حضرت مرزا صاحب پر حضرت عیسی علیہ السلام کی توہین کا جھوٹا الزام

کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں

رانا

محفلین
اس فورم میں مختلف جگہ احمدیت کے خلاف بات کرتے ہوئے ایک اعتراض جس پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور ہر دھاگے میں بہت شدومد دہرایا گیا ہے وہ یہ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے حضرت عیسی علیہ االسلام کی توہین کی ہے۔ اور اس کے ثبوت کے طور پر حضرت مرزا صاحب کی بعض عبارتیں سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کی گئی ہیں۔ میں یہاں مرزا صاحب کی اس کتاب کے چند مسلسل صفحات کے اصل عکس لگارہا ہوں جن سے عبارتیں سیاق و سباق سے کاٹ کر پیش کی جاتی ہیں۔ اس میں مرزا صاحب نے ایک بد بخت عیسائی پادری کے ان گندے حملوں کا جواب دیا ہے جو اس بد بخت نے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر کئے ہیں اور اتنی بکواس کی ہے کہ زنا تک کی تہمت آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر لگانے سے گریز نہیں کیا۔ اس کے ان گندے حملوں کا جو جواب حضرت مرزا صاحب نے دیا ہے اس کے صرف پہلے حصے سے چند صفحات لگا رہا ہوں۔ بعض لوگ جن کی غیرت مر چکی ہے اور صرف زبانوں پر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی ناموس کا دعوی ہے انہیں تو یہ جوابات جو پادری کو دئیے گئیے ہیں ضرور برے لگیں گے کہ کیوں مرزا صاحب نے اس طرح کے پادریوں کا منہ بند کیا۔ لیکن میں نے یہ صفحات ایسے لوگوں کے لئے لگائے ہی نہیں۔ یہ صرف باشعور اور اہل علم احباب کے استفادہ کے لئے لگائے گئے ہیں۔ اور ان صفحات کے آخر میں اس دور کے ایک مشہور معروف اہل علم حضرات میں سے ایک کا تبصرہ بھی پیش کروں گا کہ اس دور کے وہ علماء جو اسلام کا حقیقی درد رکھتے تھے وہ احمدیت کی مخالفت کے باوجود مرزا صاحب کی ان دفاع اسلام اور دفاع آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کاوشوں کو کس نظر سے دیکھتے تھے۔

374.jpg

375.jpg

376.jpg

377.jpg

378.jpg
 

رانا

محفلین
حضرت مرزا صاحب کی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے دفاع کی کامیاب کوششوں کو اہل علم نے کس نظر سے دیکھا اس کا صرف ایک نمونہ پیش ہے۔

مولانا ابوالکلام آزاد مدیر "وکیل" ہندوستان کے مایہ ناز انشاء پرداز ہیں۔ انہوں نے مرزا صاحب کی وفات پر ایک اداریہ اپنے اخبار میں لکھا جو درج زیل ہے۔

"وہ شخص بہت بڑا شخص جس کا قلم سحر تھا اور زبان جادو۔ وہ شخص دماغی عجائبات کا مجسمہ تھا جس کی نظر فتنہ اور آواز حشر تھی۔ جس کی انگلیوں سے انقلاب کے تار الجھے ہوئے تھے۔ جس کی دو مٹھیاں بجلی کی دو بیٹریاں تھیِں۔ وہ شخص جو مذہبی دنیا کے لئے تیس برس تک زلزلہ اور طوفان رہا جو شور قیامت ہو خفتگان ہستی کو بیدار کرتا رہا۔ یہ تلخ موت یہ زہر کا پیالہ موت جس نے مرنے والے کی ہستی تہہ خاک پنہاں کردی۔ ہزاروں لاکھوں زبانوں پر تلخ کامیاں بن کر رہے گی اور قضا کے حملے نے ایک جیتی جاگتی جان کے ساتھ جن آرزوںا اور تمناوں کا قتل عام کیا ہے صدائے ماتم مدتوں اس کی یادگار تازہ رکھے گی۔
ایسے لوگ جن سے مذہبی یا عقلی دنیا میں انقلاب پیدا ہوا ہمیشہ دنیا میں میں نہیں آتے۔ یہ نازش فرزندان تاریخ بہت کم منظر عام پر آتے ہیں اور جب آتے ہیں تو دینا میں انقلاب پیدا کرکے دکھاجاتے ہیں۔ مرزا صاحب کی اس رحلت نے ان کے بعض دعاوی اور بعض معتقدات سے شدید اختلاف کے باوجود ہمیشہ کی مفارقت پر مسلمانوں کو، ان تعلیم یافتہ اور روشن خیال مسلمانوں کو محسوس کرادیا ہے کہ ان کا ایک بڑا شخص ان سے جدا ہوگیا۔
ان کی یہ خصوصیت کہ وہ اسلام کے مخالفین کے برخلاف ایک فتح نصیب جرنیل کا فرض پورا کرتے رہے ہمیں مجبور کرتی ہے کہ اس احساس کا کھلم کھلا اعتراف کیا جائے کہ وہ عظیم مہتم بالشان تحریک جس نے ہمارے دشمنوں کو عرصہ تک پست اور پامال بنائے رکھا آئیندہ بھی جاری رہے۔ مرزا صاحب کا لٹریچر جو مسیحیوں اور آریوں کے مقابلہ پر ان سے ظہور میں آیا قبول عام کی سند حاصل کرچکا ہےاور اس خصوصیت میں وہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس لٹریچر کی قدرو عظمت آج جب کہ وہ اپنا کام پورا کرچکا ہے ہمیں دل سے تسلیم کرنی پڑتی ہے اس لئے کہ وہ وقت ہرگز لوح قلب سے نسیا منسیا نہں ہوسکتا جب کہ اسلام مخالفین کی یورشوں میں گھر چکا تھا اور مسلمان جو حافظ حقیقی کی طرف سے عالم اسباب و وسائط میں حفاظت کا واسطہ ہو کر اس کی حفاظت پر مامور تھے اپنے قصوروں کی پاداش میں پڑے سسک رہے تھے اور اسلام کے لئے کچھ نہ کرتے تھے یا نہ کر سکتے تھے۔
ضعف مدافعت کا یہ عالم تھا کہ توپوں کے مقابلہ پر تیر بھی نہ تھے اور حملہ اور مدافعت دونوں کا قطعی وجود ہی نہ تھا۔ اس مدافعت نے نہ صرف عیسائیت کے اس ابتدائی اثر کے پرخچے اڑائے جو سلطنت کے سایہ میں ہونے کی وجہ سے حقیقت میں اس کی جان تھا اور ہزاروں لاکھوں مسلمان اس کے اس زیادہ خطرناک اور مستحق کامیابی حملہ کی زد سے بچ گئے بلکہ خود عیسائیت کا طلسم دھواں ہو کر اڑنے لگا۔ انہوں نے مدافعت کا پہلو بدل کر مغلوب کو غالب بنا کے دکھا دیا ہے۔
اس کے علاوہ آریہ سماج کی زہریلی کچلیاں توڑنے میں مرزا صاحب نے اسلام کی خاص خدمت سرانجام دی ہے۔ ان آریہ سماج کے مقابلہ کی تحریروں سے اس دعوی پر نہایت صاف روشنی پڑتی ہے کہ آئندہ ہماری مدافعت کا سلسلہ خواہ کس درجہ تک وسیع ہوجائے ناممکن ہے کہ یہ تحریریں نظر انداز کی جاسکیں۔ آئندہ امید نہیں کہ ہندوستان کی مذہبی دنیا میں اس شان کا شخص پیدا ہو جو اپنی اعلی خواہش محص اس طرح مذہب کے مطالعہ میں صرف کردے۔"
 

رانا

محفلین
مرزا صاحب کے اوپر جن صفحات کا عکس دیا گیا ہے ان میں حضرت مرزا صاحب نے خود ہی اس مجبوری کا ذکر بھی کیا ہے جو انہیں اس طرز کے جواب کے لئے پیش تھی۔ اور یہ طریق پادریوں کا منہ بند کرنے کے لئے مسلسل 40 سال ان کی گالیاں سن کر اختیار کیا گیا۔ لیکن یہ طریق صرف مرزا صاحب ہی نے نہیں اختیار کیا بلکہ اہلسنت کے بعض علماء نے بھی اختیار کیا تھا۔ جن میں سے ایک حاجی امداداللہ مہاجر مکی ہیں جن کی ایک کتاب جس کا نام ابھی زہن میں نہیں وہ ایسی ہی باتوں سے بھری ہوئی ہے۔ اور عیسائیوں کو الزامی جواب دینے کی غرض سے مرتب کی گئی ہے۔ اس کتاب کے حاشیہ پر اہلسنت والجماعت کے جید عالم مولوی آل حسن صاحب نے کتاب استفسار لکھی جس میں وہ لکھتے ہیں: "اور ذرے گریبان میں سر ڈال کر دیکھو معاذ اللہ حضرت عیسی کے نسب مادری میں دو جگہ تم آپ ہی زنا ثابت کرتے ہو"۔

بہرحال جو خود جواب دینے کی ہمت نہیں رکھتے اور صرف زبان پر ناموس کا دعوی رکھتے ہیں اور دل غیرت سے خالی ہیں ان کا تو کام ہی یہ ہے کہ مسلمانوں کے اندر رہ کر ان عیسائی پادریوں کی زبان بولیں۔ پھر یاد رہے کہ یہ پوسٹ صرف اہل علم دوستوں کے لئے ہے کہ نا کہ غیرت سے خالی دلوں سے بحث کرنے کے لئے۔
 

رانا

محفلین
اوپر جس کتاب کے جن صفحات کا عکس دیا گیا ہے(روحانی خزائن جلد 9، نور القران دوسرا حصہ) وہ پوری کتاب یہاں سے ڈاون لوڈ کی جاسکتی ہے۔ میں نے یہاں صرف ابتدائی چند صفحات کا عکس دیا ہے جبکہ اس کے بعد بھی بہت سے اعتراضات ہیں اس پادری کے جن کا جواب دیا گیا ہے۔
 

فخرنوید

محفلین
جی مرزا صاحب کو من و سلویٰ کی طرح ایک سسٹم کور آئی 7 بمع 19 انچ ٹی ایف ٹی اور اردو انسٹالیشن کی ترکیب ملی تھی۔
 
سب سے پہلے تو اس دعوے کے انداز اور وجہ دعوی پر ذرا کھل کھلا کر قہقہ لگائیں جس میں مرزاصاحب نے خود کے مریم بننے سے عیسی بننے تک کا ارتقائی سفر کچھ ایسی مضحکہ خیز داستان میں بیان کیا ہے۔ واہ رے مرزا صاحب، خود ہی مریم بنے اور خود ہی جنس تبدیل کر کے اپنے ہی بیٹے بھی بن گئے ۔ کیا کمال شعبدہ بازی ہے یا محمدی بیگم صاحبہ کے ناکام عشق کا سکھایا ہوا جادو؟

( میں خود مریم بنا رہا اور مریمیت کی صفات کے ساتھ نشو و نما پاتا رہا اور جب دو برس گزر گئے تو عیسیٰ کی روح میرے پیٹ میں پھونکی گئی اور استعاراً میں حاملہ ہو گیا اور پھر دس ماہ لیکن اس سے کم مجھے الہام سے عیسیٰ بنا دیا گیا )
کشتیِ نوح ۔ صفحہ نمبر ۶۸ ۔ ۶۹
 
جی مرزا صاحب کو من و سلویٰ کی طرح ایک سسٹم کور آئی 7 بمع 19 انچ ٹی ایف ٹی اور اردو انسٹالیشن کی ترکیب ملی تھی۔
بھیا مت بھولیں کہ مرزا صاحب کا انگریز فرشتہ ٹیچی ٹیچی سب کچھ کرنے پر قدرت رکھتا تھا، جو مرزا خود مریم بن کر خود کو جنم دے کر عیسی بن سکتا ہے اس کی جادوگری سے کیا کچھ ممکن نہیں ہے، تع بھیا کہنے میں کیا حرج ہے؟
 
کی مرزا صاحب نے یہ بھی خواب میں کہا تھا یا کہہ کر بھول گئے تھے؟ اب یہ آپ بتا دیں کہ مرزا صاحب نے یہ گالیاں جناب عیسی علیہ اسلام ابن ِ مریم علیہ السلام کو دیں کہ مسیح موعود غلام احمد ابن چراغ بی بھی کو دیں تھیں کیونکہ مرزا صاحب کے بقول وہی تو اصلی عیسی ہیں اور دوسری دفعہ آئے ہیں ، ارے قادیانی لوگوں کیا مذاق ہے کہ مرزا صاحب خود کو ہی گالیاں بک رہے ہیں حتی اپنی ماں اور نانیوں اور دادیوں تک کو بھی گالیاں اور اف توبہ وہ بھی اس قدر بیہودہ ۔

آپ کا (حضرت عیسیٰ علیہ السلام ) خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا ء کار اور کسبی
عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔ “ ضمیمہ انجام آتھم ، حاشیہ ص ٧ مصنفہ غلام احمد قادیانی :
 

الم

محفلین
مرزا جی کی یہی تو چالاکی پہلے اچھا بننا پھر چھلانگیں لگا کے زہد کے درجوں پہ چڑھنا۔۔۔۔جو ایک عالم سے مجدد اس سے آگےمریم، عیسیٰؑ ، نبی پاک ﷺ کا بروزی پھر مہدی اور کبھی خدا کے درجے تک بھی پہنچ جاتے نعوذ باللہ۔۔۔ اوہ ٹھہرئیے وہ تو میں بھول گیا ہندؤں کے دیوتا کرشنا اوتار (دوسری آمد) بھی تو۔۔۔

ایسی تحاریر سے جناب رانا صاحب آپ مرزا (لعان اللہ) کے اپنے ہی منہ سے تضاد کو پیش کر رہے رہے جو اللہ کے پاک نبی عیسیٰؑ کی ایک جگہ تو تعریف کرتے اور دوسری جگہ عیسائی پادریوں سے بحث کی آڑ میں انکی بے ادبی کرتے نعوذباللہ۔۔۔!!
 

رانا

محفلین
1895 میں کمپیوٹر ٹائپنگ ؟؟؟

افسوس تعصب بھی کیا کیا دکھاتا ہے۔ جناب مرزا صاحب کی تمام کتب کو ایک سیٹ کی شکل میں روحانی خزائن کے نام سے چھاپ دیا گیا ہے اور اب نیا ایڈیشن کمپیوٹرائزڈ چھاپا گیا۔ اس اعتراض کی کچھ سمجھ نہیں آئی۔ اف یہ تعصب۔۔۔
 
ایسا اکثر دیکھا گیا ہے کہ زیادہ زہد و عبادت کرنے والے اور بزعمِ خود متقی بننے والے افراد کی انا بہت خودسر ہوتی ہے۔ اور جب ایسے افراد بے مرشد بھی ہوں اور رسولِ کریم کی بارگاہ سے سندِ قبولیت سے بھی محروم ہوں تو پھر ایسے افراد آسانی کے ساتھ اغوائے شیطانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ چونکہ کسی وارثِ نبی ولی اللہ کی بارگاہ میں زانوئے ادب کو تہہ نہیں کیا ہوتا اور نفس اپنی پرانی انانیت پر باقی ہوتا ہے، تو ایسے افراد غیرتِ ایمانی کے دھوکے میں انانیت کا مظاھرہ کررہے ہوتے ہیں۔۔۔جب فریقِ مخالف ان سے طعن و تشنیع سے پیش آتا ہے تو آگ بگولہ ہوکر ترکی بہ ترکی جواب دینے پر کمربستہ ہوجاتے ہیں اور تمام حدود و قید کوپھلانگ جاتے ہیں۔۔شیطان انکے نفس کو یہ تھپکی دیتا ہے کہ شاباش، یہ سب تو دین کی حمیّت و غیرت میں کیا جارہا ہے۔ بعینہِ مرزا صاحب کے ساتھ پیش آیا۔۔انکے اپنے اقرا رکے بموجب ،وہ اعصابی بیماریوں یعنی مالیخولیا، مراق ، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس کے مریض تھے اس پر انکی انانیت او خودپسندی اور اس پر تیل چھڑک دیا مخالفین نے خواہ وہ عیسائی تھے یا مسلمان، پھر انکے قلم نے جو گلکاریاں کی ہیں وہ سب پر عیاں ہیں۔
مرزا صاحب نے جب اپنے تئیں آریہ سماجیوں اور پادریوں کے خلاف کام شروع کیا اور انکے جھوٹے خداؤں کی دل کھول کر توہین و تذلیل کی تو ان لوگوں نے بھی جواباٰ تہزیب کو بالائے طاق رکھتے ہوئے پیغمبر اسلام کی شان میں بیحد گستاخیاں کیں۔قارئین نے ہندووں کی دلآزار کتاب ستیاتھ پرکاش کا نام سنا ہوگا۔اس میں 12 ابواب تھے، لیکن توہین اور گستاخی والی زبان نہیں تھی۔۔۔جب مرزا صاحب نے آریوں کے نظام معاشرت اور انکے پرمیشور کے بارے میں بیحد گندی زبان استعمال کی تو ان لوگوں نے اس کتاب میں تیرھواں باب شامل کیا جس میں رسول پاک کی شان میں انتہائی گھناونی گستاخیاں کیں۔۔۔رنگیلا رسول نامی دلآزار کتاب لکھی گئی۔۔۔۔اور اس سب کا محرک بنے مرزا صاحب۔ اور انکی انانیت۔
قرآن و سنت میں ہے کہ تم باطل کے جھوٹے خداؤں اور پیشواؤں کو برا نہ کہو مبادا کہ وہ تمہارے سچے خدا اور پیشوا کو برا کہیں۔۔۔مرزا صاحب جو بہت بڑے دعوے کرتے تحے ، انکا ردّعمل تو اسکے برعکس تھا۔۔
حضرت علی کا بڑا ایمان افروز واقعہ ہے کہ جب ایک کافر کے ساتھ جنگ کرتے کرتے آپ نے اسکو پچحاڑ دیا اور اسکے سینے پر بیٹھ گئے تو اس نے آپ کے چہرہءٰ مبارک پر تھوک دیا۔۔۔آپ فوراّ پرے ہٹ گئے اور اسکی جان بخش دی۔ اس نے جب وجہ پوچھی تو یہ فرمایا کہ "پہلے میرا تمہاری مخالفت فی سبیل اللہ تھی، لیکن جب تم نے مجھ پر تھوکا تو اس وقت میرے اندر اپنی ذات کیلئے غصے کا داعیہ پیدا ہوا ۔۔اور میں یہ پسند نہیں کرتا کہ کسی انسان کی محض اپنی ذات کی خاطر جان لوں"۔۔۔یہ لوگ تو تھے وارثانِ نبوت۔۔۔اور اب اپنے مرزا صاحب کے دعوے و لاف و گذاف دیکھیں اور انکے ردعمل دیکھیں۔۔
جب حضرت مہر علی شاہ گوڑہ شریف والوں کے ساتھ مرزا صاحب کا ٹکراو ہوا تو مرزا نے یہ کہا "اے گولڑا کی سرزمین تجھ پر لعنت، ملعون کی وجہ سے تو بھی ملعون ہوگئی" اور یہ بھی کہا کہ " وہ ملعون ہے اور ملعون ہے جو کچھ اسکے منہ سے نکلتا ہے"۔۔۔آپکے مرزاصاحب تو ایک عام دیہاتی مسلمان جسے آپ جاہل و انتہا پسند کہتے نہیں تھکتے ، اس سے بھی گئے گذرے نکلے۔۔۔کہاں گیا وہ حلم جو ایک نبی کے شایانِ شان ہوتا ہے۔
پیر مہر علی شاہ صاحب نے تو بحیثیت وارثِ علومِ نبوی کے اس حلم کا مظاہرا کیا اور آپکی اس بدزبانی کے جواب میں کہا تو یہ کہا کآپ ہمیں جو چاہے کہہ لیں لیکن یہ تو سوچیں کہ ہماری زبان سے اللہ کے فضل س درود و سلام اور حمد اور قرآن و حدیث کے کلمات نکلتے ہیں، اس پر یہ کہنا کہ ملعون ہے جو کچھ اسکے منہ سے نکلتا ہے، یہ کیا ہے۔۔۔
 

الم

محفلین
محمود احمد غزنوی بہت خوب بات کہی اصل میں بات یہ ہے کہ ان کے مربی، علماِ دین کو ہزار برا بھلا کہیں وہ کچھ نہیں لیکن جب کوئی عاشقِ رسول ان کو سنائے تو وہ فورا ایک اتنی بڑی خبر ہوتی کہ کیا بتائیں۔۔۔سب کے لئے پیار اور نفرت کسی سے نہیں کے حامی اپنی باتوں پہ عمل نہیں کرتے ہمیں کیا کہتے۔۔
 
مرزا صاحب کے اوپر جن صفحات کا عکس دیا گیا ہے ان میں حضرت مرزا صاحب نے خود ہی اس مجبوری کا ذکر بھی کیا ہے جو انہیں اس طرز کے جواب کے لئے پیش تھی۔ اور یہ طریق پادریوں کا منہ بند کرنے کے لئے مسلسل 40 سال ان کی گالیاں سن کر اختیار کیا گیا۔ ۔

رانا جی ۔۔۔۔۔ آپ حسب عادت آتے ہیں اور مرزا کی شیطان القلمی کا ایک نادر نمونہ آویزاں کر کے رخصت ہو جاتے ہیں، امید ہے کبھی دینی بحث کیلئے علمی دلائل لے کر بھی آئیں گے تو بات بھی ہو گی ۔۔۔۔ آپ کی ہر فائل میں ہی آپ کے موقف کا جواب چھپا ہوتا ہے جو شاید آپ کو تو نظر نہیں آتا لیکن لیکن ہر عاقل مسلمان کو ضرور دکھائی دیتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آپ کی اس ساری قصہ خوانی میں آپ کی یہ عبارت میں ہے جواب چھپا ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔ (( مرزا صاحب کے اوپر جن صفحات کا عکس دیا گیا ہے ان میں حضرت مرزا صاحب نے خود ہی اس مجبوری کا ذکر بھی کیا ہے جو انہیں اس طرز کے جواب کے لئے پیش تھی۔ اور یہ طریق پادریوں کا منہ بند کرنے کے لئے مسلسل 40 سال ان کی گالیاں سن کر اختیار کیا گیا۔ )) ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو مرزا جی کے ہونہار مربی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کیا کہیں گے یا کیا جواب دیں گے ؟
1۔قرآن کی کونسی آیت یا حدیث اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ کسی مجبوری کے تحت کسی فحش کلام انسان یا فحش کلام گروہ کا مونہہ بند کرنے کیلئے خود فحش کلامی کا سہارا لیا جائے؟
2۔ کیا حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر نبی آخر الزمان محمد صلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ کے کسی سچے نبی نے ، غصے یا مجبوری کے تحت اللہ کے دین کے کسی بھی دشمن کے بارے فحش کلامی کی یا کوئی فحش تحریر لکھی ؟۔۔۔۔۔ مسلمانوں پر انسانیت سوز مظالم ڈھانے والے کفار ِ مکہ کے بارے خاتم الانبیا صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی ایسی حدیث بتا سکتے ہیں جس میں کفار کے بارے فحش الفاظ استعمال کئے گئے ہوں؟۔۔۔۔ یا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خلفائے راشدین و اہل بیت رضوان اللہ نے ازحد ستائے جانے کےبعد بھی بوجہ مجبوری کسی دشمن یا کسی کافر کو بھی گالی دی تھی ؟
نتیجہ :۔ ۔۔۔۔ مالک کائنات اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے سچے نبی وہی کہتے ہیں جو اللہ سبحان تعالی کا حکم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔ان کی زبان، ان کے ہاتھ وہی کہتے اور لکھتے ہیں جو اللہ سبحان تعالی کا حکم ہوتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ مرزا جی کے آقا یہودی تھے جنہوں نے اپنے مذموم مقاصد کے تحت ، سیدنا و مولانا محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے لیکرحضرت عیسی علیہ السلام تک، حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ اورجناب علی کرم اللہ وجہہ سے لیکر امام عالی مقام حسین رضی اللہ عنہ تک ہر دینی ہستی کو اپنی غلاظت آمیز زبان اورسخت کلامی کا نشانہ بنایا ۔۔۔۔۔۔ سو مرتے وقت بھی ہر راہ سے غلاظت کا ہی خروج رہا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
اوپر جس کتاب کے جن صفحات کا عکس دیا گیا ہے(روحانی خزائن جلد 9، نور القران دوسرا حصہ) وہ پوری کتاب یہاں سے ڈاون لوڈ کی جاسکتی ہے۔ میں نے یہاں صرف ابتدائی چند صفحات کا عکس دیا ہے جبکہ اس کے بعد بھی بہت سے اعتراضات ہیں اس پادری کے جن کا جواب دیا گیا ہے۔

رانا جی قادیانیت کے حمایتی کسی اہل علم یا اپنے کسی مربی سے مرزا جی کی اس شیطانی تحریر کا جواز یا دفاع لے کر آو کہ میں اس کا جواب خود سے نہیں آیات قرآنی سے پیش کرتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔۔
مرزا کہتا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ ( حضرت عیسیٰ علیہ الصلواۃ السلام ) کا خاندان بھی نہایت پاک اور مطہر ہے تین دادیاں اور نانیاں آپ کی زنا ء کار اور کسبی

عورتیں تھیں ، جن کے خون سے آپ کا وجود ظہور پذیر ہوا ۔ ( ضمیمہ انجام آتھم ، حاشیہ ص ٧ مصنفہ غلام احمد قادیانی )

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ہر مسلمان کا ایمان ہے کہ حضرت مریم علیہ السلام پاکیزہ و برگذیدہ ہستی ہیں اور پاکیزہ خواتین پر تہمت لگانے والے کے بارے قرآن حکیم کا کھلا فیصلہ ہے کہ۔۔۔۔۔۔

وَالَّذِینَ یَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ یَأْتُوا بِأَرْبَعَۃِ شُہَدَاءَ فَاجْلِدُوہُمْ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً وَلَا تَقْبَلُوا لَہُمْ شَہَادَۃً أَبَدًا وَأُولَئِکَ ہُمُ الْفَاسِقُونَ ٭ إِلَّا الَّذِینَ تَابُوا مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّہَ غَفُورٌ رَحِیمٌ ﴾
(سورۃ النور۴۔۵)
ترجمہ : اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواہ نہ پیش کر سکیں تو انہیں اسی (۸۰)کوڑ ے لگاؤ اور کبھی ان کی گواہی قبول نہ کرو یہ فاسق لوگ ہیں (۴)یا جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کر لیں تو اللہ بخشنے والا اور مہر بانی کرنے والا ہے (۵)

سو مرزا جی کے مربی صاحب، آپ کے مرزا جی کو تو قرآن حکیم کے ذریعے اللہ سبحان تعالی نے اسی کوڑوں کی سزا سنا دی ہے ۔۔۔۔ کہیئے اب کیا کہتے ہیں کیسے دفاع کریں گے قرآن کی عدالت کی طرف سے سنائی گئی اس سزا کا؟
 
کیفیت
مزید جوابات کے لیے دستیاب نہیں
Top