حقیقی غلامی : زبان دانی کا رجحان

عثمان ندیم نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 11, 2019

  1. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    گاؤں دیہات میں انگریزی زبان سے لوگ مرعوب زیادہ ہوتے ہیں اور پنجابی بولنا معیوب نہیں سمجھتے جبکہ شہری علاقوں میں پنجابی زبان بولنا معیوب سمجھا جاتا ہے اور انگریزی زبان قدرے کم مرعوبیت کا سبب بنتی ہے۔
     
  2. کامران عاشر

    کامران عاشر محفلین

    مراسلے:
    530
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Busy
    معذرت اگر آپ نے ایسا محسوس کیا ہو ، صرف آپ کے حقیقی غلامی والے نقطہ نظر سے اختلاف ہے

    سنگاپور اور چین ایسے ممالک ہیں جہاں ان لوگوں کی حکومت ہے جن کی مادری زبان چینی ہے لیکن سنگاپور میں روزمرہ کے بول چال میں چینی کی جگہ انگلش کا استعمال ہوتا ہے
    انگلش زبان بولنے یا سمجھنے کی اہمیت ان چینی لوگوں سے پوچھیں جن کو سکول یا کالج میں انگلش کا ایک لفظ بھی نہیں پڑھایا گیا ، یہی لوگ جب سیاح یا ورکر بن کر دیگر ممالک کا رخ کرتے ہیں تو انگلش نہ سمجھ سکنے کی وجہ سےبہت سی مصیبتیں جھیلتے ہیں
     
  3. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    انگریزی سیکھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ یہ ہماری مجبوری ہے کہ انگریزی بین الاقوامی زبان ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,480
    اسی لیے
     
  5. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,480
    سید ذیشان سنگاپور میں اکثریت چینی ہونے کے باوجود انگریزی کا استعمال کثرت سے ہوتا ہے۔ کیا آپ تجربہ سے بتا سکتے ہیں کہ ایسا کسی خاص پالیسی کے تحت کیا گیا یا انگریزوں سے مرعوبیت کا نتیجہ ہے؟
     
  6. سید ذیشان

    سید ذیشان محفلین

    مراسلے:
    6,493
    موڈ:
    Asleep
    The History of English Language and its Popularity in Singapore
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,480
    دلچسپ:

    Unity
    The language barrier was very common among most ancient Singapore residents until the colonisation age. Most people who knew multiple languages united together when the English language came into being. They used the newly acquired language to do business together without any cultural barrier between them. The children learned English at home and in school, and this reduced discrimination among children from different cultural origins. People from different ethnicities also respected each other’s culture and their way of life.
    یعنی سنگاپور میں بھانت بھانت کی زبانیں بولنے والے انگریزی زبان میں ضم ہو کر ایک قوم بن گئے۔
    اسرائیل میں بھانت بھانت کے ممالک سے آئے یہودی عبرانی زبان میں ضم ہو کر ایک قوم بن گئے۔
    اور ادھر پاکستا ن میں بھانت بھانت کی زبانیں بولنے والوں کو جب قومی زبان اردو میں ضم کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے اپنا ملک ہی الگ کر لیا۔

    قوم قوم کا فرق۔
     
  8. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    11,242
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    عبدالقیوم چوہدری پھائی! یہاں تک مراسلے پڑھے۔۔۔اور ان دو تین مراسلوں پہ بہت ہنسی آ رہی ہے۔ :D عثمان ندیم کی سادگی اور جاسم کے بارے نہ جاننا۔۔۔۔:)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  9. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    11,242
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    کہیں پڑھا تھا کہ زبان اکیلی نہیں آ تی، بلکہ اپنے ساتھ اپنی پوری ثقافت لاتی ہے۔ اور واقعی یہ مشاہدہ اکثر ہوتا رہتا ہے۔
    ہم ہینڈ واش کر کے ٹیبل پہ جیم ٹوسٹ، بٹر وغیرہ سے بریک فاسٹ کرنے والے چوری، کسی وغیرہ گواچ بیٹھے ہیں۔ (نئے موبائل میں زیر زبر پیش وغیرہ یا تو ہیں نہیں یا مجھے نہیں پتہ۔۔۔چوری میں چ پہ پیش لگالیں:))
     
    آخری تدوین: ‏جون 13, 2019 5:30 شام
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,480
    موصوف محفل میں نئے وارد ہیں، کم عمر ہیں اس لئے ہاتھ ہلکا رکھا ہوا ہے :)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  11. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,463
    آپ بھی تو '23 ' سال کے 'معصوم' نوجوان ہیں۔ ;)
     
  12. جاسمن

    جاسمن مدیر

    مراسلے:
    11,242
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Fine
    :D
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. atta

    atta محفلین

    مراسلے:
    89
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Breezy
    بات زبان سے چلی اور محمد بن قاسم تک پہنچ گئ..حقیقت یہ ہے کہ جو قوم اپنی زبان چھور کر دوسروں کی نقالی کرتی ہے وہ قوم اپنی پہچان اپنی تہذیب و تمدن اور اپنا تشخص بھی گم کر دیتی ہے.اس لئے انگریزی الفاظ کی ترویج و اشاعت کے بجائے اپنی قومی زبان کو فروغ دینے کی ضرورت ہے.
    یہ بہت بڑا المیہ یے کہ انگلش الفاظ بولنے والے کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے..جب کہ ملک پاکستان کی ترقی میں رکاوٹ اور تعلیم کے میدان میں بچوں کی عدم دلچسپیاور ناکامی کی وجہ ہی انگلش ہے.
    تمام ترقی یافتہ اقوام نی اپنی قومی ومادری زبان کو اپنا کر ترقی کی ہے.چین.جرمنی. فرانس. روس جاپان وغیرہ.انہوں نے تمام علوم و فنون کو اپنی زبانوں میں ترجمہ کرکے قوم کو پڑھایا...اور ساری عمر زبان ہی سیکھتے رہے.زبان بھی نہ آئ اور علم سے بھی کوسوں دور ہوگئے.الٹا اپنی تہذیب و تمدن سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے.ہماری مثال باالکل اس کوے کی سی ہے جو چلا ہنس کی چال اور اپنی بھی بھول گیا.
    عطاءالرحمن منگلوری.رکن تحریک نفاذ اردو پاکستان.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  14. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,480
    سوائے سنگاپور کے۔ انہوں نے اغیار کی زبان انگریزی میں ترقی کی ہے۔
     
  15. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,539
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    :grin1:
    میں مسلسل تھوڑا تھوڑا حیران ہو رہا تھا کہ پائین نے درجن بھر مراسلے کر دئیے ہیں اور ابھی تک ٹریڈ مارک مراسلہ جاری نہیں ہوا۔:tongueout:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,480
    عبرانی پچھلے 1700 سالوں سے کم و بیش ایک مردہ زبان تھی۔ جسے یہودی مذہبی رسومات کے علاوہ کہیں اور استعمال نہیں کرتے تھے۔
    صیہونی تحریک کے ساتھ اس مردہ زبان کا احیا ہوا اور آج تمام اسرائیلی بشمول عرب شہری فر فر جدید عبرانی بولتے ہیں۔
    ہفتہ قبل ہی اسرائیلی عرب اپوزیشن لیڈر نے وزیر اعظم کی ان کی اپنی عبرانی زبان میں ایسی بے عزتی کی کہ دیگر صیہونیوں کے ہنس ہنس کر پیٹ میں مروڑ پڑ گئے :)

    6 Things to Know About the Hebrew Language’s Incredible Revival
     
  17. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,463
    بات چل نکلی ہے، اب دیکھیں کہاں تک پہنچے! :)
     
    آخری تدوین: ‏جون 13, 2019 6:34 شام
  18. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,803
    نہ بات کسی زبان یا تہذیب کو اپنانے کی ہے اور نہ ترقی کی۔ سیدھی بات یہ ہے کہ پاکستان میں نچلے طبقے کے لئے اردو یا مقامی زبان پڑھائی اور بولی جاتی ہے اور اونچے طبقے کے لئے انگریزی۔ اس طبقاتی تفاوت سے ظاہر ہے وہی مسائل جنم لیتے ہیں جن کا ذکر مضمون میں کچھ مبالغہ آرائی سے کیا گیا ہے
     
    • متفق متفق × 1
  19. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,480
    ایک ہی ملک میں مختلف زبانوں میں نظام تعلیم بھی ایک اہم نکتہ ہے۔ متفق۔
     

اس صفحے کی تشہیر