڑے ہی ہیں۔ تاریخ، جغرافیہ، ریاضی، فلسفہ، علم الارض، علم الافلاک۔ غرض کون سا علم ہے جس میں ہمارے خاں صاحب کو کامل دسترس نہیں۔“ میں نے بظاہر بڑے جوش سے کہا۔
”ہمارے اصغر بھائی اور حمید بھائی شاعر ہیں۔ ہاں اصغر بھائی وہ سوال خان صاحب سے کیجیے۔ یہ یقیناً آپ کو جوابِ شافی دیں گے۔“ حامد نے ذرا اُونچی آواز سے کہا۔
”کون سا سوال ہے؟ پوچھو پوچھو۔ شوق سے پرچھو۔“ خان صاحب نے افیم کی چسکی لیتے ہوئے کہا۔
”آپ کی رائے میں گزشتہ دور کے شعراء میں سب سے قابل کون سا شاعر تھا۔“ اصغر نے سوال کیا۔
”تم نے ایک چھوٹا سا سوال کر کے میرے تخیلات میں ہیجان برپا کر دیا۔“
29
خان صاحب نے بے چین ہوتے ہوئے کہا۔ ”خير! تم بھی کیا یاد کرو گے۔ لو آج میری شاعری کے متعلق ایسے ایسے فلسفیانہ نکات بتاتا ہوں کہ جس محفل میں چلے جاؤ گی نام پاؤ گے۔ بات یہ ہے کہ میری زندگی کا کچھ بھروسہ نہیں۔ کیا جانے کب بُلاوا آ جائے۔ سینے پر بوجھ لے جا کر کیا کروں گا۔ لو جو کچھ کہوں اسے کان دھر کر سنو اور گرہ میں باندھ لو۔ سنو تقابل کی غرض سے جب ہم شعرائے ماضی پر نظر ڈالتے ہیں تو ہمیں صرف ایک دور ایسا نظر آتا ہے جس میں اکھٹے چھ شعراء ایک ہی زمانے میں متفرق ممالک میں ممتاز نظرآتے ہیں۔ اس زمانے کو مورخ لوگ سنہرا زمانہ کہتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہر زمانے میں چھوٹے چھوٹے شعرا بھی حشرات الارض کی طرح ہوا کر تے ہیں ان سب سے قطع نظر کر کے اگر ہم صرف بڑے ہی بڑے شاعروں کو لیں جو اپنے اپنے ملکوں میں ممتاز تھے، اور ان کے کلام کو تنقیدی نگاہ سے دیکھیں اور شاعری کے اصولوں اور قواعد و ضوابط کی ترازو میں تولیں، اور زبان و محاورے کی کسوڑی پر کَس لگا کر دیکھیں تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ کون سا شاعر ہر لحاظ سے سب میں ممتاز تھا۔ اٹھارہویں صدی عیسوی میں یہ چھ شاعر مختلف ممالک میں نامور، ممتاز اور مشہور ہو گزرے ہیں۔ ہومر چین میں، شیکسپیئر اٹلی میں، فردوسی عرب میں، شکنتلا، غالب، اور میر تقی سودا ہندوستان میں۔“
”یائیں خان صاحب! شکنتلا کو آپ شاعر فرما رہے ہیں۔ وہ تو عورت تھی۔“ میں نے آنکھیں پھاڑ کر جلدی سے کہا۔
30
”تمہیں فغفور چین کی لڑکی کا خیال ہو گا۔ اس کانام بھی شکنتلا تھا۔ میں اس کا ذکر نہیں کر رہا۔ میں تو اس شکنتلا کا ذکر کر رہا ہوں جو ہندوستان کا مایہ ناز شاعر تھا۔ جس نے کالی داس کا ناٹک لکھ کر اردو شاعری کو چار چاند لگائے۔ جس کے بارِ احسان سے اردو زبان قیامت تک سبکدوش نہیں ہو سکتی۔“ خان صاحب نے جھوم کر کہا۔
”خان صاحب آپ کیا فرما رہے ہیں؟ شکنتلا شاعر اور کالیداس ناٹک؟ ہم نے تو یہ پڑھا ہے کہ۔۔۔۔“
”مت بکواس کرو جی۔ تم کیا جانو شاعر کسے کہتے ہیں اور ناٹک کس جانور کا نام ہے۔ جامع المشاعر مطبوعہ نول کشور پریس کے صفحہ ۶۴ پر دیکھو۔ مجھے کتابیں حفظ ہیں حفظ۔“ خان صاحب نے تن کر مونچھوں پر تاؤ دیتے ہوئے فرمایا۔
”اچھا فرمائے۔“ میں نے ان کے غصّے سے ڈر کر ہولے سے کہا۔
”ہومر، شیکسپیئر اور فردوسی ان تینوں کے ہاں گل و بلبل کی شاعری ہے۔ کہیں کہیں قدرتی مناظر کا نقشہ بھی موجود ہے۔ مگر اوّل تو ہمیں یہ موضوع کچھ پسند نہیں۔ دوسرے ان کی زبان غیر تھی۔ ہم اچھی طرح سمجھ ہی نہیں سکتے بھلا آپ ہی فرمایئے فردوسی کی عربی، شیکسپیئر کی لاطینی اور ہومر کی چینی سے ہم کیونکر لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ مانا کہ تینوں اپنے زمانے کے استاد تھے مگر ہمیں کیا؟ ہم نے تو اس وقت سرسری طور پر ان کا ذکر بھی اس لیے کر دیا کہ
31
جامع المشاعر میں انہیں استاد لکھتا ہے۔ اب رہ گئے تین شاعر جو اپنے ہندوستان کے تھے۔ ان کا کلام اردو میں ہے۔ سبحان اللہ کیا بات ہے صاف ستھری زبان، دلفریب محاورے، موزوں الفاظ، برجستہ مضمون، پاکیزہ ترکیب، مرصع بندشیں جسے دیکھو اپنے رنگ میں نرالا ہے، مست کرنے والا ہے، اب ہمیں دیکھنا یہ ہے کہ ان سب میں افضل کون ہے اور ان اچھوں میں سے سب سے اچھا چن کر دکھانا ہے۔ توسنو۔ شکنتلا نے حیدر آباد سندھ سے لے کر راس کماری تک اپنا ڈنکا بجوایا تھا تو غالب نے میرٹھ سے سری نگر تک اور میر تقی سودا نے رائے بریلی سے مرشد آباد تک۔ تینوں ہندوستان کی روح رواں تھے۔ ان کے اشعان سن کر بہتا پانی تھم جاتا تھا۔ یہ لوگ برسات میں شعر پڑھتے تھے تو پرنالوں میں مای پشت کا جال بن کر جم جاتا تھا۔ ان کے کلام میں جادو تھا۔ یہ لوگ سانڈوں کو لڑوا دیتے تھے۔ مگر بھئی میں تو یہی کہوں گا کہ غالب غالب ہی تھا، ہر لحاظ سے غالب تھا۔ یہی سر سیّد مرحوم اپنی کتاب ’آثار الصنادید‘ میں لکھا ہے۔ مگر تم یہ نہ سمجھنا کہ میں سر سیّد مرحوم کی رائے سے متاثر ہو کر کہہ رہا ہوں۔ جامع المشاعر پڑھو گے تو تمہاری بھی یہی رائے ہو گی۔“
”خانصاحب! آج تو آپ نے دریا کو کوزے میں بند کر دیا۔ ایسے ایسے نکات و رموز شاعری کے بیان فرمائے ہیں کہ جی خوش ہو گیا۔ اب جی چاہتا ہے کہ آپ کا بیش بہا کلام بھی سُن کر مستفید ہوں۔“ میں نے منّت سے کہا۔
32
”تم میرا کلام کیا خاک سمجھو گے۔ میری راہ سب سے جداگانہ ہے اور پھر ایک کی ایک شخص ایک۔ ہرشخص کہ یہی رائے ہے کہ بڑا اونچا کلام ہے۔ مگر دراصل پلّے کسی کے کچھ نہیں پڑتا۔ اور سب جھک ماو کر کہنے لگتے ہیں کہ مہکل سے مہمل ہے۔
ارے میاں بات یہ ہے کہ ہم جیسے آدمی کوئی روز روز تھوڑا ہی پیدا ہوتے ہیں۔ یہ بھی خدا جانے کیا اللہ میاں کے جی میں آ گئی تھی جو سر سیّد، منشی ذکا اللہ، ڈپٹی نذیر احمد، محسن الملک، وقار الملک اور ہم جیسے سب کے سب ایک ہی گھان میں بنا ڈالے۔“ خان صاحب نے میری طرف دیکھ کر بڑے فخر سے کہا۔
ہم جتنے آدمی وہاں بیٹھے تھے سب ایک دم سے اُن کے سر ہو گئے۔ تو آخر انہوں نے اپنا کلام بلاغت نظام یوں سنانا شروع کیا:
جب شورِ سلاسل ہونا تھا محبوب سے پردا کیا کرتے
تاریک فضاؤں میں رہ کر ہر گام پر سجدہ کیا کرتے
33
جانبازی عاشق حدِّ نظر تک حسن کی فطرت میں شامل
فردوسِ بریں کو ساغر سے ہمدرشِ ثریا کیا کرتے

جلوؤں کی فراوانی سے جبیں مانوس حوادث کیا ہوتی
جب حسنِ نظر کا ساحل تھا پھر اور مداوا کیا کرتے

اف چاندنی راتوں کی دھڑکن سے جام و صبو بھی غافل تھی
مسحور فضائیں رنگِ شفق تھیں عرضِ تمنّا کیا کرتے

طوفانِ تلاطم خیز میں جب ساحل کی بلندی پر پہنچے
پھر سوزِ درون پرده کو ہم دیر و کلیسا کیا کرتے

جاں سوز طرب افروز نظر مقبول دو عالم حُسن بشر
ہر شان جبیں آرائی کو ہم محمل لیلےٰ کیا کرتے

صحرا میں بیاباں مثلِ بگولا خاک اُڑاتا پھرتا تھا
تقدیر میں جب تعمیر نہ تھی تخریب میں جھگڑا کیا کرتے

جب چاکِ گریباں کے ہاتھوں یوں خونِ تمنّا ہونا تھا
زنداں کے اسیرِ دستِ اجل کو محوِ تماشا کیا کرتے

34
طاغوش سے شاعرِ فطرت کو کہتے ہیں کہ ہے یہ مہمل گو
اِن عقل کے اندھوں کو پھر ہم تارِ یدِ بیضا کیا کرتے

ہم سب نے یہ بلند پایہ غزل سُن کر اس قدر تعریف کی کہ سارے گھر کو سر پر اُٹھا لیا۔ چونکہ وقت بہت ہو گیا تھا مجلس برخاست ہوئی۔ سب اُٹھ کھڑے ہوئے۔ یار زنده صحبت باقی!

35
ہم کیا کریں

36

ہم کیا کریں​

”دیکھنا ذرا اس کلموئی کی تو جا کر خبر لو۔ کہاں مر گئی؟“
ہم: ”کون سی کلموئی؟“
بیگم: ”یہ کم بخت جُمیا کل سے کمانے نہیں آئی، سارا گھر سڑ رہا ہے۔ ذرا جا کے دیکھو تو کیا ہوا؟“
ہم: ”ہمارے تو دفتر کو دیر ہو رہی ہے۔ تم نے یہ ایک اور کام بتا دیا۔“
بیگم: ”تم جانو نہ جانو۔ یہ بھی سوچا کہ کمایا نہ جائے گا تو آخر ہو گا کیا؟“
ہم بادل ناخواستہ اُٹھے۔ محلے میں گئے۔ لوگوں سے پوچھا۔ سب نے یہی کہا کہ کل سے ہمارے بھی کمانے نہیں آئی۔ ہم کٹڑے میں گئے، دیکھا کہ بیٹھی مزے سے ہنس ہنس کر باتیں کر رہی ہے۔ ہم نے کہا۔
ہم: ”بھاگوان! تو نے یہ کیا کیا۔ گھر کو سنڈاس بنا دیا؟
جُمیا: ”میاں! ہم سے اِس محلّے میں نہیں کمایا جاتا۔ تم کوئی اور بندوبست کر لو۔
37
ہم: ”ارے اور بندوبست کیسا؟ تو بات بتا کیا ہے؟“
جُمیا: ”میاں پرسوں تمہاری بیگم صاب نے مجھے جھاڑوؤں سے مارا۔ لو صاب ایک تو ان کا میلا سر پر اُٹھائے اُٹھائے پھرو اوپر سے مار بھی کھاؤ۔ نا صاحب یہ ہمارے بس کا روگ نہیں۔“
ہم: ”ارے تو پھر بتا اب کیا ہو گا۔ ہم خود اپنے سر پر اُٹھا اُٹھا کر پھینکیں گے؟“
جُمیا: یہ تو بیگم صاب سے پوچھو جہنوں نے جھاڑوؤں سے مارا ہے۔“
ہم نے بہت دیر تک سمجهایا مگر وہ کسی طرح راضی نہ ہوئی تو گھر آ کر بیوی سے کہا۔
ہم: ”وہ تو آتی نہیں بیگم۔“
بیگم: ”آتی کیسے نہیں۔ چُٹیا پکڑ کر لاؤ قطّامہ کی۔“
ہم: ”یہ ہمارے بس کی بات نہیں۔“
بیگم: ”آخر بکتی کیا ہے۔ معلوم تو ہو۔“
ہم: ”وہ کہتی ہے تم نے پرسوں اُسے جھاڑوؤں سے مارا۔“
بیگم: ”ہاں ہاں، مارا اور ماروں گی۔ جھاڑوؤں سے مارا! اس کے تو جوتیاں لگاؤں گی جوتیاں۔ لو صاحب، ایک تو دو وقتی کو نہ آئیں۔ فرش دھوئیں اپنی شکل کا، کنستر منگوا کر دیا فرش دھرنے کے لئے۔ کم بخت
38
نے چار دن میں پیندا توڑ دیا۔ پاخانہ دھونے کے لئے پانی لے جاتی ہے تو وہاں جاتے جاتے آدھا کنستر رہ جاتا ہے۔ وہیں باہر سے کھڑے ہو کر جؤ پھینکتی ہے تو اک ذرا سا پانی اندر جاتا ہے۔ باقی سب باہر ہی گر جاتا ہے۔ اور جو کچھ کہو تو ٹرّانا شروع کر دیتی ہے۔ ایک روپیہ مہینے کا ڈیڑھ کروا لیا اور کام ایسا دلدّر۔
ہم: ”تو اب کیا ہو؟“
بیگم: ”ہو کیا؟ چودھری سے جا کر کہو، اسے ڈانٹو، کمیٹی میں رپٹ کرو۔“
ہم : ”لا حول و لا قوة! اب میں دفتر جاؤں یا اس جھکندن میں پڑوں۔“
بیگم: ”تمہیں جھکندن ہی دکھائی دے رہا ہے۔ ایسے میں کہتی ہوں کچھ بندوبست نہ کرو گے تو اس گھر میں رہ کیسے سکو گے۔“
ہم: بیگم! ہماری جان تو مصیبت میں آ گئی۔ اس دن تم نے دھوبن کے تھپڑ مار دیا۔ وہ کپڑے پھینک پھانک کر چل دی۔ بڑی منّت خوشامد سے اُسے راضی کیا۔ اب تم نے یہ دوسرا محاذِ جنگ قائم کر دیا۔ میں ہی رہ گیا ہوں ان کمینوں کی خوشامد کرنے کو۔ اچھا تم کھانا تو لاؤ۔ میرے دفتر دیر ہو رہی ہے۔
بگم کھانا نکالتی جاتی تھیں اور بڑبڑاتی جاتی تھیں۔ ”نوج کسی کے گھر کے
39
مردودے ایسے ہوں مومنا چومنا۔ ان موئے کمینوں کو سر پر چڑھا لیا ہے اور کوئی ہوتا تو اس نامُراد کے ایسے جوتے لگاتا کہ یاد کرتی۔ ان سے ڈانٹ ڈپٹ بھی نہیں کی جاتی۔“
ہم نے جلدی جلدی کھانا کھایا کیا دھکیلا اور دفتر بھاگے۔ اپنی بیگم کی عادت تو جانتے ہی تھے۔ سارے دن خیال لگا رہا کہ خبر نہیں کیا ہو رہا ہو گا۔ یہ اللہ کی بندی کسی کی خاک نہیں مانتی، ہر کسی سے اُلجھ پڑتی ہے۔ خیر دفتر میں کام بھی کرتے جاتے تھے اور دماغ میں ایک چھوٹی سی تقریر بھی تیّار کر رہے تھے کہ بیگم کو سمجھائیں گے، یہ کہیں گے۔ یوں قائل کریں گے۔ آج دفتر سے ذور سویرے سے اُٹھ کھڑے ہوئے۔ گھر پہنچتے ہی سب سے پہلے بیگم کی صورت دیکھی کہ چہرے پر امن و امان کی فضا ہے یا آثارِ برہمی ہیں۔ انہوں نے بھی آنکھیں چار کیں اور نظروں کے سوال کا جواب زبان سے یوں دیا۔
بیگم: ”کچھ اور بھی سنا تم نے؟“
ہم: ”کیا ہوا۔ کوئی نیا گُل کھلا لیا؟“
بیگم: ”وہ سارے محلّے والے بھی تم ہی کو بُرا کہہ رہے ہیں۔“
ہم: ”مجھے۔ ارے میں نے کیا کیا؟“
بیگم: ”یہ جُمیا کی بچّی کہتی ہے کہ سارا محلّہ کماؤں گی مگر یہ حویلی نہیں کمانے کی۔ اور یہ محلے والے بھی اُسے ڈانٹنے سے تو رہے اور اُلٹی ہاں میں ہاں
40
ملاتے ہیں۔“
ہم: ”یہ تو بُری ہوئی۔“
بیگم: ”بُری کیسے ہوئی۔ تمہارے منہ میں زبان نہیں ہے۔ کہتے کیوں نہیں جا کر۔“
ہم: ”بیگم سارا دن تو کاغذوں سے سر مارتے گذرا۔ اب اِن سے سر کھپاؤں۔ کیا مصیبت میں جان آئی ہے۔“
بیگم۔ ”پہلے زمانے کے بہادر لوگ فوجوں میں گھُس جاتے تھے اور کائی سی پھاڑ کر چلے آتے تھے۔ تم سے اتنا بھی نہیں ہوتا کہ زبان ہی سے لڑ لو۔“
ہم: ”پہلے زمانے کے لوگ گھی کھاتے تھے اور دودھ پیتے تھے۔ ہم تیل کھاتے ہیں وہ بھی خالص نہیں۔ اور لسّی پینے میں بھی اللہ کی قدرت ہی سمجھو جو دفتر چلے جاتے ہیں اور خیر سے واپس آ جاتے ہیں۔“
بیگم: ”اچھا پھر اس کا کچھ علاج بھی ہو گا یا نہیں؟“
ہم: ”ہائے پہلے زمانے کے لوگ کیسے اچھے تھے۔ دیکھنا بیگم! دن پھر روزه رکھا، اور روزہ بھی کیسا، یہ نہیں کہ اس پر مزاج بگڑ رہا ہے۔ اس پر بک جھک رہے ہیں۔ اسے پکڑ کر ٹھونک دیا۔ دوپہر بھر پڑے سنّاتے رہے۔ اٹھے منہ ہاتھ دھویا، بازار نکل گئے، کیلے چھانٹ رہے ہیں، امرود ہاتھ میں لے کر دیکھ رہے ہیں، انگور خرید رہے ہیں، دو گھنٹے یوں گذار آئے۔ اب بیٹھے ہوئے امرود چھیل رہے ہیں۔ کچالو بنا رہے ہیں
41
بکتے جھکتے بھی جاتے ہیں۔ ہر دم گھڑی پر نظر ہے۔ خدا خدا کر کے مغرب کا وقت ہوا۔ اذان میں دو تین منٹ باقی ہیں۔ یہ اللہ کے نیک بندے، شربت کے پیالے کو للچائی ہوئی نظروں سے دیکھتے جاتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں۔ ’اس محلے کی دونوں مسجدوں کے گھنٹے پیچھے ہیں۔ بھلا دیکھو تو سہی اندھیرا ہو چلا اور ملّا جی ابھی پڑے اونگھ رہے ہیں اور اس مسجد کا وہ پٹھّان مُلا تو ایسا نا معقول ہے کہ پہلے خود روزہ کھول کر اپنا نل بھر لیتا ہے، پھر اذان دینے کھڑا ہوتا ہے۔ جا کر دیکھو تو بیٹھا کھا رہا ہو گا۔ حالانکہ حدیث یہ ہے کہ روزہ افطار کرنے میں جتنی جلدی کی جائے اتنا ہی زیادہ ثواب ہوتا ہے۔ خیر صاحب خدا خدا کر کے اذان کی آواز کانوں میں آئی۔ پھر جو آستینیں چڑھا کر توٹے ہیں تو کبھی پھُلکیوں پر ہاتگ مارتے ہیں، کبھی کچالو اُڑاتے ہیں، کبھی شربت کا گلاس منہ میں انڈیلتے ہیں۔ غرض دو نالی بھر کے اٹھے۔ نماز پڑھنے کھڑے ہوئے، ڈکاریں لے رہے ہیں، اور اُٹھل بیٹھک کر رہے ہیں۔ خیال کھانے میں لگا ہوا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ اگر ان لوگوں کو مسجدوں میں امام صاحب ڈیڑھ دو گھنٹے تراویحوں میں نہ رگڑیں تو یہ سحری کے رصّے لگاتے لگاتے پانچ چھ ہی دن میں بیمار ہو کر پڑ جائیں۔ ہاں تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ پہلے زمانے کے لوگ کیسے اچھے تھے کہ روزہ رکھا، قرآن شریف اور نمازوں میں
42
دن گزرا، اکلِ حلال کی سعئ نیک بھی کرتے رہے۔ افطار کا وقت ہوا، کھجور سے روزہ کھولا اور جو کی روٹی کھا کر عبادت میں مصروف ہو گئے اور اکثر اللہ کے نیک بندے ایسے بھی تھے کہ کھجور سے روزہ کھولا اور بغیر سحری کیے دوسرا روزہ رکھ لیا۔ تو بیگم میرا مطلب یہ ہے کہ آؤ ہم بھی اللہ کے نیک اور پیارے بندے بن جائیں۔ سیر بھر کھجوریں لے آتا ہوں۔ دو دو کھجوریں روز کھا کر روزہ رکھ لیا کریں گے۔ نہ پیٹ میں کچھ رہے گا نہ یہ بھنگن کے نخرے اُٹھانے پڑیں گے اور پھر جنّت کے حقدر ہوئے سو الگ۔
بیگم: واہ واہ! میں تو سمجھی تھی جنے کیا کچھ دفتر سے سوچ کر آئے ہیں۔ کوئی اچھی سی ترکیب بتائیں گے۔ انہوں نے تو ایک دم سے ولی ہی بنا دیا۔
ہم: ”بیگم ذرا غور تو کرو کیسی اچھی بات ہے، کیسی نیک اور پاکیزہ زندگی ہو گی اور پھر ؏
نے غمِ درد نے غمؐ کالا
بیگم: اے بس رہنے دو اپنی بات وات کو۔ بات آئی ہے کہیں کی۔ جاؤ کچھ بندوبست کرو۔
ہم: ”بیگم ہم نے جان کر تم سے نہیں کہا تھا کہ تم اور بھی چراغ پا ہو گئی۔ بات اصل میں
43
یہ ہے کہ میں دفتر سے آج اسی مارے جلدی اُٹھ آیا تھا۔ یہاں گھر میں گھسنے سے پہلے میں میر صاحب کے ہاں گیا۔ انہیں ساتھ لے کر شیخ صاحب کے پاس گیا۔ وہاں مرزا جی اور لالجی بھی بیٹھے تھے۔ بہت سی باتیں ہوئیں مگر
؏ مقطع میں آ پڑی ہے سخن گسترانہ بات
بیگم: ”مقطع کیسا؟ اب لگے یہاں بھی شاعری بگھارنے۔ بات کہو بات۔
ہم: ”بات کیا کہوں، تم بگڑ جاؤ گی۔“
بیگم: ”بات تو کہو۔ سیدھی بات پر کیوں بگڑنے لگی۔ ایسی کیا دیوانی ہو گئی ہوں۔“
ہم: ”سیدھی ہی تو بات نہیں ہے۔ ٹیڑھی ہے۔ جب ہی تو کہتے ہوئے ڈر لگتا ہے۔
بیگم: ”بس بجھوا چکے پہیلیاں۔ اب کہہ بھی چکو کسی طرح۔“
ہم : بیگم! وہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم نے ہر طرح جُمیا کو سمجھایا بجھایا۔ وہ کسی طرح نہیں مانتی۔ اس بات پر اڑ گئی ہے کہ تم معافی مانگو۔“
بیگم: ”تم کیوں معافی مانگو؟“
ہم: ”ارے ہم نہیں تم مانگو تم!“
بیگم: (اچھل کر) کیا کہا۔ میں معافی مانگوں، اس چڑیل سے؟ ارے یہ کہا اس نامراد ناشاد نے؟ ذرا لاؤ تو اُسے پکڑ کے میرے پاس
44
ارے تم میری شکل کیا دیکھ رہے ہو؟ ذرا لاؤ تو اس کلموئی کی چُٹیا پکڑ کے میرے سامنے۔ ارے اُٹھو اُٹھو! میرے تن بدن میں آگ لگ رہی ہے اور یہ مزے سے بیٹھے مٹر مٹر دیکھے جا رہے ہیں۔ اُٹھو نا تمہیں ہو کیا گیا ہے؟ سُنتے نہیں۔“
ہم: ”بیگم! اسی لئے تو میں خاموش تھا۔ تم سے کہتا نہ تھا تم نے میرے حلق میں انگلی ڈال کے بات نکال لی۔ اب کیا کروں کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ اُدھر بھی تریاہٹ ہے ادھر بھی تریاہٹ۔“
بیگم: اب تو میں ایک منٹ بھی اس محلّے میں نہیں ٹھہر سکتی۔ دوسرا مکان لے لو، یہاں سے اُٹھ چلو۔
ہم: ”مکان بھی کیا دُکانوں پر ملتے ہیں کہ گئے اور لے آئے۔ تمہیں کچھ خبر بھی ہے کہ دلّی میں مکانوں پر کیا آفت آئی ہوئی ہے۔ اچھے اچھے شریف اور پڑھے لکھے بابو لوگ بڑی بڑی تنخواہ والے چھوٹے چھونے مکانوں میں چھ چھ مل کر رہ رہے ہیں اور بال بچّوں کو وطن میں چھوڑ رکھا ہے۔ تم کہتی ہو کہ دوسرا مکان لے لو۔ کوئی اپنا بس ہے۔“
بیگم: ”تو میں تو جاتی ہوں اپنی امّاں کے ہاں۔“
تم : ”اچھا سنو تو سہی۔ تم بس اتنا زبان سے کہہ دو کہ آیندہ جُمیا کو نہیں مارو گی پھر میں سلٹ لوں گا اور سب کو راضی کر لوں گا۔
45
بیگم: ”ماروں گی۔ سو دفوہ ماروں گی۔ لو صاحب کام نہیں کرنے کی اور زبان چلائے گی تو میں اس کی خوشامد کروں گی، اس کے آگے ہاتھ جوڑوں گی۔ چڑیل کا مار مار کے بھرکس نکال دوں گی۔ ہم: تو پھر اب کیا کیا جائے۔
؎ ملک الموت کو ضِد ہے کہ میں جاں لے کے ٹلوں
سر بسجدہ ہیں مسیحا کہ مری بات رہے
بیگم: ”یوں تو اس کم بخت کو اور شیر کرنا ہوا کہ اب تو وہ مجھے لے کے جوتیوں میں پہن ڈالے گی اور خاک بھی کام کر کے نہ دے گی۔
ہم: ”نہیں ایسا نہیں ہو گا۔ تم میری بات مان لو۔ ان کمینوں سے دوبدو کرنی بھی نہیں چاہیے۔ اس لئے کہ ان کی تو کوئی عزت نہیں۔ مار کھا لیں اور جھاڑ جھوڑ کر کھڑے ہو جائیں۔ اور جو خدانخواستہ کہیں وہ بھی تمہیں ایک جھاڑو مار بیٹھے تو تمہاری عزّت تو دو کوڑی کی رہ جائے نا۔“
بیگم: ”ارے! تم کیا کہ رہے ہو۔ وہ جوانا مرگ مجھے مارے گی؟ مجھے؟ ذرا مار کے تو دیکھے کھال کھینچ کے رکھ دوں نامراد کی۔
46
ہم: ”کھال کھینچو یا کچھ کرو۔ عزّت تو جاتی رہے گی۔ بیگم یہ ایک دن کا واقعہ سناؤں۔ بالکل اپنے سامنے کا۔
میں بتاشوں کی گلی میں سے جا رہا تھا۔ ایک بھنگن بھرا ہوا ٹوکرا سر پر لئے گزر رہی تھی۔ پہلے زمانے میں بھنگی راستے میں آواز لگاتے چلتے تھے۔ ’بھنگی ہے سرکار، بچ جائیے ماں باپ، بچے جیتے رہیں، حکم بنا رہے سرکار‘ اور اب تو جان جان کے بھڑ کے چلتے ہیں۔
تو ایک لالہ صاحب اُجلے برف کپڑے پہنے ہوئے جا رہے تھے۔ بھنگن ان سے بھڑ کر نکلی۔ لالہ صاحب جلدی سے بچ تو گئے مگر کہنے لگے ’اری دیکھ کے نہیں چلتی۔ آنکھیں پھوٹ گئی ہیں۔‘ بھنگن وہیں کھڑی ہو گئی اور کہنے لگی ’لالہ سنبھال کے بات کرو۔ آنکھیں پھوٹی ہوں گی تمہاری۔‘ لالہ صاحب نے خفا ہو کر اسے دو چار صلواتیں سُنائیں۔ بس يقين ماننا بیگم اس بھنگن نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اور غلاظت کا بھرا ہوا ٹوکرا لالہ صاحب پر پھینک دیا۔ بے چارے کے سارے کپڑے خراب ہو گئے۔“
بیگم: ”پھر اس چڑیل کو مارا نہیں لوگوں نے۔“
ہم: ”اس کے بھی طرفدار موجود ہو گئے اور لالہ کو ہی بُرا بھلا کہنے لگے۔ سچ تو
47
یہ ہے کہ اس زمانہ میں وہ مقولہ بالکل ہی صحیح ہو گیا ہے کہ اپنی عزّت اپنے ہاتھ ہے۔“
بیگم: ”یہ تم ہی لوگوں نے اچھوتوں کو سر پر چڑھا دیا ہے۔ ورنہ ان کی مجال تھی کہ آنکھ ملا سکتے۔“
ہم: ”تو بس اب میں جا کر کہہ دیتا ہوں۔ آیندہ تم اس سے کچھ نہ بولنا۔“
بیگم: ”نہیں میں تو فی الحال اپنی امّاں کے ہاں جاتی ہوں۔ تم اگر کہیں اور مکان کا بندوبست کر لو گے تو آ جاؤں گی۔ نہیں تو تم جانو۔مجھ سے یہ ظلّت برداشت نہہں ہونے گی۔
میں نے بیگم کو بہترا سمجھایا مگر وہ کسی طرح نہ مانیں اور اپنی امّاں کے ہاں چلی گئیں
اب ہم کیا کریں؟
48
ولی کامل
49

ولی کامل​

ڈاکٹر صاحب! دیکھئے کیسی بہکی بہک باتیں کر رہے ہیں۔ بخار اس وقت بہت تیز معلوم ہوتا ہے۔ کہیں ان کے دشمنوں کو سرسام تو نہیں ہو گیا۔
ڈاکٹر: ”آپ ایسی بولائی کہوں جاتی ہیں۔ کچھ ایسے زیادہ پریشان ہونے کی بات نہیں ہے۔ بخار بیشک 104 درجے کا ہے مگر سرسام کا مطلق اندیشہ نہیں۔ آپ بالکل نہ گھبرایئے۔
مریض: ”سرسام! سرسام! ہاں ہاں سرسام صمصام کے بھائی کا نام ہے۔ صمصام کو نہیں جانتے۔ لا حول و لا قوة، ارے میان وہی صمصام الدّین جو نہر میں ڈپٹی کلکٹر ہیں۔ احتشام اور گلفام ان کے بیٹے ہیں۔
بیوی: ”ڈاکٹر صاحب! خدا کے لئے آپ کوئی ایسی دوائی دیجئے جو ان کا یہ بمہکنا جائے۔ آپ تو اب تھوڑی دیر میں چلے جائیں گے۔ پھر میں ہوں اور یہ پہاڑ سی رات۔ بس رات بھر یوں ہی بہکے رہتے ہیں اور کبھی
50
کبھی تو ایسے لال لال دیدے کر کے گھورتے ہیں کہ میرا دم فنا ہو جاتا ہے۔ اگر بوا فہیمن اور نصین نہ ہوتیں تو جانے میرا کیا حال ہوتا!
مریض: ”یہ کون بکواس کر رہا ہے؟ ڈاکٹرصاحب اس بے چاری کی باتوں کا خیال نہ کیجئے۔ یہ پیدائشی دیوانی ہے۔ اچھا ایک بات بتایئے۔ آپ حلفیہ کہہ سکتے ہیں کہ میں پاگل ہوں۔
ڈاکٹر: ”ہرگز نہیں۔“
مریض: ”اس کا کیا مطلب ہے؟ یعنی آپ بتانا نہیں چاہتے۔“
ڈاکٹر: ”میرا مطلب یہ ہے کہ آپ ہرگز پاگل نہیں ہیں۔ آپ کا دماغ بالکل درست ہے۔“
مریض: ”اچھا جو کچھ کہوں گا آپ اس پر یقین لائیں گے۔
ڈاکٹر: ”کیوں نہیں۔“
مریض: ”اچھا بتائیے میں کون ہوں؟“
ڈاکٹر: ”آپ آدمی ہیں۔“
مریض: ”آدمی تو آپ بھی ہیں۔ اور یہ جو میری بیوی ہے بڑی اچھی لڑکی ہے۔ آپ ہنستے ہیں۔ کیوں ہنستے ہیں۔ یہ لڑکی نہیں تو کیا ہے؟ آپ پھر ہنس وہے ہیں۔ ارے میاں یہ تو سچ ہے کہ یہ چالیس برس کی ہے
 
76
دنیا میں آخر سپاہی کے گھروں میں بیویاں ہیں۔ سب ہی کچھ اپنے اپنے میاؤں کو کہہ لیتی ہیں۔ آپ جیسا فلسفی نوج کوئی ہو۔ منہ سے بات نکالنی دشوار ہے۔
ہم: ”دیکھو بگڑنے لگیں نہ۔ اسی لئے ہم کچھ کہتے نہ تھے۔“
بیگم: ”نہیں میں کئی کی دن سے دیکھ رہی ہوں کہ آپ ہر وقت جلی کٹی سناتے رہتے ہیں۔ سنتے سنتے کان پک گئے اور آج تو کچھ ایسے کپڑوں میں لپیٹ کر بات شروع کی ہے کہ میرے فرشتوں کو بھی گمان نہ تھا کہ مقطع کا بند مجھ نگوڑ ماری پر ٹوٹے گا۔“
یہ کہے کہ بیوی رونے لگی۔ ہمیں کوئی صاحب دروازے پر کھڑے آوازیں دے رہے ہیں۔
اے لیجئے ہم تو چلے!
77
خان صاحب کی قربانی
78

خان صاحب کی قربانی​

عنوان سے یہ نہ سمجھ لیجئے گا کہ خان صاحب کو کسی نے حلال کر دیا۔ بات یہ ہے کہ میں اس مضمون میں یہ دکھانا چاہتا ہوں کہ ہمارے خان صاحب نے بکرے کی قربانی کیونکر کی اور کس طرح کی۔ سُنیے۔ مگر ہاں پہلے یہ تو بتا دوں کہ یہ خان صاحب ہیں کون بزرگوار؟ اچھا تو سب سے پہلے آپ ان کا حلیہ ملاحظ فرمائیے:
دبلے پتلے مخنی سے آدمی ہیں۔ ہلکے پھلکے۔ بس یوں سمجھئے کہ آدمی کا خلاصہ ہیں۔ جس طرح مکان کی تعمیر ختم ہونے پر مالک مکان بچے کچھے تختوں اور چھپٹیوں سے کوئی چھوٹی سی چوکی یا پٹڑی یا پٹرے بنوا لیتا ہے، بس یوں ہی سمجھ لیجئے کہ ہمارے خان صاحب بھی بن گئے۔ آپ انہیں چلتے ہوئے دیکھیں تو یہ معلوم ہو کہ ہوا میں اُڑ رہے ہیں۔ پاؤں میں لنگ تو نہیں ہے مگر دور سے دیکھو تو معلوم ہوتا ہے ایک طرف ذرا سی جھونک کھا رہے ہیں، جیسے گڈّی کنّی کھاتی ہو۔ چھوٹا سا سر۔ اس پر سُرخ چگّی اور لمبی داڑھی۔ چڑھی ہوئی مونچھیں، تنگ پیشانی، چھوٹی چھوٹی آنکھیں، لمبی ناک آگے سے جھُکلی ہوئی جیسے طوطے کی چونچ، چھوٹے سے مُنہ پر بڑا سا
79
دہانہ، اور رنگ؟ آبنوس سے ذرا کھُلتا ہوا۔ خیر آپ سانولا کہہ لیجئے۔ ہاں قد تو رہ ہی گیا۔ بس پانچ فٹ۔ پورے پانچ۔ ایک انچ کم نہ زیادہ۔ عمر کوئی پچاس کے لگ بھگ سمجھئے۔ یہ ہیں ہمارے خان صاحب دام اقبالہ، ٹھیٹ دِلّی کی پیداوار بڑے مزے کے آدمی ہیں۔ عقل ذرا کچھ واجبی سی ہے جس کا ثبوت سب سے بڑا یہ ہے کہ آپ اپنے آپ کو بے انتہا عقلمند اور رجربہ کار سمجھتے ہیں۔ ٹھوکروں پر ٹھوکریں کھاتے ہیں اور تقدیر کے سر منڈھتے ہیں۔ جس محفل میں جاتے ہیں ہاتھوں ہاتھ لئے جاتے ہیں اور نُقل محفل بنے رہتے ہیں۔ میرے ان کے درمیان مدّت سے دوستانہ تعلقات قائم ہیں۔ کچھ وہ میرا لحاظ کرتے ہیں کچھ میں ان کی کم عقلی کا ماتم۔ یوں نبھے جا رہی ہے۔
بقر عید سے ایک دن پہلے شام کو میرے پاس آئے۔ کچھ گھبرائے گھبرائے اور کہنے لگے ”ذرا گھر میں چلو۔“
”گھر میں تو بیٹھا ہی ہوں۔“ میں نے ہنس کر کہا: ”یہ کیا بازار ہے؟“
”میرے گھر چلو۔“ خان صاحب نے لفظ ”میرے“ کو ذرا زور دے کر کہا۔
”بات تو بتائیے۔ قصّہ کیا ہے؟“
”قصّہ وصّہ کیا ہوتا، بس وہی کِل کِل پھر شروع ہو گئی۔ ایک مصیبت میں جان ہے۔“ خان صاحب نے بسورتے ہوئے کہا۔
”معلوم ہوتا ہے آپ نے پھر کوئی حماقت کی۔“ میں نے انہیں گھورتے ہوئے کہا۔
80
اتنا جانتا ہوں مگر آپ کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی۔ عقل کے پیچھے لٹھ لئے پھرتے ہیں۔“
”بات تو تم نے پوری سُنی نہیں اور لگے مجھ ہی کو الزام دینے۔ میں کہتا ہوں۔۔۔۔۔ اچھا تم گھر تو چلو۔“ خان صاحب نے بے صبری کے ساتھ کہا۔“ وہاں چل کر خود دیکھ لینا کہ حماقت میں نے کی ہے یا وہ کالے سر والی سر بالوں کو آ رہی ہے۔“
”اچھا خانم سے مطلب ہے؟“ میں نے ہنس لر کہا۔
”جی ہاں تمہاری بھاوج۔“ خان صاحب نے جواب دیا۔
”اچھا ٹھہریئے۔ ابھی چلتا ہوں۔ ذرا کپڑے بدل لوں۔“ کہہ کر میں نے پٹاری اُن کی طرف کھسکا دی کہ اتنے آپ پان کھائیے۔ میں کپڑے بدل کر جو آیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اللہ کے بندے نے چونے کی کُلیا میں کتھّے کی چمچی ڈال رکھی ہے اور کتھّے والی میں چونے کی۔ میں نے دیکھتے ہی کہا۔
میں: ”خان صاحب! ہیں آپ بڑے عقلمند، بھلے مانس کیا عقل کو گھاس چرنے کو چھوڑ دیا ہے۔ یہ آپ ہیں کہاں اس وقت؟“
خان صاحب:”کیا ہوا۔ یہ برسنے کیوں لگے؟“
میں: ”یہ کیا کِیا آپ نے؟ پٹاری کا ستیاناس کر کے رکھ دیا۔“
خان صاحب: ”میں تو سمجھا تھا نہ معلوم کون سا لمبا چوڑا قصور کر بیٹھا ہوں۔ میاں ہو
81
بڑے تھُڑ دلے۔ بس دھیلے کے نقصان پر بگڑ بیٹھے۔“
میں: ”دھیلے پیسے کا سوال نہیں۔ اصل میں آپ رہتے ہی کچھ کھوئے کھوئے سے ہیں۔ جب ہی تو خانم سے دانتا کِل کِل رہتی ہے۔
خان صاحب: ”اچھا تو اب چلتے بھی ہو یا نہیں؟“
خیر صاحب ہم دونوں چلے۔ خان صاحب کے گھر پہنچے۔ خانم میرے سامنے ہوتی تھیں۔ مجھے دیکھتے ہی میاں سے بولیں۔
خانم: ”اب انہیں لائے ہو حمایتی بنا کے۔ اچھا میں بھی دیکھوں گی کیونکر تمہاری طرفداری کرتے ہیں؟“
میں: خانم میں سچ کہتا ہوں مجھے اب تک خبر نہیں کہ معاملہ کیا ہے۔ انہوں نے تو میرے گھر پہنچ کر بس رٹ لگا دی کہ میرے ساتھ چلو۔ میرے ساتھ چلو۔ خانم پھر کِل کِل کر رہی ہیں۔“
خانم: (کولہوں پر ہاتھ رکھ کر) ”اچھا یہ کہا انہوں نے؟ میں کِل کِل کر رہی ہیں۔ کِل کِل۔ ہوں بھائی ذرا تم بھی دیکھنا یہ بکرا لائے ہیں۔ وہ کھڑا۔ ذرا پاس جا کر دیکھو۔ اس کی قربانی جائز بھی ہے؟ اور پھر کیسی تعریفیں کرتے ہوئے گھر میں گھسے ہیں۔ (منہ بنا کر) موٹا ہے، تازہ ہے، تیار ہے، بہت سستا مل گیا، بڑا چکنا گوشت ہو گا، مزا آ جائے گا، ہوں۔ ذرا تم خود جا کر دیکھو سینگ ٹوٹا ہوا، کان کٹا ہوا، موئے کی ناک بہہ رہی ہے۔ ایک دم کھانسے جاتا ہے۔ بکرا لائے
82
ہیں صاحب قربانی کے لئے۔“
میں نے جا کر دیکھا تو سچ مچ اس کا تو آدھا کان غائب تھا اور ایک سینگ ٹوٹا ہوا۔ میں نے خاں صاحب سے کہا۔
میں: ”خان صاحب! اس کی تو قربانی جائز نہہں۔“
یہ سنتے ہی خانم کھِلکھلا کر ہنسیں۔ خان صاحب روکھے ہو کر بولے۔
خان صاحب: اب لگے تم بھی ان ہی کی سی کہنے۔ بھئی واہ۔ اچھا لایا تمہیں!“
خانم: (جلدی سے) یوں کہو حمایتی بنا کے۔“
خان صاحب: ”تم چپکی رہو جی۔“
خانم: ”کیوں چپکی رہوں۔ بڑے آئے چپکا کرنے والے۔ لو صاحب ایک تو روپے پھینک آئے پورے سولہ بھر مٹّی اور پھر کہتے ہو چپکی رہو۔ ہونہہ خدا جانے کس کس طرح کتربیونت کر کے یہ روپے بکرے کے لئے بچائے تھے۔ یہ بکرا لائے ہیں موا کن کٹا۔ جاؤ پھیر کے آؤ۔ میں نہیں جانتی میرے روپے لا کر دو۔“
خان صاحب نے میری طرف کچھ ایسی بے کسی سے دیکھا جیسے ایک بچّے کا سوال غلط ہو گیا ہو اور ماسٹر بیت ہاتھ میں لے کر کھڑا کہہ رہا ہو کہ جلدی سوال نکال نہیں تو کھال اُدھیڑ دوں گا۔ اور بچہ کسی کو دیکھ کر آنکھوں ہی آنکھوں میں کہے کہ خدارا اس ظالم سے بچاؤ۔ مجھے ان کی حالت پر بڑا ترس آیا۔ میں نے کہا۔
83
میں: ”کہاں سے لائے تھے خان صاحب؟ چلیے میں ساتھ چلتا ہوں۔“
خان صاحب: ”چلو گے کہاں۔ وہ رکھا ہے؟ خدا جانے بیچ باچ کر کہاں پہنچا ہو گا۔“
خانم: ”بھائی یہ نہیں جانے کے۔ نہیں جانے کے۔ میں انہیں خوب جانتی ہوں پیسے پھینک آتے ہیں اور پھر کیا مجال جو چیز واپس کر آئیں۔ ان کے تو سارے کام ایسے ہی خوبی بھرے ہوتے ہیں۔ پیسے کا ذرا درد نہیں۔ ایک کی جگہ چار خرچ کرتے ہیں اور چیز نکمّی اُٹھا لاتے ہیں۔ پھر لاکھ سمجھاؤ، سر پٹکو، کبھی جو واپس کرنے جائیں۔ اپنی لائی ہوئی چیز کی اُلٹی سیدھی تعریفیں کرنے بیٹھ جاتے ہیں۔ بس توالی (تباہی) مجھ نا مراد کی جان پر آتی ہے۔ خبر نہیں کس کس طرح من مار کے دو پیسے بچاتی ہوں وہ یوں آگ لگا آتے ہیں۔“
خان صاحب: ”عجیب مصیبت میں جان ہے۔ مجھے تو اس عورت نے چرخا بنا دیا ہے۔ کوئی چیز خاطر میں نہیں لاتی۔ ہر چیز میں جان جان کر کیڑے ڈالے جاتے ہیں۔ بھائی، خدا کی قسم کوڑی پھیرا کرتا ہوں بازار کا۔ پھر بھی اس عورت کے بھانویں نہیں۔ میں پھر بُرے کا بُرا۔ اچھا اب بتاؤ کیا کروں۔ کسی طرح یہ قصّہ ختم بھی ہو گا یا نہیں؟“
میں: ”جلئے چل کر کوشش تو کریں۔ شاید بیچنے والا مل جائے۔ بلا سے روپے دھیلی کا نقصان ہو جائے۔ واپس کر کے دوسرا لے آئیں گے۔“
بکرا مزے سے بیل کے پتّے کھا رہا تھا۔ خان صاحب نے نل کے پائپ
84
میں بندھی ہوئی رسّی کھولی۔ بکرا اڑ گیا۔ بڑی مشکل سے کھینچتے گھسیٹتے دروازے تک پہنچے ہوں گے کہ ایک دم سے جو بکرے نے زور کیا تو رسّی خان صاحب کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ بکرا قلانچیں مارتا ہوا سیدھا دالان میں پہنچا۔ خانم بھی چیختی چلّاتی دوڑیں۔ ”ہے ہے نئی جاجم کا ستیاناس کر دے گا۔ دوڑنا پکڑنا۔“ بکرے نے اتنی دیر میں فرش پر پیشاب کا چھڑکاؤ کر دیا اور مینگنیوں کا مینہ برسا دیا۔ نئی چار خانے کی جاجم غارت ہو گئی۔ خانم چیختی پیٹتی رہیں۔ ہم بکرے کو پکڑ دھکڑ کر لے چلے۔ جامع مسجد پہنچ کر میں نے خان صاحب سے کہا۔ ”ذرا غور سے سب کو دیکھتے جائی اور پہچانئے کہ کس سے لے گئے تھے۔“ اب خان صاحب کی حالت ملاحظہ ہو۔ ایک شخص پانچ بکرے لئے کھڑا تھا۔ کہنے لگے یہی ہے۔ اسی سے لیا تھا۔ میں نے اس جا کر کہا۔
میں: ”چودھری صاحب! ذرا دیکھنا بھائی۔ یہ بکرا تم سے لے گئے تھے۔ اس کی قربانی جائز نہیں۔ آخر تم بھی تو مسلمان ہو۔ سب کچھ جانتے ہو۔ یہ واپس کر کے دوسرا دے دو ۔
چودھری: ”میاں جی! میرا تو یہ بکرا نہیں ہے کسی اور سے لے گئے ہوں گئے۔“
میں: (خان صاحب سے) ”آپ انہی سے لے گئے تھے۔ بولتے کیوں نہیں؟“
خان صاحب چودھری کی طرف غور سے دیکھ کر بولے۔
خان صاحب: ”میاں تم سے ہی تو لیا تھا۔ تمہارے پاس چھ بکرے تھے۔ ایک میں نے
85
لیا۔ پانچ یہ رہے۔“
چودھری: ”میاں جاؤ عقل کے ناخن لو۔ بڑے آئے بکرا لینے۔ نہ جانے کہاں سے یہ چھچھوندر لے گئے۔ میرے بکرے دیکھتے نہیں سانڈ ہیں سانڈ۔ کتنے کا لے گئے تھے۔“
خان صاحب: ”سولہ روپے کا اور کتنے کا؟“
چودھری: ”میرے تو چالیس چالیس کے ہیں۔ اور میں نے تو تین ابھی کھڑے کھڑے بیچے ہیں۔“
خان صاحب کچھ لاجواب سے ہو کر مچھ سے کہنے لگے۔
خان صاحب: ”تو نہ لیا ہو گا ان سے۔“
میں: ”آپ جانتے تو خاک نہیں۔ یونہی خواہ مخواہ کسی کے سر ہو جاتے ہیں۔ آخر بتائیے تو جس سے بکرا لیا تھا اس کا حلیہ کیا تھا؟“
خان صاحب: ”حلیہ حلیہ کیسا؟“
میں: ”اس کی شکل و صورت کیسی تھی؟“
خان صاحب: ”ایسی تھی جیسی سب کی ہوتی ہے۔“
میں: ”عجیب آدمی ہیں آپ بھی۔ میاں اس کی ڈاڑھی تھی؟“
خان صاحب: ”تھی“
میں : ”کیسی تھی؟“
86
خان صاحب: ”خاصی تھی۔“
میں: ”لا حول و لا قوۃ۔ بندۂ خدا۔ یہ بتائیے کالی ڈاڑھی تھی یا سفید تھی، چھوٹی تھی یا بڑی؟ اس کا رنگ کیسا تھا، گورا، کالا یا سانولا؟ ٹوپی پہنے ہوئے تھا یا ننگے سر تھا یا صافہ باندھے ہوئے تھا؟“
خان صاحب: ”کالی ڈاڑھی تھی، صافہ باندھے ہوئے تھا۔ سفيد صافہ۔ میں تو کہتا ہوں یہی ہے۔ چلو پھر اُسی سے پوچھیں۔ بدمعاشی کر رہا ہے۔“
میں: ”اب آپ کا پٹنے کو جی چاہ رہا ہے۔ چلئے گھر چلئے۔“
خان صاحب: ”اور۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔ وہ خانم کو کہیں گی۔“
میں: ”ہاں کہیں گی تو ضرور۔“
خان صاحب: ”پھر؟“
میں: ”پھر کیا؟ سُن لیجئے گا۔ بولئے گا نہیں۔“
خان صاحب: ”مگر۔۔۔ بھائی خدا کے لئے دیکھو میں ہاتھ جوڑتا ہوں۔ کسی طرح اِس قصّے کو ختم کرو۔“
یہ کہتے کہتے خان صاحب کی آواز بھرّا گئی۔ مجھے یہ قصّہ اور کسی طرح تو ختم ہوتا نظر نہ آیا۔ میں نے اپنے پاس سے ایک بکرا خریدار۔ جو تھا تو اس سے چھوٹا مگر قربانی کے قابل تھا۔ خان صاحب والا بکرا میں اپنے گھر لے گیا۔ (خان صاحب ساتھ ساتھ تھے) یہ دوسرا بکرا لے کر ہم خان صاحب کے گھر پہنچے۔ خانم دیکھ کر کہنے لگیں۔
87
خانم: ”ہاں دیکھو! بکرا ہے بے عیب، کتنے کا ملا؟“
بکرا دراصل چودہ روپے کا تھا مگر میں نے کہہ دیا سترہ کا ملا ہے۔ بہرحال یہ قصّہ یوں ختم ہوا۔ دوسرے دن خان صاحب سویرے ہی سے میرے گھر آ گئے۔ عید گاہ ساتھ گئے۔ ساتھ نماز پڑھی۔ ساتھ واپس آئے۔ غرض دم کے ساتھ رہے اور منّت خوشامد کر کے عیدگاہ سے مجھے اپنے گھر لے گئے۔ راستہ بھر خوشامد کرتے رہے کہ قربانی اپنے ہاتھ سے کر دو۔ مختصر یہ ہے کہ میں ان کے ساتھ اُن کے گھر گیا۔ قصائی کو بلایا۔ بوقر عید والے دن قڈائی کو گھیر گھار کر لانا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ بہرحال وہ آ گیا۔ اب ذرا ملاحظہ ہو خانم کی تائید ہے کہ اپنے بکرے کی قربانی خود کرنی چاہیے۔ یرنی چھری خود پھیرنی چاہیے۔ میں بھی خان صاحب کو مرد بنا رہا ہوں، قصائی الگ جلدی کر رہا ہے کہ مجھے دوسری جگہ جانا ہے۔ مگر خان صاحب نے ہیں کہ آنا کانی دیے جا رہے ہیں۔ جب خانم نے ڈانٹ پلائی تو مجبوراً چھری تھامی۔ قصائی نے بکرے کو پچھاڑا۔ بکرا ”مے ایں ایں“ کیے جا رہا ہے۔ قصائی خفا ہو ہو کر کہہ رہا ہے۔ ”میاں چلو، میاں چلو۔“ اور خان صاحب ہیں کہ کانپ رہے ہیں اور میں ہیں ہیں بھئی بھئی۔ اچھی بھائی۔“ کہے جا رہے ہیں۔ قصائی نے چیخ کر کہا۔ ”میں چھوڑتا ہوں۔ تم جانو تمہارا کام۔ ادھر میں نے خان صاحب کو لے جا کر ان کا ہاتھ بکرے کے گلے پر ٹکا کر کہا کہیے بسم اللہ اللہ اکبر۔ خان صاحب نے چھری چلائی تو مگر شہ رگ کاٹے بغیر ہی اُٹھ کھڑے ہوئے۔ میں نے جلدی سے چھُری لے کر حلال کیا۔ مگر خان صاحب کے پھوہڑ پنے سے ان کے سارے کپڑے خون میں بھر گئے۔ مجھے تو جلدی ہو رہی تھی۔ بال بچّوں کے لیے مٹھائی اور کچوریاں وغیرہ ابھی تک نہیں لی تھیں۔ لہٰذا میں تو چُپ چاپ کھسک گیا۔ اس کے برد کی داستان کہ کپڑے خراب ہو جانے پر خانم نے ان کی کیونکر خبر لی اور پھر کیا ہوا، بشرط فرصت پھر کبھی سُن لیجئے گا۔
88
جیسے کو تیسا
89

جیسے کو تیسا​

یہ اس زمانے کا ذکر ہے جب ہندوستان میں ریلیں نہ تھیں۔ لوگ رتھوں، ہلیوں، چھکڑوں، گھوڑا گاڑیوں وغیرہ میں بیٹھ کر سفر کیا کرتے تھے اور یوں اس فاصلے کو جو اب گھنٹوں میں طے ہوتا ہے دِنوں بلکہ مہینوں میں طے کرتے تھے جن کے پاس اسباب کم ہوتا تھا یا چھڑے دم ہوتے تھے۔ وہ گھوڑوں، ٹٹوؤں اور بیلوں پر سفر کرتے تھے۔
اُسی زمانے کا ذکر ہے کہ ایک لالہ جی جن کا نام رام پرشاد تھا اپنے وطن الہ آباد سے بنارس گئے تاکہ علم حاصل کریں۔ تین چار برس وہاں رہے اور جب پڑھ لکھ کر خوب ودوان (عالم) ہو گئے تو اپنی کتابیں بیل پر لادیں اور وطن کی طرف چل پڑے۔ کبھی پیدل چلتے کبھی خود بھی سوار ہو جاتے۔
تیسرے دن کا واقعہ ہے۔ دوپہر کا وقت تھا. لُو چل رہی تھی، دِن سۃلگ رہا تھا۔ زمین تپ رہی تھی۔ یہ بچارے پسینے میں نہائے بیل کی رسّی پکڑے چلے جا رہے تھے۔ پیاس کے مارے بُرا حال تھا۔ ہونٹوں پر پپڑیاں جمی ہوئی
90
تھیں۔ زبان منہ سے نکل پڑتی تھی۔ بارے دور سے ایک کنواں دکھائی دیا۔ ان کی جان میں جان آئی۔ جوں توں کر کے وہاں پہنچے۔ بڈھا جاٹ چرس کھینچ رہا تھا۔ اس سے بولے۔
”چودھری تھوڑا سا پانی پلاؤ گے؟“
چودھری بولا۔ ”آؤ مہاراج! پیو کھُوب ڈٹ کر پیو۔“
پنڈت جی نے پانی پیا۔ منہ پر چھلکے لگائے۔ سر پر پانی ڈالا۔ ذرا جان میں جان آئی۔ کنویں کی مینڈ پر بیٹھکر سستانے لگے۔ چودھری نے پوچھا۔
”مہاراج! کہاں سے آنا ہوا؟ بڑے نراش دکھّو ہو (پریشان دکھائی دے رہے ہو)“ پنڈت جی بولے۔
"چودھری کیا بتائیں۔ آج کل گرمی تو اچار نکالے دیتی ہے۔ بہت دُور سے آ رہے ہیں۔ کاشی جی گئے تھے۔ اب چار برس پیچھے اپنے گھر لوٹ رہے ہیں چودھری۔ مہاراج! کاشی جی کے کرن لاگئے گئے تھے (کاشی جی کیا کرنے گئے تھے)
پنڈت جی: ودِّیا سکھنے گئے تھے۔“
چودھری۔ ”تب تو کھوب ودوان ہو گئے ہو گے۔ چار برس میں تو سب کچھ پڑھ لیا ہو گا۔ بھلا ہماری ایک بات بتاؤ گے؟“
پنڈت جی: ”کیوں نہیں۔ پوچھو کیا پوچھتے ہو؟“
91
چودھری: نہ یو بات کوئی نا۔ جو تم ایسے ہی ودوان ہو تو ہماری ایک سَرَط (شرط) مان لو۔ تب کہیں۔“
پنڈت جی: ”اچھا اچھا۔ اپنی شرط بھی بتا دو۔ ہم کوئی بھاگتے تھوڑے ہی ہیں۔“
چودھری: ”ہمارا ایک چھوٹا سا شبد (مصرعہ) ہے۔ اس کا مَطبَل (مطلب) بتا دو تو جانیں۔ جو تم نے بوجھ دیا تو ہم سے ایک بیل لے لینا اور جو تم سے نہ بن پڑا تو اپنا بیل ہمیں دے دینا۔“
پنڈت جی نے سوچا یہ گاؤں کا گاؤدی ایسی کیا بات پوچھ بیٹھے گا جو ہم جیسے ودوان سے نہ بتالی جائے گی۔ جھٹ بول اُٹھے۔
پنڈت جی: ”ہاں ہاں ہمیں تمہاری شرط منظور ہے۔ پوچھو کیا پوچھتے ہو؟“
چودھری: بنڈت جی! پھر کھُوب سا سوج بچار کر لو۔ کبھی پاچھے پچھتانا نا پڑے۔ گھُوب سمجھ کر بچن دینا۔“
پنڈت جی اپنی دانست میں پورے عالم فاضل بن چکے تھے۔ اُن کے احساس کو ٹھیس لگی۔ چودھری کے تاؤ دلانے سے سچ مچ جوش میں آ گئے اور کہنے لگے۔
پنڈتی جی؛ ”چودھری سُن لے۔ ہم پنڈت ہیں پنڈت! چار برس کاشی جی میں رہ کر علم پڑھا ہے۔ کچھ بھاڑ نہیں جھونکا۔ لے اب لپک کر بتا دیر نہ کر۔ ہماری راہ کھوٹی ہوئی ہے۔ ہمیں تیری شرط منظور ہے۔ بول کیا کہتا ہے؟
چودھری: ”اچھا تم جانو۔ لو سُنو ہمارا شبد ہے ؎
92
شپ شاپ شپا شپ شپا سا
لے اس کا مطبل بتا دو۔“
پنڈت جی نے جو یہ سنا تو اوسان خطا ہو گئے۔ انہوں نے بھلا یہ شپا شب کاشی جی میں کاہے کو پڑی تھی۔ لگے بغلیں جھانکنے۔ کبھی یہ کتاب نکال کر دیکھی۔ کبھی اس میں ٹٹولا۔ بڈھا چودھری ایک ہی کائیاں تھا۔ پنڈت جی کی سراسیمگی دیکھ کر لگا ٹھٹھے مارنے۔ پنڈت جی اور بھی بدحواس ہو گئے۔ ہاتھ پاؤں میں رعشہ سا آ گیا۔ سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ ادھر چودھری نے چھینٹے دے کر اور بھی ہاتھوں کے طوطے اُڑا دیے۔
”پنڈت جی یہ پُستک اُٹھا دوں۔ اس میں سے باجھ لو۔“ آخر پنڈت جی نے ٹھنڈا سانس بھر کر کہا:
پنڈت جی: ”چودھری تو جیتا اور میں ہارا۔ مجھ سے تیرے شبد (مصرعہ) کا ارتھ (مطلب سمجھانا) نہ ہو گا۔ لے میرا بیل لے لے۔ پر اتنی دیا کر کہ میری یہ کتابیں اپنے پاس ہی رہنے دے۔ پھر کبھی آ کر لے جاؤں گا۔ اب انہیں بنا بیل کے کیسے لے جاؤں۔
ادھر تو پنڈت جی بیل کھو کر اُلٹے پاؤں بنارس چلے کہ اپنے ادھورے علم کو پورا کریں۔ اُدھر بڈھے کسان نے اپنے پوتے سے کہا۔
چودھری: جھورا یو دیکھ! بھگوان نے ایک بیل تو دلا دیا۔ اب دو بیلوں میں سے ایک تو اپنا ہو گیا اور کیا جانے بھگوان کی یہی اِچھّا ہو کہ دوسرا بیل بھی
93
یوں ہی دِلا دیں جو دَلدّر پار ہو جائیں۔ اب تو لمبردار کا ایک بیل تو واپس کر آئیو۔
پنڈت جی شرط ہار کر واپس بنارس جا رہے تھے۔ اُدھر سے ایک اور ودوان گھر جاتے ہوئے ملے۔ انہیں جو دیکھا تو بڑا اچنبھا ہوا۔ کہنے لگے۔
”رام پرشاد جی! تم تو گھر گئے تھے۔ یہ اُلٹے کاشی جی کیسے جا رہے ہو۔ اور وہ تمہارا بیل کدھر گیا؟“
رام پرشاد: ”شیو دیال جی! کیا بتاؤں۔ مجھے تو اس پاکھنڈی نے کہیں کا نہ رکھا۔“
یہ کہہ کر رو رو کر ساری داستان سُنائی۔ شیو دیال بولے۔
”تم بڑے مورکھ ہو جو اُس پاپی کے جُل میں آ گئے۔ اس کا بیل ہتھیانئے کے لوبھ میں اپنا بھی گنوا بیٹھے۔ خیر تمہارے بھلے دِن تھے جو ہم مل گئے۔ چلو تمہارا بیل دلوا دیں۔“
رام پرشاد نے کہا۔ ”بھیّا تم وہان نہ جاؤ۔ مجھ پر تو جو بپتا پڑی سو پڑی۔ تم کیوں بیٹھے بٹھائے بلا مول لیتے ہو۔ اُس دُشٹ سے نہ جیت سکو گے۔ میری طرح اپنا بیل بھی کھو بیٹھو گے۔“
شیو دیال کہہ سن کر انہیں اپنے ساتھ لے گیا۔ جب وہ گاؤں پاؤ میل رہ گیا تو رام پرشاد نے اشارے سے بتایا کہ دیکھو وہ گاؤں ہے، وہ کنواں ہے اور وہ بڈھا چرس کھینچ رہا ہے۔
94
شیو دیال نے کہا۔ ”تم یہیں جھاڑیوں کے پیچھے ٹھہر جاؤ۔ میں اکیلا جاتا ہوں۔ تمہیں ساتھ دیکھ کر عہ پاپی بدک جائے گا۔“
یہ تو یہاں ٹھہر گئے اور شیو دیال اپنا بیل لے کر آگے بڑھا۔ بڈھے کسان نے جو دُور سے انہیں دیکھا تو خوش ہو کر اپنے پوتے سے کہا۔
”چھورے یو دیکھ! پرماتما نے دوسرا بیل بھی بھج دیا۔ میں نہ کہوں تھا پرماتما کی دیا ہو تو چھپر پھاڑ کر دیں ہیں۔“
اتنے میں شیع دیال بھی آ پہنچے۔ پانی پیا اور دم لینے کو کنویں کے مینڈھ پر بیٹھ گئے۔ چودھری نے ان سے بھی وہی باتیں کیں جو رام پرشاد سے کی تھیں اور شرط بُر کر پکی کر لی۔ پھر اپنا وہی شبد سُنایا۔ ؎
شپ شاپ شپا شپ شپا سا
شیو دیال سنتے ہی بولے ”ارے چودھری۔ یہ تو نے کیا پوچھ لیا۔ کوئی اور بڑی سی بات پوچھ جو ہم اپنی ودّیا کا گن دکھائیں۔ یہ تو ہمارے کاشی میں پہلی جماعت کے بچّے بھی بتا سکتے ہیں۔“
اب تو چودھری بڑا سٹپٹایا۔ مگر یہ سوچ کر کہ یہ دھوکا دے رہا ہے ذرا تیترا معلوم ہوتا ہے۔ اُس کی طرح بُدّھو نہیں ہے۔ کہنے لگا۔
”اور بات وات تو ہم جانتے نہیں۔ تم تو بس اسی کا ارتھ کر دو (مطلب سمجها دو)“ شیو دیال نے کہا۔
95
شیو دیال: ”جو تیری یہی اِچھّا ہے تو سُن لے۔ یہ اصل میں چار شبدوں کا پورا اشلوک ہے (چار مصرعوں کا قطعہ ہے) ان میں سے ایک شبد وہ ہے جو تو نے ابھی پڑھا۔ اب تُو کہے ہے تو ہم اسی ایک شبدھ کا ارتھ کر دیں اور تُو چاہے تو پورا اشلوک سنا دیں۔
چودھری: ”جو تُو ایسا ہی گُنی ہے تو سارا ہی اشلوک سنا دے۔
شیو دیال: ”اچھا تو سُن لے۔ پورا اشلوک یوں ہے۔
چٹ چاٹ چٹاچٹ پٹا سا
کھٹ کھاٹ کھٹا کھٹ کھٹا سا
بھد بھاد بھدا بھدا بدا سا
شپ شاپ شپا شپ شپا سا
یہ سن کر بڈھے چودھری کے ہاتھوں کے طوطے اُڑ گئے۔ آنکھوں تلے اندھیرا آ گیا، ہے بھگوان! یہ کیا ہوا۔ جیتا جتایا بیل ہاتھوں سے چلا۔ پھر دل کڑا کر کے کہنے لگا:
چودھری: ”اچھا اب ارتھ بھی کر دے۔“
شیو دیال۔”سن چودھری! تیرے کھیت میں باجرہ بویا ہوا تھا۔ جب ساری بالیں پک گئیں تو ایک دن تو نے اپنے سب بال بچوں سے کہا کہ چلو رے باجره توڑ لاؤ۔ سو تیرے بیٹے، بیٹیاں، پوتے، پوتیاں، نواسے، نواسیاں، سب مل جُل کر کھیت میں آئے اور لگے باجرے کی بالیں توڑنے۔ اس وقت بالیں ٹوٹنے سے ایسی آواز آ رہی تھی ؎
چٹ چاٹ چٹا چٹ چٹا سا
سب بالی توٹ تاڑ گھر لے گئے۔ اب تو نے کہا آؤ رے چھورے چھوریوں
96
اسے کوٹو۔ بالوں میں سے باجرا الگ کرو۔ سو سب کے سب موگریاں لے لے کر بیٹھ گئے۔ اور لگے کوٹنے۔ اب کوٹنے سے کیسی آواز آئی ؎
کھٹ کھاٹ کھٹا کھٹا سا
اب تو نے کہا کہ فصل کا پہلا اناج ہے۔ اؤ رےبچوں اب اسے پکاؤ۔ سو اس میں سے تھوڑا سا باجرہ لے کر ایک بڑے مٹکے میں ڈالا اور اس میں پانی اور گُڑ ڈال کر چولھے پر چڑھایا۔ وہ لگا پکنے اور اس میں سے آواز آنے لگی۔
بھد بهاد بهدا بھد بھدا سا
جب پک چکا تو تُو نے کہا۔ آو رے چھورے چھوریوں اِسے کھاؤ۔ سو چودھری بڑی بڑی مٹّی کی رکابیوں میں اسے نکالا اور خوب چھاچھ ملا کر اب جو سب نے ہاتھوں سے کھانا شروع کیا ہے تو کیا آواز آ رہی تھی۔؎
شپ شاپ شپا شپ شپا سا
سو چودھری سن لیا تو نے اب اور کچھ پوچھنا ہے تو جلدی سے پوچھ یاچھ لے۔ نہیں تو بیل دے۔ ہماری راہ کھوٹی ہو رہی ہے۔
چودھری نے ٹھنڈا سانس بھر کر اپنے پوتے سے کہا۔
”لا چھورے بیل کھول لا۔“
شیو دیال نے رام پرشاد کی کتابیں بھی لے کر اُسی بیل پر لادیں اور چودھری سے ہاتھ جوڑ کر کہا۔ ”تاؤ جی پرنام۔“ اور چل دیا۔
رام پرشاد کے پاس پہنچ کر اس سے کہا کہ۔ ”لو پنڈت جی اپنا بیل اور اب کہیں پانی وانی پینے کے لئے ٹھہرو تو کسی سے بات نہ کرنا۔“
97
دعوت نامہ
98

دعوت نامہ​

”آج کیا پڑا پایا جو یوں باچھیں کھلی جا رہی ہیں۔“ بیوی چھالیہ کترتے ہوئے بولیں۔
میاں: ”کیوں کیا ہوا؟“
بیوی: ”میں بھی تو یہی پوچھ رہی ہوں کہ آج تو ماشا للہ بڑے خوش خوش گھر میں گھسے ہو۔ کیا بات ہے؟
میاں: ”روز تم کہا کرتی تھیں نا کہ کگر میں گھستے ہی کھاؤں پھاڑوں کھاؤں پھاڑوں کرتے ہوئے تو بس اب ہم نے بھی سوچا کہ چلو ہنستے ہوئے گھر میں گھسا کریں گے۔“
بیوی: ”نہیں بتاؤ۔ سچ بتاؤ۔ کچھ ترقّی ہوئی ہے؟“
میاں: ”بیوی اِس نوکری میں ترقّی سے تو مُنہ دھو رکھو۔ کمبخت ایسا منحوس دفتر ہے کہ خدا کسی کو نہ لے جائے۔ “
بیوی: ”اور اپنی کہو۔“
میاں: ”اپنی کیا کہیں۔ بس پھنس گئے سو پھنس گئے۔“
99
بیوی: ”اب چھوڑ دو۔“
میاں: ”پھر کھائیں کیا۔ ہوا پھانک کے جئیں؟“
بیوی: اچھا بتاؤ پھر کیا بات ہے جو چہرہ کھلا ہوا ہے۔ ماشاء اللہ غپا غپ نور برس رہا ہے۔
میاں: ”بیوی بڑی اچھی بات ہے۔ لاؤ پہلے کھانا کھلوا دو پھر بتا دیں گے۔“
بیوی: ”نہیں پہلے بتا دو پھر لاؤں گی۔“
میاں: ”اری بھاگوان کہہ تو دیا کہ بتا دوں گا۔ پہلے کھانا کھا لینے دو۔ دس بجے کا کیا گیا اب شام کو گھر گھپسا ہوں۔ ہاتھ پاؤں ڈھیر ہو کر رہ گئے ہیں۔ دماغ کا کچومر نکل گیا۔ پیٹ میں الگ آگ لگ رہی ہے۔ دید یا مصرعہ طرح طرح کی غزل ہو گی، صاحب طرح کی۔ امتحان لیتے ہیں شاعروں کا اور احمق یہ نہیں سمجھتے کہ طرح میں غزل کسی دوسرے سے لکھوا کر نہیں لا سکتے۔“
بیوی: (جلدی سے) ”اچھا اچھا۔ تم کھانا تو کھاؤ۔ لو پہلے منہ ہاتھ دھو لو۔ ذرا دماغ کو ٹھنڈک پہنچے۔ میں تو پہلے ہی کھٹکی تھی کہ کہیں کوئی مشاعری ہو گی اُس کا بُلاوہ آیا ہو گا۔
میاں: (ہنس کر) ”نہیں مشاعری تو نہیں ہے، ہے تو بڑا مشاعره۔ آل انڈیا کی وضع کا۔ لو دیکھو یہ۔۔۔۔۔۔“
بیوی: (بات کاٹ کر) ”اچھّا اچھّا تم کھانا تو کھاؤ۔“
100
یہ کہہ کر وہ تو کھانا نکالنے گئیں۔ ادھر میاں ہاتھ منہ دھو کر تیار ہو گئے۔ کھانا کھا چکے تو کہنے لگے۔
میاں: ”تم نے ہیچ ہی میں سے بات کاٹ دی۔ لو دیکھو یہ ہے وہ دعوت نامہ۔“
بیوی: ”بس تم ہی دیکھو۔ میں کیا کروں گی دیکھ کے۔ مجھے تو پھر گھر کا فکر پڑ گیا کہ اب چار پانچ دن تک سودے سلف کی الگ حیرانی ہو گی، گھر الگ سنّاٹا ہو گا۔ ہاں اور کیا بغیر مرد کے گھر کاہے کا۔ راتوں کو ڈر لگے گا۔ “
میاں: ”چار پانچ دن کا کیا کام۔ ہفتہ کو رات کی گاڑی سے جاؤن گا اور منگل کو انشاء اللہ رات کی کسی گاڑی سے آ جاؤں گا۔ بس تین دن کی بات ہے۔“
بیوی: ”اچھا دیں گے کیا؟“
میاں: ”یہ لوگ بڑے نامعقول ہوتے ہیں۔ خود غرض اپنا پیٹ بھرنے والے۔ سُنا ہے بہت سارا چندہ ہوا ہے اور پھر ٹکٹ الگ لگایا ہے۔ کوئی چار پانچ ہزار کی رقم اکھٹی ہو ہی گئی ہو گی۔ مگر شاعروں کو دیتے ہوئے دل دکھتا ہے۔ چاہتے ہیں کہ انہیں کم سے کم دے کیر زیادہ سے زیادہ اپنی جیب میں رکھ لیں۔“
بیوی: ”دیکھنا تم بُرا تو بہت جلدی مان جاتے ہو مگر خلق کا حلق تھوڑے ہی بند کیا جا سکتا ہے۔ سب کہتے ہیں کہ مُجرے میں جاتے ہیں، گاتے ہیں اور پیسے لے آتے ہیں۔ سنتے سنتے میرے کان پک گئے۔ میں تو کہتی ہوں کہ تم کہیں نہ جایا کرو اور جاؤ بھی تو پیسے لیا کرؤ۔ لوگ کیا بے جا کہتے ہیں۔ بےشک یہ تو اپنے
 

مومن فرحین

لائبریرین
125

سے یوں نازل ہوا جیسے کوئی بم کاگولہ آپڑا ہو۔ کیا مزے مزے کی باتیں ہوری تھیں کہ آگیا کھنڈک ڈالنے ۔ میں:- مگر تم نے بات کہی بڑی بیہودہ
حامد:- بیہودہ ویہودہ تو میں جانتا نہیں ۔ میں تو بس اس بات کا قائل ہوں کہ ہمیشہ شورٹ کٹ استعمال کرنا چا ہیے چنیں اور چناں سے بھناتا ہوں ۔ اب اگر میں ان مولانا صاحب سے کچہ بحث کرنی شروع کرتا تو پھر یہ حضرت حدیث شریف اور کلام اللہ کی آیتوں سے ٹی پارٹی کو محفل وعظ بنا دیتے ۔ میں نے نہایت آسانی سے ان کو وہیں واپس کر دیا جہاں سے جناب تشریف لائے تھے
میں :- وہ تمہیں کیا خیال کر کے آئے تھے اور اب کیا سمجہ رہے ہوں گے ؟
حامد ۔ اور میں انہیں کیا سمجہہ رہا ہوں کچھ اس کی بھی انہیں خبر ہے یا پرواہ ہے ؟ بس اسی طرح وہ بھی مجھے سمجھے جائیں ۔ مجھے نہ کچھ خبر ہے نہ پرواہ اور کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ آپ میرے پیچھے کیوں پڑ گئے ؟ میں نے یہ ہی کیا نا جو آپ بھی کرنا چاہتے تھے مگر ہمت نہ پڑتی تھی ۔
میں :- خیر اب چھوڑو اس ذکر کو کچھ اور باتیں کرو ۔
اب سب لوگ کھا پی رہے تھے ۔ پارٹی بڑی شاندار تھی ۔ کیک پیسٹری وغیرہ نہایت عمده ، بر تن نفیس، چمچے چاندی کے ۔ چائے پیتے پیتے

126


حامد نے ایک دم سے کہا
حامد : بھائی ظریف ! ذرا دیکھو تو ؟ ، ؟
میں : کیا ہے ؟
حامد: وہ ادھر ! وہ سامنے پانچوی میز پر !
میں : مجھے تو کوئی خاص بات معلوم نہیں ہوتی ۔ سعید : چمچہ
حامد: ہاں چمچہ ۔ دکھا ظریف بھائی ! یہ سعید سمجھ گیا اور تم اب تک نہیں سمجھے ۔
میں : صاف صاف کہو ۔ میں تو خاک بھی نہیں سمجھا ۔
حامد : میاں وہ جو پانچویں میز پر ایک صاحب بیٹھے ہیں وہ صاحب بہادر بنے ہوئے ، بالکل تازه ولایت ، ان کے چوٹٹے پٹے کو دیکھا ، یعنی کس صفائی سے آپ نے چمچہ تیر کیا ہے ۔
میں : کیا جیب میں رکھ لیا ؟
حامد: جیب میں رکھتا تو ممکن تھا کوئی دیکھ لیتا یا کبھی جھکتا تو نکل ہی پڑتا ۔ ایسی کچی گولیاں نہیں کھیلے ہوئے ہے ۔ گھاگ معلوم ہوتا ہے ۔
میں : پھر کہاں چھپایا ؟
سعید: بوٹ میں !
حامد: ہے یہ سعید بھی کائیاں ۔ چپکے ہی چپکے سب کچھ
بھانپ رہاتھا ۔
 

مومن فرحین

لائبریرین
127

یوں فلسفی اپنے آپ کو ظاہر کرتا ہے اور مسمساسا بنا رہتا ہے مگر اڑاتی چڑیا کے پرگنتا ہے ۔
میں: ہو تم دونوں ہی عقل کے پتلے ۔ اچھا بتاؤ تو تم نے کیسے دیکھ لیا ؟
حامد : میاں بات یہ ہے کہ میں بڑی دیر سے دیکھ رہا تھا کہ یہ حضرت بلاضرورت ادھر ادھر دیکھ رہے تھے ۔ میں سمجھ گیا کہ ضرور کچھ دال میں کالا ہے بس نگاہ میں رکھا اور یوں چوری پکڑی گئی ۔ "ہر فرعو نے راموسی ۔" سعید نے فلسفیانہ انداز میں کہا ۔
حامد ۔ یقینا ! میں اس فرعون کے لئے موسی بنوں گا ۔ اب تم ذرا سیر دیکھتے جا ؤ ۔
اتنے میں لوگ کھاپی چکے ۔ ایک صاحب نے اٹھکر میزبان صاحب کی شان میں نثر میں ایک قصیدہ فرمایا ، ایک صاحب نے حسب حال نظم عطا فرمائی ، پھر میزبان صاحب نے حاضرین باتمکین کا شکریہ نہایت اچھے اور میٹھے بولوں میں ادافرمایا ۔ لوگ اٹھ کھڑے ہوئے اور چلنے لگے ۔ اسی وقت حامد نے پکا کر کہا
حامد: میں کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ سب صاحبان ایک دومنٹ کے لئے تشریف رکھیں ۔
لوگ اپنی اپنی جگہ پربیٹھ گئے ۔ حامد نے کہنا شروع کیا ۔

128
حامد: سب سے پہلے میں محترم میزبان صاحب کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ایسی اچھی ٹی پارٹی دیکر ایک پنتھ دو کاج کیے۔ یعنی ہمارا پیٹ بھی بھرا اور بہ یک وقت ہمیں اپنے بیشتر احباب سے ملا بھی دیا ، اور پھردعا کرتا ہوں کہ اللہ پاک اپنی قدرت کاملہ سے میزبان صاحب کے دل میں یہ بات ڈال دے کہ وہ اکثرایسی پارٹیاں دیا کریں ، اور اس کے بعد یہ عرض کرتا ہوں کہ اگر معزز حاضرین پا نچ منٹ مجھے اور دے سکیں تو میں ایک شعبدہ دکھاؤں ۔
یہ کہکر حامد چپکا ہو گیا ۔ ہرطرف سے آوازیں آئیں "ضرور ضرور ، شعبدہ ضرور دکھایئے ۔" میزبان صاحب نے بھی ہنس کر کہا " آپ کی بڑی نوازش ہوگی آپ شعبدہ ضرور دکھائیے "۔
حامد نے " بہتر " کہہ کر ایک چمچہ (چاندی کا ) اٹھایا اور ہاتھ اونچا کر کے کہا کہ " دیکھتے حضرات ! یہ ایک چمچہ ہے ، جی ہاں چمچہ ، معمولی چمچہ۔ چاندی کا سہی ۔ خیر اب دیکھئے ۔ اسے میں یوں اپنے کوٹ کی جیب میں رکھ لیتا ہوں اے دیکھئے اندر کی جیب میں ، اے لیجے یوں ، اور اب دیکھئے میں کوٹ کے بٹن لگا لیتا ہوں ۔ اے یوں ۔ اوراب میں جاتا ہوں ۔ آداب عرض ہے ارے یہ ہمارے میزبان صاحب تو ناراض ہی ہو گئے ۔ بس معلوم ہوا کہ جیسے آپ ما شاء اللہ لحیم و شحیم ہیں ویسا آپ کا دل نہیں۔ بھلا یہ بھی کوئی بات
 

مومن فرحین

لائبریرین
129

ہے ۔ اتنی لمبی چوڑی ٹی پارٹی تو دیدی مگر روپے سوارو پے کے چمچے کے لے دل میلا کیا ۔ لیجئے حضرت آپ پریشان نہ ہوں میں آپ کا چمچہ دیئے دیتا ہوں یہ کہکر میزبان کے پاس پہنچا اور کہنے لگا " معاف کیجئے گا مجھے آپ ہی پر شبہہ ہے ۔ ذرا اپنی جیبیں ٹٹول لینے دیجئے ۔" حامد جیبیں ٹٹولتا رہا اور میزبان کھڑے مسکراتے رہے ۔ جانتے تھے کہ شعبدہ باز اسی قسم کی باتیں اور حرکتیں کیا کرتے ہیں ۔ میزبان کے پاس سے چمچہ نہ نکلا تو حا مد نے ہاتھ جوڑ کر کہا ” معاف کیجئے حضرات ! میں پیشہ ور شعبدہ باز نہیں ہوں ، اسی لئے اکثر غلطیاں ہو جاتی ہیں ۔ اچھا حضرت اب کے غلطی نہ ہوگی ۔" یہ کہکر دوسری میز پر پہنچا ۔ وہاں ایک صاحب کی جامہ تلاشی لی ۔ مگر چمچہ وہاں سے بھی برآمد نہ ہوا تو سرکھجانے لگا ۔ کچھ سوچتا رہا ، پھر ایک دم سے ایک اور میز پہنچا ۔ اسی پر جہاں اصلی چور صاحب براجمان تھے ۔ لوگ ہنس رہے تھے ۔ مگر وہ چور صاحب سہمے ہوئے سے تھے ۔ حامد نے ان سے بھی کہا کہ ذرا اپنی جیبیں دکھائیے ۔ ان کی جان میں جان آئی سمجھے کہ یہاں سے چمچہ برآمد نہ ہو سکے گا ۔ چنانچہ ہوا بھی یہی ۔ لوگوں نے آوازے کسنے شروع کئے ۔ "حضرت جو کچھ سیکھا سکھایا تھا سب بھول گئے اب پھر کے سے جاکر سیکھئے " معلوم ہوتا تھا حامد پر گھڑوں پانی پڑ گیا کبھی کچھ انگلیوں پرگنتا ۔ کبھی آنکھیں بند کر کے سوچنے لگتا ۔ آخر گردن ہلا کر

130
کہنے لگا ۔
” میرا حساب غلط نہیں ہو سکتا۔ چمچہ یہیں ہے ، میں نے ساری جیبیں دیکھ ڈالیں ، چمچہ نہ ملا مگر ہے ان ہی صاحب کے پاس ۔ دیکھئے حضرت برا نہ مانے گا۔ میری عزت پر حرف آرہا ہے ممکن ہے مجھے آپ کی پتلون تک اتروانی پڑے ، خیربوٹ سے شروع کرتا ہوں ۔ ذرا آپ مہربانی کر کے اپنا بایاں پاؤں میز پر رکھ لیجئے ۔ گھبرائیے نہیں ۔ لایئے پاؤں لائیے " ۔
وہ صاحب در حقیقت گھبرا گئے اور ذرا جھلا کر کہنے لگے ۔
"جا ئیے جا ئیے اپنا کام کیجئے ۔"
لوگوں نے کہنا شروع کیا " اجی حضرت ! دکھا دیجئے نا ، ہرج ہی کیا ہے۔ چمچہ نکلے گا ضرور کسی نہ کسی کے پاس سے ۔"
بڑی مشکل سے وہ صاحب راضی ہوئے ۔ پاؤں میز پر رکھا ۔ لوگ بڑے اشتیاق سے دیکھ رہے تھے ۔ ایک پر ایک ٹوٹا پڑتا تھا ۔ بوٹ کے تسمے حامد نے اپنے ہاتھ سے کھولے۔ چمچہ نہ نکلا ۔ دوسرے پاؤں کے بوٹ کے تسمے کھولے چمچہ برآمد ہو گیا ۔ واه وا ! اسبحان اللہ کا غل مچ گیا ۔ کسی نے کہا کمال کر دیا ۔ کسی نے کہا ہمزاد تابع ہے ، حامد
 

مومن فرحین

لائبریرین
131
دونوں ہاتھوں سے سلام کرتا ہوا نکل گیا ۔ میں اور سعید بھی چپ چاپ کھسک گئے ۔ چور صاحب قہر کی نگاہوں سے دیکھ رہے تھے مگر بے بس تھے ۔ جانتے تھے کہ مجھ پر ترپ لگا گیا ۔ اور لوگوں کی آنکھوں میں دھول ڈال کر چمچہ صاف اڑا لے گیا ۔ مگر اصل حال نہ بتا سکتے تھے ۔ دل ہی دل میں کہہ رہے تھے
ہم تو مرشد تھے تم ولی نکلے​

132
انجمن خدام ادب
133


انجمن خدام ادب​
راجہ صاحب : کیا بکتا ہے بے وقوت ؟
ملازم: حضور کوئی پندرہ میں آدمی ڈیوڑھی پر کھڑے ہیں ۔
راجہ صاحب : آدمی ، کیسے آدمی ؟
ملازم : ہاں حضور آدمی ہیں ۔
راجہ صاحب :۔ ابے نامعقول کیسے آدمی ہیں ؟
ملازم: ۔ اب کیا بتاؤں حضور! آدمی ہیں جیسے آدمی ہوتے ہیں ۔
راجہ صاحب: نالائق ۔ جا سرفراز علی خاں کو بلا کے لا ۔
سرفراز علی خاں راجہ صاحب کے سیکریٹری تھے ۔ انہیں محل ہی میں دو عالی شان کمرے ملے ہوئے تھے ۔ راجہ صاحب کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا۔
راجہ صاحب : سکتر صاحب ! دیکھے تویہ باہر کون لوگ
کھڑے ہیں ۔ کیا علاقے میں کچھ بدنظمی ہے ؟

134
سکریٹری : نہیں حضور بدنظمی تو کچھ نہیں ۔ میں ابھی جاکر دریافت کرتا ہوں ۔
تھوڑی دیر کے بعد سکریٹری صاحب واپس آئے اور کہا ۔
سکریٹری : حضور! بیس بائیس اجلے پوش آدمی ڈیوڑھی پر کھڑے ہیں بعض تو رئیس معلوم ہوتے ہیں۔ حضور کے سلام کو حاضر ہوئے ہیں اجازت ہو تو بلا لاؤوں ۔
راجہ صاحب :۔ ( حیران ہو کر ) بیس بائیس آدمی سلام کو آئے ہیں ؟ یہ مصیبت کیا ہے ۔ بھائی جاکے پوچھو تو سہی بات کیا ہے ؟
سکریٹری: حضور میں نے پوچھا تھا کہ کیا کام ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ راجہ صاحب سے کچھ ضروری باتیں گزارش کرنی ہیں ۔
راجہ صاحب : ۔ تو ایک یا دو آدمیوں کو بلا لاؤ ۔ سکریٹری : میں نے یہی بات ان سے کہی تھی مگر وہ کہتے ہیں کہ ہم سب ساتھ جائینگے ۔
راجہ صاحب: ڈر پوک آدمی نہیں تھے ۔ جوانی میں تو ان کے کس بل کی دھاک تھی ۔ ڈھائی من کی جوڑی ہلاتے تھے ۔ روزانہ تین میل ایک سانس میں بھاگتے تھے ، بڑاخو بصورت اور کسرتی بدن تھا ۔ جسے کھانے پینے کی کمی نہ ہو ، بے فکری ہو اور کسرت کا شوق ہو اس کے بدن کا کیا ٹھکانا ہے جیوٹ بھی ایسے تھے کہ
اکثر علاقے میں بلو د ہو گیا ہے ، لکڑی چل رہی ہے

135

آپ بھی کہیں اتفاق سے سیر کرتے کرتے پہنچ گئے پاس کوئی ہتھیار تو در کنار لکڑی تک نہیں ۔ مگر گاڑی سے چھلانگ ماربھیڑ میں ایسے گھسے جیسے توپ کا گولہ وہیں کسی سے لکڑی چھینی اور پھر جو ہاتھ دکھانے شروع کئے ہیں تو کائی سی پھاڑ دی ۔ اس پچپن برس کی عمر میں بھی تیر کی طرح سدھ تھے ، کیا مجال جو کمر میں ذرا بھی خم آ یا ہو ۔ہاں گوشت تو ذرا لٹک گیا تھا مگر تھے اب بھی تگڑے ۔ غرض را جہ صاحب بزدل نہیں تھے مگرایکا ایکی بیس بائیس آدمیوں کا آنا سن کر اور وہ بھی اجلے پوشوں کا، سٹ پٹا ضرور گئے اور کہنے لگے ۔
راجہ صاحب : ارے میاں کہیں کانگریس کے آدمی تو نہیں ہیں ؟
سکریٹری : حضور معلوم نہیں ۔ شکل سے تو کچھ بوڑم ہی سے معلوم ہوتے ہیں
راجہ صاحب : ۔ اجی یہ کانگریس والے بڑے افعی ہوتے ہیں شکل سے تو بوڑم ہی معلوم ہوتے ہیں ۔ مگر ان سے اللہ ہی بچائے ۔ اچھا تم بلاؤ توسہی راجہ صاحب کے ہاں کرسیوں کی کیا کمی تھی ۔ ایک اشارے میں تمیں کرسیاں آگئیں ۔
راجہ صاحب بھی دم سادھ کر بیٹھ گئے ۔ وہ لوگ آے خوب جھک جھک کر سلام کئے ۔ راجہ صاحب نے کہا بیٹھئے ۔ تشریت رکھئے ۔
اب ذرا ملاحظہ ہو ۔ کرسیوں پر بیٹھے بیٹھے راجہ صاحب کا منہ تک رہے ہیں ، مسکوڑے لے رہے ہیں ، پہلو بدل رہے ہیں مگر منہ سے کوئی نہیں
 
آخری تدوین:
101
علم و ادب کو فروخت کرنا ہوا۔“
میاں: ”اب تم بھی لگیں نامعقولوں کی سی باتیں کرنے۔ لوگ تو اصل میں حسد کرتے ہیں۔ جلے مرتے ہیں کہ ہائے یہ نوکری الگ کرتا ہے اور یوں شاعری سے الگ پیسے بٹورتا ہے۔ کیوں جی میں پوچھتا ہوں وہ جو اس دن تمہاری سہیلی آئی تھیں کیا نام ذکیہ جن سے تم نے پوچھا تھا کہ تمہارے میاں کیا کرتے ہیں اور انہوں نے جواب دیا تھا کہ ناظر ہیں۔ پھر تم نے پوچھا تھا کہ تنخواہ کیا ملتی ہے انہوں نے کہا تھا کہ پینسٹھ روپے ملتے ہیں۔ پھر تم نے پوچھا تھا کہ کچھ اوپر سے بھی ہو جاتا ہے انہوں نے کہا تھا کہ ہاں بوا اللہ کا فضل ہے تو تم نے کہا تھا کہ شکر ہے۔ تو یہ ”اوپر کی کمائی“ تو بڑی اچھی ہوئی۔ ایسی کہ اسے اللہ کا فضل کہا گیا۔ اور ہم شاعر لوگ کسی کی جیب نہیں کاٹتے، کسی بے گناہ کو جیل میں نہیں سٹراتے، کسی سے زبردستی کچھ نہیں چھینتے تو یہ مجرا بری کمائی ہوئی۔ سبحان اللہ
بیوی: اب میں کیا جانوں۔ لوگ کہتے ہیں اور نام دھرتے ہیں۔
میاں: وہ لوگ تو احمق ہیں۔ میں تم سے پوچھتا ہوں کہ اگر شاعر سفر کی صعوبتیں اُٹھا کر مشاعروں میں جاتا ہے، راتوں کو پانچ پانچ بجے تک جاگتا ہے اور بندھا بیٹھا رہتا ہے کیا مجال کہ ذرا لیٹ کر کمر تو سیدھی کر سکے، پھر گلا پھاڑتا ہے تو وہ کسی کے باپ کا نوکر ہے کہ کرایہ بھی اپنی گرہ سے خرچ کر کے جائے اور
102
لوگوں کو خوش کر کے خیر سے اپنے گھر آ جائے۔ اور میں تم سے پوچھنا ہوں یہ جو وکیل مقدسے کرتے ہیں اور فیس لیتے ہیں۔ یہ معاوضہ نہیں تو کیا بلا ہے؟ یہ اپنی علم کو چاہیں تو کیا ہے۔ مفت مقدمے کیا کریں۔ بیوی بچے کا گلا گھونٹ دیں۔ اسی طرح مدرسوں کے ماسٹر، کالجوں کے پروفیسر، دفتروں کے بابو اور عہدے دار غرض سب ہی اپنے علم کو بیچتے ہیں۔ علم اُسے کہتے ہیں جسے سب نہ جانتے ہوں اور جو محنت کرنے کے بعد حاصل ہو۔ شاعری بھی علم ہے۔ یہ بھی محنت کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ اس سے پرخاش کیوں ہے؟ اور ہاں یہ جو ریڈیو پر جا کر تقریر کرتے ہیں اور پچاس پچاس روپے لے آتے ہیں۔ یہ کیا چیز ہے۔ یہ شیر مادر ہے نا؟
بیوی: ہاں یہ باتیں تو بالکل ٹھیک ہیں مگر دنیا کو کیا کِیا جائے۔
میاں: دنیا کون سی دنیا؟ مکّار اور خود غرض دنیا! ذرا دیکھا کہ ارے یہ تو مشہور ہو رہا ہے، پیسے الگ آ رہے ہیں، شہرت الگ ہو رہی ہے۔ جہاں جاتا ہے موٹروں میں سیر کرتا ہے، خاطر تواضع ہوتی ہے بس یہ چنیا جل مری۔ آگ لگ گئی تن بدن میں۔ دنیا آئی ہے کہیں کی۔ میرا جی چاہتا ہے کہ ایک کتاب لکھوں اور اس نامعقول اور ناہنجار دنیا کے بخئے اُدھیڑ کر رکھ دوں۔ اور انشاء اللہ یہ کر کے رہوں گا۔ میرے دماغ میں مسالہ ہے بہت کچھ۔
بیوی: اچھا تم کرایہ لے لیا کرو۔ اور اوپر سے کچھ نہ لیا کرو۔ پھر تمہیں کوئی کچھ
103
نہ کہے گا ہمیں اوروں سے کیا مطلب ہم سے اپنے میاں کی برائی نہیں سُنی جاتی۔
میاں: مرحبا! جزاک اللہ تم نے بیوی یہ دو بول کہہ کے میرا دل ہاتھ بھر کا کر دیا۔ اب میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ میں یہاں اپنے شہر میں تو جہاں بھی مشاعرہ ہوتا ہے چاہے کتنی دور کیوں نہ ہو، ایک پیسی تک نہیں لیتا۔ تانگے کا کرایہ بھی نہیں لیتا اور اکثر ایسا ہوا ہے کہ رات کو چار بجے تانگہ نہ ملنے کی وجہ سے جوتیاں چٹختا پیدل لڑھکتا ہوا گھر آیا ہوں۔ اب رہے باہر کے مشاعرے تو یہ میں نے اپنا اصول بنا رکھا ہے کہ جہاں کالج یا اسکول کے لڑکے مشاعرہ کرتے ہیں یا پبلک ہی مشاعرہ کرتی ہے اور بلاتی ہے مگر چندہ کر کے کافی رقم اکٹھی نہیں کی جاتی، بس پان سگریٹ شامیانہ وغیرہ کے سو پچاس روپے جمع کر لئے جاتے ہیں یا اتنی رقم جو شاعروں کو آنے جانے کے کرائے کے نام سے دی جا سکے تو وہاں میں فقط کرایہ ہی لیتا ہوں۔ کہیں سے اِنٹر کا اور کہیں سے تھرڈ کا، کیونکہ میں اتنی ہمدردی نہیں کر سکتا کہ اپنا کرایہ بھی خرچ کروں اور سفر کی تکلیف بھی اُٹھاؤں اور جا کر وہاں کی پبلک کو خوش کر آؤں۔ ہاں جہاں معلوم ہو جاتا ہے کہ شہر میں سے چندہ الگ جمع کیا ہے، ٹکٹ الگ لگا رکھا ہے وہاں میں اپنا فرض مقدس سمجھتا ہوں کہ لوں اور ضرور لوں۔ اس کے کیا معنی کہ دو ہزار چندے کے جمع کئے اور شاعروں کو
104
کرایہ کے نام سے چھ سو روپے دیئے باقی چودہ سو آپ کھا گئے۔ کیوں کھا گئے؟ مشاعرے کے نام سے چندہ کیا ہے، ٹکٹ لگایا ہے تو مشاعرے ہی میں خرچ کرو۔ یا کھاؤ بھی تو مل بانٹ کے یعنی کچھ شاعروں کو دو۔ کچھ آپ بھی کھا لو!
بیوی: خیر تم جانو۔ اب میں اور کیا کہہ سکتی ہوں۔ میرے اپنے عزیر تمہیں برا کہتے ہیں تو مجھے رنج ہوتا ہے۔
میاں: یوں تو تمہاری زبان ایسی چلتی ہے قینچی کی طرح سے کہ بھنگن آئی تو اس کی ٹانگ لی۔ پاخانہ نہیں دھویا، کل دو وقتی کو نہیں آئی۔ یہ نہیں کیا۔ وہ نہیں کیا۔ اتنے میں دھوبن آ گئی تو اس کے پیچھے پڑ گئیں۔ اس غریب کے ارمان ابھی درست نہیں ہوئے، کپڑوں کا گٹھڑ سر سے پھینکا ہے، زور زور سے سانس لے رہی ہے، دھونکی بنی ہوئی ہے اور آپ ہیں کہ پنجے جھاڑ کے۔۔۔
بیوی: (جلدی سے) اب بس بھی کرؤ گے یا نہیں۔ یہ تو میں جانتی ہوں کہ افسانہ نگار بھی ہو، شاعر بھی۔ بھلا تمہارے پاس الفاظ اور مضمون کی کیا کمی۔۔۔
میاں: تو تم اپنے ان عزیزوں کے سامنے منہ میں گنگنیاں کیوں بھر لیتی ہو، ڈر لگتا ہے، پھانسی دیدیں گے؟ میرے منہ پر کوئی کچھ کہدے تو ترکی بہ ترکی سُنے اور یوں پیٹھ پیچھے تو بادشاہ کو بھی برا کہتے ہیں اور حقیقت تو یہ ہے کہ میں تو فقط اللہ پاک سے ڈرتا ہوں اور ہمیشہ ضمیر کے کہنے پر چلتا ہوں۔
105
اور ہر ایک شخص کو بالکل صحیح راستے پر لاتا ہے۔ بشرطیکہ آدمی اس کے کہنے پر چلے تو پھر جب میں کسی کے کہنے سُننے کی کیوں پرواہ کروں۔ راستے چلتے میں آدمی کے گھوڑے سے بھی ہنہناتے ہوئے ملتے ہیں، کتے بھی بھونکتے ہوئے اور بکرے اور گدھے اور خدا جانے کیا کیا جانور اپنی اپنی بولیاں بولتے ہوئے ملتے ہیں۔ مگر آدمی گزرا چلا جاتا ہے۔
اچھا بیوی! آج تمہاری باتوں سے ہم بہت خوش ہوئے۔ تم ہماری سچّی رفیق ہو، ہمدرد ہو، غمگسار ہو، جیتی رہو، خوش رہو۔ بس اب جاؤ، مجھے طرحی غزل کہنی ہے۔ وقت ہے نہیں۔ کل تو روانہ ہونا ہی ہے۔ آج نہ لکھی تو بس بے طرحی ہی رہے۔ خیر بات تو کچھ نہیں مگر تھوڑی سی سبکی ہونی ہے کہ لو صاحب طرح میں غزل نہیں لکھی گئی۔ اب حیلے حوالے کر رہے ہیں۔ تو بس اب جاؤ آرام کرو۔
106

شاہ بڑا​

107
خدا رکھے دِلّی کو بائیس خواجہ کی چوکھٹ کہلاتی ہے جس کے معنی بجا طور پر یہ لئے جاتے ہیں کہ اس پر ارواحِ مقدّسہ کا سایہ ہے اور ان کے روحانی فیوض و برکات کی بدولت یہاں ہمیشہ امن و امان اور چین چان رہتا ہو گا۔ مگر تاریخ کے اوراق شاہد ہیں کہ اس غریب دِلّی نے کیسی کیسی مُصیبتیں جھیلیں، کِن کِن آفتوں میں پھنسی، زمانے نے اسے کس کس طرح رگڑا اور پھر ہمیں وہی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ تباہی کے بعد یہ چھل چھلا کر کی کیسی نکل آئی اور کس آن بان سے چمکی۔ حقیقتاً یہ ہے روحانی فیض ارواحِ مقدّسہ کا۔ وہی دِلّی جو غدر ۱۸۵۷ء میں اجڑ چکی تھی آج اپنے اندر بارہ لاکھ نفوس کی آبادی رکھتی ہے۔ اور نئی دہلی تو عجوبۂ روزگار ہے جس میں بے شمار بڑی بڑی عمارتیں، سرکاری دفاتر، ریڈیو کے دفتر اور اسسٹوڈیو، کونسل چیمبر، سکریٹریٹ، راجہ مہاراجہ اور نوابوں کے محلّات، کناٹ پلیس وغیرہ ہیں۔ ان کے علاوہ یہ شہر بسا ہوا اور بنا ہوا کچھ ایسے قرینے اور ٹھکانے سے ہے کہ دیکھ کر جی خوش ہوتا ہے۔ جو لوگ
108
دور دور سے آتے ہیں، ان کی بھی کی رائے ہے کہ گو یورپ اور امریکہ میں بڑے بڑے شہر بہر ہیں جن میں سر بفلک عمارات میں بڑی خوبصورت خوبصورت اور سو منزلوں کی مگر جس خوبصورتی کے ساتھ یہ نیا شہر بنایا گیا ہے کہ سب یک منزلہ مکان یکساں عمارتیں، جگہ جگہ گھاس کے خوشنما پلاٹ، ہر جگہ خوبصورتی، خوشنمائی اور یکسانیت اس طرز کا کوئی دوسرا شہر نہیں ہے۔ بہر حال کہنا یہ تھا کہ نئی دِلّی تو اب بنی ہے لیکن پرانی دِلّی میں وہ وہ عجائبات موجود ہیں جنہیں دُور دُور کے سیّاح اور اسکالر دِنوں نہیں مہینوں دیکھتے ہیں اور اپنے علم میں اضافہ کر کے جاتے ہیں۔ مجھے یہاں دِلّی کی عمارتوں، کھنڈروں، مقبروں، مسجدوں، تہہ خانوں وغیرہ سے بحث نہیں کرنی ہے۔ مجھے تو آج کی صحبت میں دِلّی کی ایک یادگار ایک پرانی چیز ”شاہ بڑا“ کی ہلکی سی جھلک دکھانی ہے۔
دِلّی میں یہ بات بالکل عام ہے کہ جہاں یار دوستوں میں بیٹھ کر کسی نے زمین آسمان کے قلابے ملانے شروع کئے یا بے پر کی اُڑانی شروع کی تو ساتھ والے کہہ اُٹھتے ہیں کہ ”لو بھئی اب یہ شاہ بڑے کی اُڑا رہا ہے۔“ یہ شاہ بڑا کیا چیز ہے؟ یہی بات اختصار کے ساتھ بتاتا ہوں۔ جامع مسجد سے مشرق کی طرف سیدھے چلے جائیے۔ فصیل شاہی کے کنگورے نظر آئیں گے۔ وہیں آپ کو ایک چوڑا سا زینہ نیچے اُترتا دکھائی دے گا۔
109
یہ راج گھاٹ کہلاتا ہے۔ آپ اس زینہ پر سے اُتر کر چلیے۔ بس سامنے آپ کے بیلا روژ ہو گی اور اس کے دوسرے کنارے پر بہت سے درختوں کو ہرا بھرا جھنڈ دکھائی دے گا۔ یہی شاہ بڑا ہے؟ برسات میں اب بھی دریا کا پانی شاہ بڑے تک آ جاتا ہے۔ مگر جاڑوں اور گرمیوں میں دُور رہتا ہے۔ کوئی سو گز دُور۔ اوّل تو اس زمانے میں دریائے جمنا میں سے دو بڑی بڑی نہریں نکالی گئی ہیں جو ہر وقت اس دریا کو جونک کی طرح چوستی رہتی ہیں دو دو واٹر ورکس ہیں۔ بارہ لاکھ آردمیوں کے لیے اور درختوں اور گراس پلاٹس (گھاس کے قطعات) کے لیے کِس قدر پانی کی ضرورت ہے۔ ذرا خیال تو کیجیے اور پھر سب سے بڑی بات یہ کہ ۱۹۲۵ء کے سیلابِ عظیم کے بعد سرکار نے شاہ بڑے کے قریب ایک پشتہ بنوایا ہے جس سے ٹکرا کر پانی پرے ہی پرے چلا جاتا ہے۔ اس طرف نہیں آتا۔ ورنہ ہر برسات میں ہم دیکھا کرتے تھے کہ بیلا روڈ پر بھی گھٹنوں گھٹنوں پانی ہو جاتا تھا۔ یمارے ہوش کی بات ہے کہ ہم نے اب سے چالیس بیالیس برس پہلے برسات میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ فصیل تک پانی ہے اور اتنا ہے کہ فصیل کے کنگوروں پر سے تیراک کود رہے ہیں اور تیراکی کا میلہ ہو رہا ہے۔ اب ان دونوں نہروں اور پُشتے کی وجہ سے برساتوں میں بھی پانی فصیل تک نہیں دیکھا گیا۔ ذرا اُس زمانے کا اندازہ کیجئے جب نہ یہ نہریں تھیں نہ پشتہ، پانی فصیل تک ہے
110
قلعہ کاشمن برج عیں دریا کے کنارے ہے جس میں سے زینہ اُتر کر پانی تک گیا ہے۔ بجرے اور کشتیاں بُرج کے نیچے لگی ہوئی ہیں۔ شہزادے، شہزادیاں اُتر کر آتی ہیں، کشتوں پر بیٹھتی ہیں، سیر کرتی ہیں۔ کشتیاں دُلہن بنی ہوئی ہیں۔ بادشاہ سلامت بُرجوں میں ہیں تو اور دیوانِ خاص میں ہیں تو سیر کر رہے ہیں۔ الہٰی وہ کیسے دن ہوں گے اور کیسی راتیں ہوں گی۔ کیا تھا اور کیا ہو گیا۔؎
زمین چمن گُل كھلاتی ہے کیا کیا
بدلتا ہے رنگ آسماں کیسے کیسے
جو صاحبِ تخت و تاج تھے ان کی اولاد پریشان حال پھرتی ہے۔ وَتُعِزُّ مَن تَشَاءُ وَتُذِلُّ مَن تَشَاءُ۔
ہاں تو ذکر شاہ بڑے کا ہو رہا تھا۔ جائے وقوع تو آپ سمجھ گئے ہوں گے۔ ہرے ہرے درختوں کا ایک بڑا سا جھنڈ ہے۔ یہ درخت ہر موسم میں سر سبز رہتے ہیں۔ سڑک سے کوئی تیس چالیس قدم کے فاصلے پر ہے۔ آپ وہاں جائیے تو معلوم ہو گا کہ اچھا خاصا وسیع رقبہ گھیر رکھا ہے۔ تقریباً چالیس گز لمبا اور اسی قدر چوڑا مقام ہے۔ درختوں کے اندر چھپا ہوا، اندر کوئی ڈیڑھ گز اونچے چبوترے پر شاہ بڑے صاحب کا مزارِ مبارک ہے۔ یہ کون بزرگ تھے؟ یہ مزار کب بنا؟ افسوس ہے کہ مجھے اس کی نسبت کچھ معلوم نہ ہو سکا۔
111
تلاش اور جستجو کی جائے تو آپ کے حالات معلوم ہو ضرور سکتے ہیں۔ ہاں یہ بات عام طور پر مشہور ہے کہ آپ نے مسواک کرنے کے بعد جو پھینکی تو اللہ کی قدرت سے اس نے جڑ پکڑ لی اور جو یہ پیلو کا درخت موجود ہے، یہ وہی ہے جو اس مسواک سے اُگا تھا۔ تعجب اور حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ تمام کا تمام جھنڈ جو دُڈور سے کیا بالکل قریب سے بھی ایسا معلوم ہوتا ہے کہ میری بیس پچیس درختوں کا مجموعہ ہے، حقیقت میں ایک ہی درخت ہے۔ آپ اندر جائیے تو آپ کو اصل درخت کی جڑ دکھائی دے گی۔ اور وہاں سے آپ کو برابر نشانات ملیں گے کہ یہ شاخ یوں زمین میں گئی اور یوں وہاں سے نکلی، یوں پھیلی اور پھر آگے گئی۔ غرض آپ کو جگہ جگہ موٹی موٹی شاخیں زمین کے اندر گئی ہوئی معلوم ہوں گی۔ ایسی موٹی جن کا قُطر ایک ایک ڈیڑھ ڈیڑھ فٹ کا ہے۔ بعض اُنگلی سے بھی پتلی شاخیں زمین کے اندر جانے کی کوشش کرتی ہوئی معلوم ہوں گی۔ یہی بتلی پتلی شاخیں جو آج بعض انچ دو انچ زمین میں گھس گئی ہیں اور بعض نے سر ٹکایا ہی ہے کسی زمانے میں موٹے موتے گدّے اور تنے بن جائیں گی جیسی ان کی بڑی بہنیں اب ہیں۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ بڑے موٹے موٹے اژدھے لمبے لمبے پڑے ہوئے ہیں۔ بعض کُنڈلی مارے اور بعض آڑے ترچھے بعض سیدھے۔ ان ہی اژدھوں کی پیٹھ پر لوگ بیٹھتے ہیں۔ یہی ان کی کرسیاں ہیں، یہی ،مونڈھے، یہی بنچیں ہیں۔ اب آج کل بھی آپ سہ پہر کو ٹھنڈے
112
وقت جائیے تو آپ دیکھیں گے کہ کچھ لوگ درخت کی موٹی موٹی شاخوں پر بیٹھے ہیں اور لچھ زمین پر کپڑا، چادر یا سیتل پاٹی بچھائے تاش کھیل رہے ہیں۔ کہیں پچیسی ہو رہی ہے۔ کہیں کوئی بزرگ صورت سفید ریش بیٹھے بڑی متانت سے کوئی قصّہ فرما رہے ہیں سر تا پا بڑ۔ پہلے زمانے کی بات تو اب کہاں جب بڑے زوروں پر بھنگ، چرس، چانڈو، افیم اُڑا کرتی تھی۔ مگر باقیات الصّالحات اب بھی ہے۔ اب بھی آپ چلے جائیں تو دو گھڑی دل بہل ہی جائے۔ میں وہاں گیا تو کئی دفعہ ہوں لیکن اکثر صبح کے وقت جانے کا اتفاق ہوا۔ جب سوائے دو ایک فقیروں کے اور کوئی نظر نہیں آیا۔ ہاں ایک دفوہ پانچ بجے شام کو بھی جانے کا موقع ملا۔ اب اسے اتفاق کہیے یا خوبی تقدیر کہ خدا نے مراد پوری کر دی سے اور کچھ نہ کچھ سنوا ہی دیا۔ ایک بزرگ صورت بڑی متانت سے کچھ فوما رہے تھے۔ دس بارہ آدمی پاس بیٹھے بڑے غور و اشتياق سے سن رہے تھے۔ کچھ حالاتِ حاضرہ پر تبصرہ تھا۔ آپ بھی سنئے۔
ایک شخص: ”تو چچا! یہ جاپان کے پاس گولہ بارور بہت ہے؟
بزرگ: ”بیٹا! گولہ بارود بھی بہت ہے اور آدمی بھی اس کے پاس ایسے جائیا اور جانہار ہیں کہ اپنے بل بوتے سے بڑھ کر کام کرتے ہیں۔ یوں سمجھو کہ بم کا گولہ دس پندرہ سیر کا ہوتا ہے۔ جاپانیوں کا ایک آدمی دو گولے کندھے پر رکھ کر ایک اس کندھے پر ایک اُس کندھے پر
113
اور جو ہوائی جہاز سے اُترا ہے تو سنگل پور کے دریا میں وہ جو انگریزوں کا بڑا سا جہاز کھڑا تھا نا، بس وسکی وہ جولاٹ ہوئی سے جو میں سے دھواں نکلا کرتا ہے بس اس دھوئیں میں گر گھُس گیا اور نیچے اُتر کے چُپ چاپ زینے میں سے ہوتا ہوا دھر نیچے پہنچ گیا۔ وہاں وس نے وہ دونوں گولے رکھ کر جو دیا سلائی جلائی ہے تو بس یوں سمجھ کر چھوٹہ قیامت ہی تو آ گئی۔“
دوسرا شخص: (جلدی سے) ”دیکھا بے او اشاق (اسحٰق) اسے کہتے ہیں جی داری۔ واہ بے جاپانی واہ۔ تیرے کئے کونے (کیا کہنے) “
تیسرا: ”تو چچا! وہ تو بھلا کاہے کو بچا ہو گا۔“
بزرگ: ”میاں وہ تو جہاز کا جہاز ہی ایسا بیٹھا جس طریو پانی میں بتاشہ بیٹھتا ہے ایک کہی نہ دو بس ڈوبتا چلا گیا۔ اور وِس جاپانی کی کیا پوچھتے ہو؟ وس کے تو پرخچے ہی اُڑ گئے۔ “
اسحٰق: ”ایک یہ ہمارے خلیفہ میّن بیٹھے ہیں جیسے پولا مارا گلدم۔ بس ڈنڈ قبضے دیکھ لو۔ اتنے بڑے ڈیل ڈول میں کوئی آدھی چھٹانک کا دِل ہو گا۔“
خلیفہ میّن: ”کیوں بے نہیں مانا۔ بتاؤں تجھے آن کے۔ گیہوں کی مِل رہی ہو گی؟“
اسحٰق: (خم ٹھونک کر) ”یار خاں کو کچھ کم سمجھ رکھا ہے بے۔“
”تیری۔۔۔۔۔ “ کہہ کے خلیفہ میّن اسحٰق کی طرف لپکے اور اب دونوں
114
میں دھینگامشتی ہونے لگی۔ منہ سے پھول جھڑتے جاتے تھے۔ خیر لوگوں نے بیچ بچاؤ کرا دیا۔ کچھ نشہ پانی ہوا۔ پھر باتیں ہونے لگیں۔
ایک صاحب: ”تو چچا! یہ جاپانی ایسے جیوٹ ہوتے ہیں۔ اور ہم نے تو سۃنا ہے کہ جرمن ان کا بھی ابّا ہے۔ وِس کے پاس نہ جانے کیسے کیسے محازے موجود ہیں۔“
دوسرے صاحب: ”اور ویسے تو ہماری سرکاری بھی کیا کسی سے کچھ کم ہے۔ دو طرفی لڑ رہی ہے۔ ایک طرف تو اٹلی والوں کو رگید رگید کر جبل طاق کے ذخیرے میں دھکیل دیا ہے۔“
ایک: (جلدی سے) ”ابے ذخیرہ کاہے کا؟“
دوسرے: ”وہ جبل طاق کا ذخیرہ جو ہے جہاں کبھی ہماری حکومت تھی جس کے چو طرفہ پانی ہی پانی ہے۔“
ایک: ”ابے جنجیرہ کہہ جنجیرہ! اِتّا بھی نہیں جانتا۔“
دوسرا: ”بیٹا آج کل کی لڑائی تو علم کی لڑائی ہے۔ کَس بَل کچھ کام نہیں آتا۔ بس علم میں جو سوا ہوا وہی جیتا۔ اور علم کیا۔ ہم نے اپنے بزرگوں سے سُنا ہے کہ وہ جو کبھی پہلے افراسیاب اور امیر حمزہ طلسم ہوش ربا میں جنگ کیا کرتے تھے بس کسی طریو وہی جادو افراسیاب والا ان لوگوں کے پاس بھی آ گیا۔ ہوا میں اُڑے اُڑے پھرتے ہیں۔ ایک گولہ پھینکا تو ساری
115
زمین کو ہلا کر رکھ دیا۔“
ایک صاحب: ”چچا! یہ جاپان ہے کس طرف کو؟“
بزرگ: ”بھئی ہمیں پورا نقشہ تو وِس کا معلوم نہیں۔ پر اِتّا ضرور جانتے ہیں کہ ہے کہیں ہمالیہ پار، اور وِس کی حدودیں امری خا سے بھی ملتی ہیں۔ جب ہی تو ودھر سے امری خا دبائے چلا آ رِیا ہے اور اس جانبین سے ہماری سرکار بڑھی چلی جا رہی ہے۔“
دوسرے صاحب: اور چچا یہ جرمن کدھر کو ہوا؟“
بزرگ: ”یہ کابل افغانستان سے پرے پرے جرمن ہی جرمن ہے۔“
دوسرے صاحب: ”تو یہ تو پھر ہندوستان کے پاس ہی ہوا۔ پھر تو چچا بڑی مشکل کی بات ہوئی۔“
بزرگ: ”اجی جرن کا تو کچومر نکل گیا ہے۔ ہماری سرکار نے اٹلی تو لے ہی لیا۔ اب جرمن ہی پر دھاوا ہو گا۔“
یہ میں نے شاہ بڑے کی ذرا یوں ہی سی جھلک دکھائی ہے۔ اسی کوئی شک نہیں کہ موقعہ ہے بڑا اچھا۔ صبح کو ہوا خوری کے لئے وہاں جائیے تو دل خوش ہوتا ہے۔ پانی کے اوپر سے ہو کر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا آتی ہے۔ کیسی اچھی معلوم ہوتی ہے اور سامنے دریا کا نظارہ کیا بھلا
116
لگتا ہے۔ یہ مقام برسات کی تو جان ہے۔ جمنا کا پانی بالکل قریب آ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو ناؤ شاہ بڑے ہی پر ٹھیکی لیتی ہے۔
شاہ بڑے کے حالات معلوم کرنے کے سلسلے میں مجھے کئی دفعہ وہاں جانا پڑا۔ بڑے بڑے پرانے دُم گلوں سے بات چیت کرنے کا اتفاق ہوا۔ مگر کچھ کام کی باتیں معلوم نہ ہوئی جنہیں سند سمجھا جاتا۔ ہاں یہ معلوم ہوا کہ یہاں سال میں ایک دن عُرس بھی ہوتا ہے اور اکثر قوّالی بھی ہوتی رہتی ہے۔ اسی سلسلے میں یہ بھی معلوم ہوا کہ اسی بیلا روڈ پر جہاں مٹکاف ہاؤس کے پاس دریا کا پُشتہ بنا ہوا ہے، ذرا جھوت میں ایک مزار اور ہے۔ وہ شاہ اڑے صاحب ہیں۔ میں نے خود جا کر دیکھا۔ وہ بھی زیرِ درختان پیلو آسودہ ہیں۔ وہاں بھی عُرس ہوا کرتا ہے، قوّالیاں ہوتی ہیں، چادریں چڑھتی ہیں۔ دلّی کے پنجابی اِن شاہ اڑے صاحب کے بڑے معتقد ہیں۔ مزار پر دیگیں پکواتے ہیں۔ غربا کو کھانا کھلاتے ہیں، خیرات کرتے ہیں۔ قوّالی کرتے ہیں۔ یہ مزار بھی دریا کے کنارے ہی ہے۔ یہاں تو ہر برسات میں پانی آ جاتا ہے۔
اور سُنئے! اسی بیلا روڈ پر شاہ بڑے صاحب اور شاک اڑے صاحب کے مزارات کے بیچ میں ایک شاہ کھڑے صاحب اور ہیں۔ ان کا مزار
117
قدسیہ باغ کی شرقی حد پر باغ ہی میں بالکل بیلاروڈ کے کنارے واقع ہے۔ یہاں کے مجاور سے معلوم ہوا کہ یہاں بھی سال میں ایک دفعہ عرس ہوتا ہے۔ چادر چڑھائی جاتی ہے اور قوّالی ہوتی ہے۔ یہ تینوں مزارات بہت پرانے معلوم ہوتے ہیں۔ شاہ بڑے صاحب کے مزار کے متعلق میرا خیال ہے کم از کم تین سو برس کا ضرور ہو گا۔ اس لیے کہ پیلو کا درخت جو اس طرح سے زمین پر لیٹا ہوا اور زمین کے اندر گھسا ہوا اور زمین کے اوپر چھایا ہوا ہے وپ تین سو برس سے کسی طرح کم نہ ہو گیا۔
شاہ بڑے میں ایک بڑے میاں لوگوں کو حقّے بھر بھر پلایا کرتے تھے۔ اور چرس، چانڈو، افیم بھی گھولنے بنانے میں ہاتھ بٹا دیا کرتے تھے۔ اب دکھائی نہیں دیتے۔ شاید اللہ میاں کے ہاں ان کی خدمات کی ضرورت پڑ گئی۔ ایک بڑھیا بھی وہاں رہا کرتی تھی جو بڑی شائستہ اور تمیز دار معلوم ہوتی تھی مگر رہتی تھی کچھ بند بند سی۔ معلوم ہوتا تھا کہ اپنے پیٹ میں بہت سے افسانے اور رومان چھپائے بیٹھی ہے۔ اب وہ بھی نظر نہیں آتی۔ شاید اللہ میاں کو پیاری ہوئی۔
اللہ میاں بھی آسمان پر بڑے اچھے اچھے اور ہر فن کے آدمی جمع کر رہے
118
ہیں۔ قابل سے قابل حکیم، لائق سے لائق ڈاکٹر، فیڈرل کورٹ کے جج، اچھے سے اچھے افسانہ نگار، مضمون نویس، سنجیدہ اور مزاح نگار ہر قسم کے شعرا، بڑے بڑے مدبّر، سینڈو اور غلام پہلوان جیسے کس بل کے آدمی بڑا اچھّا اسٹاک جمع کر لیا۔ اب یہ کِس سے پوچھیں اور کون ہمیں بتلائے کہ آسمان پر کیسی کسی محفلیں جمتی ہیں اور ان میں کیا کیا ہوتا ہے۔ مشکل یہ ہے کہ جو جاتا ہے منہ میں گھنگھنیاں بھر لیتا ہے۔ کیا مجال جو خواب ہی میں آ کر ایک حرف تو بتا جائے؎
جی چاہتا ہے سیر کریں آسمان کی
پر کیا کریں کہ رہ گئے قینچ ہو کے ہم
119

ہم تو مرشد تھے تم ولی نکلے​

120
ایک دن سہ پہر کو میں محلہ بلیماراں میں ایک ٹی پارٹی میں گیا۔ میرے دو روست سعید اور حامد بھی میرے ساتھ تھے۔ یہ دونوں ایک دوسرے کی بالکل ضد واقع ہوئے تھے۔ سعید بالکل خشک مزاج اور حامد نہایت شگفتہ طبیعت۔ سعید کورا فلسفی اور حامد اوّل درجہ کا پھبتی باز ہنسنے ہنسانے والا۔ سعید ایسا میٹھا رہتا تھا جیسے کوئی پتھر رکھا ہوا ہے۔ کبھی کبھار ایک آدھ چھوٹا سا فقرہ بول دیئے تو بول دیئے ورنہ گُم سُم بیٹھے ہیں۔ حامد سے نچلا بیٹھا ہی نہ جاتا تھا۔ زبان تالو سے نہیں لگتی۔ قینچی کی طرح چلتی ہی رہتی تھی۔ خود ہنستا تھا سب کو ہنساتا تھا۔ پارٹی بڑے ٹھاٹھ کی تھی۔ ہماری میز سے چوتھی میز پر ایک صاحب بیٹھے تھے، گول مول گیند کی طرح۔ حامد نے ان کی طرف اشارا کر کے سعید سے پوچھا:
”انہیں جانتے ہو؟“
سعيد: ”ہشت“
حامد: ”میں اِن کا نام پوچھتا ہو، تخلص نہیں۔“
121
سعید: ”پاگل۔“
حامد: ”یہ تخلّص ہو گا۔ نام بتاؤ۔ پورا نام۔ یا کہہ دو میں نہیں جانتا۔“
سعد دوسری طرف دیکھنے لگا۔ میں نے عابد سے کہا۔
میں: ”آخر تم کیوں پوچھ رہے ہو، بات کیا ہے؟
حامد: ”یہ سعید بھی گدھا ہی ہے۔ اسے مطلق معلوم نہیں کہ وہ کون صاحب ہیں اور لگا ان کے تخلص گنوانے۔“
میں: ”تم جانتے ہو کیا؟“
حامد: ”جانتا تو میں بھی نہیں لیکن ایک چیز دیکھنے کے قابل ہے تو اُسے کیوں نہ دیکھیں۔ سبحان اللہ! یار ذرا دیکھو تو کتنا صحیح حدود اربعہ رکھتا ہے۔ جس پہلو سے ناپ کر دیکھو رقیہ برابر ہی نکلے گا اور اس شکل و صورت اور تن و توش پر جناب کو اپنے متعلق جُسن ظن بھی ہے۔ یعنی اپنے آپ کو حسین بھی سمجھتے ہیں۔ ذرا جناب کے بال ملاحظہ فرمائیے۔ گھنٹہے بھر آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر جانکاہی سے بنائے گئے ہیں۔ میں کہتا ہوں ان حضرت کی کوئی کل بھی سیدھی ہے؟ تنگ پیشانی، آنکھیں بجّو کی سی، کان بڑے بڑے اور ناک؟ بس یوں سمجھئے کہ باجرے کی جلی ہوئی روٹی پر آم کے اچار کی پھانک رکھی ہوئی ہے۔ چیچک کے داغ اتنے کہ پاؤ بھر قیمہ اور بھر لو۔ اور سونے پر سہاگہ رنگ ایسا کہ سنگِ موسیٰ کو شرمائے۔ بس یہ
122
ان لوگوں میں سے ہیں جو ٹھیکے پر بنوائے گئے تھے۔
میں: ”کیوں بکتے ہو؟ توبہ استغفار کرو۔ بندوں کے منہ آتے آتے اب لگے اللہ میاں پر بھی حرف زنی کرنے؎
تو کارِ زمیں رانِکو ساختی
کہ با آسمان نیز پرداختی
حامد: ”توبہ توبہ! اللہ میاں پر کون مردود حرف زنی کر رہا ہے۔ اللہ میاں نے آخر اونٹ بھی تو بنایا ہے اور اس کے ،تعلق اپنے کلامِ پاک میں کچھ فرما بھی دیا ہے۔ بھائی میں تو یہ کہتا ہوں کہ ایسے آدمیوں کو کم سے کم یہ تو نہ سمجھنا چاہیے کہ ہم حسین ہیں۔ حضرت یقيناً اپنے آپ کو خوبصورت سمجھتے ہوں گے جب ہی تو گھنٹوں بناؤ سنگھار کرتے ہیں اور یہ اپنی بیوی سے یہ توقع بھی رکھتے ہوں گے کہ وہ غریب انہیں حُسنِ مجسم سمجھ کر پُوجے، اس لئے اس غریب کے جذبات کا کیا حال ہو گا۔ پھوٹ گئی قسمت بیچاری کی!“
”تجھ کو پرائی کیا پٹی اپنی نبیڑ تو۔“ سعید سے نہایت آہستہ فلسفیانہ انداز سے کہا۔
حامد: ”اللہ پاک نے اپنی قدرت کاملہ سے زمین کے ذرّے ذرّے میں درسِ عبرت پوشیدہ رکھا ہے۔ دیکھنے کے لئے دیدۂ بینا
123
سُننے کے لئے کان اور سمجھنے کے لئے عقل درکار ہے اور۔۔۔۔۔“
حامد کی آواز ذرا اُونچی ہو گئی تھی۔ ایک مولانا کی وضع کے لمبی ڈاڑھی والے آدمی جو برابر کی میز پر بیٹھے ہوئے تھے۔ اپنی کرسی کھسکا کر ہماری میز پر آ گئے اور یہ سمجھ کر کہ حامد کوئی بڑا دیندار آدمی ہے اس کی طرف مخاطب ہو کر کہنے لگے۔
مولانا: ”مولانا! آپ ظاہری حیثیت سے تو کوئی نئی روشنی کے آدمی معلوم ہوتے ہیں۔ مگر آپ کے خیالات معلوم کر کے بڑی خوشی ہوئی۔ جناب کا اسمِ مبارک؟“
حامد: (مسمی صورت بنا کر) ”جی خاکسار زرّۂ بے مقدار کو حامد کہتے ہیون۔“
مولانا: ”سبحان للہ، سبحان اللہ! کیا پاکیزہ نام ہے ”حامد“۔ حمد سے مشتق ہے۔ محمدؐ، احمدؐ، محمود، حمید۔ سبحان اللہ کیسے کیسے پاکیزہ نام اس سے نکلتے ہیں اور آپ حامد ہیں۔یعنی حمد کرنے والا۔ کیوں نہ ہو جب ہی تو آپ رب العزّت کی تعریف میں رطب اللساں ہیں۔ مگر ایک گذارش میں بھی جناب سے کروں گا۔“
حامد جو اس اثناء میں برابر بے چینی کے ساتھ پہلو بدلے جا رہا تھا، گھبرا کر بولا۔
حامد: ”فرمائیے۔“
124
مولانا: ”مولانا! آپ کے خیالات تو بڑے اچھے ہیں اور آپ مذہبی آرمی معلوم ہوتے ہیں۔ مگر جیسا آپ کا باطن سے ویسا ظاہر بھی تو بنانا چاہیے۔“
حامد: ”میں جناب کا مطلب نہیں سمجھا۔“
مولانا: ”مولانا! میرا مطلب یہ ہے کہ آپ یہ کوٹ پتلون نہ پہنا کیجئے اور ڈاڑھی رکھیے۔ یہ اللہ کا نور ہے۔“
حامد: ”قبلہ! کوٹ پتلون میں تو میں کوئی ہرج نہیں سمجھتا اور ڈاڑھی میرے والد صاحب رکھا کرتے تھے۔“
مولانا: (خوش ہو کر کہا دیکھئے تومعلوم ہو کہ قبلہ گاہی صاحب بھی بڑے دیندار ق متّقی تھے۔ پھر تو آپ کو ڈاڑھی ضرور رکھنی چاہیے۔“
حامد: ”مولانا آپ بھی ستم کرتے ہیں۔ اتنی موٹی سی بات بھی نہیں سمجھتے کہ جسے میرے باپ نے رکھا اُسے میں کیسے رکھ سکتا ہوں۔“
یہ سن کر میں نے قہقہہ لگایا۔ اس خشک انسان سعید سے بھی ہنسی نہ رُک سکی۔ اور مولانا ”لا حول و لا قوۃ“ کہتے ہوئے جہاں سے آئے تھے۔ وہیں چلے گئے۔ پھر انہوں نے ہماری طرف مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔ میں نے حامد سے کہا۔
”حامد! تمہیں بھری محفل میں یوں باتیں نہ کرنی چاہیں۔“
حامد: ”ارے میاں! میں تو اس موذی کے آنے سے پریشان ہو گیا۔ ایک دم
 

مومن فرحین

لائبریرین
136

بولتا ۔ ادھر راجہ صاحب پریشان ہیں کہ کیا وبال آ گیا۔ آخر نہ رہا گیا تو فرمایا ۔
راجہ صاحب : فرمائیے فرمائے کیسے تشریف لائے ؟ ایک صاحب ذرا کھنکار ے۔ معلوم ہوا کچھ کہنا چاہتے ہیں ۔ مگر برابر والے کو کہنی کا ٹہوکا دیکرٹھنڈے ہو گئے ۔ دوسرے صاحب نے اچکن کا اوپر کا بٹن کھولا ۔ ذراگلا سہلایا کچھ کہنا چاہتے تھے مگر ہمت نہ پڑی ۔ راجہ صاحب ان کی یہ بے اوسانیاں دیکھ رہے تھے ان سے چپکا نہ رہا گیا ۔ بڑی ملائمت اور شفقت سے کہا ۔
راجہ صاحب :۔ بولو بھئی کیا چاہتے ہو ۔ گھبراؤ نہیں ۔
اس اتنے سے فقرے میں راجہ صاحب نے نہ معلوم کونسی اورکتنی شفقت پدری بھر دی تھی کہ ایک صاحب فورآ کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے
ایک صاحب: آج راجہ سر مسعود علی خاں صاحب سی آئی ، ای کا نام نامی آفتاب سے زیادہ روشن اور چاند سے زیادہ منور ہے ۔
دوسرے صاحب : جناب کے اوصاف حمیدہ و اطوار ستودہ کی یاد ہمارے تصورات کی دنیا میں روز بروز تازہ ہوتی چلی جا رہی ہے ۔
تیسرے صاحب: ہم عمیق ترین صداقت کے ساتھ اس حقیقت کا اظہار کیے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جناب کی خفیف ترین جنبش لب بھی ہماری ہستی

137

کے اسرار و رموز کو ہم پر منکشف کر دیگی ۔
چو تھے صاحب :۔ ہمارے اعماق قلب اور ہماری روحوں کی گہرائیوں میں
راجہ صاحب : بات کاٹ کر ، ارے لاحول ولاقوة ! یہ کیا لغو اردو بول ہے ہو ۔ تمہاری روحیں ہیں یا کنویں ؟
پانچویں صاحب : ہم خوب جانتے ہیں اس عمیق ترین صداقت کو جسپر ہمارے حسین ومستحسن ترین الفاظ بھی .
راجہ صاحب : (جلدی سے) اگر تم لوگوں کو ایسی ہی بکواس کرنی ہے اور غریب اردو کے گلے پر یوں گنڈا سے مارنے ہیں تو جاو سدھاروہمیں تمہارے ایسے ادب لطیف کی ضرورت نہیں ، اور جو کچھ کہنا سننا ہے تو سیدھی سادی اردو بولو۔ تم لوگ ناحق گنواروں کی طرح اس بھولی بھالی پری پرچاندی سونے کے زیور لادر ہے ہوجن سے وہ غریب دبی جاری ہے اور سکڑ سکڑ کر دہری ہوئی جاتی ہے ۔ اسے خدا کے لئے یونہی رہنے دو ۔ یہ حسین ہے اور بے حدحسین ۔ اسے بھاری بھاری گہنوں کی مطلق ضرورت نہیں ۔ اچھا اب کہو کیا کہنا چاہتے ہو ۔ مگر جو کچھ کہنا ہوایک صاحب بیان کردیں اور سب چپ رہیں ۔
اب کہانیاں اور انگلیاں چلنی شروع ہوئیں اور آپس میں کھسر پھسر ہونے لگی ۔

138

"یار مغربی تم کہو"
" نہیں نہیں مشرقی صاحب کو بولنے دو "
"نہیں یار یہ تو ہکلا ہے کام بگاڑ دے گا اور اس وقت گبھراہٹ میں تو اور ہکلائے گا۔ "
"چنگیزی صاحب آپ کھڑے ہو جائیے ، بس دیر نہ کیجئے ۔ اماں کھڑے ہو یا ر ۔ لاحول ولاقوۃ ۔ دیکھو وہ مغربی کھڑا ہوگیا ؟"
مغربی صاحب : ہم نے ایک انجمن بنائی ہے جس کا نام "انجمن خدام ادب" ہے ۔ اس انجمن کے اغراض ومقاصد اگر اجازت ہوتو بیان کروں۔
راجہ صاحب : ہاں ہاں کہو کہو ۔
مغربی صاحب :۔ (1) اپنی ذاتی کوششوں سے اور اپنے عزیز واقارب و احباب کے اثر و رسوخ کو کام میں لا کر ایسے رسالوں کے اجرا کوروکنا جومحض قوم کو لوٹنے کے لئے وجود میں آتے ہیں اور چند ماہ کے بعد فنا ہو جا تے ہی ۔
2_ ہندوستان کے متفرق صوبوں میں زبان اردو کے مرکز کے متعلق جو تنازعہ ہے اسے دور کرنا ۔
3۔ اردو کو تمام ہندوستان کی متحدہ و متفقہ زبان بنانا ۔
4۔ غریب مگر ! اچھے مضمون نگاروں کی دل کھول کرمالی امداد کرنا بلکہ اس بات

139
کی کوشش کرنا کہ ایسے لوگوں کو فکر معاش سے آزاد ہی کر دیا جائے۔
5_بہترین مضمون نگاروں کو سال میں چار دفعہ معقول انعامات دینے اس سے بحث نہیں کہ ان کے مضامین کیس رسالے میں چھپے ہیں
6_ایک رسالہ جاری کرنا اور اس میں خود غرضی و تعصب اور ذاتی بغض وعناد کی عینک اتار کر صیح معنوں میں مضامین پر تنقید کرنا یعنی مضامین کی خوبیوں کو روشن کر کے دکھانا ، اور برائیوں کو ایسے پیرائے میں ظاہر کرنا جو ناگوار خاطر نہ گذرے۔ خصوصاً ایسے مضامین پر دل کھول کر تنقیدیں کرنا جو ہا رے تمدن ومعاشرت کے گلے پر کند چھری پھیرتے ہیں جو عریاں ہو تے ہیں جن میں بے حیائی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہوتی ہے جن میں رکیک اور بیہودہ خیالات کو ادب لطیف کہکر پیش کیا جاتا ہے جن سے نوجوان عورتوں کے جذبات جو کنواری ہوں یا بیاہی ہوئی ، بجا ئے جلا پانے کے اور بھڑکتے ہیں جن میں لڑکیوں کو در پردہ محبت کرنے اور محبت کیے جانے کا سبق دیا جاتا ہے اور طریقے بتائے جاتے ہیں ۔ایسے مضامین اور مضمون نگاروں کی طرف ملک کو متوجہ کرنا
راجہ صاحب :۔ واقعی تمہاری انجمن کے اغراض و مقاصد تو بڑے اچھے ہیں ۔ اگر تم لوگ خلوص سے کام کرو تو ملک کی حالت سنوار دو

140

میں خود سوچا کرتا تھا کہ آجکل جہاں اعلی و پاکیزہ علم وادب کے جواہر ریزے پیش کرنے والے رسالے ہیں جن کا نظم ونسق لائق فائق اور تعلیم یافتہ ایڈیٹروں کے ہاتھ میں ہے اور جو ملک و قوم کے لئے بے انتہا مفید بلکہ ضروری ہیں وہاں اکثر رسالوں کے ذریعے ملک میں گندہ لٹریچر بھی پھیل رہا ہے ۔ ایسے رسائل کی باگ دوڑ ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جو ۔ ع
آنکس کہ نداند و بداند کہ بداند
کے تحت میں آتے ہیں ۔ اچھا یہ تو بتاؤ کہ اس انجمن کے عہدے دار کون کون سے ہیں ۔ سب بن گئے یا کچھ باقی ہیں ۔
مغربی صاحب: سارے عہدے دار منتخب ہو چکے ہیں فقط ص۔۔در کا تقرر باقی ہے جس کے لئے ہم سب اس وقت خدمت عالی میں حاضر ہوئے ہیں ۔
راجہ صاحب : یعنی صدر کا انتخاب میں کروں ؟ مغربی صاحب : جی نہیں ۔ بلکہ خود صدر بن کر ہہاری عزت افزائی فرمایئے اور ملک و قوم کو تباہی سے بچائیے ۔
راجہ صاحب ۔ اس کا جواب میں فی الحال نہیں دے سکتا ۔ سوچ سمجھ کر دوں گا ۔ ہاں تمہاری انجن کے عہدے دار کون کون سے ہیں ذرا
 

مومن فرحین

لائبریرین
141
ان کے نام تو بتاؤ ؟
مغربی صاحب ۔ خاکسار بونس مغربی ہاپڑ دی وائس پریسیڈنٹ ہے ۔
راجہ صاحب :۔ ( جلدی سے) ٹھہرو ٹھرو . ذرا یہ تو بتاؤ یہ مغربی اور ہاپڑ دی سے کیا مراد ہے ؟
مغربی صاحب :۔خاکسار کے آباو اجداد مغرب سے آئے تھے اور ہاپڑ فدوی کا وطن ہے ۔
راجہ صاحب :۔ اچھا یہ بات ہے ۔ آگے چلو ۔
مغربی صاحب : یہ الیاس مشرقی ٹراونڈر موی سیکریٹری ہے ۔
راجہ صاحب : ان کے آبا و اجداد مشرق سے آئے ہوں گے اور ان کا وطن ٹراونڈرم ہوگا جو ریاست ٹراونکور کا دارالخلافہ ہے ۔
مغربی صاحب : ۔ بجا فرمایا ۔ حضور خوب سمجھے ۔ راجہ صاحب ۔: کیا ٹھیک ہے ۔ بڑی دور دور کے آدمی جمع کئے ہیں اچھا آگے چلو ۔
مغربي صاحب : ۔ یہ منصور شمالی کالی کٹوی اسسٹنٹ سکریٹری ہیں ۔
راحبہ صاحب : شمالی تو میں سمجھ گیا کہ ان کے آبا واجداد ہمالیہ پار سے آئے ہوں گے ۔ مگر یہ کالی گوری کٹوی کیا بلا ہے ؟
مغربی صاحب : حضور ! صوبہ مدراس میں وہ کالی کٹ شہر ہے نا ؟

142
راجہ صاحب : ۔ (جلدی سے) ہاں ہاں ہاں ۔ میں بھول گیا تھا ۔ جغرافیہ میں میں ہمیشہ کمزور ہی رہا اور جب پڑھا کرتا تھا تو اسی کم بخت مضمون میں فیل ہوتا تھا ۔ اچھا آگے چلو ۔
مغربی صاحب: ۔ یہ محمود جنوبی مانا و دروی جوائنٹ سکریٹری ہیں ۔
راجہ صاحب ۔: بھائی پھر وہی مشکل پیش آئی جنوبی تو میں سمجھ گیا کہ ان کے آبا و اجداد لنکا و نکا سے آئے ہوں گے مگر یہ کالا بندر کیا چیز ہے ؟ مغربي صاحب :حضور کالابندر نہیں ماناودر ہے ۔ یہ صوبہ گجرات میں ایک ریاست ہے
راجہ صاحب ۔: اچھا ! خیر آگے چلو ۔
مغربی صاحب :۔ یہ اظہار نصیری پونوی مدیر رسالۂ "خدام ادب" ہیں ۔
راجہ صاحب : یہ نفیری کیسی ؟ کیا نفیری بھی بجا کریگی ؟
مغربی صاحب : حضور مذاق فرماتے ہیں ۔ یہ بھی ہماری خوش قسمتی ہے ۔ حضور "نفیری" نہیں "نصیری" ہے ، اظہار صاحب پونہ کے رہنے والے ہیں ۔ اس لئے پونوی ہوئے اورشمس العلماء مولوی سید نصیر علی صاحب قبلہ مرحوم و مغفور کی اولاد میں سے ہیں اس لئے ” نصیری “ ہوئے ۔
راجہ صاحب :۔ بہت خوب ۔ اچھا آگے چلو ۔
مغربی صاحب : یہ انوار چراغی کیتھلوی مدیر مسئول ہیں اسی رسالے کے ۔

143
راجہ صاحب: بھئی آج کل چراغوں کا دستور نہیں رہا ۔ لالٹینی کہو ۔
مغربی صاحب : ( ہنسکر) یہ خان بہادر مولوی چراغ الدین صاحب مرحوم کے پوتے ہیں اس لئے چراغی ہوئے اور کیتھل ضلع کرنال میں رہتے ہیں اس لئے کیتھلوی ہوئے ۔
راجہ صاحب ۔: اچھا ! آگے چلو ۔
مغربی صاحب : یہ تو ممبر مینیجنگ کمیٹی کے ہیں ۔
1 شریف شمسی پلکھوی ( ساکن پلکھو اضلع میرٹھ ) ٢ سلیم قمری چرکھا روی (ساکن ریاست چرکھاری ) ٣ نعیم مریخی کھرکھودوی (ساکن کھرکھودہ ضلع میرٹھ )
۴ سید ضمیر ہمدانی تراوڑوی ( ساکن تراوڑی ضلع کرنال )
ه . لطیف شیرازی روپڑی (ساکن رو پڑ ضلع انبالہ ) ۔ ٦ ظہیر صدیقی اٹکوی (ساکن اٹک )
٧ نصیر فاروقی الموڑوی ( ساکن الموڑه ) .
٨ مرزا دانا ہلاکو خانی اجنالوی ( ساکن اجنالہ ضلع امرتسر )
٩ مرزا نسیم تیموری سکھروی ( ساکن سکھر )
راجہ صاحب: بس
مغربی صاحب : ۔ حضور میں یہی ممبر اور عہد داران ہیں ۔

144

راجہ صاحب : اچھا بھئی سنو! میں جو کچھ کہنے والا ہوں اس سے تم لوگوں کی دل شکنی فرد ہو گی ۔ مگر میں صاف گوئی پرمجبور ہوں۔ سنو میں سیدھی سادی اردو بولتا اور لکھتا ہوں جسے بچہ بھی سمجھ لے اور اسی کو پسند کرتا ہوں میرے پاس کوئی سامضمون لے آؤ۔ تمہیں اسی دھلی نکھری اردو میں لکھ کر دکھا دوں گا۔ خان بہادری میر ناصرعلی مرحوم ومغفور کی اردو یاد ہے یا بھول گئے ہو یا بد قسمتی سے تم لوگوں کی نظر سے "صلائے عام" کا ایک بھی پرچہ نہیں گذرا تو مجھ سے لیجاؤ اور غور سے پڑھو ۔ مرحوم نے کم سے کم دس من کا غذ سیاہ کیا ہو گا مگر جتنا لکھا سب سیدھی سادی اردومیں ۔ آج کل کے مضمون نگاروں کی طرح اردو کی شکل مسخ نہیں کی۔ اسی طرح شمس العلماء ڈپٹی نذیر احمد مرحوم ومغفور نے سینکڑوں ہی کتابیں لکھیں اور سب صاف، آسان اور سلیس اردومیں جسے بچہ بھی مزے لے لیکر پڑھے پرانے لوگوں کی کتابیں اٹھا کر پڑھو کوئی موضوع چھوڑا بھی ہے ۔ پھرجب ہم سیدھی سادی اردو میں سب کچھ لکھ پڑھ سکتے ہیں تو اس غریب کے سرپر "ادب لطیف" کا پھاوڑا کیوں ماریں ۔ ایک وہ پرانے لوگوں کی اردو تھی جو الفاظ کے لحاظ سے دیکھو تو اور صرف ونحو کے اعتبار سے دیکھو تو ہر طرح پوری اترتی تھی ۔ ایک آجکل کی اردو ہے کہ لکھنے والوں کو موٹے موٹے الفاظ ٹھونسنے سے مطلب ہے ۔ ہندی اور فارسی ترکیبیں یہ ملادیں۔

145
ان کے بیچ میں اضافت خواہ مخواہ یہ ٹھونس دیں ، عربی مصدروں سے اسم صفت یہ بنا دیں ، غرض یہ ادب لطیف والے جو کچھ نہ کریں تھوڑا ہے ۔ اچھی اردو لکھنے والوں کا آج کل بھی کال نہیں ، گو کم ہیں مگر ہیں ضرور ۔خواجہ حسن نظامی صاحب کو دیکھئے کیسی اچھی ہلکی پھلکی اور آسان اردو لکھتے ہیں ۔ مرزا فرحت اللہ بیگ کی اردو پڑھئے زبان چٹخارے لیتی ہے ۔ ان لوگوں سے اردو زبان سیکھواؤ ان کے پیچھے پیچھے چلو ۔ تو بھائی ایک توبہ کرو کہ ادب لطیف کے پاس تک نہ پھٹکو اور یہ جو تم رسالہ نکال رہے ہو اس میں بھی صاف ستھری اردو لکھو ۔ دوسری بات یہ ہے کہ اپنے برتن میں کھانا پیش کرو . مغربي صاحب : ۔ میں سمجھا نہیں جناب کا مطلب راجہ صاحب ۔ ارے میاں میں بڑے بڑے موٹے موٹے ناموں کا دم چھلا اپنے پیچھے نہ لگاؤ ۔ بی اے پاس کرو اپنے نام کے آگے بی اے لکھو ۔ بڑی اچھی بات ہے ایم اے پاس کرو اپنے آپ کو ایم اے لکھو ہمیں کوئی اعتراض نہیں ایل ایل بی پاس کرو اپنے نام کے ساتھ ایل ایل بی لکھو ۔ چشم ما روشن دل ما شاد مگر یہ مغربی اور مشرقی شمسی اور قمری ، ہمدانی اورکرمانی چنگیزی اور تیموری ، صدیقی اور فاروقی اس پچھاڑی سے کیا فائدہ ؟ خواہ مخواہ کا رعب جماتے ہو ۔ ہماری رائے میں تو اگر اپنے آپ کو" آدمی" لکھدیا کر تو بہت اچھی بات ہے کچھ بیجابھی نہیں کہ حضرت آدم کی اولاد ہو ہی میں جناب نصیر فاروقی صاحب سے پوچھتا ہوں ذرا یہاں تو تشریف لائیے


146
کیوں حضرت آپ فاروقی کدھر سے ہیں ؟ آپ جانتے بھی ہیں ہمارے فاروق اعظم جناب عمر خطاب رضی اللہ عنہ کس شان کے آمی تھے ؟ نہیں جانتے تو لو میں بتاتا ہوں سنو ! جناب عمر ممبر خالافت پرتشریف فرما ہیں۔ گاڑھے کی قبا زیب تن ہے آپ مجمع کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں" لوگو سنواور عمل کرو ۔" " ایک بدو فورا اٹھ کھڑاہوتا ہے ۔ اور کہتا ہے " نہیں سنتے اور نہیں عمل کرتے "۔ وہ بادشاہوں کا بادشاہ جس سے بڑے بڑے قہار بادشاہوں کی روح لرزتی تھی سر دربار ایک گنوار کی اس گستاخی کا کیا جواب دیتا ہے، سنو
حضرت عمر : بھائی کیوں نہیں سنتے اور کیوں نہیں عمل کرتے ؟
بدو : لڑائی میں سے مال غنیمت جوملا تھا وہ ہم سب میں تقسیم ہوا تھا ۔ گاڑھے کا جتنا تکڑا تمہارے حصے میں آیاتھا اس میں سے یہ قبا جوتم پہنے ہوئے ہو ہرگز نہیں بن سکتی تھی تم نے یقینا بیت المال میں سے باقی کا کپڑا لیکر یہ قبا بنائی ہے ۔ اس لئے ہم تمہارا کہنا نہیں سنتے اور نہیں مانتے ۔
اسوقت جناب عمر بیکسی سے اپنے لڑکے حضرت عبداللہ کی طرف دیکھتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ " اے اعرابی ! میرے باپ نے بیت المال میں سے ایک حبہ بھی نہیں لیا ۔ انکو میں نے اپنے حصے کا کپڑادیدیا تھا ۔ ہم دونوں کے حصے کا کپڑا اتنا ہو گیا کہ میرے باپ کی قبا بن گئی "۔ اب بدو پھر کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے ہاں اے عمر اب کہو اب ہم تمہاری بات سنیں گے اور عمل بھی کریں گے ۔" کیوں فاروقی صاحب ! آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں ؟ آپ کو ایسا مرتبہ میسر آجائے

147
اور آپ کا ادنی غلام ایسی حرکت کرے تو آپ اسے کچا ہی چبا جائیں ۔ کیوں ہیں نا ٹھیک ؟ آ پ تو لوگوں کا مال غصب کیجئے اور فا روقی کہلائیے ، یتیموں کے گلے کاٹیے اور فاروقی بنے رہیئے ، شرابیں پیجیئے ، عیاشی کیجئے ، دنیا کا کوئی عیب نہ چھوڑیئے اورفارتی کا دم چھلا لگائے لگائے پھرئیے ۔ اور سنیے ۔ انہیں حضرت عمرؓ کا قصہ ہے جنکے نام نامی سے آپ "پدرم سلطاں بود" کہتے پھرتے ہیں۔ جناب عمرؓ کی بہادری ، دانش مندی اور تدبر کی دھاک چار دانگ عالم میں بندھی ہوئی ہے ۔ شاہ ایران کے دربار میں سے چھ آدمی اٹھتے ہیں اور بیڑا اٹھاتے ہیں کہ ہم عمرکا کام تمام کر کے آئینگے چنانچہ وہ جناب عمر کے دربار میں آتے ہیں۔ کبھی فقیروں کا دربار کاہے کو دیکھا تھا سمجھتے تھے کہ شاہ ایران جیسا شان و شوکت کا دربار ہوگا ۔ یہاں کارنگ ہی کچھ اور دیکھا کہاں کے قالین اور کیسی مسند تکیے ؟ یہاں تو ایک بوریا تھا اسی پر یہ اللہ کا شیر بیٹھا تھا ۔ مگر روحانی قوت سے درو دیوار تک پر ایک ہیبت سی طاری تھی ۔ یہاں آکر ہمارے ایرانی دوستوں کی سٹی گم ہوگئی ۔ ہاتھ پاؤں میں رعشہ آگیا ۔ کہنا کچھ چاہتے تھے کہ گئے کچھ ۔ یعنی اقرار کر لیا کہ آپ کی جان لینے آئے تھے ۔ وہ بوتل دکھائی جس میں زہر ہلاہل تھا جس کا ایک قطرہ موت کے گھاٹ اتارنے کو کافی تھا۔ سنو اور غور سے سنو ہمارے فاروق اعظم نے کیا کیا۔ سیاں وہ بوتل کی بوتل ان کے ہاتھ سے لیکر منہ سے لگا لی اور غٹ غٹ کر کے سب پی گئے ۔ اب یہ لوگ اور بھی گھبرائے مگر حضرت عمر مسکراتے رہے ۔ کچھ بھی نہ ہوا جیسے پانی پی لیا ۔ یہ لوگ ایسے ہیبت زدہ ہوئے اور

148
اس فقیراعظم کے اس فعل کا کچھ ایسا اثر ان کے دلوں پر ہوا کہ فورا مسلمان ہوگئے پھر واپس شاہ ایران کے پاس گئے اور کہا کہ "عمر بادشاہی نمی کند خدائی می کند" کیوں میاں فاروقی صاحب ! تم بھی زہر پی سکتے ہو ۔ ارے میاں زہر تو کیا خاک پیو گے ، ذرا دو تولے مگنیشیا سالٹ ہی پی کر دیکھو اور پچا جا ؤ تو ہم جانیں کہ ہاں تھوڑے بہت فاروقی ہو ۔
بھائی میں تو کہتا ہوں کہ تمہارے دادا چراغ الدین خان بہادر بھی تھے شمس العلماء بھی تھے سب کچھ تھے مگر تمہیں اس سے کیا ۔ تم علم وفضل میں ان سے آدھے بھی ہوجاؤ تو ہم جانیں کہ قابل دادا کے قابل پوتے ہو اور جو الف کے نام بے بھی نہ جانو اور کہلاؤ چراغی تو بھی اس کے ہم قائل نہیں ۔ اور اسی طرح تمہارے اور بزرگ ہمدان سے آئے تو اور نیشا پور سے آئے تو ، مشرق سے آئے تو اور مغرب سے آئے تو۔ تمہیں اس سے کیا ۔ میاں اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے تم قابل بنو قابلیت دکھاو زمانہ تمہیں قا بل ماننے کیلئے تیار ہے ۔
مغربی صاحب: جناب کے خیالات قابل قدر ہیں جو کہچھ جناب نے فرمایا با لکل بجا و درست ہے مگر مجھے یہ عرض کرنے کی اجازت دیجئے کہ ہم لوگ یہ دم چھلا اس لیے نہیں لگاتے کہ لوگ اس سے مرعوب ہو کر خوامخواہ ہماری عزت کریں بلکہ ان تبرک ناموں کا دم چھلا ہم لوگ اسلئے لگاتے ہیں کہ ان کے ناموں سے انکی برگزیدہ ہستیوں کا اور انکے نیک اور قابل قدر کارناموں کاخیال ہمیں اکثر آتا رہے اور اسی طرح شاید


149
ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل سکیں اور اپنی زندگیوں کو کامیاب بناسکیں ۔
راجہ صاحب : بھائی کہنے اور کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔ کہنے کو سب یوں ہی باتیں بنایا کرتے ہیں مگر ایسے لوگ شاذونادر ہی ہیں جن کا قول وفعل یکساں ہے ۔ اب تم ہی ایمان سے کہدو اتنے آدمی تمیوری ، صدیقی ، فاروقی وغیرہ بنے بیٹھے ہیں یہ کون سے اپنے آباواجداد کے نقش قدم پرچل رہے ہیں ؟ ہاں اتنا میں ضرور کہوں گا کہ اظہار نصیری صاحب سے میں بذات خود واقف ہوں یہ محنتی اور ہونہار شخص ہیں ، لیاقت بھی ان میں خاصی ہے اور اسے بڑھانے ہی کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔ یہ بیشک اپنے قابل دادا کے لائق پوتے ہیں ۔ انہوں نے اگر غرور تکبر کومنہ نہ لگایا اور زمانہ کی گرم سرد سہنے کی قوت پیدا کر لی اور عادت ڈال لی تو ضرور اپنے لائق دادا کا نام روشن کرینگے ۔ یہ اگر "نصیری" کا دم چھلا اپنے نام کے ساتھ لگا لیں توخیر لگا لیں ۔ خیالات ان کے وسیع ہیں ، پرواز بھی بلند ہے ۔ اظہار خیالات بھی خوب کر لیتے ہیں ۔ مگر برتن ان کے پاس بھی برا ہے وہی ادب لطیف اور ٹھونس ٹھاس والا ۔ اپنے دادا کے پوتے ہیں تو دادا ہی جیسی اردو لکھیں ۔
مغربی صاحب : اب جناب ہمارے پریسیڈنٹ بن جائینگے تو جس راستے پر آپ چلائیں گے اسی راستے پر ہم لوگ چلیں گے ۔
راجہ صاحب : (جلدی سے) میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ اس پریسیڈنٹ کے مسئلے کو


150
سوچوں گا ۔ آپ خواہ مخواہ یہ خیال نہ کر بٹھیں کہ میں آپ کا پریسیڈنٹ بن ہی گیا ۔ ہاں وہ تیسری بات تو رہ ہی گئی ، وہ یہ ہے کہ مجھے یہ بھی بہت برا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ناموں کے ساتھ اپنے وطن کو بھی خواہ مخواہ چپکا دیتے ہیں ، چاہے وہ کتنا ہی غیر معروف کیوں نہ ہو اور کانوں کو کتنا ہی برا اور ثقیل کیوں نہ معلوم دے ۔ مرادآبادی ، اکبرآبادی ، بنارسی ، لکھنوی ، دہلوی ، لاہوری ، اجمیری ، حیدر آبادی میں تو مضائقہ نہیں کہ کانوں کو برے نہیں معلوم دیتے ۔ مگر پلکھوی ، گلاوٹھوی ، کھر کھودی ، چرکهاروی ، اٹکوی ، الموڑوی وغیرہ بہت برے معلوم ہوتے ہیں اگر ایسا ہی اپنے وطن کا نام روشن کرنا منظور ہو تو "ساکن" کا لفظ وطن کے نام سے پہلے لگا دیں ، جیسے ساکن تراوڑی ساکن کھتیل وغیرہ اچھا اب تم لوگ جا سکتے ہو ۔ میں نے خاصا وقت تمہاری نذر کر دیا ۔ ہاں ذرا ٹھہرو ۔
راجہ صاحب نے چپکے سے سرفراز علی خان کے کان میں کچھ کہا جو فورا چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے اور کہنے لگے ۔
سیکریٹری : راجہ صاحب آپ صاحبوں کو پانچسو روپے مرحمت فرما تے ہیں ۔
را جہ صاحب :۔ مغربی صاحب ! یہ رقم آپ اپنی تحویل میں رکھیے اور آئندہ ماہ کی اسی تاریخ کو آپ چاروں صاحبان یعنی آپ، سیکریٹری صاحب، اسسٹنٹ سکریٹری صاحب اور اظہارصاحب پھر یہاں تشریف لائیں میں دیکھو گا کہ آپ نے یہ رقم کیونکر خرچ کی اور آپ کی انجمن کا کیا حال ہے . پھر مزید گفتگو کرونگا . خدا حافظ
 
آخری تدوین:

La Alma

لائبریرین
‎ریختہ صفحہ 71

‎جا رہے ہیں۔ ایک دم۔
‎ہم:۔ بتا دیں؟ برا تو نہ مانو گی؟
‎بیگم:۔ سچی بات ہو گی تو برا کبھی نہ مانوں گی۔
‎ہم:۔ بیگم! مصیبت تو یہی ہے کہ سچی بات ہی سب کو بری لگتی ہے۔ وہ تو تم نے بھی سنا ہو گا کہ سچی بات آدھی لڑائی ہوتی ہے۔
‎بیگم:۔ اچھا خیر، آپ کہیے تو سہی۔
‎ہم:۔ بگڑ جاؤ گی۔
‎بیگم:۔ اوں ہونہہ۔
‎ہم:۔ چراغ پا تو نہ ہو گی۔
‎بیگم:۔ نہیں۔ نہیں۔ نہیں۔
‎ہم:۔ غصے کو تو نہیں بلاؤ گی؟
‎بیگم:۔ یااللہ
‎ہم:۔ حق و انصاف کی عینک لگا کر دیکھو گی؟
‎بیگم:۔ بس سن چکی، جاتی ہوں۔
‎ہم:۔ ہائیں یہ کیا؟ ارے کدھر چلیں۔ سنو تو۔ ارے دیکھو۔ تمہیں اپنی شادی کی پہلی رات کی شرم و حیا کی قسم۔ ذرا ٹھہر جاؤ۔ آج تم سے بہت ساری باتیں کرنی ہیں۔


‎ریختہ صفحہ 72

‎بیگم:۔ توبہ ہے۔ نہ جانے ہی دیتے ہیں۔ نہ بات ہی کہہ چکتے ہیں۔
‎ہم:۔ ارے کہنے کو تو ہم کبھی کے کہہ بھی چکے ہوتے۔ بس اک ذرا تمہاری۔۔۔ تمہاری۔۔۔ دیکھو لفظ یہ ذرا کچھ ایسا ہی سا ہے۔ یعنی تمہارے خیال میں۔۔۔ اچھا کوئی اور لفظ سوچتے ہیں۔ اس سے ذرا ہلکا سا نرم سا۔
‎بیگم:۔ کیا مصیبت میں جان آئی ہے۔ اچھا لفظ وفظ کا آپ خیال نہ کیجئے۔ جو منہ میں آئے کہہ ڈالئے۔ میں دس دفعہ کہہ چکی ہوں کہ برا نہ مانوں گی۔ پھر سمجھ نہیں آتی تامّل کس بات کا ہے؟
‎ہم:۔ بیگم! ہم دِلّی والے ہیں ٹھیٹھ دِلّی والے۔ سینکڑوں برس سے ہمارے آباؤ اجداد اسی سرزمین پاک میں بستے تھے۔ ہم چاہے کچھ بھی ہو جائے زبان کو نہیں بگاڑیں گے۔ وہی لفظ بولیں گے جو جہاں مناسب ہو گا۔ ہاں تو کِل کِل ہی ٹھیک اور صحیح لفظ ہے۔ بس کِل کِل ہی ہم بھی کہیں گے۔
‎بیگم:۔ کِل کِل؟
‎ہم:۔ ہاں کِل کِل
‎بیگم:۔ کِل کِل کیسی؟
‎ہم:۔ دیکھو غالباً تمہیں یاد ہو گا۔ ابھی صرف ایک منٹ گزرا ہم کہہ رہے تھے کہ “ ارے کہنے کو ہم کبھی کے کہہ چکے ہوتے بس اک ذرا تمہاری بس یہاں لفظ کِل کِل ہی آسکتا ہے۔ اور ایک بہت بڑے شاعر نے بھی اپنی تم ہی جیسی


‎ریختہ صفحہ 73

‎تعلیم یافتہ بیوی کے متعلق یہی الفاظ استعمال کیا ہے۔

‎گریجویٹ بیوی سے ہمارا ناک میں دم تھا
‎ادہر ہم نے زبان کھولی اُدہر میڈم نے کِل کِل کی

‎ہم چلینج دیتے ہیں ان تمام بڑے بڑے ادیبوں کو جن کے نام کا آج کل ڈنکا بج رہا ہے۔۔۔! اور سچ پوچھو تو یہ بھی غلط ہے۔ ڈنکا آج کل کہاں رکھا ہے۔ وہ تو بادشاہی زمانے کی چیز تھی۔ بادشاہت کے ساتھ رخصت ہو گئی ۔ اب تو اس کی مردہ سی نشانی یہ رمضان کریم کے دھونسے رہ گئے ہیں۔ گیلے سیلے دھبّڑ دھبڑ کرتے ہوئے۔ ہاں اب تو ڈھول ہیں ڈھول۔ تو صحیح اردو یہ ہوئی کہ ہم چیلنج دیتے ہیں ان تمام بہت بڑے بڑے اور چوٹی کے ادیبوں کو جن کے نام کا آج ڈھول پٹ رہا ہے کہ ذرا میدان میں آئیں۔ عقل کے گھوڑے دوڑائیں اور پسینے پسینے ہو جانے کے بعد بھی کوئی لفظ کِل کِل سے اچھا ڈھونڈ کر اس جگہ بٹھا دیں تو ہم آج اسی وقت ان کے شاگرد ہونے کو تیار ہیں۔ چاہے جیسی قسم لے لو۔
‎بیگم:۔ ( گھبرا کر دونوں ہاتھ جوڑ کر) بس خدا کے لیے معاف کرو بابا میں باز آئی تمہاری۔۔۔
‎ہم:۔ ارے کیا غضب کیا بھاگوان۔ نکاح ہی توڑ ڈالا۔ میں تمہارا بابا ہوں؟ بابا۔ ارے مجھے باپ بنا ڈالا۔

‎ریختہ صفحہ 74

‎بیگم:۔ لا حول ولا قوت، توبہ توبہ۔
‎ہم:۔ مارو کلّوں پر تھپڑ
‎بیگم:۔ آپ کے؟
‎ہم:۔ جی نہیں اپنے
‎بیگم:۔ (ہولے ہولے کلّوں پر تھپڑ مار کر) توبہ توبہ۔ اچھا دیکھیے مجھے کھانے کی خبر لینی ہے۔ آج کم بخت ماما بھی غوطہ لگا گئی۔ آپ کی تو آج چھٹی ہے مجھے جانے دیجئے سب کام پِٹ پڑے ہیں۔ یا جو کچھ کہنا ہو مختصر الفاظ میں کہہ دیجئے بس۔
‎ہم:۔ اچھا تو ذرا تیار ہو جاؤ ناچنے کے لیے
‎بیگم:۔ کیا مطلب؟
‎ہم:۔ وہی سچی بات جس کے سنتے ہی تم کِل کِل کرنے لگو گی۔ ناچنا شروع کر دو گی۔
‎بیگم:۔ یہ بھی کوئی چِڑ مقرر کی ہے آپ نے؟
‎ہم:۔ چڑ وڑ تو ہم جانتے نہیں۔ اچھا سنو! ہم اس وقت بیٹھے یہ سوچ رہے تھے کہ جس طرح زمین گول ہے اسی طرح ہمارا سر بھی گول ہے۔ جس طرح زمین پر سفر کرنے والے جہاں سے چلتے ہیں ہِر پھر کر وہیں آ جاتے ہیں۔ اسی طرح تمہاری ہر بات کا مرکز ہمارا سر ہی ہوتا ہے۔ تمہاری ہر تان ہمارے

‎صفحہ 75 ریختہ

‎سر پر ہی ٹوٹتی ہے۔ ہر بات کو کھینچ تان کرہمارے ہی سر پر دے مارتی ہو۔ پرسوں اچھن موزے لایا تو تم نے کہا کہ ہاں یہ ہیں موزے۔ دیکھو کیسے اچھے ہیں۔ بالکل اونی معلوم ہوتے ہیں اونی، اور ایک آپ لائے تھے موٹے کھدر کہ پہنو تو معلوم ہو کہ پاؤں بھوبل میں رکھ دیااور پھر لاکھ سر پٹکو کیا مجال جو پھیر کے آئیں۔ اور کل تم اپنی سہیلی رابعہ سے کہہ رہی تھیں۔۔۔ میں چھوٹے کمرے میں بیٹھا سب کچھ سن رہا تھا۔۔۔ کہ دیکھنا بوا میری بہن کا بچہ چھامن کیسی اچھی ململ لایا ہے اور لو دیکھو یہ تمہارے بھائی جان نے لا کر دی تھی۔ موٹی جھونا۔ آج ابھی تھوڑی دیر ہوئی رمضانی چنے لایا تھا تو تم نے کہا تھایا نہیں کہ کیسے گرم گرم اور زرد کھلے ہوئے چنے لایا ہے۔ ایک آپ لاتے ہیں کالے کالے جن میں برابر کی ٹھڈیاں ملی ہوتی ہیں۔
‎بیگم:۔ مجھے آپ سے اللہ واسطے کا بیر بھی تو ہے۔
‎ہم:۔ بیر ویر تو ہم جانتے نہیں۔ یہ بتاؤ جو کچھ ہم نے کہا ہے اس میں کچھ جھوٹ بھی ہے۔
‎بیگم:۔ جھوٹ سچ تو میں جانتی نہیں۔ پر اتنا جانتی ہوں کہ آپ کو میری ہر بات زہر لگتی ہے۔ میں تو منہ میں قفل ڈال کر بھی بیٹھ جاؤں مگر گھر اوندھا ہو جائے گا اس لیے بولنا ہی پڑتا ہے۔ نوج کوئی اس طرح ذرا ذرا سی بات کو پکڑے
 

مومن فرحین

لائبریرین
146
کیوں حضرت آپ فاروقی کدھر سے ہیں ؟ آپ جانتے بھی ہیں ہمارے فاروق اعظم جناب عمر خطاب رضی اللہ عنہ کس شان کے آمی تھے ؟ نہیں جانتے تو لو میں بتاتا ہوں سنو ! جناب عمر ممبر خالافت پرتشریف فرما ہیں۔ گاڑھے کی قبا زیب تن ہے آپ مجمع کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں" لوگو سنواور عمل کرو ۔" " ایک بدو فورا اٹھ کھڑاہوتا ہے ۔ اور کہتا ہے " نہیں سنتے اور نہیں عمل کرتے "۔ وہ بادشاہوں کا بادشاہ جس سے بڑے بڑے قہار بادشاہوں کی روح لرزتی تھی سر دربار ایک گنوار کی اس گستاخی کا کیا جواب دیتا ہے، سنو
حضرت عمر : بھائی کیوں نہیں سنتے اور کیوں نہیں عمل کرتے ؟
بدو : لڑائی میں سے مال غنیمت جوملا تھا وہ ہم سب میں تقسیم ہوا تھا ۔ گاڑھے کا جتنا تکڑا تمہارے حصے میں آیاتھا اس میں سے یہ قبا جوتم پہنے ہوئے ہو ہرگز نہیں بن سکتی تھی تم نے یقینا بیت المال میں سے باقی کا کپڑا لیکر یہ قبا بنائی ہے ۔ اس لئے ہم تمہارا کہنا نہیں سنتے اور نہیں مانتے ۔
اسوقت جناب عمر بیکسی سے اپنے لڑکے حضرت عبداللہ کی طرف دیکھتے ہیں ۔ حضرت عبداللہ کھڑے ہو کر کہتے ہیں کہ " اے اعرابی ! میرے باپ نے بیت المال میں سے ایک حبہ بھی نہیں لیا ۔ انکو میں نے اپنے حصے کا کپڑادیدیا تھا ۔ ہم دونوں کے حصے کا کپڑا اتنا ہو گیا کہ میرے باپ کی قبا بن گئی "۔ اب بدو پھر کھڑا ہوتا ہے اور کہتا ہے ہاں اے عمر اب کہو اب ہم تمہاری بات سنیں گے اور عمل بھی کریں گے ۔" کیوں فاروقی صاحب ! آپ بھی ایسا کر سکتے ہیں ؟ آپ کو ایسا مرتبہ میسر آجائے

147
اور آپ کا ادنی غلام ایسی حرکت کرے تو آپ اسے کچا ہی چبا جائیں ۔ کیوں ہیں نا ٹھیک ؟ آ پ تو لوگوں کا مال غصب کیجئے اور فا روقی کہلائیے ، یتیموں کے گلے کاٹیے اور فاروقی بنے رہیئے ، شرابیں پیجیئے ، عیاشی کیجئے ، دنیا کا کوئی عیب نہ چھوڑیئے اورفارتی کا دم چھلا لگائے لگائے پھرئیے ۔ اور سنیے ۔ انہیں حضرت عمرؓ کا قصہ ہے جنکے نام نامی سے آپ "پدرم سلطاں بود" کہتے پھرتے ہیں۔ جناب عمرؓ کی بہادری ، دانش مندی اور تدبر کی دھاک چار دانگ عالم میں بندھی ہوئی ہے ۔ شاہ ایران کے دربار میں سے چھ آدمی اٹھتے ہیں اور بیڑا اٹھاتے ہیں کہ ہم عمرکا کام تمام کر کے آئینگے چنانچہ وہ جناب عمر کے دربار میں آتے ہیں۔ کبھی فقیروں کا دربار کاہے کو دیکھا تھا سمجھتے تھے کہ شاہ ایران جیسا شان و شوکت کا دربار ہوگا ۔ یہاں کارنگ ہی کچھ اور دیکھا کہاں کے قالین اور کیسی مسند تکیے ؟ یہاں تو ایک بوریا تھا اسی پر یہ اللہ کا شیر بیٹھا تھا ۔ مگر روحانی قوت سے درو دیوار تک پر ایک ہیبت سی طاری تھی ۔ یہاں آکر ہمارے ایرانی دوستوں کی سٹی گم ہوگئی ۔ ہاتھ پاؤں میں رعشہ آگیا ۔ کہنا کچھ چاہتے تھے کہ گئے کچھ ۔ یعنی اقرار کر لیا کہ آپ کی جان لینے آئے تھے ۔ وہ بوتل دکھائی جس میں زہر ہلاہل تھا جس کا ایک قطرہ موت کے گھاٹ اتارنے کو کافی تھا۔ سنو اور غور سے سنو ہمارے فاروق اعظم نے کیا کیا۔ سیاں وہ بوتل کی بوتل ان کے ہاتھ سے لیکر منہ سے لگا لی اور غٹ غٹ کر کے سب پی گئے ۔ اب یہ لوگ اور بھی گھبرائے مگر حضرت عمر مسکراتے رہے ۔ کچھ بھی نہ ہوا جیسے پانی پی لیا ۔ یہ لوگ ایسے ہیبت زدہ ہوئے اور

148
اس فقیراعظم کے اس فعل کا کچھ ایسا اثر ان کے دلوں پر ہوا کہ فورا مسلمان ہوگئے پھر واپس شاہ ایران کے پاس گئے اور کہا کہ "عمر بادشاہی نمی کند خدائی می کند" کیوں میاں فاروقی صاحب ! تم بھی زہر پی سکتے ہو ۔ ارے میاں زہر تو کیا خاک پیو گے ، ذرا دو تولے مگنیشیا سالٹ ہی پی کر دیکھو اور پچا جا ؤ تو ہم جانیں کہ ہاں تھوڑے بہت فاروقی ہو ۔
بھائی میں تو کہتا ہوں کہ تمہارے دادا چراغ الدین خان بہادر بھی تھے شمس العلماء بھی تھے سب کچھ تھے مگر تمہیں اس سے کیا ۔ تم علم وفضل میں ان سے آدھے بھی ہوجاؤ تو ہم جانیں کہ قابل دادا کے قابل پوتے ہو اور جو الف کے نام بے بھی نہ جانو اور کہلاؤ چراغی تو بھی اس کے ہم قائل نہیں ۔ اور اسی طرح تمہارے اور بزرگ ہمدان سے آئے تو اور نیشا پور سے آئے تو ، مشرق سے آئے تو اور مغرب سے آئے تو۔ تمہیں اس سے کیا ۔ میاں اپنی اپنی ڈفلی اور اپنا اپنا راگ ہے تم قابل بنو قابلیت دکھاو زمانہ تمہیں قا بل ماننے کیلئے تیار ہے ۔
مغربی صاحب: جناب کے خیالات قابل قدر ہیں جو کہچھ جناب نے فرمایا با لکل بجا و درست ہے مگر مجھے یہ عرض کرنے کی اجازت دیجئے کہ ہم لوگ یہ دم چھلا اس لیے نہیں لگاتے کہ لوگ اس سے مرعوب ہو کر خوامخواہ ہماری عزت کریں بلکہ ان تبرک ناموں کا دم چھلا ہم لوگ اسلئے لگاتے ہیں کہ ان کے ناموں سے انکی برگزیدہ ہستیوں کا اور انکے نیک اور قابل قدر کارناموں کاخیال ہمیں اکثر آتا رہے اور اسی طرح شاید


149
ہم بھی ان کے نقش قدم پر چل سکیں اور اپنی زندگیوں کو کامیاب بناسکیں ۔
راجہ صاحب : بھائی کہنے اور کرنے میں بڑا فرق ہوتا ہے ۔ کہنے کو سب یوں ہی باتیں بنایا کرتے ہیں مگر ایسے لوگ شاذونادر ہی ہیں جن کا قول وفعل یکساں ہے ۔ اب تم ہی ایمان سے کہدو اتنے آدمی تمیوری ، صدیقی ، فاروقی وغیرہ بنے بیٹھے ہیں یہ کون سے اپنے آباواجداد کے نقش قدم پرچل رہے ہیں ؟ ہاں اتنا میں ضرور کہوں گا کہ اظہار نصیری صاحب سے میں بذات خود واقف ہوں یہ محنتی اور ہونہار شخص ہیں ، لیاقت بھی ان میں خاصی ہے اور اسے بڑھانے ہی کی فکر میں لگے رہتے ہیں ۔ یہ بیشک اپنے قابل دادا کے لائق پوتے ہیں ۔ انہوں نے اگر غرور تکبر کومنہ نہ لگایا اور زمانہ کی گرم سرد سہنے کی قوت پیدا کر لی اور عادت ڈال لی تو ضرور اپنے لائق دادا کا نام روشن کرینگے ۔ یہ اگر "نصیری" کا دم چھلا اپنے نام کے ساتھ لگا لیں توخیر لگا لیں ۔ خیالات ان کے وسیع ہیں ، پرواز بھی بلند ہے ۔ اظہار خیالات بھی خوب کر لیتے ہیں ۔ مگر برتن ان کے پاس بھی برا ہے وہی ادب لطیف اور ٹھونس ٹھاس والا ۔ اپنے دادا کے پوتے ہیں تو دادا ہی جیسی اردو لکھیں ۔
مغربی صاحب : اب جناب ہمارے پریسیڈنٹ بن جائینگے تو جس راستے پر آپ چلائیں گے اسی راستے پر ہم لوگ چلیں گے ۔
راجہ صاحب : (جلدی سے) میں پہلے کہہ چکا ہوں کہ اس پریسیڈنٹ کے مسئلے کو


150
سوچوں گا ۔ آپ خواہ مخواہ یہ خیال نہ کر بٹھیں کہ میں آپ کا پریسیڈنٹ بن ہی گیا ۔ ہاں وہ تیسری بات تو رہ ہی گئی ، وہ یہ ہے کہ مجھے یہ بھی بہت برا معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ناموں کے ساتھ اپنے وطن کو بھی خواہ مخواہ چپکا دیتے ہیں ، چاہے وہ کتنا ہی غیر معروف کیوں نہ ہو اور کانوں کو کتنا ہی برا اور ثقیل کیوں نہ معلوم دے ۔ مرادآبادی ، اکبرآبادی ، بنارسی ، لکھنوی ، دہلوی ، لاہوری ، اجمیری ، حیدر آبادی میں تو مضائقہ نہیں کہ کانوں کو برے نہیں معلوم دیتے ۔ مگر پلکھوی ، گلاوٹھوی ، کھر کھودی ، چرکهاروی ، اٹکوی ، الموڑوی وغیرہ بہت برے معلوم ہوتے ہیں اگر ایسا ہی اپنے وطن کا نام روشن کرنا منظور ہو تو "ساکن" کا لفظ وطن کے نام سے پہلے لگا دیں ، جیسے ساکن تراوڑی ساکن کھتیل وغیرہ اچھا اب تم لوگ جا سکتے ہو ۔ میں نے خاصا وقت تمہاری نذر کر دیا ۔ ہاں ذرا ٹھہرو ۔
راجہ صاحب نے چپکے سے سرفراز علی خان کے کان میں کچھ کہا جو فورا چلے گئے اور تھوڑی دیر کے بعد واپس آئے اور کہنے لگے ۔
سیکریٹری : راجہ صاحب آپ صاحبوں کو پانچسو روپے مرحمت فرما تے ہیں ۔
را جہ صاحب :۔ مغربی صاحب ! یہ رقم آپ اپنی تحویل میں رکھیے اور آئندہ ماہ کی اسی تاریخ کو آپ چاروں صاحبان یعنی آپ، سیکریٹری صاحب، اسسٹنٹ سکریٹری صاحب اور اظہارصاحب پھر یہاں تشریف لائیں میں دیکھو گا کہ آپ نے یہ رقم کیونکر خرچ کی اور آپ کی انجمن کا کیا حال ہے . پھر مزید گفتگو کرونگا . خدا حافظ
 
151
مولوی چمقاق
152
”یہ تم گھڑی گھڑی چمقاق چمقاق کیا کہا کرتے ہو؟“ قاسم نے منصور سے کہا۔
منصور۔ میاں وہ ہے نا ایک سڑی سا آدمی، وہ جو ایک کالا سا ڈنڈا لئے پھرتا ہے، مڑا ہوا، بل کھایا ہوا، سانپ کی وضع کا۔
قاسم اچھا وہ۔۔۔۔۔وہ۔۔۔۔جنہیں ”مولانا حاظر“ بھی کہتے ہیں۔ ہاں یار آدمی دلچسپ معلوم ہوتا ہے۔ جہاں دیکھو جس جگہ جاؤ یہ دھرے ہوئے ہیں۔ قطب صاحب چلے جاؤ، اوکھلے جاؤ، پہاڑی پر جاؤ، ہمایوں کے مقبرے جاو، غرض یہ ہر جگہ موجود ہیں۔ اسی لئے لوگ انہیں ”مولانا حاضر“ کہتے ہیں۔
منصور: مگر میں نے ان کا نام مولوی چمقاق رکھا ہے۔
قاسم: یہ کس مناسبت سے؟
منصور: بات بات پر بھڑک اُٹھتا ہے جیسے کسی نے دیا سلائی دکھا دی
153
قاسم: مگر یہ تو پاگل پن ہوا۔ خواہ مخواہ بھڑکنے کے کیا معنی؟
منصور: جلا ہوا بہت ہے۔
قاسم: کس سے؟
منصور: دُنیا والوں سے۔
قاسم: اس سے کیا مطلب وہ دنیا والا نہیں ہے؟
منصور: اس کی ظاہری وضع قطع پر نہ جاؤ۔ کبھی اس کی باتیں سنو باتیں، وزنی ہوتی ہیں۔ ٹھوس۔
قاسم: تو کبھی لے چلو۔
منصور: مجھے ان کا پتہ ٹھکانا تو معلوم نہیں۔ اُدھر کہیں سبزی منڈی کی طرف رہتے ہیں۔ مگر دیکھو کسی نہ کسی دن راه باٹ میں مل جائیں گے تو ان کی باتیں سنوائیں گے۔۔۔۔۔ اب آج کا پروگرام کیا ہے جھٹّی کیونکر گذرے گی؟
قاسم: میں اسی لئے آیا تھا کہ تم سے قطب صاحب چلنے کو کہوں۔ نذیر کے خالہ زاد بهانی گورکھپور سے آئے ہوئے ہیں۔ وہ کہہ رہا تھا کہ انہیں مقبرہ قطب صاحب وغیرہ کی سیر کرا دو۔
منصور: اور کھانا وانا؟
قاسم: قطب صاحب میں کھا پی لیں گے۔
154
منصور: تاگنے میں چلو گے یا موٹر بس میں؟
قاسم: موٹر بس کی علّت ہے اور تانگے میں خواہ مخواد آٹھ دس روپے خرچ ہو جائیں گے۔ سائیکلوں پر چلیں گے۔
منصور: میرا تو کچھ ہرج نہیں۔ نذیر کیا کہتا ہے؟
قاسم: اسی نے کہا تھا کہ سائیکلوں پر باتیں کرتے ہوئے مزے مزے سے چلیں گے۔
منصور: بڑا کنجوس ہے۔ مہمان کے لئے دس پانچ روپے خرچ نہیں کئے جاتے۔
منصور: وہ کہتا ہے کہ انے والے کو تو آٹھ روپے دیے جائیں تو کے رکعت کا ثواب ملے گا۔ اپنے ہی پیٹ میں نہ ڈالیں جو انگ کو تو لگے۔
منصور: انگ انگ کو تو کیا خاک لگے گا۔ گھی بناسپتی اور دودھ لسّی۔ مگر اس میں شک نہیں کہ سائیکلوں پر سیر اچھی رہے گی، جہاں جی چاہا اُتر گئے سیر کی اور جب جی چاہا چل پڑے۔ تو کب آ رہے ہو؟
قاسم: آ کیا رہے ہو، بس میرے ستھ ہی چلو۔ رستے میں اجمیری دروازے کی مسجد میں بیٹھ کر ناشتہ کر لیں گے۔
قاسم اور منصور دونوں نذیر کے گھر گئے۔ وہاں سے اُسے اور اُس کے بھائی کو لے کر روانہ ہوئے۔ اجمیری دروازے کی مسجد میں بیٹھ کر حلوا پوری اور
155
کچوریوں کا ڈٹ کر ناشتہ کیا۔ وہاں سے دلّی دروازے ہوتے ہوئے مٹکوں والی درگاه پہنچے۔ نذیر کے بھائی مسعود غالباً پہلی دفع دلّی آئے تھے۔ دور ہی سے ہزاروں مٹکے دیکھ کر کہنے لگے۔
مسعود: یہ کیا چیز ہے؟
نذیر: درختوں، بانسوں اور بلّیوں پر مٹکے لٹکا رکھے ہیں۔ یہاں لوگ منّت مانتے ہیں اور جب مراد پوری ہو جاتی ہے تو مٹکوں میں شربت لاتے ہیں اور نیاز دلواتے ہیں۔ پھر شربت تقسیم کرنے کے بعد مٹکوں کو لٹکا دیتے ہیں۔
مسوود: بے شمار مٹکے ہیں۔ کیا ٹھیک ہے۔ اور یہ چمکدار مٹکے کیسے ہیں جن پر نگاہ نہیں ٹھہرتی؟
قاسم: یہ تانبے کے ہیں قلعی دار۔ صاحبِ استطاعت لوگ تانبے کے بھی چڑھاتے ہیں۔
مسعود: اور کوئی رات بے رات آن کر لے جائے تو۔ یا جگہ تو بستی آبادی سے دور ہے؟
منصور: چور ڈاکو منّت مراد کی چیزوں پر ہاتھ نہیں ڈالتے۔ یہی بات ہے جو آج تک کوئی مٹکا چوری ہوا نہیں۔
یہ درگاہ دیکھ داکھ کر یہ لوگ پرانے قلعے گئے۔ وہاں سے ہمایوں کا مقبر اور درگاہ حضرت نظام الدّین اولیا ہوتے ہوئے منصور کے مقبرے پہنچے، وہاں سے سیدھے قطب صاحب گئے۔ سب سے پہلے ہوٹل میں کھانا کھایا۔ پھر لاٹ کے نیچے آ کر
156
ہری ہری گھاس کے فرش مخملیں پر بیٹھ گئے اور ذاتِ باری کی صنعت گری کا تماشہ ہر روپ میں دیکھنے لگے۔ ؎
عورتیں رنگین ملبوسات میں
جیسے اُڑتی تتلیاں برسات میں
ہر طرف جلوہ ہے اور رنگِ حیات
رقص کرتی پھر رہی ہے کائنات
ان لوگوں کو یہاں بیٹھے ہوئے تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ منصور نے کہا
منصور: لو وہ آ گئے!
نذیر: کون آ گئے؟
منصور: چمقاق!
قاسم: مولوی چمقاق؟ کہاں ہیں؟
منصور: وہ رہے سامنے!
نذیر چلو دل لگی رہے گی۔
منصور: کوئی ایسی ویسی بات نہ کر بیٹھا۔ جھاڑ دے گا۔
اتنے میں مولوی چقماق قریب آ گئے۔ منصور اور نذیر نے بیک آوار ”آداب عرض ہے“ کہا۔ چمقاق بغیر آواز دیئے وہیں گھاس پر بیٹھ گئے اور کہنے لگے۔
چمقاق: تربیت کا قصور ہے۔ تربیت کی خامی ہے۔
سب دوست اُن کا منہ تکنے لگے۔
157
چمقاق: تربیت، تعلیم، تجربہ انسانی زندگی کے لئے لازمی چیزیں ہیں۔ مگر سب سے پہلی چیز تربیت ہے۔ تعیم اور تجربہ بعد کی چیز ہیں۔ جس کی تربیت اچھی ہو گئی تو سمجھ لو اس کی زندگی سدھر گئی۔
منصور: تو حضور ہم ہر خفگی کا کیا سبب ہے؟ ہم نے کیا کیا؟
چقماق: یہ کہاں کا اخلاق ہے کہ دور ہی سے ”آداب عرض“ کا جوتا میرے مغز پر دے مارا۔ کھڑے ہوئے نہی۔ں ہاتھ ملایا نہیں۔ بس ایک گولہ سا دے مارا۔ ”آداب عرض“۔ اچھی تربیت لی ہوتی تو سلامُ علیکم کہتے۔ یہ آداب عرض کیا بلا ہے۔ ہونہہ۔ آداب۔ آداب۔ ایک بہت بڑے شاعر نے کیاخوب کہا ہے؎
روز کہتے ہو کہ آداب آداب
آ دباؤں گا تو مشکل ہو گی
نذير: حضور! آج کل مہذّب لوگ سب ہی آداب کہا کرتے ہیں۔
چمقاق: مہذّب لوگ سڑی ہوئی مچھلی اور کیڑے پڑا ہوا پنیر بھی تو کھاتے ہیں۔ عورتوں کو بغل میں لے کر ناچتے بھی تو ہیں۔ شراب بھی تو پیتے ہیں۔ مہذّب۔۔۔ ہونہہ۔۔۔۔ مہذّب۔۔۔۔۔ پچھتّر فیصدی۔
منصور: حضور! ہمیں تو بچپن سے ہی سکھایا گیا ہے کہ بڑوں کا ادب کرنا چاہیئے اور آداب عرض کہنے سے اظہارِ ادب مقصود ہے۔
158
چمقاق: کس نے سکھایا ہے؟ پچھتّر فیصدی! ”آداب عرض سکھایا ہے۔ کیا معنی ہوئے ”آداب عرض“ کے۔ یہپ عرض اور طول کیا بلا ہے۔ لغو، واہیات، بے معنی، سیدھی سی بات کہو ”اسلامُ علیکم“ کہ سلامتی ہو تم پر اور دوسرا جواب میں کہے “وعلیکم السلام“ اور بھئی تم پر بھی سلامتی ہو۔ سبحان اللہ کیسی پیاری پیاری باتیں ہیں، کیسے میٹھے بول ہیں۔ جب ہی تو کہتا ہوں تربیت، تربیت! تربیت کی خرابی ہے، سارے زمانے میں تربیت کا کال ہے۔ تانگے والا ہے تو تربیت سے کورا۔ نہ ہاتھ دکھاتا ہے، نہ منہ سے بکتا ہے سر پر چڑھائے چلا آ رہا ہے۔ موٹر والا ہے تو تربیت سے عاری۔ وہ زور و شور سے ہارن دیتا ہے کہ آئے حواس غائب ہو جاتے ہیں۔ آدمی اچھل پڑتا ہے۔ سائیکل والا ہے تو تربیت سے کوسوں دور، بھڑا کر لے جا رہا ہے۔ نہ گھنٹی بجاتا ہے اور نہ بریک باندھتا ہے۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایک تیر ہے جو چلا جا رہا ہے اور جو ذرا سی بات کہو تو آستینیں چڑھا کر لڑنے کو مستعد۔ پچھتّر فیصری!
حضور اجازت دیں تو کچھ عرض کروں۔ نذیر نے ڈرتے ڈرتے کہا۔
چمقاق: فرمایئے۔
نذیر: حضور بار بار پچھتّر فیصدی کیا فرمایا کرتے ہیں۔
چمقاق: جانتے ہو انسان کِسے کہتے ہیں؟ اچھا انسان کو چھوڑو۔ انسان آج کل
159
ہیں ہی کہاں۔ یہ بتاؤ آدمی کسے کہتے ہیں؟
نذیر: آدمی؟ آدمی تو سب ہی ہیں۔ یہ کیا اِدھر اُدھر پھر رہے ہیں۔
چقماق: ہونہہ! اِدھر اُدھر پھر رہے ہیں! ان میں کِتنوں میں آدمیت ہے۔ کیا معیار ہے تمہارے پاس آدمیت کا۔ کونسی کسوٹی پر پرکھتے ہو یا جس کی شکل آدمی کی سی دیکھی اُسے ہی آدمی سمجھ لیا؟ پچھتر فیصدی!
نذیر: اب میں کیا عرض کروں؟
چمقاق: آپ کیا عرض کریں گے میں ہی عرض کرتا ہوں۔ آپ لوگ سائیکلوں پر آئے ہیں۔ جی؟ شہر کے بازاروں میں سے گذرے ہیں؟ کیا دیکھا آپ نے؟
منصور: کوئی خاص بات تو دیکھی نہیں۔
چمقاق: دیکھتے کیا خاک! بٹن لگے ہوئے ہیں آنکھوں کی جگہ۔ ارے میاں آنکھوں سے کام لینا سیکھو۔ انہیں بٹن نہ سمجھو۔ یہ کام کی چیزیں تم سائیکلوں پر چلے آئے سیدھے؟ بغیر کسی دقّت کے؟
منصور: ان کی نذیر کی سائیکل سے تو ایک بچّہ الجھ کر گِرا مگر خیر گزری چوٹ پھیٹ نہیں لگی اور میری سائیکل سے ایک رکشا لڑ گئی۔
چقماق: تو تمہاری اور میاں نذیر کی بے پرواہی ہو گی؟
نذیر (جلدی سے) وہ بچّہ آنکھیں بند کر کے سڑک کی ایک سمت سے دوسری جانب بھاگا۔ مجھے کیا خبر تھی کہ ایک دم سے اس طرح بھاگے گا۔ میں نے
160
بہت کوشش کی مگر وہ جھپٹ میں آ ہی گیا۔ اس میں میرا کیا قصور؟
چمقاق: اس میں تمہارا قصور نھا نہ بچّے کا۔ کیونکہ تم نے کوشش کی اور بچا نہ سکے۔ اس لئے کہ تمہیں سان و گمان بھی نہ تھا کہ بچہ یوں بے تحاشا بھاگے گا اور بچہ بھی بے قصور تھا اس لئے کہ آخر بچہ ہی تھا۔ قصور بچے کے باپ کا ہے کہ اگر وہ ساتھ تھا تو بچے کی انگلی کیوں نہیں پکڑ رکھی تھی اور اگر ساتھ نہیں تھا تو اس قصور میں اس کی ماں بھی برابر کی شریک تھی جس نے یہ سوچ لیا کہ بس ہم نے پیدا کر دیا۔ اب پالیں محلے والے، پچھتّر فیصدی۔ اور وہ رکشا کا کیا قصّہ ہے؟
منصور: حضور! میں تو اپنے بائیں سے جا رہا تھا۔ وہ رکشا والا موٹر کے بچنے کے لئے دائیں پر آ گیا اور سائیکل سے لڑا دی۔
چمقاق: نہ تمہیں اتنی توفیق ہوئی کہ اُتر پڑتے کیونکہ تم تو قسم کھا کر چلے تھے کہ چاہے جتنی بھیڑ ہو اٹر کر ہی نہیں دیں گے۔ اور رکشا والے تو پھر رکشا والے ہی ہیں اور ایک رکشا والے پر کیا منحصر ہے جسے دیکھو فرعون بے سامان بنا ہوا ہے۔ تانگے والا تانگے پر ایسا بیٹھا ہے جیسے بادشاہ تخت پر۔ اڑائے چلا جا رہا ہے روکنے کا نام نہیں لیتا۔ موٹر والا ہے تو ہوائی جہاز بنائے ہوئے ہے۔ ہارن زور زور سے بجائے گا مگر کیا مجال جو رفتار ہلکہ کر دے۔ پچھتّر فیصدی۔
161
قاسم: حضور! یہ بے پڑھے لکھے لوگ جاہل ہوتے ہیں اور دلّی میں خبر نہیں کہاں کہاں سے آن مرے ہیں۔ نرے گنوار۔
چمقاق: بے پڑھے لکھے جاہل و گنوار؟ ہونہہ اور تمہارے پڑھے لکھوں میں کتنے آدمی ہیں؟ ذرا میں بھی تو سنوں۔
قاسم: بے پڑھے لکھے تو ایسی حرکتیں نہیں کرتے۔
چمقاق: میں پھر پوچھتا ہوں بتاؤ آدمی کہتے کِسے ہیں؟ پچھتّر فیصدی! تم یہ سوچتے ہو کہ بی۔ اے ایم۔ اے پاس کر لیا تو آدمی بن گیا؎
چار پائے بروکتابے چند
یہ کون ہیں صاحب؟ وکیل صاحب ہیں! یہ کون ہیں ؟ سیشن جج ہیں۔ یہ کون ہیں؟ پروفیسر صاحب ہیں! یہ کون ہیں؟ طوطئی ہند ادیب زمان مولوی فاضل جناب فلاں فلاں بی۔اے۔ ہیں۔ بس تم نے سمجھ لیا کہ آدمی کیا انسان ہیں۔ کسی سے ہنس کر بولے اخلاق سے باتیں کیں تم سمجھ بیٹھے کہ بڑے اچھے آدمی ہیں۔ کیا بات ہے۔ خاندانی ہیں۔ ان لوگوں کو پڑھو، سمجھ کر پھر معلوم ہو گا کہ کتنے ان میں سے آدمی ہیں اور کتنے آدمی کی شکل کے جانور۔
منصور: حضور ہم تو سینکڑوں آدمیوں کو جانتے ہیں جو مجسّ، خلق و ایثار ہیں۔ اور میں تو انہیں انسان ہی سمجھتا ہوں۔ انسان!
162
چمقاق: پھر وہ انسان! ارے انسان تو آجکل ناپید ہی ہے۔ مجھے آدمی دکھاؤ آدمی۔
منصور: اب میں آپ کو کیونکر سمجھاؤں۔
چمقاق: سمجھاؤ نہیں۔ دیکھاؤ۔ اچھا بتاؤ کسی کا نام لو۔
منصور: ایک تو مرزا رفیع الدّین صاحب ہی ہیں۔ اتنے بڑے عربی فارسی کے عالم فاضل، عالی مرتبہ ادیب، بے مثال افسانہ نگار، بڑے پایہ کے شاعر اور آسودہ حال خوشحال آدمی ہیں، مگر اخلاق ایسا کہ بچّہ بھی چلا جائے تو بچھے چلے جاتے ہیں۔ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ اتنا بڑا شخص ہے۔
چمقاق: ہر چمکدار چیز کو سونا نہ سمجھ بیٹھو۔ جب تک اسے کسوٹی پر نہ کس لو۔ یہ میں مانتا ہوں کہ اس گئی گذری دنیا میں اب بھی پچیس فیصدی آدمی موجود ہیں۔ مگر پچھتر فیصدی آدمی کے شکل کے جانور ہیں۔ نرے جانور۔ بہرحال اتنا ضرور کہتا ہوں کہ جن جن لوگوں کو تم آدمی سمجھ رہے ہو اور جن کی اپنے دل میں اس قدر وقعت رکھتے ہو بہت ممکن ہے اگر انہیں غور سے پڑھو تو ان میں سے بہتوں کو آدمی نہ پاؤ۔
163
قاسم: تو حضور! کیونکر پڑھیں؟
چمقاق: پڑھنے کے تو بہتیرے طریقے ہیں مگر میں نے تو ایک اصول بنا رکھا ہے۔
نذیر: ہمیں بھی وہ اصول بتا دیجئے۔
چمقاق: سنو! اللہ پاک نے آدمی میں جذبات کا سمندر بھر دیا ہے اور پھر اس گناہوں بھری دنیا میں چھوڑ دیا ہے اور تاکید یہ ہے کہ حوریں دیکھو مگر عاقبت کی حوروں کا خیال کر کے ان کے پاس تک نہ پھٹکو۔ شراب دیکھو مگر شرابِ طہور کا تصوّر دِل میں جما کر آگے بڑھ جاؤ۔ مطلب یہ ہے کہ تیرہ ادھار کی خاطر نو نقد کو چھوڑ دو۔ خواہشاتِ دنیا بے شمار اور انواع و اقسام کی ہیں۔ سب سے دامن کوئی کہاں تک بچا سکتا ہے۔ ایسا کر لے تو فرشتہ ہی نہ ہو جائے۔ ہاں نبی اور بغمبر ایسے ضرور تھے مگر ان کے خاص دل و دماغ تھے۔ بہرحال میرا اپنا کہنا تو یہ ہے کہ جس نے ایک آدھ لغزش کے سوا سب برائیوں کو چھوڑ دیا میری رائے میں وہ انسان ہے اور آدمی ماننے کے لئے تو میں نے گِنے چُنے دو ایک اصول مقرر کر رکھے ہیں۔
منصور: ہمیں بھی بتا دیجئے۔ ہم بھی پرکھ کر اُسی کو دوست بنائیں گے۔
164
چمقاق: دوست بنانے کے لئے تو بس یہ یسد رکھو'
دوست آں باشد کہ گرد دستِ دوست
در پریشاں حالی و درماندگی
آرائش کے طور پر ہی کچھ روپیہ قرض مانگ لو اور وه ؎
زرمی طلبی سخن درین است
نہ کہے تو سمجھ لو کہ خاصا دوست ہے
منصور: اور آدمی؟
چمقاق: جس میں غرور نہ ہو، جس کی بات وزنی ہو۔ اس میں سب کچھ آ گیا یعنی جو وعدہ کر کے پورا کرے، کسی کو ملنے کا وقت دے تو اس وقت گھر پر موجود رہے۔ کسی کے پاس جانے کا اُسے وقت دے تو پہنچ جائے۔ کسی سے کتاب پڑھنے کو لے تو وقت پر واپس کر دے۔ وغیرہ وغيره۔ اگر کسی کی بات وزنی ہے، بوجھل ہے، ٹھوس ہے تو وہ چاہے شراب پئے، رنڈی بازی کرے ہماری بلا سے۔ ہم اسے انسان تو نہیں کہیں گے مگر ہاں آدمی سمجھ لیں گے۔ لو تم بھی کیا یاد کرو گے تمہیں ایسی کسوٹی بتاتے ہیں اور ایسی ترازو دیتے ہیں جس پر رکھ کر اور جو میں تول کر تم انسان
165
آدمی، اور آدمی کی شکل کا جانور معلوم کر سکتے ہو۔ ہائے چچا سعدی کیا خوب فرما گئے ہیں؎
انسان:
آنکس کہ بداند و بداند کہ نداند
اسپ خیرو خویش بہ افلاک رساند
آدمی:
وان کس کہ بداند و بداند کہ بداند
اونیز خرِلنگ بہ منزل بر ساند
جانور بشکلِ آدمی:
واں کس کہ نداند و بداند کہ بداند
در جہلِ مرکب ابدالدہز بماند
اچھا میں نے تم لوگوں کے ساتھ اپنا بہت سا قیمتی وقت ضائع کر دیا۔ اللہ حافظ
166

کرفیو آرڈر​

167
آج کل جہاں کھانے کی، پینے کی، پہننے اوڑھنے کی مصیبتیں ہیں وہاں اب چلنے پھرنے کی اور مصیبت ہو گئی ہے۔ ناپ کر کھاؤ، ناپ کر پہنو، یہ تو مدّتوں سے تھا ہی اب یہ بھی ہو گیا کہ ناپ کر چلو۔
لحاف میں دبکے دبکائے پڑے تھے کہ تین بجے رات کو ایک دَم سے مکان کے پچھوڑے سے شور و غل کی آواز آئی۔ تین بجے رات کے گھر سے باہر قدم نکلنا تھانے کی دعوت قبول کرنے کے مترادف تھا۔ جانتے تھے کہ وہ دعوت ثقیل ہوتی ہے ہمارے بس کا روگ نہیں۔ اس لئے اوپر چھت پر گئے۔ مکان کے پچھواڑے جہاں سے چیخنے چلّانے کی آوازیں آ رہی تھیں، سقّے رہتے ہیں۔ ہم نے پہلے تو دیوار کے پاس کھڑے ہو کر آوازیں دیں۔ ارے بھئی کیا ہے، ارے بھئی کیا بات ہے، ارے کچھ بتاؤ تو۔ جب کچھ جواب نہ ملا اور شور مچتا ہی رہا تو ہم نے دیوار پر سے لٹک کر کہا۔
”ارے بی کیا ہوا؟ کچھ بتاؤ تو؟“
بڑی بی: اے بیٹا! کیا بتائیں۔ مجّو کو پولیس والے پکڑ کر لے گئے۔ اسے کلو کے باپ کو۔ اچھی بابو جی خدا تمہارا بھلا کرے، ذرا تھانے
168
چلے جاؤ۔
ہم: بڑی بی۔ یہ بہت مشکل بات ہے۔ اس وقت تھانے کیونکر جاؤں۔ کرفیو آرڈر ہے۔ گھر سے قدم نکلنا دو بھر ہے۔
بڑی بی: نہیں بیٹا! تم بڑے آدمی ہو۔ تمہیں کوئی کیا کہے گا۔ دیکھنا اُس کی بیوی بے ہوش پڑی ہے۔ بچے بِلک رہے ہیں۔ اچھی چلے جاؤ۔ خدا تمہاری آس اولاد کا بھلا کرے۔
ہم: ارے بی! میں کیسے جاؤں؟ گھر سے نکلتے ہی میں جو پکڑا جاؤں گا۔ کرفیو آرڈر ہے کہ مذاق ہے۔ یہ تو بتاؤ کہ جب دُنیا بھر کو معلوم ہے کہ رات کے نو بجے سے صبح کے چھ بجے تک کرفیو ہے تو تین بجے گھر سے نکلنے کی پڑ کیا گئی تھی؟
بڑی بی: بیٹا! گلی میں کتّے بھونکے جا رہے تھے۔ نیند حرام کر رکھی تھی کم بختوں نے بس ہمیں تو خبر ہی نہیں ہوئی وہ لکڑی لے کر انہیں مارنے نکلا۔ یہ کم بخت پولیس والے بھی شکار کی تاک بی میں لگے رہتے ہیں۔ لو میاں جھٹ آن دبایا۔ ہم سب چنچتے پیٹتے ہی رہے وہ لے ہی گئے اور جوانا مرگ کہتے کیا ہیں کہ بڑی بی وہیں گھر کے اندر رہنا۔ جو ایک قدم بھی باہر نکالا تو تمہیں بھی تھانے لے جائیں گے۔ اچھّی میاں ذرا چلے جاؤ۔ اللہ واسطے کا کام ہے۔
169
ہم: بڑی بی! میں اس وقت بھلا کیسے جاؤں۔ خود پھنس جاؤں گا۔ صبح کو جا کر دیکھوں گا کیا بات ہے اور ہو سکا تو ضمانت پر چھڑا لاؤں گا۔
بڑی بی: ہے ہے۔ وہ حوالات میں سردی سے اکڑے گا۔
خیر صاحب صبح کو ہم تھانے گئے۔ وہاں جا کر دیکھا کہ میاں مجّو حوالات میں بیٹھے رو رہے ہیں۔ مجھے دیکھتے ہی مجّو کہنے لگا۔
بابو جی دیکھو کس ناگہانی میں پھنس گیا۔ اُدھر بیوی پورے دنوں سے ہے۔ صبح شام میں بال بچہ ہونے والا ہے۔ چار دن سے بخار میں لوتھ پڑی ہے۔ ادھر میں پھنس گیا۔ اب دوا دارو کو بھی کوئی نہیں۔ چھوٹے چھوٹے بچے ہیں۔ بابو جی ضمانت کرا دو۔ مرتے دم تلک تمہارا احسان نہیں بھولنے کا۔
ہم: گھبراؤ نہیں۔ میں اسی لئے آیا ہوں۔ داروغہ جی باہر آئیں تو بات کروں۔ داروغہ جی تو پھر داروغہ جی ہی ہوتے ہیں۔ ہم اس جاڑے پالے میں کبھی ٹہلنے لگے۔ کبھی کھڑے ہو گئے۔ اور بھی کتنے آدمی ہماری طرح قواعد کر رہے تھے۔ خدا خدا کر کے داروغی جی باہر آئے۔ میری ان سے صاحب سلامت کہنے لگے۔
داروغہ: آپ صبح صبح کہاں۔
ہم: حکیم ڈاکٹر کے ہاں۔ وکیل کے ہاں اور تھانے میں آدمی اپنی خوشی سے
170
تھوڑے ہی جاتا ہے۔
داروغہ جی: کیا بات ہے؟
ہم: میرے گھر کے پچھواڑے دیوار بیچ ایک بے چارا سقّہ رہتا ہے۔ رات کو کتّے بھونک رہے تھے۔ اس کی بیوی بیمار پڑی ہے۔ وہ بے چارا کتّوں کو مارنے نکلا تھا کہ کرفیو میں دھر لیا گیا۔
داروغہ: یہ لوگ بھی گدھے ہی ہوتے ہیں۔ اچھی طرح جانتے ہیں کہ کرفیو بڑی سختی کے ساتھ عمل ہو رہا ہے اور پھر بھی نہیں مانتے۔
ہم: (چپکے سے) اسے چھوڑ دیجئے۔ آپ کا احسان مجھ پر ہو گا۔
داروغہ: کیسی بات کر رہے ہیں آپ؟ یا اور جو اتنے سارے آدمی کھڑے ہیں یہ کیا کہیں گے؟ دیکھ رہے ہیں آپ۔ زمانہ کیسا جا رہا ہے۔ نوکری سنبھالنی مشکل ہو رہی ہے۔ آپ ضمانت دے دیجئے۔ میں دیکھنے میں ابھی چھوڑے دیتا ہوں۔
چنانچہ ہم نے پانچ سو روپے کی ضمانت دی۔ مجّو نے میرے پاؤں پکڑ لیے اور دعائیں دیتا ہوا گھر گیا۔ ہم وہیں کرسی پر بیٹھ گئے۔ داروغہ جی نے سپاہی سے کہا ”دوسرے کو پیش کرو۔“ ایک بڑے میاں بڈھے پھونس جھکی ہوئی کمر پیش ہوئے۔
داروغہ جی: بڑے میاں آپ کیوں نکلے تھے؟
بڑے میاں: ہم تو نماز کو جا رہے تھے۔ سپاہی یہاں لے آئے۔ بہتیرا کہا کہ ارے نماز تو پڑھ لینے دو۔ پھر ہی لے چلنا۔ ہم کہیں بھاگے تھوڑے ہی جاتے ہیں
171
مگر یہ کس کی سنتے ہیں۔ فرعون بنے ہوئے ہیں۔ ہماری نماز بھی گئی۔ ہائے آج تک بیماری میں بھی قضا نہیں ہوئی تھی۔
داروغہ جی: نماز تو چھ بجے کے بعد ہوتی ہے۔ آپ چھ بجے سے پہلے کیوں نکلے؟ آپ کو معلوم نہیں کہ چھ بجے تک کرفیو ہے۔
بڑے میاں: میاں ہمارے پاس گھڑی تھوڑے ہی ہے۔ اذانیں ہو گئیں۔ اللہ کی طرف سے آوازیں آئیں ”حی على الصلوة“ ہم اُٹھ کھڑے ہوئے۔
ہم نے چپکے سے داروغہ جی سے کہا۔ آپ کا ضمیر کیا کہتا ہے؟
داروغہ جی: ضمیر کی سنیں یا بال بچّوں کے پیٹ کو دیکھیں۔ نوکری ہے یا بھائی بندی؟
پھر بڑے میاں سے بولے۔
بڑے میاں! تمہارا ضمانتی کون ہے؟
بڑے میاں: اوپر اللہ ہے اور نیچے چھوٹے چھوٹے بچے اور عورتیں ہیں۔
داروغہ جی: تمہارے لڑکے وڑکے نہیں ہیں؟
بڑے میاں: ایک لرکا ہے پردیس میں۔ مہینے کے مہینے خرچ بھیج دیتا ہے۔ میں تو بیکار ہوں۔ سودا سلف بھی نہ جانے کس طرح اپنے بدن کو گھسیٹ کر لا دیتا ہوں۔
داروغہ جی: اب ہم کیا کر سکتے ہیں۔ ضمانت جب تک نہ ہو تم گھر نہیں جا سکتے۔
172
بڑے میاں: ارے میں نہیں جاؤں گا تو بچّوں کے منہ میں دانہ بھی نہیں پڑے گا۔ خدا کے واسطے ایسا ظلم نہ کیجئے غمبیوں کی آہ سے ڈرنا چاہیے۔
داروغہ جی: اب تمہاری آہ کو دیکھیں یا اپنے جاہ کو (سپاہی سے) لے جاؤ انہیں۔ دوسرے ملزم کو لاؤ۔
ایک صاحب پیش ہوئے۔ اجلی دھوتی، اجلا كوٹ، ننگے سر، بال بنُے ہوئے، آتے ہی فروٹ انگریزی بولنے لگے۔ داروغہ جی نے ملائمت سے کہا۔
داروغہ جی: اردو ہی میں بات کیجئے۔ میں انگریزی سمجھ تو لیتا ہوں، مگر جب میں بھی ہندوستانی آپ بھی ہندوستان تو پھر انگریزی میں گفتگو کی کیا ضرورت ہے؟ جی فرمائیے کیسے آنا ہوا؟
ملزم: میں حسبِ معمول ہوا خوری کو جا رہا تھا۔ آپ کے سپاہی نے پکڑ لیا اور یہاں لے آیا۔ میں کوئی معمولی آدمی نہیں۔ گزٹیڈ افسر ہوں۔ چیف کمشنر سے شکایت کروں گا۔ میری سخت انسلٹ ہوئی ہے۔
داورغہ جی: ٹھہرئیے ذرا ٹھہریئے۔ آپ چھ بجے سے پہلے نکلے کیوں تھے؟ آپ کو معلوم نہیں چھ بجے تک کرفیو ہے؟
ملزم: کون کہتا ہے میں چھ سے پہلے نکلا۔ ٹھیک چھ بجے گھر سے چلا تھا۔
داروغہ جی: آپ کی گھڑی آگے ہو گی؟
ملزم: سپاہی کے پاس کیا گھڑی تھی؟
173
سپاہی: داروغہ جی! جب میں انہیں لے کر یہاں پہنچ لیا ہوں اس وقت بھونپو بجا ہے۔
داروغہ جی: آپ کی آسانی کے لئے اور سمجھنے کے لئے اور جان لینے کے لئے ٹھیک چھ بجے بھونپو بجتا ہے کہ شہر بھر کو خبر ہو جائے کہ اب کرفیو کا وقت ختم ہو گیا ہے اور پھر بھی آپ پہلے ہی گھر سے نکل پڑتے ہیں تو اس میں قصور کس کا ہے، آپ کا کوئی ضمانتی ہے؟
ملزم: میں گزٹیڈ افسر ہوں۔ چھ سو روپے تنخواہ پاتا ہوں، ڈھائی سو کلرک میری ماتحتی میں کام کرتے ہیں۔ میری ضمانت کی ضرورت نہیں
داروغہ جی: ضمانت تو آپ کو دینی پڑے گی۔ میں مجبور ہوں۔
ملزم: میں چیف کمشنر سے آپ کی شکایت کر دوں گا۔
داروغہ جی: میں مجبور ہوں (سپاہی سے) انہیں لے جاؤ
ملزم: (گھبرا کر) اچھا دیکھئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں میری کافی انسلٹ ہو چکی ہے۔ آپ کو میں ورڈ دیتا ہوں کہ پیشی کی تاریخ پر عدالت میں حاضر ہو جاؤں گا۔
داروغہ جی: آپ یہاں کرسی پر تشریف رکھئے اور اپنا پتہ بتا دیجئے۔ میں اتنا کر سکتا ہوں کہ کسی کو آپ کے مکان پر بھیج کر اطلاع کروا دوں۔ مجھے افسوس ہے کے بغیر ضمانت کے آپ کو نہیں چھوڑ سکتا۔ قانون قانون ہی ہے۔ اور وہ امیر غریب، گزٹیٹڈ اور نان گرٹیڈ سب کے
174
لئے یکساں ہے۔
چنانچہ انہوں نے مکان کا پتہ بتایا جو بالکل قریب ہی تھا اورط داروغہ جی نے ایک سپاہی کو وہاں بھیج دیا۔ اس کے بعد سپاہی سے کہا۔ ”دوسرے ملزم کو پیش کرو“
کوئی سولہ سترہ برس کا لڑکا پیش ہوا۔ کالا کلوٹا، ننگے پاؤں، ننگے سر،
داروغہ جی: تو کون ہے بھئی؟
ملزم: قلعی کی دکان میں کام کرتا ہوں۔
داروغہ جی: کہاں رہتا ہے؟
ملزم: وہیں دُکان میں رہتا ہوں۔ وہیں سوتا ہوں۔
داروغہ جی: دو بجے رات کو کیوں نکلا تھا؟
ملزم: ٹٹّی آ رہی تھی۔
داروغہ جی: ٹٹّی گیا ہے؟
ملزم: حضور پاخانہ
داروغہ جی: حضور کے بچے نالی پر کیوں بیٹھا تھا، وہ تیرے باپ کا پاخانہ ہے۔ حرامزادوں نے شہر بھر کو سڑا رکھا ہے۔ نالی پر بیٹھ جاتے ہیں آرام سے
175
کیوں بے تو صبح کو سرکاری پاخانوں میں نہیں جا سکتا تھا؟
ملزم: حضور پیٹ میں درد ہو رہا تھا۔ بہت دیر سے روک رہا تھا۔ پھر مجبور ہو کر اِدھر اُدھر دیکھ بھال کر کواڑ دُکان کے کھولے اور چُپ چاپ نالی پر پیٹھ گیا۔ سرکاری پاخانوں تک جانے کی ہمّت نہ پڑی کہ کرفیو میں پکڑا جاؤں گا۔
داروغہ جی: اور اب جو پکڑا گیا۔ اچھا ضمانتی کون ہے تیرا؟
ملزم: میری ضمانت کون دے گا۔ میں تو پردیسی ہوں، تین دن ہوئے مجھے آئے ہوئے۔
داروغہ جی: (سپاہی سے) اسے لے جاؤ۔
میں یہ سب کچھ دیکھ سُن رہا تھا اور دل میں کہہ رہا تھا کہ اللہ اکبر کیا زمانہ آ گیا ہے کہ کھانے پر، پینے پر، کپڑے پر تو کرفیو تھا ہی اب چلنے پھرنے پر بھی ہو گیا۔ زندگی اجیرن ہو گئی مگر
ہم ڈھونڈھتے ہیں موت کو لیکن وہ بھی
دکھلا کے جھلک اور پَرے ہٹتی ہے
دل میں ایک محشر خیال لئے ہوئے تھانے سے چلا کہ الہٰی اِس
176
مصیبت مجسّم زمانے میں کیونکر جینا ہو گا۔ کسی رات بے رات ناگہانی مصیبت پڑ جائے تو کوئی اس کی مدد کو گھر سے نہ نکل سکے۔ کسی عورت کے ہاں بال بچّہ ہونے والا ہو یا رات کے ۲ بجے ہو جائے تو دائی کو نہیں بُلا سکتے۔ جو بے چارے جگہ جگہ مر رہے ہیں اور تکلیفیں اٹھا کر مر رہے ہیں وہ تو جان سے جا رہے ہیں اور جو جی رہے ہیں وہ زندہ درگور ہیں اور کہہ رہے ہیں ؏
ہم بھی کیا یاد کریں گے کہ خدا رکھتے تھے
 
ریختہ 51
------------
مگر ہے تو لڑکی ۔ آپ ہنسے جارہے ہیں سنئے سنئے ۔ہنسی کو روکئے سنئے۔ جب تک
اس کے ہاں کوئی بچہ پیدا نہ ہو یہ عورت نہیں کہلائی جاسکتی۔
ڈاکٹر: اب میں آپ کے سوال کا مفصل جوب دیتا ہوں۔ سنئے آپ علیگڑھ
کالج کے گریجویٹ ہیں نہایت شریف خاندان کے ہیں۔ آپ یہاں نہر
میں ایگزیکٹو انجینئر ہیں۔ آپ کو ایک ہار روپے ماہوار تنخواہ ملتی ہے ۔۔ آپ
کے پاس موٹر ہے۔ آپ بنسبت ریل کے سفر کے موٹر کے سفر کو زیادہ
پسند کرتے ہیں اور اسی پر دور دور سفر کرتے ہیں۔ آپ کی ڈاڑھی
بہت گھنی اور گھن دار ہے۔ اور ناف تک پہنچتی ہےاور جس وقت آپ ہیٹ
لگاکے چلتے ہیں تو چہرے پر چھاجوں نور برستا ہے۔
مریض: آپ تو ہم سے اتنے واقف ہیں کہ ہماری بیوی بھی نہ ہوں گی۔ اچھا
جناب یہ تو آپ اقرار ہی کر چکے ہیں کہ میں پاگل نہیں ہوں اور میرا دماغ
صحیح و سالم ہےتو سنئے آج چھے بجے میرا وصال ہے۔
ڈاکٹر: کیا کہا ؟
مریض: میرے عزیز دوست! تو میرا ہم جماعت بھی ہے اور اب دو برس سے
میری اور تیری نوکری بھی ایک ہی جگہ ہے۔ تو میری عادت سے واقف
ہے کہ میں جھوٹ نہیں بولا کرتا۔ میں سچ کہتا ہوں کہ آج چھے بجے
 
آخری تدوین:
ریختہ 52
------------
میں مر جاؤں گا۔
ڈاکٹر: ارے میاں ایسی جلدی کاہے کی ہے۔ ذرا ٹھر جاؤ دو چار دن بعد ہی مر جانا۔
مریض: تم جانتے نہیں رات کو میرے پاس جبرئیل آئے تھے
وہ یہ خوشخبری لائے تھے کہ حق تعالیٰ شانہُ بہت دنوں سے آپ
کے وصال کا متمنی ہے اور اب اس سے ہجر کے صدمے نہیں اٹھائے
جاتے اور سنو ان کے جانے کے بعد میرا وصال ہو گیا۔ راتوں رات
رات میرے سارے مریدوں کو خبر ہو گئی۔ صبح سویرے ہی میرے گھر میں ہزاروں
مرید جمع ہو گئے۔ اب مشکل یہ ہوئی کہ کفن یہاں ملتا نہیں۔ چھوٹی سے بستی
ہے۔ خیر نگر چودہ میل ہے۔ تم تو جانتے ہی ہو وہاں کچی یا پکی سڑک تو ہے نہیں فقط ٹرالی جاتی ہے۔ خیر دو چار آدمی وہاں گئے اور
کفن لے آئے۔ اور درزی کو بھی ساتھ لیتے آئے۔ خیر صاحب
وہ کفن سلا اور ہمیں اس میں لپیٹا۔ مگر وہ ذرا چھوٹا رہا۔ پاؤں ڈھکے
تو سر کھلا رہ گیا اور سر ڈھکا تو پاؤں کھلے رہ گئے۔ اب سب نے کہا کہ بھئی
اب کیاکریں۔ اب اگر ٹرالی پر گئے تو کل آئیں گے۔ اتنی دیر میں لاش
سڑ جائے گی۔ ایک آدمی نے کہا کہ ہمارے حضرت ولی اللہ تھے۔ دور
دور تک ان کا شہرہ تھا۔ لاکھوں ان کے مرید ہیں ان کا منہ کھلا رکھنا
چاہیئے تاکہ خلقت آپ کی زیارت سے مشرف ہو۔ سب کو یہ صلاح پسند
 
ریختہ 53
------------
آئی۔ چنانچہ پمارا منہ کھلا رہا اور ہم منہ کفن سے باہر نکالےچار کے کندھے پر
سوار چلے۔ اب ایک اور مصیبت آئی۔ لاکھوں آدمی جنازے کے ساتھ تھے
اور جو آتا تھا ہمارے ڈاڑھی کا ایک بال تبرک کے طور پر رکھ لیتا تھا۔ ہم ولی تو تھے
ہی یہ سب کچھ دیکھ رہے تھے اور خلقت کا یہ ہجوم دیکھ کر خوش ہو رہے
تھے۔ مگر ڈاڑھی کو لوگوں کے بے رحم ہاتھوں سے نہ بچا سکے۔ نتیجہ یہ ہو کہ
تھوڑی دیر میں ہماری ڈاڑھی صفا چٹ ہو گئی۔ جیسے کسی نے استرے
سے مونڈ دی۔ اب لوگوں نے کہا کہ بھئی ایسے ولی اللہ کا اللہ کے دربار
میں بغیر ڈاڑھی کے جانا مناسب نہیں ہے۔ اب کیا کرنا چاہیے۔ ہمارے
جنازے کو ایک جوہڑ کے کنارے رکھ دیا اور سب بیٹھ کر مشورہ کرنے
لگے کہ اب کیا کیا جائے۔ کسی نے کہا کہ بھٹے کے بال لگا دو۔ کسی نے
کہا چَوری (جس سے مکھیاں اڑاتے ہیں) کی ڈنڈی انہیں نگلا دو۔ مگر
کسی بات پر فیصلہ نہ ہوا۔ آخر یہ قرار پایا کہ جنازے کو گھر واپس لے چلو
اور ان کی بیوی سے پوچھو وہی کوئی ترکیب بتائیں گی۔ توبھئی ہم پھر گھر
گئے۔ بیوی نے جب یہ ماجرا سنا تو کہا گھبرانے کی کوئی بات نہیں ہے
تم ذرا ٹھہرو۔ میں ابھی آئی۔ اندر گئیں اور جھٹ ایک قینچی لے ائیں اور
لپک کر اپنے چوٹی جڑ سے کتر لی اور جناب خوب گاڑھا گاڑھا سریش
لے کر وہ چوٹی ہمارے ٹھوڑی پر چپکا دی۔ اب ہم پھر چلے۔ ادھر تو ہمیں
قبر میں اتار کرمٹی وٹی دے کر لوگ کھسکے اور ادھر منکر نکیر آن موجود ہوئے
ہمارا منہ کھلا ہوا تھا اور ڈڑھی ہماری چھاتی پر پڑی ہوئی بل کھا رہی تھی۔ آتے
 
آخری تدوین:
ریختہ 54
------------
ہی ان کی نظر ڈاڑھی پر پڑی۔ بڑے بھنائے کہ یہ کس قسم کا آدمی ہے جس کی
ایسی بل دار ڈاڑھی ہے اور سچی بات ہے کہ وہ ڈرے بھی۔ دونوں تھر تھر
کانپنے لگے۔ ایک دوسرے سے کہتا تھا کہ تو سوال کر اور پیچھے کھسکا جاتا
تھا۔ اب یہاں جو لگی دیر تو حضرت جبریل آئے اور ان سے کہا یہ تم
دونوں کھڑے کیا کھسر پھسر کر رہے ہو؟ انہوں نے کہا سوال و جواب
کرنے کی ہمت نہیں پڑتی۔ ڈر لگتا ہے۔ انہوں نے جواب دیا کہ یہ اللہ کے
خاص الخاص بندے ہیں ان سے کچھ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔
چنانچہ ہمیں برے ادب اور تعظیم کے ساتھ حق سبحانہ کے دربار میں لے
گئے وہاں ہم اللہ کے حکم سے کھڑے ہو گئےاور جناب باری تعالیٰ نے
فرمایا کہ اے میرے خاص الخاص بندے آ ہم تیرے لیے بہت دن سے
بیقرار تھے۔
اتنا کہہ کر مریض بے ہوش ہو گیا۔ بیوی اتنی دیر میمں کئی مرتبہ بولنے کو ہوئیں مگر
ڈاکٹر صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے منع کر دیا۔اب داکٹر صاحب نے
ایک دوا مریض کے حلق میں ڈالی اور ان کی بیوی سے کہا کہ اب انہیں سونے
دو۔ حیران نہ کرنا صبح کو ان شاء اللہ اچھے ہو جائیں گے۔
ان باتوں کو مہینوں گزر گئے مگر اب تک ڈاکٹر صاحب انجینئر صاحب کو
چھیڑا کرتے ہیں کہ حق تعالیٰ شانہ کا وصال یاد ہے اور دیکھنا وہ تمہاری
بیوی کے بال نکل آئے یا ابھی تک پر قینچ ہی ہیں ۔
 
ریختہ 56
------------
ہماری عید
،،دیکھنا سنتے بھی ہو یا روئی بھر لی کان میں ، کتنی دفعہ کہا ہے مگر آج جنے
(جانے) تمہیں کیا ہو گیا ہے صبح سے جو کاغذوں ہر پلے ہیں تو سر اٹھانے
کا نام ہی نہیں لیتے۔،،
بھئی بعض دفعہ کی بات بھی کہ آگ لینے کو جائیں پیمبری مل جائے ۔
ہو جاتی ہے۔ اب دیکھیے نا ہمیں شام کو ایک مشاعرے میں جانا تھا۔ یوں تو
بے چارے دفتر والوں کو فرصت کہاں ملتی ہے صبح سے شام تک کولہو کے
بیل بنے رہتے ہیں۔ سوچا تھا کل چھٹی ہے صبح ہی صبح کاغذ پنسل لے کر بیٹھ
جائیں گے کچھ نہ کچھ دال دلیا ہو جائے گا چنانچہ اب لے کر بیٹھے تھے کہ
دو چار شعر لکھ ڈالیں مگر مطلع ہی اٹک کر رہ گیا، ایک مصرعہ تو ہوا کہ ٰ؎

آج لکھتے ہیں قصیدہ ہم تمہاری شان میں
پھر بہتیرا دماغ پر زور ڈال رہے تھے ۔ بیس پچیس منٹ ہو گئے جھک
مارتے مگر دوسرا مصرعہ نہ جڑا۔ آب آپ ہی فرمایئے ۔ اسے ندائے غیبی نہ سمجھیں
تو کیا سمجھیں کہ ہاتف نے ہماری بیگم کی زبانی دوسرا مصرعہ ہمارے پاس
 
ریختہ 57
------------
بھیج دیا۔ لیجیے مطلع ہو گیا۔؎
آج لکھتے ہیں قصیدہ ہم تمہاری شان میں
دیکھنا سنتے بھی ہو یا روئی بھر لی کان میں
ہم نے اچھل کر کہا بیگم ! واللہ نہ ہوئیں تم بادشاہی کے زمانے میں خدا کی قسم
تمہارا منہ موتیوں سے بھر دیا جاتا۔ بھئی واہ کیا مصرعہ عنایت فرمایا ہے آپ نے
مزہ آگیا۔
بیگم: یا الٰہی خیر ! یہ آج تمہیں کیا ہو گیا ہے رات کو تو بھلے چنگے سوئے تھے۔
ہم: بیگم ہوا ہوایا کچھ نہیں۔ بس اب دو منٹ میں پوری کیے لیتا ہوں ۔ مطلع
کی دیر تھی۔ اب کیا ہے چٹکی بجاتے ہی پندرہ شعر لو۔
بیگم : آج تو بڑی اول جلول باتیں کر رہے ہو۔ میں کہتی ہوں پرسوں عید ہے
کچھ آئے گا بھی یا نہیں ۔ چھے دن سے برابر کہہ رہی ہوں اور تم ہو کہ روز آج
کل آج کل کئے جاتے ہو۔
ہم : بیگم گھبراؤ نہیں کل انشاء اللہ تمہارے سارے کام ہو جائیں گے۔
بیگم : اور وہ سویاں کب آئیں گی ؟
ہم ب وہ بھی کل ہی آجائیں گی۔
بیگم: اور وہ چنو کا سویٹر تو آیا ہی نہیں ۔ اس کی ٹوپی بھی میلی چیکٹ ہو گئی ہے
وہی پہنے پہنے پھر رہا ہے۔ اب کیا عید کو بھی وہی اوڑھے گا؟ کَے دن سے
 
Top