حضرت ِ اقبال کی زمین میں میری اک غزل

اس شہر ِ صدآشوب میں اتری ہے قضا دیکھ
فرعون بنے بیٹھے ہیں مسند کے خدا دیکھ

بیٹھا ہے ہما رہزن و غدار کے سر پر
معصوم پرندے کی ہے معصوم ادا دیکھ

سوئی ہے کفن اوڑھے جو مزدور کی بیٹی
افلاس کے ہاتھوں پہ جلا رنگِ حنا دیکھ

ہر لحظہ بدلتے ہوئے دستور یہ منشور
قاتل کی شہیدوں کے مزاروں پہ دعا دیکھ

ابلیس ِ زماں تخت نشیں ہیں کہ گداگر
دنیائے سیاست کے یہ کشکول و گدا دیکھ

ہر جرم کی تعزیر و سزا لکھتے ہیں اغیار
مشرق کے اسیروں کو یہ مغرب کی عطا دیکھ

جو بحر ِ طلاطم تھے، جزیروں کے ہیں قیدی
زندان ِ صدف، موج ِ بلا، رقص ِ قضا دیکھ

درویش کی غزلوں میں ہے اقبال کا پیغام
،، کھول آنکھ زمیں دیکھ فلک دیکھ فضا دیکھ،،

فاروق درویش
 
ممنون ہوں برادر سعود ابن ِ سعید صاحب , آپ کی شرکت بھی میرے لئے کسی اعزاز سے کم نہیں ۔سدا خوش آباد و خوش مراد رہیں
 

مغزل

محفلین
فاروق صاحب ، قبلہ رسید حاضر ہے ۔انشا اللہ دستیابی٫ وقت پر حاضر ہوتا ہوں۔
سرِ دست ایک جانب اشارہ مقصود ہے کہ بھنور سنسکرت کا لفظ ہے اس کی ترکیبِ اضافت غزل کے حسن کو داغ دار کرنے پر مصر ہے۔۔ الخ
 
جزاک
فاروق صاحب ، قبلہ رسید حاضر ہے ۔انشا اللہ دستیابی٫ وقت پر حاضر ہوتا ہوں۔
سرِ دست ایک جانب اشارہ مقصود ہے کہ بھنور سنسکرت کا لفظ ہے اس کی ترکیبِ اضافت غزل کے حسن کو داغ دار کرنے پر مصر ہے۔۔ الخ
جزاک اللہ برادرِ من محمود مغل صاحب ، آپ کی محبت بھری مثبت تنقید میرے لئے کسی مستند غائبانہ استاد سے کم افادیت نہیں رکھتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جگ جگ جئیں
 
مجھے ایک بز
جزاک
جزاک اللہ برادرِ من محمود مغل صاحب ، آپ کی محبت بھری مثبت تنقید میرے لئے کسی مستند غائبانہ استاد سے کم افادیت نہیں رکھتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جگ جگ جئیں
فاروق صاحب ، قبلہ رسید حاضر ہے ۔انشا اللہ دستیابی٫ وقت پر حاضر ہوتا ہوں۔
سرِ دست ایک جانب اشارہ مقصود ہے کہ بھنور سنسکرت کا لفظ ہے اس کی ترکیبِ اضافت غزل کے حسن کو داغ دار کرنے پر مصر ہے۔۔ الخ
مجھے اتنا پتا تھا کہ دو مونہہ والی ھ کے اکثر الفاط ہندی یا سنسکرت سے ہوتے ہیں، ایک واجب الاحترم سخنور نے بتایا تھا کہ ہندی یا سنسکرت کا لفظ اول آئے تو غلط ۔۔۔۔۔ یعنی بھنور ِ دریا کی ترکیب معیوب ہے مگر جس ترکیب میں ہندی یا سنسکرت کا لفظ بعد میں آئے وہ درست ہو گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بحر حال اآپ سے اہل علم کی رائے مقدم سمجھتا ھوں ۔۔۔۔۔۔۔ اور اس حوالے سے راہنمائی کیلئے جناب بابا جانی حضرت عبید صاحب اور قبلہ وارث صاحب سے گزارش کرتا ہوں
 
بہت خوب فاروق صاحب، بہت عمدہ غزل پیش کی ہے آپ نے،
بہت زیادہ داد قبول کیجیے۔
اور مغل صاحب نے درست کہا ہے زندانِ بھنور کی ترکیب تبدیل چاہتی ہے۔
 
بہت خوب فاروق صاحب، بہت عمدہ غزل پیش کی ہے آپ نے،
بہت زیادہ داد قبول کیجیے۔
اور مغل صاحب نے درست کہا ہے زندانِ بھنور کی ترکیب تبدیل چاہتی ہے۔
برادرم فصیح ربانی صاحب ! اس حوصلہ افزائی اور عالمانہ راہنمائی کیلئے ممنون ہوں ، مولائے کائنات دین و دنیا میں سرخرو فرمائے ۔۔۔۔۔۔۔
 
فاروق صاحب ، قبلہ رسید حاضر ہے ۔انشا اللہ دستیابی٫ وقت پر حاضر ہوتا ہوں۔
سرِ دست ایک جانب اشارہ مقصود ہے کہ بھنور سنسکرت کا لفظ ہے اس کی ترکیبِ اضافت غزل کے حسن کو داغ دار کرنے پر مصر ہے۔۔ الخ
برادرم محمود صاحب میں سے آپ کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے مصرع میں ترکیب بدل دی ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔،، زندان ِ صدف ،، ۔۔۔۔۔ کیا زبان و معنی کے اعتبار سے اس ترکیب اور شعر کے مضمون سے ربط میں کوئی عیب یا کوئی ابہام تو نہیں ؟ زندان ِ صدف، موج ِ بلا ، رقص ِ قضا دیکھ ۔۔۔۔۔۔۔
 

مغزل

محفلین
برادرم محمود صاحب میں سے آپ کے موقف کو درست تسلیم کرتے ہوئے مصرع میں ترکیب بدل دی ہے ،، زندانِ صدف ،، ۔
کیا زبان و معنی کے اعتبار سے اس ترکیب اور شعر کے مضمون سے ربط میں کوئی عیب یا کوئی ابہام تو نہیں ؟ زندان ِ صدف، موج ِ بلا ، رقص ِ قضا دیکھ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
بندہ سراپا سپاس ہے فاروق صاحب۔
میری دانست میں تو زندانِ صدف کی ترکیب نے مصرعے کا حسن دوبالا کردیا ہے۔
آپ کی محبتوں کا معترف تھا اسیر بھی ہوگیا ہوں۔۔ جزاک اللہ
سلامت باشید بخیر
 
بندہ سراپا سپاس ہے فاروق صاحب۔
میری دانست میں تو زندانِ صدف کی ترکیب نے مصرعے کا حسن دوبالا کردیا ہے۔
آپ کی محبتوں کا معترف تھا اسیر بھی ہوگیا ہوں۔۔ جزاک اللہ
سلامت باشید بخیر
برادر من اس محبت ، راہنمائی اور پر خلوص اصلاح کیلئے احسان مند ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خوش آباد
 
Top