حقیقی غلامی : زبان دانی کا رجحان

عثمان ندیم نے 'محفل چائے خانہ' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 11, 2019

  1. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ہمارے معاشرے میں اک عجب روایت پڑ گئی ہے۔ خاص طور پر دیہاتی علاقوں میں یہ چیز زیادہ دیکھنے کو ملتی ہے۔ اس معاشرے میں انگریزی زبان بولنے والے شخص کو زیادہ پڑھا لکھا سمجھا جاتا ہے۔ حالانکہ زبان تو گفتگو کا ایک ذریعہ ہے۔ وہ کوئی بھی زبان ہو سکتی ہے مثلاً اردو، پنجابی، فارسی، پشتو، سرائیکی، انگریزی یا کوئی بھی اور زبان جو ایک علاقے میں مروج ہو۔

    پنجاب کے کسی بھی علاقے کی بات کیجیے ادھر زیادہ تر کم پڑھے لکھے لوگ انگریزی زبان بولنے والے کو یوں سمجھتے ہیں گویا کہ علم کا اک سمندر ہو۔ اردو بولنے والے کو علم کی اک نہر سمجھا جاتا ہے جبکہ پنجابی بولنے والے کو اک گندا نالا تصور کیا جاتا ہے۔ کچھ لوگ پنجابی بولنے سے ہچکچاتے ہیں اور کبھی کبھار تو جب محفل میں بیٹھے ہوں تو پنجابی زبان کو اپنی عزت پر حرف سمجھتے ہیں۔ اس لیے دیہاتی اپنے بچوں کی پرورش میں اس مشکل کا سامنا کرتے ہیں کہ خود ان کو اردو بھی اچھے سے نہیں آتی اور بچوں کو انگریزی سکھاتے سکھاتے اپنا مذاق بنوا لیتے ہیں۔ اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ پنجابی بوڑھے لوگوں کی زبان ہے، اردو جوان لوگوں کی جبکہ انگریزی بچوں کی زبان ہے۔ ایک وقت آئے گا جب یہی بچے بڑھاپے کو پہنچ جائیں گے سوچیے کہ تب پنجابی بولنے والے کتنے لوگ رہ جائیں گے؟ کیا ہمارا پنجاب پنجابی زبان سے خالی ہو جائے گا؟ کیا عظیم پنجابی شعرا بابا بلھے شاہ، وارث شاہ وغیرہ کی شاعری پڑھنے اور سمجھنے والا کوئی نہیں ہو گا؟ کیا لوگ پنجابی کے عظیم قصوں ہیر رانجھا اور مرزا صاحباں سے نا آشنا ہوں گے؟ جبکہ یہ سب پنجابی ادب ہماری شان ہے۔

    دراصل ہم آج بھی آزاد نہیں ہوئے 1947ء میں ہم نے ظاہری آزادی تو حاصل کر لی مگر باطنی طور پر ہم آج بھی غلام ہیں۔ انگریزوں نے ہمارے اذہان کا رخ بدل دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج اس قوم میں کوئی لیڈر نہیں ہے۔ ہم بے لگام ہیں۔ ہمارے تنزل کی وجہ کچھ اور نہیں بلکہ غلامی ہے جو کہ میرے نزدیک حقیقی اور باطنی غلامی ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 7
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1
  2. جان

    جان محفلین

    مراسلے:
    1,500
    آپ نے اچھا مضمون لکھا ہے! میری ناقص رائے یہ ہے کہ ہم 'تقلید' میں اتنے آگے نکل گئے ہیں کہ اب تو سوچنے، سمجھنے کو توہین سمجھتے ہیں۔ آپ نے آخر میں جو وجہ بیان کی ہے وہ صرف زبان کی حد تک محدود نہیں بلکہ ہمارے معاشرے میں زندگی کے ہر شعبہ میں ہمیں 'تقلید' کا درس ہی دیا گیا ہے خواہ وہ سیاسی ہو، معاشرتی ہو یا مذہبی ہو۔ سوچنا، سوال اٹھانا، صراطِ مستقیم کی سعی کرنا، اپنی ثقافت کو فروغ دینا پرانے دور کی باتیں ہیں!
    (انفیریئرٹی کمپلیکس)
     
    آخری تدوین: ‏جون 11, 2019
    • متفق متفق × 2
  3. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,551
    (y)(y)(y)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ کے مکمل مراسلے سےمتفق ہوں۔
    اپنی زبان اور ثقافت کو بچانا اب ایک جنگ ہے جو دھرتی کے سُچے سپوت لڑنا شروع ہو چکے ہیں، انشاءاللہ یہ تادیر جاری رہے گی۔ :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  5. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    اس ذہنی غلامی کا شکار صرف ہم نہیں ہیں۔ سعودیہ میں رہتے ہوئے میں نے عربوں کی نئی نسل کو اس سے بہت زیادہ متاثر ہوتے دیکھا ہے۔

    ایک اور لطیف سا سلسلہ یہ رہا کہ مجھے ہفتے میں کم از کم تین سے چار مرتبہ دو شہروں کے درمیان سفر کرنا پڑتا تھا اور راستے میں پولیس کی اکا دکا مستقل چیک پوسٹس تھیں۔ شروع کے دو چار ماہ میں جب ایسے کسی سفر میں، میں پاکستانی لباس میں ہوتا اس روز پولیس والوں نے میرے کاغذات، گاڑی کے کاغذات چیک کرنے، دو چار سوال کرنے اور کبھی کبھار سائیڈ پر کروا کر گاڑی کی تلاشی بھی لے لینی۔ اور جس روز مغربی لباس زیب تن کیے ہوتا بس ایک بار ہلکی سی بریک لگانی اور پولیس والے نے ’گو‘ کا اشارہ کر دینا۔ وہاں قیام پذیر ہونے کے کچھ عرصہ بعد مجھے اس کمزوری کا پتا لگ گیا۔ میں نے ٹائی ناٹ کر کے ڈیش بورڈ میں رکھ لی۔ مستقل چیک پوسٹس پر پہنچنے سے پہلے یا جب کہیں کسی اور شاہراہ پر چیک پوسٹ نظر آنی تو فوراً نکال کر لگا لینی، مجال ہے کبھی کسی شُرطے نے روک کر کچھ پوچھا ہو۔ اس کے بعد سعودیہ کے مختلف علاقوں میں لمبے سفر بھی درپیش رہے لیکن کبھی کہیں کسی نے جانچ پڑتال کرنے کی کوشش نہیں کی۔ :)
     
    آخری تدوین: ‏جون 11, 2019
    • معلوماتی معلوماتی × 2
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  6. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    تو ہم اس کے لیے کیا اقدامات کر سکتے ہیں؟
     
  7. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,551
    اس میں کیا شک ہے کہ عرب مغرب سے مرعوب ہیں۔ جبکہ اپنے پاکستانی عربوں سے مرعوب :)
     
  8. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    آپ ’پاکستانی‘ کہہ کر پوری قوم کو نا رگڑیں۔ ایک بہت بڑی تعداد ’الباکستانی‘ نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق × 1
  9. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    آپ نے بجا فرمایا۔ پاکستان اور اسلام صرف بدنام ہیں۔ ہمیں پاکستان یا اسلام برائیوں کا درس نہیں دیتا یہ تو ہمارے اپنے اعمال ہیں جن کی وجہ سے ہم پر دوسرے انگلیاں اٹھاتے ہیں۔ چند لوگوں کی وجہ سے پوری قوم کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ ہمارے ہاں یہ عام ہو چکا ہے کہ دہشتگردی کی بات ہو یا کرپشن کی اسلام اور پاکستان کو قصوروار سمجھا جاتا ہے۔ کوئی اصلاح کی بات کرے تو جواب ملتا ہے بھائی یہ پاکستان ہے یہاں سب چلتا ہے۔ ہمیں ایسی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اگر ہم خود اس طرح کی باتیں کریں گے تو پھر غیروں سے بھی اچھی بات کی امید نہیں رکھی جا سکتی۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,551
    ظاہر ہے سب کی بات نہیں کر رہا۔ میرا اشارہ ان الباکستانیوں کی طرف تھا جو عید بھی سعودی عرب کے ساتھ کرتے ہیں۔
     
  11. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    میں آپ سے متفق ہوں لیکن اگر تہذیب کی بات کی جائے تو مغرب میں عرب کی تہذیب کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ جبکہ برصغیر میں مغربی تہذیب کا رجحان بڑھتا نظر آتا ہے۔
     
  12. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    یہاں ثقافت یا زبان کی بات چل رہی تھی، مذہبی تہواروں کی نہیں۔ خوامخواہ اور حسب عادت و فطرت آپ نیا کٹا کھول رہے ہیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  13. جاسم محمد

    جاسم محمد محفلین

    مراسلے:
    8,551
    یہ محمد بن قاسم (پہلا پاکستانی) تو شاید چین سے آیا تھا۔۔۔
     
  14. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    دل تے کردا :beating:
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  15. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جہاں تک میں نے پڑھا ہے محمد بن قاسم، حجاج بن یوسف کا بھتیجا تھا جو عرب سے آیا تھا نہ کہ چین سے
     
  16. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    آپ نسیم حجازی کی کتاب "محمد بن قاسم" کا مطالعہ کیجیے
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  17. عرفان سعید

    عرفان سعید محفلین

    مراسلے:
    4,615
    جھنڈا:
    Finland
    موڈ:
    Question
    ارے جانے دو، ناروے سے آیا تھا!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 3
  18. عبدالقیوم چوہدری

    عبدالقیوم چوہدری محفلین

    مراسلے:
    16,558
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    ان صاحب کا کہیں سے بھی آ سکتا ہے۔ جانے دیجیے۔ :)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
    • متفق متفق × 1
  19. عثمان ندیم

    عثمان ندیم محفلین

    مراسلے:
    35
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جی بہتر:)
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  20. زیک

    زیک محفلین

    مراسلے:
    35,820
    وائکنگ تھا؟
     

اس صفحے کی تشہیر