حضرت مرزا صاحب پر حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کا جھوٹا الزام

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

تانیہ

محفلین
واؤ یہاں تو بہت دلچسپ بات چیت چل رہی ہے اور حسب معمول پھر سے مرزا صاحب کے ایک مربی انکو سچا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن ابھی تک بیچارے ناکام ہیں ۔۔۔۔میں نے ساری گفتگو پڑھی پوری تسلی سے۔۔۔مجھے اچھا لگا حسب معمول ایک عاشق رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) جناب فاروق درویش صاحب قرآنی آیات و احادیث سے بات کر رہے ہیں لیکن رانا صاحب ہیں کہ وہ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے تو ایسے میں کیا کیا جائے
جنکے دلوں پہ قفل لگے ہوں تو کون کھولے
جہاں تک مرزا صاحب کی بات ہے تو مجھے تاریخ میں ان سے بڑھ کے جھوٹا کوئی نہیں نظر آیا
مرزا صاحب لکھتے ہیں
"میں آدم علیہ السلام ہوں، میں نوح علیہ السلام ہوں، میں ابراہیم علیہ السلام ہوں، میں اسحاق علیہ السلام ہوں، میں یعقوب علیہ السلام ہوں، میں اسماعیل علیہ السلام ہوں، میں موسی علیہ السلام ہوں، میں داؤد علیہ السلام ہوں، میں عیسی ابن مریم ہوں، میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔"
(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
مزید دیکھیں
"منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد صلی اللہ علیہ وسلم و احمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ مجتبی باشد"
ترجمہ: میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسی ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، میں احمد مجتبی ہوں۔
(تریاق القلوب صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)
پھر کہتے ہیں
"میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا، ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے
مجھے اپنی وحی پہ یقین ہے اور اس یقین میں، میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں جو اسے جھوٹ کہتا ہے وہ لعنتی ہے"
(نزول المسیح صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی)
"کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم"
ترجمہ:میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے، سو (100) حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔
(نزول المسیح صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی)
اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور بہت کچھ ایسا ہے چونکہ میں کاپی پیسٹ نہیں کر رہی بلکہ مرزا صاحب کی کتاب سے دیکھ کے لکھ رہی ہوں اسلیئے سب کچھ نہیں لکھ سکتی آپکو فرصت ملے تو آپ بھی پڑھیئے گا
جبکہ ہماری ہدایت والی کتاب قرآن پاک میں ہمیں بتا دیا گیا کہ
{ ( لوگو) تمہارے مردوں میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ تعالی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں } الاحزاب (40)
اور پھر اللہ تعالی فرماتا ہے
"لعنۃ اللہ علی الکذبین"
سو باقی بات اپ خود سمجھ لیجیئے، آخر آپ سمجھدار ہیں اور آپ نے بار بار فرمایا کہ آپ سمجھدار اور باعلم احباب سے ہی گفتگو چاہتے ہیں
 
باقی رہی یہ بات کہ احمدیت کو اسلام نہ کہیں تو آپ کب سے داروغہ بن گئے؟ یہی بات میں بھی آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ اپنے مسلک کو اسلام مت کہیں۔ کون فیصلہ کرے گا اس کا؟ کیا صرف قومی اسمبلی کے فیصلے کے بل بوتے پر یہ بات کہہ رہے ہیں؟ پھر یہی سوال اٹھتا ہے کہ کسی اسمبلی کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کے مذہب کا فیصلہ کرے؟ بہرحال اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔لیکن قومی اسمبلی کے اس فیصلے کی کیا حقیقت ہے اس ویڈیو پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ یاد رہے کہ یہ ویڈیو بھی صرف اہل علم احباب کے استفادہ کے لئے لگائی گئی ہے۔


خدا کا شکر ہے کہ اک گالی بازی گستاخ انبیا مرزا کے چیلے مرزائی جس پارلیمنٹ کو’’نام نہاد‘‘ کہتے ہیں، وہ مذہبی جماعتوں کے ارکان پر مبنی نہیں تھی۔ اس پارلیمنٹ میں اکثریت پیپلزپارٹی سے وابستہ ارکان کی تھی جنہوں نے سوشلزم کو اپنی معیشت قرار دے رکھا تھا۔ ان میں سے بہت سے تو ایسے ارکان تھے جو جانے پہچانے مارکسٹ اورکیمونسٹ تھے ۔ پیپلزپارٹی کی قیادت بشمول جناب ذوالفقار علی بھٹو اور دیگر ارکان اسمبلی، سب کادعویٰ تھاکہ وہ لبرل، ترقی پسند اور سیکولر ہیں ۔ حکومت کی طرف سے اُس وقت کے اٹارنی جنرل جناب یحییٰ بختیار نے پارلیمنٹ کے سامنے دلائل دیئے تھے ۔ یہ معاملہ کئی ہفتے جاری رہا تھا۔ اس وقت کے قادیانی خلیفہ مرز ناصر احمد اور اس کے تین دیگر ساتھیوں کوبھرپور موقع دیا گیا کہ وہ اپنے اس مؤقف کے حق میں دلائل پیش کریں کہ مرزا کو نہ ماننے والے کافر ہیں ۔ مرزا ناصر احمد نے بہت پہلو بچانے کی کوشش کی مگر وہ اس سوال کاجواب پیش نہ کر سکے کہ مرزا غلام احمد قادیانی کو نہ ماننے والے ’’کافر‘‘ اور جہنمی کیونکر ہیں ؟ آج کے قادیانیوں کو یہ بات پیش نظر ضرور رکھنی چاہئے کہ کوئی کتنا بھی لبرل یاگناہگار مسلمان ہو، وہ یہ کبھی نہیں مان سکتا کہ ایک مرزائی تو بزعم خویش ’’مسلمان‘‘ ہونے کا دعویٰ کرتا پھرے اور حقیقی مسلمانوں کو’’مسلمان‘‘ ہی تسلیم نہ کرے ۔ جو قرآن کے فیصلے کا منکر ہو جو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کو قرآن کے فیصلے کے مطابق آخری نبی نہ مانے اور ایک مراق زدہ ذہنی مریض ، گالی باز نقلی مسیح اور ناپاک گستاخ کو نبی مان بیٹھے وہ کافر نہیں تو کیا ہے عقل مند رانا صاحب۔
 
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسی تحریریں اپنے محبوب آقا حضرت محمد مصطفی ﷺ کے ناموس کی حفاظت کی خاطر غیرت میں ڈوب کر لکھی ہیں۔ آپ ؑ نے یہ تحریریں چالیس سال کے صبر کے بعد ایسی بے بسی کی حالت میں مجبور ہو کر لکھی ہیں کہ آپ کے لئے پھر خاموش رہنا ناممکن تھا۔ اس کی تفصیل آپ ؑ نے انہیں تحریروں کے اردگرد بیان فرمائی ہے جہاں سے یہ محبت رسول ﷺ کے جھوٹے دعویدار درمیان سے عبارتیں اچک کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کے تیر چلاتے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی درج ذیل تحریریں اس تفصیل کے بیان کے لئے پیش ہیں۔ آپ فرماتے ہیں۔

عاقل فاضل رانا صاحب یہ ہیں آپ کے مرزا صاحب کی وہ گستاخانہ تحریریں جو اس غلیظ انسان نے نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کی خاطر غیرت میں ڈوب کر لکھی تھیں۔ اللہ قسم اگر مرزا اس دور میں پیدا ہوا ہوتی تو میں عورت ہونے کے باوجود اس گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو کھنڈی چھری سے ذبح کرتی۔ کوئی شاتم رسول کسی رعایت کے قابل نہیں ہوتا

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے حالانکہ مشہو رتھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ (مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ٢٢فروری ١٩٢٤ )
مرزا قادیانی کا ذہنی ارتقاء آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ تھا ۔ ( بحوالہ قادیانی مذہب صفحہ ٢٦٦، اشاعت نہم مطبوعہ لاہور )
اسلام محمد عربی کے زمانہ میں پہلی رات کے چاند کی طرح تھا اور مرزا قادیانی کے زمانہ میں چودہویں رات کے چاند کی طرح ہو گیا ۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ ١٨٤)
مرزا قادیانی کی فتح مبین آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی فتح مبین سے بڑھ کر ہے ۔ (خطبہ الہامیہ صفحہ ١٩٣)

اس کے یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لیے چاند گرہن کا نشان ظاہر ہوا اور میرے لیے چاند اور سورج دونوں کا اب کیا تو انکار کرے گا ۔ ( اعجاز احمدی مصنفہ غلام احمد قادیانی ص ٧١)
 

شمشاد

لائبریرین
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "اپنے ماں باپ کو گالی مت دو"

اصحاب کرام نے پوچھا "یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کوئی اپنے ماں باپ کو کیسے گالی دے سکتا ہے؟"

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا "تم اگر کسی کو گالی دو گے تو وہ پلٹ کر تمہیں گالی دے گا۔"

عقلمند کے لیے اتنا اشارہ کافی ہے۔ کہ کون گالی دے رہا ہے اور کس کو گالی مل رہی ہے۔

گرچہ انداز بیاں شوخ نہیں ہے
شاید کہ اُتر جائے ترے دل میں مری بات
 
واؤ یہاں تو بہت دلچسپ بات چیت چل رہی ہے اور حسب معمول پھر سے مرزا صاحب کے ایک مربی انکو سچا ثابت کرنے میں ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں لیکن ابھی تک بیچارے ناکام ہیں ۔۔۔ ۔میں نے ساری گفتگو پڑھی پوری تسلی سے۔۔۔ مجھے اچھا لگا حسب معمول ایک عاشق رسول(صلی اللہ علیہ وسلم) جناب فاروق درویش صاحب قرآنی آیات و احادیث سے بات کر رہے ہیں لیکن رانا صاحب ہیں کہ وہ کچھ سمجھنا ہی نہیں چاہتے تو ایسے میں کیا کیا جائے
جنکے دلوں پہ قفل لگے ہوں تو کون کھولے
جہاں تک مرزا صاحب کی بات ہے تو مجھے تاریخ میں ان سے بڑھ کے جھوٹا کوئی نہیں نظر آیا
مرزا صاحب لکھتے ہیں
"میں آدم علیہ السلام ہوں، میں نوح علیہ السلام ہوں، میں ابراہیم علیہ السلام ہوں، میں اسحاق علیہ السلام ہوں، میں یعقوب علیہ السلام ہوں، میں اسماعیل علیہ السلام ہوں، میں موسی علیہ السلام ہوں، میں داؤد علیہ السلام ہوں، میں عیسی ابن مریم ہوں، میں محمدصلی اللہ علیہ وسلم ہوں۔"
(تتمہ حقیقت الوحی صفحہ 521، مندرجہ روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 521 از مرزا قادیانی)
مزید دیکھیں
"منم مسیح زمان و منم کلیم خدا
منم محمد صلی اللہ علیہ وسلم و احمد صلی اللہ علیہ وسلم کہ مجتبی باشد"
ترجمہ: میں مسیح زماں ہوں، میں کلیم خدا یعنی موسی ہوں، میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہوں، میں احمد مجتبی ہوں۔
(تریاق القلوب صفحہ 6 مندرجہ روحانی خزائن جلد 15 صفحہ 134 از مرزا قادیانی)
پھر کہتے ہیں
"میری آمد کی وجہ سے ہر نبی زندہ ہو گیا، ہر رسول میری قمیض میں چھپا ہوا ہے
مجھے اپنی وحی پہ یقین ہے اور اس یقین میں، میں کسی نبی سے کم نہیں ہوں جو اسے جھوٹ کہتا ہے وہ لعنتی ہے"
(نزول المسیح صفحہ 100، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477، 478 از مرزا قادیانی)
"کربلائیست سیر ہر آنم
صد حسین است در گریبانم"
ترجمہ:میری سیر ہر وقت کربلا میں ہے، سو (100) حسین ہر وقت میری جیب میں ہیں۔
(نزول المسیح صفحہ 99، مندرجہ روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 477 از مرزا قادیانی)
اور۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔اور بہت کچھ ایسا ہے چونکہ میں کاپی پیسٹ نہیں کر رہی بلکہ مرزا صاحب کی کتاب سے دیکھ کے لکھ رہی ہوں اسلیئے سب کچھ نہیں لکھ سکتی آپکو فرصت ملے تو آپ بھی پڑھیئے گا
جبکہ ہماری ہدایت والی کتاب قرآن پاک میں ہمیں بتا دیا گیا کہ
{ ( لوگو) تمہارے مردوں میں سے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کسی کے باپ نہیں ہیں لیکن وہ اللہ تعالی کے رسول اور خاتم النبیین ہیں } الاحزاب (40)
اور پھر اللہ تعالی فرماتا ہے
"لعنۃ اللہ علی الکذبین"
سو باقی بات اپ خود سمجھ لیجیئے، آخر آپ سمجھدار ہیں اور آپ نے بار بار فرمایا کہ آپ سمجھدار اور باعلم احباب سے ہی گفتگو چاہتے ہیں
تانیہ بیٹا مرزا جی کے اس " سلطان القلمی " قلم و دہن سے ایسی گلکاریاں اگلنا معمول کی بات ہے جس قلم کی اکثر تحریریں کسی کوک شاستر کی فحش بیانی کو بھی مات دیتی ہیں اور جنہیں کوئی مسلمان اپنی بیٹی یا بیٹے کی موجودگی میں بلند آواز میں پڑھ ہی نہیں سکتا ۔ تمام اہل علم اور صاحبان ِفہم اس حقیقت سے واقف ہیں کہ مرزا جی صاحب ِ کل الامراض صاحب افیون تھا اور اس کی سیرت المہدی میں اس کے صحابیوں نے ہی لکھا ہے کہ وہ اکثر مراق فرمایا کرتے تھے تو عین ممکن ہے کہ یہ سب تحریریں مالیاخولیا، ہسٹیریا کی حالت میں یا افیون کے زائد استعمال کے باعث شدید نشہ کی حالت میں لکھی گئی ہوں لہذا عین ممکن ہے کہ اس کے سیرت ِ نجس پر چلنے والے شاتمین ِ اسلام پیروکاروں کو اس کی توہین رسالت میں غیرت ایمانی نظر آتی ہو لیکن ہر صاحب فہم و فراست مسلمان اسے توہین سید المرسلین ، توہین انبیاء اکرام، توہین اہل بیت اور توہین قرآن ہی سمجھتا ہے۔ شاید رانا کو وجہ فحش کلامی سمجھ میں آ جائے کہ ایک کثٰر الامراض بیچارےمریض نے اگر ایسا لکھا تو کچھ عجب نہیں کہ اتنی بیماریوں میں مبتلا شخص کا دماغ کب کام کرتا ہے اسی لئے تو وہ یہاں تک بھی کہہ دیتا ہے کہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نمبر ١ میں نے اپنے تئیں خدا کے طور پر دیکھا ہے اور میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ میں وہی ہوں اور میں نے آسمان کو تخلیق کیا ہے۔
(آئینہ کمالات صفحہ ٥٦٤، مرزا غلام احمد قادیانی )
نمبر٢ خدا نمائی کا آئینہ میں ہوں ۔
(نزول المسیح ص ٨٤)
نمبر ٣ ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جو حق اور بلندی کا مظہر ہو گا ، گویا خدا آسمان سے اترے گا ۔ (تذکرہ ط ٢ص ٦٤٦(انجام آتھم ص ٦٢)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن مرزا جی کے ہی لکھے یہ سب کافرانہ دعوے اور مجنونی کلمات اگر مرزا جی کے عقل مند ، صاحبان عقل و فہم کو عین مسلمانی لگتے ہیں تو ۔۔۔۔۔۔۔۔ مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
 
ساجد صاحب یا تو آپ کی درویش صاحب کی تمام پوسٹس پر نظر ہی نہیں اور یا آپ بات کو سمجھنا ہی نہیں چاہ رہے۔ میں نے انہیں ایک سلجھا ہوا علم دوست شخص سمجھ کر ہی ان کی طرف سے اٹھائے گئے بعض سوالات کا جواب دینے کا ارادہ کیا تھا لیکن ابھی صرف ایک ہی پوسٹ کی تھی کہ ان کی طرف سے جو گند اچھالا گیا اگر وہ آپ یا آپ کے والد محترم کے متعلق اچھالا جاتا تو میں آپ سے پوچھتا کہ آپ کی نظر میں یہ اہل علم میں شامل کئے جاسکتے ہیں یا نہیں۔ جتنی آپ کے ہاں اپنے والدین کی عزت ہے اس سے کہیں زیادہ کسی بھی شخص کے نزدیک اسکے مذہبی پیشواوں کی ہوتی ہے۔ ذرا اس لنک پر جائیں اور میں نے ان کے ایک اعتراض کے جواب میں جو ایک سلجھی ہوئی ویڈیو پوسٹ کی تھی اس میری پوسٹ کے فورا بعد والی ان کی پوسٹ پر ذرا ایک نظر ڈال کر اپنے کمنٹس پر نظر ثانی کریں۔ بجائے اسکے کوئی انہیں ٹوکتا اس پوسٹ کا بعض کی طرف سے شکریہ ادا کیا گیا ہے۔ دل تو میرا چاہ رہا تھا کہ درویش صاحب اور ان کی بیٹی کے متعلق ہر پوسٹ میں وہی الزام بار بار میں بھی دہراوں کہ ان کی اس پہل کے بعد اب تو کسی منتظم کو مجھے ٹوکنے کا اصولا اختیار بھی نہیں تھا لیکن بہرحال مجھ سے ایسا نہیں ہوسکتا کہ اسطرح کے الزام میں کچھ بھی سچائی ہو تو بندہ بطور الزامی جواب اسے اختیار کرے لیکن سراسر جھوٹے الزام اتنی بے حیائی کے ساتھ لگانا صرف ان کا ہی خاصہ ہے۔ ان الفاظ کو پڑھ لیں اور پھر میرے یہاں تحریر کئے گئے الفاظ کو پڑھ لیں اور موازنہ کرلیں۔ کیا اس کے بعد بھی میں ان کو مذید مخاطب کرتا رہتا؟ اسی لئے میں نے کہا ہے کہ میری اب تمام پوسٹس صرف ان اہل علم احباب کی توجہ کے لئے ہوں گی جو علمی رنگ میں بات کرنے کی لیاقت رکھتے ہیں۔

باقی رہی یہ بات کہ احمدیت کو اسلام نہ کہیں تو آپ کب سے داروغہ بن گئے؟ یہی بات میں بھی آپ سے کہہ سکتا ہوں کہ اپنے مسلک کو اسلام مت کہیں۔ کون فیصلہ کرے گا اس کا؟ کیا صرف قومی اسمبلی کے فیصلے کے بل بوتے پر یہ بات کہہ رہے ہیں؟ پھر یہی سوال اٹھتا ہے کہ کسی اسمبلی کو یہ حق کس نے دیا ہے کہ وہ کسی کے مذہب کا فیصلہ کرے؟ بہرحال اس بحث میں نہیں پڑنا چاہتا۔لیکن قومی اسمبلی کے اس فیصلے کی کیا حقیقت ہے اس ویڈیو پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ یاد رہے کہ یہ ویڈیو بھی صرف اہل علم احباب کے استفادہ کے لئے لگائی گئی ہے۔


اس ویڈیو میں تقریر کرنے والے انجہانی مرزا طاہر کے بارے کچھ حقائق ۔۔۔۔۔

آنجہانی مرزا ناصر احمد کا چھوٹا بیٹا مرزا لقمان شادی شدہ تھا اس کا ایک بیٹا تھا۔ مرزا طاہر احمد نے اپنی گدی نشینی کا پروگرام ترتیب دیا تو اس سودے بازی میں اپنی بیٹی کا رشتہ بہت پہلے مرزا لقمان سے کر دیا اس کی پہلی بیوی کو طلاق دلوائی گئی اور اس سے اس کا بیٹا چھین لیا۔ جب مرزا ناصر احمد کی موت کے بعد مرزا طاہر احمد گدی نشین ہوا تو ان کے بڑے سوتیلے بھائی مرزا رفیع احمد خلافت کو اپنا حق سمجھتے ہوئے میدان میں آگئے۔ ان کی بات نہ مانی گئی تو وہ اپنے حواریوں سمیت سراپا احتجاج بن گئے اور سڑکوں پر آگئے۔ لیکن انھیں بزور قوت اپنے گھروں میں دھکیل دیا کر ’’خلافت‘‘ پر قبضہ کر لیا گیا۔ مرزاطاہر احمد جماعت کے چوتھے خلیفہ آمرانہ مزاج کے حامل تھے۔ ان کی شروع سے یہ عادت تھی کہ وہ کسی کی بات نہیں مانتے تھے ان کی فرعونی عادات نے نہ صرف مرزا طاہر بلکہ پوری قادیانی جماعت کو دنیا بھر میں ذلیل کیا۔ اپنی زبان درازی ہی کی وجہ سے وہ پاکستان سے بھاگ کر لندن اپنے آقاؤں کے ہاں پناہ گزین ہوئے۔ ان کے دور خلافت میں بھی کسی شخص کی عزت محفوظ نہیں تھی وہ جب چاہتے اور جسے بھی چاہتے پل بھر میں ذلیل کر دیتے ۔ انھوں نے نظریں ملا کر بات نہ کرنے کا حکم دے رکھا تھا۔ قادیانی لڑکیوں کو سدا سکھی رہنے کی دعا دینے والا یہ خلیفہ دس لاکھ کا حق مہر لکھوانے کے باوجود اپنی بیٹی کو طلاق سے نہ بچا سکا آخر مرزا لقمان کی پہلی بیوی نے طلاق لینے اور بچہ چھیننے پر بددعا دی ہو گی! مرزا طاہر احمد ہومیو پیتھک ڈاکٹر کہلوانے کے شوقین تھا اور اس کا یہی شوق انسانوں کے لیے مصیبت کا باعث بن گیا۔ مرزا طاہر احمد چاہتے تھے کہ عورتیں صرف ’’احمدی لڑکے‘‘ ہی پیدا کریں جن میں ذات پات یا نسل کا کوئی لحاظ نہ ہو۔ قادیانیوں کو’’ نر نسل ‘‘پیدا کرنے کی گولیاں دیتے رہے جن میں مردانہ طاقت بند ہونے کا دعویٰ کیا جاتا۔ شاید قدرت ان کے ان ہتھکنڈوں پر ہنس رہی تھی دوسروں کو لڑکے دینے والا یہ ڈاکٹر (ہومیو پیتھک) اپنی بیوی کو لڑکا نہ دے سکا اور ان کے اپنے ہاں تین بیٹیاں پیدا ہوئیں۔ جن سے دنیا حقیقت جان گئی۔ خلیفہ طاہر احمد نے اپنی عمر کے آخری چند سالوں میں اس دیدہ دلیری سے جھوٹ بولے کہ کراماً کاتبین بھی ان کے جھوٹ لکھتے ہوئے حیران ہوتے ہوں گے وہ جھوٹ کی انتہا پر پہنچتے ہوئے ایک روز بیس کروڑ احمدیوں کی جماعت کا خلیفہ ہونے کا دعویٰ کر بیٹھے۔ ان کے ذہنی توازن کا یہ حال تھا کہ امامت کے دوران عجیب و غریب حرکتیں کرتے رہتے۔ کبھی باوضو نماز پڑھاتے تو کبھی بے وضو ہی پڑھا دیتے۔ رکوع کی جگہ سجدہ اور سجدہ کی جگہ رکوع ۔ کبھی دوران نماز ہی یہ کہتے ہو ئے گھر کو چل دیتے کہ ٹھہرو! ابھی وضو کر کے آتا ہوں۔ غرضیکہ اپنے پیشرؤں کی طرح گرتے پڑتے اٹھتے بیٹھتے لیٹتے روتے مرزا طاہر احمد کی بھی بڑی مشکل سے جان نکلی پھر پرستاروں کے دیدار کے لیے جب لاش رکھی گئی تو چہرہ سیا ہ ہونے کے ساتھ ساتھ لاش سے اچانک تعفن اٹھا اور ان پرستاروں کو فوراً کمرے سے باہر نکال دیا گیا اور لاش بند کر کے تدفین کے لیے روانہ کر دی گئی۔ لوگوں نے یہ مناظر براہِ راست قادیانی ٹی وی پر دیکھے۔ بہت لوگ اس کے گواہ ہیں۔

http://www.algazali.org/gazali/archive/index.php/thread-347.html
 
احباب ان جھوٹے اور مکار قادیانی مربیوں کی بدبخت منافقت، صریحاً دھوکہ بازی، فراڈ اور جعلسازی کا ثبوت فیس بک پر بنائی گئی اس آئی کی صورت میں دیکھیں کہ جس کا نام تومسلمانوں کو دھوکہ دے کر پھانسنے کیلئے ،، ختم نبوت ،، رکھا گیا ہے پروفائل تصویر بھی ختم نبوت کی لگائی جاتی ہے مگر اس کے ذریعے قادیانیت کے کفر کی تبلیغ جاری ہے
https://www.facebook.com/profile.php?id=100000187823761
ختم نبوت کے نام سے اس فیک آئی ڈی اور مختلف ویب چینلز پر قادیایت کی شیطانی تبلیغ کا نظام چلانے والے اس قادیانی گروہ کا انچارج ایک مشہور قادیانی گستاخ قرآن شاعر اور اس کا شاتم اسلام ہم مذہب شاعرہے جو اس خاکسار سے قرآن و احادیث پر مبنی علمی دلائل پر مناظرہ چیلنج سے مجھ فقیر اور دوسرے تحریکی ساتھیوں سے دینی اور علمی بحث کے دوران ذیل میں کاپی پیسٹ کئے گئے یہ کافرانہ بیانات دے کر فرار ہو گئے تھے کہ نعوذ باللہ
آپ کو حضرت مرزا صاحب کی تحریروں میں تضادات دکھانے کا بہت شوق ہے ۔ کہئے ایسے کتنے تضادات آپ قرآن سے دیکھنا چاہین گے؟ گن کر تعین کیجئے ۔ مین آپ کو دکھاؤں گا۔

آپ کو مرزا صاحب کی تحریر لغو اس لئے لگتی ہے کہ آپ جاہل ہیں

ابھی تو مجھے تمہارے خدا کی اصلیت بھی تمہین دکھانی ہے۔ تیاری کر لو۔ لہذاٰ پہلے تم اپنے اسلام اور قرآن کا دفاع کر کے دکھاؤ ۔ مرزا ساحب کے بارے میں بعد میں بات کریں گے۔
میں اسی کے ساتھ اس دھاگے پر اپنے جوابی دلائل ختم کرتا ہوں کہ معززقارئین جان چکے ہوں گے کہ عقل و دانش ، فہم و فراست رکھنے کا دعوی کرنے والے گستاخ قرآن و اسلام قادیانی گروہ کا مذہب کیا ہے،ان کے مذہبی پیشوا مرزا قادیانی کی تحریروں میں کیا کیا غلاظت ہے اور کیوں ہے
فی امان اللہ
 

رانا

محفلین
افسوس حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے بارے میں اتنا لمبا چوڑا جھوٹ لکھ مارا۔ کتنی فرصت سے بیٹھ کر کہانیاں گھڑتے ہیں آپ۔ اور اپنی ہی بنائی ہوئی آئی ڈیز کے کمنٹس احمدیوں کی طرف منسوب کررہے ہیں۔ اللہ کے فضل سے احمدیت کا مقصد ہی اسلام، قران اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا دفاع کرتے ہوئے اسے دنیا پر غالب لانا ہے۔ کوئی احمدی قران اور اسلام کے بارے میں ایسے جھوٹے ریمارکس پاس کر ہی نہیں سکتا۔اب آپ جیسے لوگوں سے بندہ کیا علمی بحث کرے۔

بار بار اس بات کاتاثر دیا جارہا ہے کہ فاروق درویش صاحب تو قرآن و حدیث سے بات کررہے ہیں لیکن میں ہی علمی بحث سے بھاگ رہا ہوں اور بلاوجہ ان کے متعلق سخت الفاظ استعمال کردیئے ہیں۔ بالکل امریکہ اسرائیل والی پالیسی چلائی جارہی ہے کہ جیسے اسرائیل جو مرضی کرتا رہے کوئی بات نہیں لیکن کبھی کسی دوسرے متاثرہ ملک نے اس کے خلاف کوئی معمولی سا ایکشن بھی لے لیا تو اسکے اقدام کو ظلم قرار دیتے ہوئے شور مچانا شروع کردیا۔ بات بہت واضع ہے لیکن اس کے باوجود اتنا تکرار کی جارہی ہے۔ اس لئے مناسب سمجھا کہ اس بات کی کچھ وضاحت کر دی جائے تا کہ ریکارڈ پر آجائے۔

فاروق درویش صاحب نے فورم پر کچھ دھاگوں میں مسلسل جماعت احمدیہ پر اور جماعت کے بانی پر جھوٹے الزامات کا ایک سلسلہ شروع کیا۔ میں نے اس کے جواب میں ابھی ایک ہی پوسٹ کی تھی جس میں ارادہ ظاہر کیا تھا کہ میں ان اعتراضات میں سے جن کا بھی ہوسکا کچھ نہ کچھ جواب یہاں پوسٹ کرنا شروع کروں گا۔ اور ان کے ڈھیروں اعتراضات میں سے ابتدا ان کے اس اعتراض سے کی:


نمبر ١ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے حالانکہ مشہو رتھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ (مکتوب مرزا غلام احمد قادیانی مندرجہ اخبار الفضل ٢٢فروری ١٩٢٤ )

اسکے جواب میں ایک 8 منٹ کی ویڈیو پوسٹ کی تھی جس میں امام جماعت احمدیہ کی زبان سے اس اعتراض کے جواب میں بتایا گیا تھا کہ مرزا صاحب سے کسی نے حلال و حرام کی بابت شک ہونے کے بارے میں ایک فتوی پوچھا تھا کہ بعض چیزوں کی نسبت کچھ مشہور ہوجاتا ہے کہ ان میں حرام چیز کی ملاوٹ ہے تو اسکا استعمال کیسا ہے؟ جواب میں حضرت مرزا صاحب نے فرمایا کہ محض اس طرح کی باتوں کے مشہور ہوجانے کی بناء پر کسی چیز کو ترک نہیں کردینا چاہئے جب تک کہ کنفرم نہ ہوجائے اور آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ان روایتوں کا حوالہ دیا کہ جو حدیث کی کتابوں میں درج ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے جبکہ اس کے بارے میں بھی مشہور تھا کہ اس میں سور کی چربی پڑتی ہے۔ اور یہ صحابہ کی روایات ہیں جن کا ذکر اس ویڈیو میں حوالہ جات کے ساتھ کیا گیا ہے اور اسکرین پر حوالہ جات لکھے بھی دکھائے گئے ہیں۔
پھر ہندوستان کے چوٹی کے عالم دین جن کا نام کسی تعارف کا محتاج نہیں یعنی مولوی نذیر حسین دہلوی صاحب۔ ان کا بھی ایک فتوی بعنیہ اسی قسم کا اور اسی طرح کے سوال کے جواب میں حوالہ کے ساتھ اس ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ جس میں انہوں نے بھی بعنیہ یہی فتوی دیا جو حضرت مرزا صاحب نے دیا ہے اور نہ صرف یہ کہ یہی فتوی دیا بلکہ اس فتوی کے ساتھ بطور دلیل انہی روایات کا حوالہ دے کہ بعینہ یہی الفاظ روایات کے مولودی نذیر حسین صاحب دہلوی نے اپنے فتوی میں لکھے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم عیسائیوں کے ہاتھ کا پنیر کھالیتے تھے جبکہ مشہور تھا کہ سور کی چربی اس میں پڑتی ہے۔ (حوالے کے لئے اس 8 منٹ کی ویڈیو کو دیکھ لیں)۔
اب اگر یہ توہین ہے تو مولوی نذیر حسین دہلوی پر بھی توہین کا الزام لگائیں۔ اور ان تمام صحابہ پر الزام لگائیں جن کی یہ روایات ہیں۔ پوری تفصیل کے لئے اس ویڈیو کو اس لنک پر جاکر دیکھ لیں زیادہ بڑی ویڈیو نہیں صرف 8 منٹ کی ہے اور ہر روایت اور مولوی نذیر حسین دہلوی کے فتوی کا بھی حوالہ ساتھ دیا گیا ہے۔

لیکن میں اس وقت اس اعتراض اور اس کے جواب کی بحث ہی نہیں اٹھا رہا۔ میں اس وقت اس "علمی جواب" کی طرف احباب کی توجہ دلانا چاہتا ہوں جو فاروق درویش صاحب نے میری اس پوسٹ کے جواب میں کیا ہے۔ وہ درج ذیل ہے:

رانا صاحب کن اماموں اور کن خلیفوں کی بات کرتے ہیں ؟ جن میں اپنی ہی سگی بیٹی کی عصمت دری کرنے والے مرزا محمود جیسے خلیفے ہیں ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔ آپ دس دس سال تک فالج کا شکار ہو کر زندگی میں ہی عذاب الہی کا شکار اپنے خلیفوں کا دردناک انجام ہی غور سے پڑھ لیں تو آپ کی آنکھیں کھل جائیں اور عاقبت سنور جائے ۔۔۔ ۔۔۔ ۔۔۔ ۔
ان عقل کے اندھوں کو الٹا نظر آتا ہے
مجنوں نظر آتی ہے لیلیٰ نظر آتا ہے
اب مجھے بتائیں کہ میری جگہ کوئی بھی ہوتا تو وہ کس بنیاد پر ان سے مذید علمی بحث جاری رکھتا؟ اور ان کے اس جواب میں وہ کونسے دلائل ہیں جن کے ذریعے انہوں نے اوپر والے اپنے اعتراض کا دفاع کیا ہے؟ سراسر جھوٹے اور اتنا گھٹیا بازاری اور عامیانہ پن کے ساتھ دیئے گئے اس جواب کا میں کیا کرتا؟ کیا ذرا بھی ان کے جواب میں اس بات کا شائبہ ہوتا ہے کہ یہ علمی رنگ میں بات کرنا جانتے یا چاہتے ہیں؟ اس کے بعد یا تو میں بھی ایسی ہی زبان اختیار کرتا اور یا خاموشی اختیار کرتا۔ لہذا میں نے دوسرا راستہ اختیار کیا اور ان کی پوسٹس کو نظر انداز کردیا۔ کیا میں نے غلط کیا؟ ان کی اس پوسٹ کے بعد دیکھ لیں کتنے دن تک میں خاموش رہا اور یہ مسلسل ایسی ہی غیر علمی پوسٹس کرتے رہے۔
پھر ایک اعتراض کا کیونکہ بہت ڈھندورا پیٹا گیا اس کے لئے میں نے علیحدہ دھاگے میں ایک تفصیلی پوسٹ کردی جو کہ یہی دھاگہ ہے۔ اس پوسٹ کو بھی پڑھ لیں اور بتائیں کہ کیا ان کے اوپر والے گھٹیا الفاظ کی طرح میں نے کوئی لفظ استعمال کیا ہے؟ پھر انہوں نے یہاں بھی مجھے مخاطب کرکے کہا کہ رانا صاحب آپ پوسٹ کرتے ہیں اور پھر غائب ہوجاتے ہیں علمی رنگ میں بات کریں۔ کوئی مجھے بتائے گا کہ ان کو یہ بات کرتے ہوئے شرم کیوں نہ آئی؟ اور کیا ان کا حق تھا کہ یہ مجھ سے مطالبہ کرتے کہ میں ان کی پوسٹس کے جواب میں جوابی پوسٹس کیوں نہیں کرتا؟ اوپر جو ان کے ایک اعتراض کے جواب میں جو میں نے اپنی پہلی اور اکلوتی پوسٹ کا ذکر کیا ہے اور اسکے جواب میں جو ان کی طرف سے پوسٹ کی گئی اس کو سامنے رکھیں اور بتائیں کہ ان کے اس مطالبے کا کیا مقصد ہے؟ صرف یہی نا کہ میں بھی ان کی طرح ایسی ہی دشنام طرازی شروع کردوں؟ انہوں نے میری پوسٹ کے جواب میں اپنے اعتراض کے دفاع میں کونسی علمی دلیل دی ہے جس کے بعد یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ میں ان کو مذید کیوں جواب نہیں دے رہا؟ ان کے اس مطالبے کے جواب میں اگر میں نے ذرا سے سخت الفاظ استعمال کرڈالے جو ان کے میری پوسٹ کے جواب میں کئے گئے الفاظ کاہزارواں حصہ بھی نہیں تو بعض لوگوں کی طرف سے آسمان سر پر اٹھالیا گیا ہے۔ ان کے الفاظ پڑھیں اور پھر میرے بھی پڑھیں۔ کیا ان کو تو ایسے سخت الفاظ استعمال کرنے کا حق ہے اور مجھے اس سے کہیں زیادہ ہلکے الفاظ بھی جواب میں استعمال کرنے کا حق نہیں؟ جبکہ میں نے وہ الفاظ بھی فورا استعمال نہیں کئے کہ کوئی یہ کہے کہ شائد مجھے اس طرح کی عادت ہے! اگر عادت ہوتی تو ان کی اس پوسٹ کے جواب میں خاموش نہ ہوتا بلکہ وہیں جواب دے دیتا۔ جبکہ کئی دن بعد ان کے بار بار مخاطب کرنے کے بعد ان کے جواب میں ایک پوسٹ کی گئی ہے جس میں پھر بھی میرے الفاظ ان کے الفاظ کا پاسنگ بھی نہیں۔ میں نے پہلے بھی عرض کیا ہے کہ اصل جواب تو یہ تھا کہ وہی الفاظ ان کے متعلق اور ان کی بیٹی کے متعلق کہتا۔

ان کے اس رویئے سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ کہ اگر تو ان کی پوسٹس کا جواب نہ دیا جائے تو تب بھی یہ بازاری اور عامیانہ انداز میں پوسٹس کرتے رہیں گے اور ااگر جواب دوں تب بھی یہ علمی رنگ میں بات کرنے کی بجائے بازاری اور عامیانہ انداز میں جواب کو نظر انداز کرکے جھوٹ کی نجاست پر منہ مارتے ہوئے جھوٹی کہانیاں گھڑ گھڑ کر سناتے رہیں گے۔ میں نے ان کے اس رویئے پر جو الفاظ استعمال کئے اور ان کے مسلسل اصرار پر کئے وہ شائد انہیں اس لئے برے لگے کہ وہ میرے الفاظ تھے۔ لیکن امید ہے کہ نیچے درج کئے گئے قران شریف کے الفاظ انہیں برے نہیں لگیں گے:
"پس اس کیمثال کُتّے کی سی ہے کہ اگر تو اس پر ہاتھ اٹھائے تو ہانپتے ہوئے زبان نکال دے گا اور اگر اسے چھوڑ دے تب بھی ہانپتے ہوئے زبان نکال دے گا۔" (7:176 الاعراف)

اگر ان میں کچھ بھی شرم ہوگی تو کم از کم ان محفلین کے سامنے کسی کو دوبارہ علمی بحث کی دعوت دینے کی جرات نہیں کریں گے کہ ایک ہی پوسٹ انہیں ہضم نہ ہوسکی اور اپنے ہی پیش کئے ہوئے ایک اعتراض کے جواب کا جواب الجواب جو انہوں نے دیا اور جس انداز میں دیا وہ سب نے دیکھا ہے۔

یاد رہے کہ ایسے لوگ قطعا میرے مخاطب نہیں جو علمی رنگ میں جائز حدود میں رہ کر مہذب رنگ میں اختلاف کرتے ہیں۔ میں ایسے لوگوں کی اختلاف رائے کے باوجود عزت کرتا ہوں۔ مجھے ایک واقعہ یاد آرہا ہے غالبا عبد الماجد دریاآبادی کا ہے کہ انہوں نے بیان کیا کہ وہ ایک مرتبہ حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کی مجلس میں حاضر تھے۔ حاضرین میں سے ایک نے احمدیت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ حضرت ان لوگوں کا بھی کوئی دین ہے۔ نہ قران کو مانیں اور نہ رسول کو۔ مولانا اشرف علی تھانوی صاحب نے فورا ٹوکا کہ یہ بالکل غلط ہے۔ ہمارا ان سے اختلاف صرف نبوت میں ہے اور اسکے بھی صرف ایک باب میں۔ دوسری باتوں میں ہمارا ان سے کوئی اختلاف نہیں۔ بات کو بات کی جگہ پر رکھنا چاہئے۔ اب دیکھیں ایسے علماء بھی تو ہیں جو فاروق درویش جیسے لوگوں سے کہیں زیادہ علم رکھتے تھے اور اللہ کے فضل سے مخالفت کرنے کا مہذب طریقہ بھی جانتے تھے۔ کاش آج کے درویش صاحبان مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے ہی اخلاق اپنا لیں۔

اختلاف کرنا کوئی بری بات نہیں۔ اگر کسی کو احمدیت سے اختلاف ہے تو شوق سے مہذب رنگ میں اپنے اعتراض کو پیش کرے اس میں کوئی حرج نہیں ۔ اگر مجھے اس اعتراض کی بابت کچھ بھی علم ہوگا تو میں معلومات شیئیر کردوں گا ورنہ اپنی کم علمی کا اظہار کرکے معذرت کرلوں گا اور اپنی جماعت کے کسی عالم سے وقت نکال کر اس کا جواب حاصل کرنے کی کوشش کروں گا۔ معلومات کی خاطر مہذب رنگ میں پیش کیے گئے کسی بھی اعتراض کا میں کبھی بھی برا نہیں مانوں گا بشرطیکہ اعتراض صرف علم کی خاطر کیا جائے نا کہ ایک احمدی کو نیچا دکھانے کی خاطر اور بحث کو جیتنے کی نیت سے کہ اس طرز کا کوئی فائدہ نہیں۔ البتہ اس بات کا اظہار کردوں کہ جن لوگوں نے اب تک اس رنگ میں احمدیت پر اعتراضات کئے ہیں جن سے اعتراض کرنے والے کا تعصب ظاہر و باہر ہے وہ آئندہ کبھی بھی میرے مخاطب نہیں ہوں گے اور نہ ہی میں ان کی کسی پوسٹ کا آئندہ نوٹس لوں گا کہ تعصب کی بنیاد پر کی گئی گفتگو کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
 
حکیم نور الدین کے گھوڑے سے گر کر زخموں کا ناسور بن کر ایڑیاں رگڑ رگڑ کر مرنے کے درد ناک انجام کے بعد مرزا غلام احمد قادیانی کا بیٹا مرزا بشیر الدین محمود جسے قادیانی جماعت’’خلیفہ ثانی‘‘ کے نام سے جانتی ہے جانشین ہوا خلافت پر جھگڑا ہوا مولوی محمد علی لاہوری کو خلافت نہ ملی مرزا قادیانی کی بیوی نے ریشہ دوانیوں سے اپنے نوجوان بیٹے کو زبردستی خلیفہ بنوا دیا۔ یہ عیاش اور لااُبالی جوان تھا جسے خلافت ملنے پر مرزا قادیانی کے وفادار ساتھی مولوی محمد علی لاہوری احتجاجاً اس جماعت سے نکل گئے۔ اور اپنا لاہور ی مرزائیوں کا گروپ تشکیل دے دیا۔ بشیر الدین محمود نے خلیفہ بنتے ہی ایسی گھناؤنی حرکتیں کیں کہ خود شرم بھی شرما گئی۔ ان کی قصرِ خلافت نامی رہائشگاہ دراصل ’’قصرِخباثت‘‘ تھی جہاں عینی شاہدین کے مطابق صرف عقیدتوں کا خراج ہی بھینٹ نہیں چڑھا بلکہ مختلف حیلے بہانوں سے یہاں عصمتیں بھی لٹتی رہیں اس مقدس عیاش نے اپنے شکار گرفت میں لانے کے لیے نہایت دلکش پھندے لگا رکھے تھے اسے معصوم لڑکیوں کو رام کرنے کا ایسا سلیقہ آتا تھا کہ قصرِ خلافت کے عشرت کدے میں جانے والی بہت سی عورتیں اپنی عزت لٹا کر واپس آئیں۔ خلیفہ ثانی مذہب کی آڑ میں عصمتوں پر ڈاکے ڈالتا رہا۔ چناب نگر(سابقہ ربوہ) میں مختلف حیلوں بہانوں سے اس عیاش خلیفہ نے عصمتیں لوٹیں اور ظلم پہ ظلم کرتا رہا۔ اسی خلیفے کے قصر محمود میں اپنی بیٹی کی موجودگی میں ایک غیر ملکی خاتون کے ساتھ زیادتی اور پھر حتیٰ کہ اپنی بیٹی کے ساتھ زیادتی کے قصوں سے تمام عالم واقف ہے ۔ اس خلیفہ کی رنگین داستانوں کے قادیانی جماعت کے اپنے ہی لوگوں کے تبصرے حلفی بیانات مباہلے اور قسمیں موجود ہیں۔ خدائے برتر ایسے ظالم انسان کو کبھی معاف نہیں کرتے چنانچہ احمدی جماعت کے اس خلیفہ’’ثانی‘‘ جسے قادیانی ’’فضل عمر‘‘ بھی کہتے ہیں کی زندگی کا خاتمہ بھی انتہائی دردناک حالات میں ہوا۔ اسے زندگی کے آخری بارہ سال میں بستر مرگ پر ایڑیاں رگڑتے مرتے دیکھ کر لوگ کانوں کو ہاتھ لگاتے تھے۔ اس کو فالج ہو گیا تھا اس کی شکل و صورت جنونی پاگلوں کی سی بن گئی تھی۔ وہ سر ہلاتا رہتا منہ میں کچھ ممیاتا رہتا اس کے سرکے زیادہ تر بال اڑچکے تھے۔ پھر بھی انھیں کھینچتا رہتا،داڑھی نوچتا رہتا۔ وہ اپنی ہی نجاست ہاتھ منہ پر مل لیا کرتا تھا۔ بہت سے لوگ ان واقعات اور حالات کے عینی شاہد ہیں۔ اس ’’خلیفہ ثانی‘‘ نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ جماعت احمدیہ میں اٹھانوے فیصد منافق ہیں جس کی بنا پر جماعت کو ان کے پاگل ہونے کی افواہ اڑانی پڑی۔ ایک لمبا عرصہ اذیت ناک زندگی بستر پر گزارنے کے بعد جب یہ شخصیت دنیا سے رخصت ہوئی تو اس کا جسم بھی عبرت کا نمونہ تھا۔ ایک لمبا عرصہ تک ایک ہی حالت میں بستر پر لیٹے رہنے کی وجہ سے لاش اکڑ کر گویا کہ مرغ کا چرغہ بن چکی تھی۔ ٹانگوں کو رسیوں سے باندھ کر بمشکل سیدھا کیا گیا۔ چہری پر گھنٹوں ماہرین سے خصوصی میک اپ کروایا گیا۔ جسم کی کافی دیر تک صفائی کی گئی اور پھر عوام الناس کو دھوکہ دینے کے لیے مرکری بلب کی تیز روشنی میں لاش کو اس طرح رکھا گیا کہ چہرے پر مصنوعی نور نظر آئے لیکن قادیانی تو ساری باتوں سے واقف تھے۔ خدا تعالیٰ ایسے حقیقی انجام اور مصنوعی نور سے ہر مسلمان کو محفوظ رکھے،آمین۔
 

ساجد

محفلین
رانا صاحب ، قادیانیت کے حوالے سے میرا آپ سے صرف ایک سوال ہے جس کے دو حصے ہیں۔ جوابات صرف ہاں یا نہ میں دیں۔
یہ کہ آپ کے پیش رو پر نبوت کے دعویدار ہونے کی بابت آپ کا کیا خیال ہے۔ کیا انہوں نے کبھی یہ دعوی کیا یا نہیں؟۔
یہ کہا جاتا ہے کہ انبیاء پر انہوں نے خود کو فوقیت دی۔ قادیانیت پر بات کرنے کے حوالے سے ان کے اس مبینہ عمل پہ بہت بحث ہوتی ہے۔ آپ اس بات میں کیا رائے رکھتے ہیں۔کیا انہوں نے یہ کام کیا یا محض الزام ہے ان پر؟۔
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top