حیرت انگیز خبر- فلسطینیوں نے اسرائیلی ایف سولہ مار گرایا

قیصرانی

لائبریرین
ایک پراکسی طالبان والی جو گلے پڑ چکی ہے اس کے مزے سے جی نہیں بھرا ہمارا؟۔:)
بے خبری کی بھی حد ہوتی ہے بھئی۔
بوسنیا کی جنگ ہو یا دیگر جنگیں۔ پاکستان نے اکثر میں اپنی شمولیت کو خفیہ رکھا ہے۔ اسی طرح کی جنگی شمولیت کو میں نے پراکسی بولا ہے :)
 
آپ صرف جذبات سے سوچتے ہیں اور ہم رئیلسٹیک سوچ کے ساتھ لڑائی کی بات کرتے ہیں ۔ پرپریشن کے بغیر ایک کمپنی کو بھی کہیں بھیجا جائے تو آدھے واپس نہیں آتے پھر۔ جنگ میں تیاری اتنی لازمی ہے جتنی روٹی بنانے میں آٹے کی ۔ارے میرے بھائی سٹاک -ویپنز-ایمو - میڈیکس - لڑائی کا سکیل - ممکنہ دشمنی حملوں کا جواب اور اپنا بچاؤ ہر طرح کے ہتھیار کا جواب - بدلتے ہوئے جنگی حالات کے مطابق کی حکمت عملیاں - دشمن کو بلیڈ کرنے کے سرپرائز - دھوکے بازیاں چالبازیاں - منیمم اور میکسیمم جنگی حدیں اور بہت کچھ ہوتا ہے جسے وار اسٹریٹیجی کہتے ہیں ایسے اندھا دھند کوئی کرے گا تو ایسا انجام ہی ہو گا ۔ جذبہ اگر اڑ کر سی اے پی کر سکتا ہے اور ائیر سپریئیوریٹی گین کر سکتا ہے تو کر لے :rolleyes:

اپ کی بات درست ہے
مگر فلسطنین کوئی ملک ہی نہیں۔ دربدر پھر رہے ہیں۔ پورے اسرائیل سے بے دخل ہوکر غزہ میں جمع ہیں۔ یہ کیا تیاری کریں گے۔ یہ تو بس ایسا ہی ہے کہ پتھر مار لیں وہی بھی دن رات ذلیل ہوکر غزہ میں اور خود اسرائیل میں
تیاری تو کرنی تھی مصر، شام، جورڈن، اور لبنان کو۔ مگر یہ لوگ خود ہار مان کر بیٹھ رہے
 

عاطف بٹ

محفلین
آپ صرف جذبات سے سوچتے ہیں اور ہم رئیلسٹیک سوچ کے ساتھ لڑائی کی بات کرتے ہیں ۔ پرپریشن کے بغیر ایک کمپنی کو بھی کہیں بھیجا جائے تو آدھے واپس نہیں آتے پھر۔ جنگ میں تیاری اتنی لازمی ہے جتنی روٹی بنانے میں آٹے کی ۔ارے میرے بھائی سٹاک -ویپنز-ایمو - میڈیکس - لڑائی کا سکیل - ممکنہ دشمنی حملوں کا جواب اور اپنا بچاؤ ہر طرح کے ہتھیار کا جواب - بدلتے ہوئے جنگی حالات کے مطابق کی حکمت عملیاں - دشمن کو بلیڈ کرنے کے سرپرائز - دھوکے بازیاں چالبازیاں - منیمم اور میکسیمم جنگی حدیں - پلان بی - پلان سی - حتی کے جنگ بندی تک کی صورت حال تک اور بہت کچھ ہوتا ہے جسے وار اسٹریٹیجی کہتے ہیں ایسے اندھا دھند کوئی کرے گا تو ایسا انجام ہی ہو گا ۔ جذبہ اگر اڑ کر سی اے پی کر سکتا ہے اور ائیر سپریئیوریٹی گین کر سکتا ہے تو کر لے :rolleyes:
عمران بھائی، آپ کا کیا خیال ہے کہ فلسطینی اگر ان سب اہلیتوں کے حامل ہونے کی صلاحیت رکھتے تو وہ باز رہتے؟ وہ بےچارے تو چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک ایسی حالت میں ہیں کہ ان کی گزشتہ تین نسلوں نے خواب میں امن نہیں دیکھا ہوگا۔ باقی مسلم ممالک جو اسلام کے نام پر بھائی چارے کا راگ الاپتے ہیں، ان مخنثوں پر بھی کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں؟
باقیوں کو چھوڑیں ہم اپنے ملک کی ہی بات کرلیتے ہیں۔ پاکستان کا کام محض سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اپنی رائے دے کر ختم تو نہیں ہوجاتا۔
 

ساجد

محفلین
طالبان جب گلے پڑے ہیں جب پراکسی ختم کی ہے
جب تک پراکسی جاری تھی پاکستان کامیاب تھا
تو غلطی خود بخود واضح ہو گئی۔ کسی گروپ کو بھی مسلح کرو گے تو اسے غیر مسلح کر کے قومی دھارے میں لانا قریب قریب نا ممکن ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی طاقت سے بہت سارے دیگر بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ نے ان طالبان کی پراکسی ختم کی امریکہ نے انہیں زیادہ معاوضے پر پراکسی بنا لیا۔
آپ کا شکریہ کہ بات کو اس موڑ تک لائے جہاں دو جملوں میں پوری کہانی کا خلاصہ کہنا ممکن ہوا۔
 

ساجد

محفلین
بوسنیا کی جنگ ہو یا دیگر جنگیں۔ پاکستان نے اکثر میں اپنی شمولیت کو خفیہ رکھا ہے۔ اسی طرح کی جنگی شمولیت کو میں نے پراکسی بولا ہے :)
پاکستان کو پہلے ہی سے ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ اپنے مفادات کا تعین کرتے ہوئے حدود متعین کرنا چاہئیں تھیں۔ اس ٹھیکیداری نے ہی ہمارے پاکستان کا کباڑہ کر دیا ہے۔:)
 

عسکری

معطل
اپ کی بات درست ہے
مگر فلسطنین کوئی ملک ہی نہیں۔ دربدر پھر رہے ہیں۔ پورے اسرائیل سے بے دخل ہوکر غزہ میں جمع ہیں۔ یہ کیا تیاری کریں گے۔ یہ تو بس ایسا ہی ہے کہ پتھر مار لیں وہی بھی دن رات ذلیل ہوکر غزہ میں اور خود اسرائیل میں
تیاری تو کرنی تھی مصر، شام، جورڈن، اور لبنان کو۔ مگر یہ لوگ خود ہار مان کر بیٹھ رہے
غلط بات ۔ فلسطینی ملک نہیں پر ان کے پاس عسکری ونگ ہے وہ اگر ایک سوچ کے ساتھ اور ایک پلاننگ کے ساتھ آگے بڑھیں تو 5 سال میں حزب اللہ جیسی سمارٹ فورس بنا سکتے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ فلسطینی جاسوس اور مخبر ہیں ان کو کلئیر کر کے آپس میں ایک ہو جائیں ۔پھر سٹیپ بائی سٹیپ ہتھیار چنیں جو ان کو سووٹ کریں ان کی سمگلنگ کرتے رہیں مستقل مذاجی سے بے شک پکڑے جائیں کئی بار ۔ پر راکٹ باری نا کریں بالکل بھی ۔ اینٹی آرمرڈ اینٹی پرسنل اور اینٹی ائیر کرافٹ سمیت اگر اینٹی شپ بھی ہو جائے تو کیا بات ۔ اسطرح ایک ہی ماڈل کے اور ایک ہی قسم کے کے ہتھیاروں سے لیس ہوں تاکہ بعد میں مشکل نا ہو ۔ اسرائیل خود بخود پیچے ہٹ جائے گا پھر 10 -12 سال بعد لڑے گا بالکل ویسے جیسے حزب اللہ نے کیا ۔ سب کو ٹریننگ دی جائے اور جیسے اب شوپیس پر پیسا ضائع کر رہے ہیں یونیفارمز اور دکھاوے کی گاڑیوں پر اس کو بند کریں ایک ایک پائی سمارٹ ہتھیاروں کی سمگلنگ پر صرف کریں مائنز کا بہت استمال کریں یہ 6 ڈالر کی بلا ٹینک اے پی سی کھا جاتی ہے ااس سے دشمن کو کم پیسے سے زچ کر دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح کنٹرولڈ بلاسٹ ڈیوائیسز کا استمال کریں جیسے عراق نے ائی ای ڈیز لگا لگا کر امریکہ کی مت مار دی ہے۔ ایک ہی کلیپر کی گنز لیں تا کہ بالکل مشکل نا ہو ۔ ارے میرے بھائی درہ کے کاریگر کیا کیا چیزیں بنا سکتے ہیں بغیر کسی ہیوی مشین کے ۔جب 5 سال میں کم از کم اس قابل ہوں کے دشمن کو اتنا نا سہی سہی آدھا بلییڈ کر کے رکھ دیں تو جی جان سے لڑیں ایک بار اور بتا دیں کہ وہ لڑنا جانتے ہیں بالکل سمارٹ چھوٹی سی فوج کی طرح ۔موبیلیٹی - ہتھیاروں کا استمال اور جنگی مہارت ثابت کریں پھر ۔
 

قیصرانی

لائبریرین
پاکستان کو پہلے ہی سے ایسا نہیں کرنا چاہئیے تھا۔ اپنے مفادات کا تعین کرتے ہوئے حدود متعین کرنا چاہئیں تھیں۔ اس ٹھیکیداری نے ہی ہمارے پاکستان کا کباڑہ کر دیا ہے۔:)
آپ نے شاید یورپ میں حالیہ جنگوں کو تفصیل سے نہیں پڑھا کہ جب اقوام متحدہ کی امن فوج کے ڈینش اراکین سرب فوجیوں کے ساتھ مل کر ہم جنس پرستی کے مرتکب ہوتے رہے تھے۔ اس وقت شہریوں کو بچانے کے لئے جو گولہ بارود استعمال ہوتا تھا، وہ پاکستان نے ہی مہیا کیا تھا۔ ورنہ تو یہ سب جنگیں ختم بھی ہو جاتیں اور کسی کو کوئی ثبوت بھی نہ ملتا :)
 

عسکری

معطل
عمران بھائی، آپ کا کیا خیال ہے کہ فلسطینی اگر ان سب اہلیتوں کے حامل ہونے کی صلاحیت رکھتے تو وہ باز رہتے؟ وہ بےچارے تو چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے ایک ایسی حالت میں ہیں کہ ان کی گزشتہ تین نسلوں نے خواب میں امن نہیں دیکھا ہوگا۔ باقی مسلم ممالک جو اسلام کے نام پر بھائی چارے کا راگ الاپتے ہیں، ان مخنثوں پر بھی کوئی ذمہ داری عائد ہوتی ہے یا نہیں؟
باقیوں کو چھوڑیں ہم اپنے ملک کی ہی بات کرلیتے ہیں۔ پاکستان کا کام محض سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں اپنی رائے دے کر ختم تو نہیں ہوجاتا۔
فلسطین اتنا غریب نہیں ہے آپ نے صرف لڑائی کے وقت والا فلسطین دیکھا ہے اصل میں فلسطین اتنا گیا گزرا نہیں 5 ارب ڈالر کی جی ڈی پی ہے جس کی ترقی کی شرح 8 فیصد تھی ہماری ڈبل ۔1924 ڈالر فی فلسطینی کماتا ہے اور یہ بھی کوئی برا نہیں ۔ اصل بات ہے ایک سوچ ایک عزم اور ایک ارادے کی جس کو لیڈ کرنے والے اپنے منشور اور اپنے مشن پر نظر رکھیں اور ادھر ادھر نا دیکھیں بس ایک مشن ہو کہ فوج کا جواب ایک فوج سے دینا ہے ۔ ان کو ٹریننگ ہر کوئی دے سکتا ہے وہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اصل مسئلہ ہے قیادت کا فقدان نا تجربہ کاری اور اندھا دھند کی لڑائی جس نے اس حالت میں پہنچایا ۔
 

عاطف بٹ

محفلین
فلسطین اتنا غریب نہیں ہے آپ نے صرف لڑائی کے وقت والا فلسطین دیکھا ہے اصل میں فلسطین اتنا گیا گزرا نہیں 5 ارب ڈالر کی جی ڈی پی ہے جس کی ترقی کی شرح 8 فیصد تھی ہماری ڈبل ۔1924 ڈالر فی فلسطینی کماتا ہے اور یہ بھی کوئی برا نہیں ۔ اصل بات ہے ایک سوچ ایک عزم اور ایک ارادے کی جس کو لیڈ کرنے والے اپنے منشور اور اپنے مشن پر نظر رکھیں اور ادھر ادھر نا دیکھیں بس ایک مشن ہو کہ فوج کا جواب ایک فوج سے دینا ہے ۔ ان کو ٹریننگ ہر کوئی دے سکتا ہے وہ کوئی بڑی بات نہیں ہے اصل مسئلہ ہے قیادت کا فقدان نا تجربہ کاری اور اندھا دھند کی لڑائی جس نے اس حالت میں پہنچایا ۔
میرے بھائی بات صرف جی ڈی پی کی نہیں ہے، ان پر پابندیاں کتنی ہیں اس بات پر بھی ذرا توجہ دیں۔ حسنی مبارک کے دور تک تو وہ لوگ بےچارے ہمسایہ ملک مصر، جس سے ان کا مذہبی اور نظریاتی رشتہ بھی ہے، سے اشیائے خورد و نوش لینے کو بھی ترس جاتے تھے۔ یہ تو اب آ کر محمد مرسی اور ہشام قندیل کے دور میں کچھ حکمت عملی میں تبدیلی کا امکان دکھائی دے رہا ہے۔
کیا یہی کافی نہیں کہ چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے وہ لوگ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ڈٹے ہوئے ہیں اور جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہونے اور عالمی طاقتوں کی آشیرباد کے باوجود اسرائیل مکمل طور پر ان کے عسکریت پسند گروہوں کو ختم نہیں کرپایا۔ اسے بہرطور ان کی بہتر حکمت عملی ہی کہا جائے گا کہ امریکہ جیسے طاقتور ترین ملک کی مکمل اور غیرمشروط حمایت رکھنے والے اسرائیل کے خلاف ان کے عسکریت پسند گروہ آج بھی برسرپیکار ہیں۔
آپ مجھ سے بہتر جانتے ہوں گے کہ شمالی سری لنکا میں بھارت کے تعاون سے وِلوپلائی پربھاکرن نے تامل ٹائیگرز کی جو تنظیم 1976ء میں بنائی تھی، اسے 2009ء میں صرف 33 سال کے عرصے کے اندر پاکستان کی مدد سے سری لنکا جیسے چھوٹے ملک نے کس طرح بیخ و بن سے اکھاڑ کر رکھ دیا۔ سو، اس بنیاد پر آپ فلسطینیوں کی حکمت عملی کو اتنا انڈر اسٹیمیٹ بھی نہیں کرسکتے۔
 

عسکری

معطل
میں آپ سے اختلاف نہیں کر رہا اس سب میں پر آخری بات سب سے بڑی غلطی ہے ان کو انڈر اسٹیمیٹ کی اجا چکا ہے اب اور کیا کریں اصل میں فلسظین پیچھے کی طرف گامزن ہے ۔ پہلے نا اتنی پابندیاں تھیں نا یہ حال تھا جوں جوں کیپیبلٹی کم ہوتی گئی وہ لوگ چڑھتے گئے سر پر ۔ جب ائیر پورٹ کھلا تھا غزہ کا مغربی کنارے کا جب کوئی کھیراؤ نا تھا تب بھی ان کی آپس کی چپکلس تھی فتح اور حماس کی آپس کی ۔ اب حالات پیچھے جا رہے ہیں جن کو سنبھالنے کے لیے کیپیبلٹی گین کرنی ہو گی جوں جوں ہتھیار اتے جائیں گے فوج بنتی جائے گی علاقوں پر کنٹرول مستحکم ہوتا جائے گا ویسے ویسے اسرائیل محدود ہوتا جائے گا ۔ جس طرح اب چل رہے ہیں اس طرح بس خاتمہ ہی ہو گا ۔ ویسے بچا ہی کیا ہے ۔ کم از کم پہلے زمینی فوج کو نقصان پہنچانے کا فل بندوبست کریں تا کہ یہ تو آرام سے بیٹھے پھر آگے کی سوچیں یہ جس طرح اب چلا جا رہا ہے یہ ٹوٹل ڈسٹرکشن ہے ۔
 
تو غلطی خود بخود واضح ہو گئی۔ کسی گروپ کو بھی مسلح کرو گے تو اسے غیر مسلح کر کے قومی دھارے میں لانا قریب قریب نا ممکن ہو جاتا ہے کیونکہ ان کی طاقت سے بہت سارے دیگر بھی فائدہ اٹھانا شروع کر دیتے ہیں ۔ آپ نے ان طالبان کی پراکسی ختم کی امریکہ نے انہیں زیادہ معاوضے پر پراکسی بنا لیا۔
آپ کا شکریہ کہ بات کو اس موڑ تک لائے جہاں دو جملوں میں پوری کہانی کا خلاصہ کہنا ممکن ہوا۔

مسلح کرنا پڑتا ہے
جیسے لیبیا میں۔ جیسے شام میں
مینج بھی کرسکتے ہیں
سب ممکن ہے
 
میں آپ سے اختلاف نہیں کر رہا اس سب میں پر آخری بات سب سے بڑی غلطی ہے ان کو انڈر اسٹیمیٹ کی اجا چکا ہے اب اور کیا کریں اصل میں فلسظین پیچھے کی طرف گامزن ہے ۔ پہلے نا اتنی پابندیاں تھیں نا یہ حال تھا جوں جوں کیپیبلٹی کم ہوتی گئی وہ لوگ چڑھتے گئے سر پر ۔ جب ائیر پورٹ کھلا تھا غزہ کا مغربی کنارے کا جب کوئی کھیراؤ نا تھا تب بھی ان کی آپس کی چپکلس تھی فتح اور حماس کی آپس کی ۔ اب حالات پیچھے جا رہے ہیں جن کو سنبھالنے کے لیے کیپیبلٹی گین کرنی ہو گی جوں جوں ہتھیار اتے جائیں گے فوج بنتی جائے گی علاقوں پر کنٹرول مستحکم ہوتا جائے گا ویسے ویسے اسرائیل محدود ہوتا جائے گا ۔ جس طرح اب چل رہے ہیں اس طرح بس خاتمہ ہی ہو گا ۔ ویسے بچا ہی کیا ہے ۔ کم از کم پہلے زمینی فوج کو نقصان پہنچانے کا فل بندوبست کریں تا کہ یہ تو آرام سے بیٹھے پھر آگے کی سوچیں یہ جس طرح اب چلا جا رہا ہے یہ ٹوٹل ڈسٹرکشن ہے ۔

اسرائیل سے لڑنا امریکہ سے لڑنا ہے
یہ درست ہے کہ فلسطینی یکجا نہیں۔ پہلے تو وہ قومی جنگ لڑرہے تھے اور اس میں بھی گروپ بازی تھی۔ عرب ان کو اپنے مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے رہے
اب وقت اگیا ہے کہ انھیں پیچھے سے سپورٹ بھی ہو اور ان کی قیادت کی سمت بھی درست ہو۔
آخری جنگ شام میں لڑی جائے گی۔
 

عسکری

معطل
اسرائیل سے لڑنا امریکہ سے لڑنا ہے
یہ درست ہے کہ فلسطینی یکجا نہیں۔ پہلے تو وہ قومی جنگ لڑرہے تھے اور اس میں بھی گروپ بازی تھی۔ عرب ان کو اپنے مقاصد کے لیے بھی استعمال کرتے رہے
اب وقت اگیا ہے کہ انھیں پیچھے سے سپورٹ بھی ہو اور ان کی قیادت کی سمت بھی درست ہو۔
آخری جنگ شام میں لڑی جائے گی۔
پر اسرائیل کو حملے کرنے سے باز رکھا جا سکتا ہے پر ایسے ۔ ویڈیو کے 12ویں منٹ میں جو کچھ وہ کہہ رہا ہے وہی میں یہاں کہہ رہا تھا اتنی دیر سے

 

ساجد

محفلین
آپ نے شاید یورپ میں حالیہ جنگوں کو تفصیل سے نہیں پڑھا کہ جب اقوام متحدہ کی امن فوج کے ڈینش اراکین سرب فوجیوں کے ساتھ مل کر ہم جنس پرستی کے مرتکب ہوتے رہے تھے۔ اس وقت شہریوں کو بچانے کے لئے جو گولہ بارود استعمال ہوتا تھا، وہ پاکستان نے ہی مہیا کیا تھا۔ ورنہ تو یہ سب جنگیں ختم بھی ہو جاتیں اور کسی کو کوئی ثبوت بھی نہ ملتا :)
اچھا آپ گولہ بارودی پراکسی کی بات کر رہے ہیں ۔ میں بھی سوچ رہا تھا کہ وہاں پاکستان نے کون سی پراکسی لڑی سوائے بارود سپلائی کے۔ خیر ایسا تو ہر وہ ملک کرتا ہے جو اسلحے کی پیداوار کی صلاحیت رکھتا ہے۔ :)
مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے جب اپنی سرحد کے اندر گروہوں کو مسلح کر کے ان سے قومی مفادات کے تحفظ کروانے کی بے وقوفی کی جاتی ہے ۔ یعنی باقاعدہ فوج کے کرنے کا کام ان عناصر سے لیا جاتا ہے جو کسی وقت بھی اپنی وفاداری بدل سکتے ہیں اور آپ کو ان پر قانونی اختیار نہیں ہوتا۔ تب یہ پراکسی جان کو آ جاتی ہے۔
 

ساجد

محفلین
غلط بات ۔ فلسطینی ملک نہیں پر ان کے پاس عسکری ونگ ہے وہ اگر ایک سوچ کے ساتھ اور ایک پلاننگ کے ساتھ آگے بڑھیں تو 5 سال میں حزب اللہ جیسی سمارٹ فورس بنا سکتے ہیں۔ سب سے پہلا مسئلہ فلسطینی جاسوس اور مخبر ہیں ان کو کلئیر کر کے آپس میں ایک ہو جائیں ۔پھر سٹیپ بائی سٹیپ ہتھیار چنیں جو ان کو سووٹ کریں ان کی سمگلنگ کرتے رہیں مستقل مذاجی سے بے شک پکڑے جائیں کئی بار ۔ پر راکٹ باری نا کریں بالکل بھی ۔ اینٹی آرمرڈ اینٹی پرسنل اور اینٹی ائیر کرافٹ سمیت اگر اینٹی شپ بھی ہو جائے تو کیا بات ۔ اسطرح ایک ہی ماڈل کے اور ایک ہی قسم کے کے ہتھیاروں سے لیس ہوں تاکہ بعد میں مشکل نا ہو ۔ اسرائیل خود بخود پیچے ہٹ جائے گا پھر 10 -12 سال بعد لڑے گا بالکل ویسے جیسے حزب اللہ نے کیا ۔ سب کو ٹریننگ دی جائے اور جیسے اب شوپیس پر پیسا ضائع کر رہے ہیں یونیفارمز اور دکھاوے کی گاڑیوں پر اس کو بند کریں ایک ایک پائی سمارٹ ہتھیاروں کی سمگلنگ پر صرف کریں مائنز کا بہت استمال کریں یہ 6 ڈالر کی بلا ٹینک اے پی سی کھا جاتی ہے ااس سے دشمن کو کم پیسے سے زچ کر دیا جاتا ہے ۔ اسی طرح کنٹرولڈ بلاسٹ ڈیوائیسز کا استمال کریں جیسے عراق نے ائی ای ڈیز لگا لگا کر امریکہ کی مت مار دی ہے۔ ایک ہی کلیپر کی گنز لیں تا کہ بالکل مشکل نا ہو ۔ ارے میرے بھائی درہ کے کاریگر کیا کیا چیزیں بنا سکتے ہیں بغیر کسی ہیوی مشین کے ۔جب 5 سال میں کم از کم اس قابل ہوں کے دشمن کو اتنا نا سہی سہی آدھا بلییڈ کر کے رکھ دیں تو جی جان سے لڑیں ایک بار اور بتا دیں کہ وہ لڑنا جانتے ہیں بالکل سمارٹ چھوٹی سی فوج کی طرح ۔موبیلیٹی - ہتھیاروں کا استمال اور جنگی مہارت ثابت کریں پھر ۔
عسکری بہت شاندار لکھا تم نے۔ اور سچ بھی یہی ہے کہ فلسطینی عدم منصوبہ بندی اور گروہ بندی کا شکار ہیں۔ حزب اللہ کا آپ نے ذکر کیا تو یہاں یہ نکتہ دھیان میں رکھنا بہت ضروری ہے کہ عرب ممالک بھلے اسرائیل سے دشمنی کا اظہار کرتے ہیں لیکن حزب اللہ کے معاملے میں ان کی پالیسی اسرائیل موافق ہوتی ہے کیونکہ حزب اللہ ایران نواز ہے اور ایران ہی کی وجہ سے جہاں اسرائیل شام میں حکومت گرانے میں پیش پیش ہے وہیں اسے عرب ملکوں کی مکمل حمایت ملتی ہے ایسے ہی اردن اور فلسطین کی گروہ بندی میں بھی وہ فائدہ اٹھاتا ہے۔
میں سمجھتا ہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ ایران اور عرب ممالک امت مسلمہ کے وسیع تر مفاد کے لئے اپنے اپنے حصار سے نکل آئیں ورنہ یاد رکھیں کہ جس طرح سے وہ اپنی مسلکی جنگ لڑ رہے ہیں ایک ایک کر کے اسرائیل کا نشانہ بن جائیں گے۔ میں اس میں زیادہ زور عرب حکومتوں کو دوں گا کہ وہ ایران دشمنی میں ایک بڑی آفت کو اپنے اوپر مسلط نہ کریں۔ بلکہ ایران نے اس وقت تک جو مؤقف امریکہ اور اسرائیل کے لئے اختیار کیا ہے اس میں اپنی آواز شامل کر کے اسرائیل کو ٹف ٹائم دیں۔
 
Top