حج 1429 -- 2008 (مسجد قباء)

طالوت

محفلین
مسجد قباء
11122008003dt4.jpg


11122008001jg9.jpg


11122008002dv8.jpg


11122008kn6.jpg


11122008004lu2.jpg

وسلام
 

تعبیر

محفلین
کچھ تفصیل بھی تو بتائیں کہ یہ کہاں ہے اور اسکی افادیت کیوں کہ میں نے تو نہیں دیکھی تھی
 

سارا

محفلین
مکہ مکرمہ سے ہجرت کر کے 8 ربیع الاول 13 نبوی ' 23 ستمبر 622ء کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ یثرب کی بیرونی بستی قباء پہنچے تھے۔۔قباء ایک کنوئیں کا نام تھا جسکی نسبت سے بستی کا نام بھی قباء مشہور ہو گیا۔۔قباء میں آپ کا قیام 14 دن تک رہا 3 دن بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ بھی یہیں آپ سے آ ملے تھے۔۔جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت فرمائی تو قباء میں قیام فرمایا اور قباء کی ہی مسجد میں نماز ادا کی۔۔یہ مدینہ منورہ سے تقریبا 3کلو میٹر کے فاصلے پر ہے۔۔
نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک صحیح حدیث کے مفہوم کے مطابق جو شخص پاک صاف ہو کر نکلا اور اس مسجد میں 2 رکعت نماز پڑھی اسے عمرہ یعنی حج اصغر کا ثواب ہو گا۔۔۔
9 دن مدینہ میں قیام کے دوران ہم روزانہ اس مسجد میں جا کر 2 رکعت نماز پڑھنے جاتے تھے۔۔
 

طالوت

محفلین
تعبیر مختصر تاریخ سارا نے بیان کر دی ہے ۔۔ سیدنا عمر بہجرت کے بعد زیادہ تر یہیں مقیم رہے اور ایک دن کے وقفے سے مدینہ آتے جاتے رہتے تھے جبکہ ناغے کے روز ان کے میزبان انصاری جایا کرتے تھے اسی طرح کچھ اور صحابہ کا بھی قیام اسی بستی میں رہا ۔۔ تاہم ثواب کی تو ہمارے ہاں لوٹ سیل لگی ہوئی ہے سو جس چیز پہ چاہیں جتنا مرضی ثواب حاصل کر لیں کس نے پوچھنا ہے ۔۔
وسلام
 

ابوشامل

محفلین
مسجد قباء ظہورِ اسلام کے بعد قائم کی جانے والی پہلی مسجد ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ روانگی سے قبل یہاں قیام فرمایا تھا اور مسجد قائم کی تھی۔ مدینہ میں آمد اور مسجد نبوی کی تعمیر اس کے بعد عمل میں آئی۔ اسلام کی پہلی مسجد ہونے کے باعث یہاں نماز کی ادائیگی کی بہت فضیلت ہے۔
 

طالوت

محفلین
حضور فضیلت سے کس کافر کو انکار ہے مگر ایک دو رکعات کے کے حج و عمرے تو نہ بانٹیں ، ورنہ پھر سپاہ صحابہ کے "حج" فارمولا میں کیا خرابی ہے :rolleyes:
وسلام
 

ابوشامل

محفلین
حضور فضیلت سے کس کافر کو انکار ہے مگر ایک دو رکعات کے کے حج و عمرے تو نہ بانٹیں ، ورنہ پھر سپاہ صحابہ کے "حج" فارمولا میں کیا خرابی ہے :rolleyes:
وسلام
طالوت بھائی انکار کا الزام کس کافر نے لگایا آپ پر؟؟؟

تیلے شاہ آپ تو بڑے ہی بھولے نکلے۔۔۔۔ :) چلیں اُن کے حج فارمولے کے بارے میں آپ کو طالوت ہی بتائیں گے۔
 

طالوت

محفلین
طالوت بھائی سارا ٹھیک کہہ رہی ہے ایسا ہی ہے اور مجھے سپاہ صحابہ والے حج کا ضرور بتائیں
جی سارا ٹھیک کہہ رہی ہیں وہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں کہ ہمارے یہاں تو لوٹ سیل لگی ہے ثواب کی ، شکایت سارا سے نہیں لوٹ سیل لگانے والوں سے ہے ۔۔ ایک ایک جملے پر زندگی بھر کے گناہ اور ہزار ہزار رکعات وہ بھی مسجد اقصٰی یا مسجد الحرام میں ادا کرنے تک کا ثواب موجود ہے ۔۔
شاہ جی سنتے ہیں کہ سپاہ والے کہتے تھے کہ اپنے ایک دشمن (یعنی ان کے دشمن) کو مارنے پر ایک حج کا ثواب ملتا ہے ۔۔ ;)
وسلام
 

ابوشامل

محفلین
ابو شامل :rolleyes: آپکا اپنے خیمے پر مکڑی دیکھ کر آپ کا رفو چکر ہوجانا مجھے یاد آ رہا ہے :)
وسلام
وضاحت تو آپ کو کرنا پڑے گی کیونکہ تیلے شاہ کا سوال آپ سے ہی تھا۔ اگر مجھ سے کرتے تو آپ کو یادداشت کے گھوڑے نہ دوڑانے پڑتے :grin: ۔ ویسے یادداشت خوب ہے آپ کی۔
 

تیلے شاہ

محفلین
جی سارا ٹھیک کہہ رہی ہیں وہی تو میں بھی کہہ رہا ہوں کہ ہمارے یہاں تو لوٹ سیل لگی ہے ثواب کی ، شکایت سارا سے نہیں لوٹ سیل لگانے والوں سے ہے ۔۔ ایک ایک جملے پر زندگی بھر کے گناہ اور ہزار ہزار رکعات وہ بھی مسجد اقصٰی یا مسجد الحرام میں ادا کرنے تک کا ثواب موجود ہے ۔۔
شاہ جی سنتے ہیں کہ سپاہ والے کہتے تھے کہ اپنے ایک دشمن (یعنی ان کے دشمن) کو مارنے پر ایک حج کا ثواب ملتا ہے ۔۔ ;)
وسلام
ہا ہا ہا پھر تو زخمی کرنے پر عمرہ کا ثواب ملتا ہوگا
عجیب لوگ ہیں
 

سارا

محفلین
طالوت بھائی اس سے آپکا کیا مطلب ہے کیا ثواب نہیں ملتا؟؟ یہاں لوگوں کی طرف سے من گھڑت ثواب کی بات نہیں ہو رہی ہے یہاں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کی بات ہو رہی ہے یہ ایک 2 رکعت کے حج عمرے اور مسجد الحرام میں ایک نماز کے بدلے 70 ہزار نمازوں کا ثواب یہ ہم نہیں بانٹ رہے بلکہ یہ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بات ہے جس کے آگے ہم اپنی عقل کے گھوڑے نہیں دوڑا سکتے۔۔اور اگر اس پر آپ طنز کر رہے ہیں تو میں‌صرف افسوس ہی کر سکتی ہوں۔۔۔
 

طالوت

محفلین
"جو بو گے وہی کاٹو گے" " جو عمل کرو گے اسی کا بدل ملے" اب ایسا تو نہیں نا کہ آپ گندم بوئیں اور فصل مکئی کی حاصل ہو ، یا انڈا آملیٹ بنائیں اور بن کر وہ تکہ یا سیخ بوٹی بن جائے ۔۔ ہم تو اتنے "بھولے" ہیں کہ رسول عربی (صلوۃ و سلام ہو تمام انبئیا پر) کا جہاں نام آ جائے آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیتے ہیں اور اسے منجانب اللہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ یہ دنیا میں اس وقت جو طوفان بدتمیزی مچا رکھا ہے لوگوں نے یہ سب بھی آپ کو رسول عربی کے اقوال ہی سناتے نظر آئیں گے ۔۔
البتہ قران میں ایک جگہ نیکو کاروں کے لیے دس گناہ اجر کا ذکر ضرور ہے ، تاہم آیت اور سورہ یاد نہیں ورنہ اس کے بارے میں بھی کچھ بیان کرنے کی کوشش کرتا۔۔
وسلام
 

ظفری

لائبریرین
یہ ہمارا المیہ ہے کہ کہیں ہم کسی سورہ کو پورے قرآن پڑھنے کے مترادف قرار دے دیتے ہیں ۔ کہیں ثواب گھٹا دیتے ہیں ، تو کہیں بڑھا دیتے ہیں ۔ اور یہ واقعی صحیح ہے کہ جہاں کوئی حدیث نظر آئی اس پر آنکھ بند کر یقین کرلیا ۔ کہ جو کچھ یہاں بیان ہوا ہے ۔ وہ واقعی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی قول ہے ۔ کوئی تحقیق نہیں ، کوئی معلومات نہیں ۔ جبکہ صحیح بات یہ ہے کہ " اعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے " ۔ اب آپ اپنی نیتوں کا کیا معیار رکھتے ہیں ۔ شاید اس سے ہی آپ کے ثواب و جزا کی مقدار کا تعین ہو ۔ ورنہ جگہوں کی وجہ سے نیکیوں کا اجر زیادہ ملنے لگ گیا تو دنیا کے بیشتر ممالک خصوصا افریقی ممالک جہاں غربت کا ڈیرا ہے ۔ وہاں کے لوگ اس سعادت سے استفادہ کیسے کریں گے ۔ وہ سارے عمر سر پٹختے رہیں مگر کیا ان کو دو رکعت کا ثواب ہزار رکعت کی صورت میں نہیں ملے گا ؟ ۔ اور ادھر ایک سعودی سارا دن عیاشی کرکے ہزاروں سال کا ثواب صرف دو رکعت میں لے جائے کیا یہ بات انصاف کے تقاضوں کو پورا کرے گی ۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ مقدس جگہوں کی اپنی افادیت اور تقدس ہے ۔ اور ان کا احترام کرنا ہم پر لازم ہے ۔
لیکن جب بھی کوئی صحیح حدیث پیش کی جاتی ہے تو صرف اس بات پر اکتفا کرنا نہیں چاہیئے کہ حدیث صحیح ہے ۔ بلکہ اس کے تواتر اور اس کے سیاق و سباق کو بھی سمجھنا چاہیئے کہ یہ حدیث کس تناظر میں کہی گئی ہے ۔ اور اس کا حقیقتاً مقصد کیا ہے ۔
مثال کے طور پر اکثر یہ حدیث دہرائی جاتی ہے کہ قیامت کے قرب میں 72 فرقے ہونگے ۔ اور اس سے تاثر یہ لیا جاتا ہے کہ قیامت کے وقت واقعی 72 فرقے ہی ہونے ہیں ۔ جبکہ بات اصل میں یہ ہے کہ یہاں صرف فرقوں کی کثرت کی بابت بات بتائی گئی ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ " ہزار بار منع کیا ہے کہ یہ کام نہ کرو " اس کا مطلب یہ نہیں ہوا کہ ہزار بار ہی کہا گیا ہو ۔
سو حدیث کو بھی سمجھنے کے لیئے اس کے سیاق و سباق میں جانا ضروری ہے ۔ تاکہ اس کا صحیح پس منظر واضع ہو ۔
 

سارا

محفلین
"جو بو گے وہی کاٹو گے" " جو عمل کرو گے اسی کا بدل ملے" اب ایسا تو نہیں نا کہ آپ گندم بوئیں اور فصل مکئی کی حاصل ہو ، یا انڈا آملیٹ بنائیں اور بن کر وہ تکہ یا سیخ بوٹی بن جائے ۔۔ ہم تو اتنے "بھولے" ہیں کہ رسول عربی (صلوۃ و سلام ہو تمام انبئیا پر) کا جہاں نام آ جائے آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیتے ہیں اور اسے منجانب اللہ سمجھنا شروع کر دیتے ہیں ۔۔ یہ دنیا میں اس وقت جو طوفان بدتمیزی مچا رکھا ہے لوگوں نے یہ سب بھی آپ کو رسول عربی کے اقوال ہی سناتے نظر آئیں گے ۔۔
البتہ قران میں ایک جگہ نیکو کاروں کے لیے دس گناہ اجر کا ذکر ضرور ہے ، تاہم آیت اور سورہ یاد نہیں ورنہ اس کے بارے میں بھی کچھ بیان کرنے کی کوشش کرتا۔۔
وسلام

آپ کی یہ بات ٹھیک ہے کہ جو بھی نبی‌صلی اللہ علیہ وسلم کا نام لے کر بات کرے زیادہ لوگ آنکھیں بند کر کے اس پر یقین کر لیتے ہیں لیکن اگر آپ سب کو اس لسٹ میں شامل کرتے ہیں تو یہ بات غلط ہے۔۔میں جس بھی حدیث پر عمل کرتی ہوں یا اسے آگے بیان کرتی ہوں سب سے پہلے اس کی سند معلوم کرتی ہوں اس کے بعد اسے آگے بیان کرتی ہوں اور بھی ایسے لوگوں کی کمی نہیں جو صرف صحیح حدیث پر ہی عمل کرتے اور اسے آگے پہنچاتے ہیں۔۔اور اگر آپ صرف قرآن کو لینے کی بات کرتے ہیں اور احادیث کا انکار کرتے ہیں تو اس بارے میں میرا کچھ کہنا بیکار ہے یہاں پہلے بھی اس پر بحثیں ہو چکی ہیں جن کا نتیجہ 0 ہی نکلتا ہے۔۔کیوں کہ کوئی بھی کسی کی بات ماننا ہی نہیں چاہتا۔۔
قرآن کا پارہ 3 رکوع 3 میں اللہ تعالٰی کی راہ میں مال خرچ کرنے والے کا مال 700 گنا تک بڑھانے کا ذکر ملتا ہے اور میرا یہ ایمان ہے کہ اللہ اس سے زیادہ ثواب اور نیکیاں بڑھانے پر بھی قادر ہے۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ظفری بھائی بے شک آپ نے‌صحیح کہا لوگ ایسا کرتے ہیں لیکن سب ایسا کرتے ہیں یہ ہم نہیں کہہ سکتے۔۔جیسے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صحیح حدیث کے مطابق درود شریف پڑھنے سے 10 نیکیاں ملتی ہیں لیکن آجکل آپکو ایسے خود ساختہ بنائے ہوئے درود ملیں گے جسکو پڑھنے سے 70 ہزار اور اس سے بھی زیادہ ثواب کا ذکر کیا جاتا ہے یعنی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا بتایا ہوا درود ہے اس سے تو 10 نیکیاں اور خود ساختہ بنائے گئے درود سے ہزاروں لاکھوں نیکیاں۔۔۔؟؟
جیسے مسجد الحرام 'مسجد النبی ' مسجد القباء میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے ثواب کا جو ذکر احادیث میں ملتا ہے کسی کے ماننے یا نہ ماننے سے ثواب میں کمی واقع نہیں ہو جائے گی لیکن جیسا آپ نے ذکر کیا کہ بعض غریب لوگ ساری زندگی بھی ان جگہ نہیں جا سکتے اور سعودی سارا دن عیاشی کر کے ہزاروں سال کا ثواب صرف 2 رکعت میں لے جائے؟؟ آپ نے کہا کہ اعمال کا دارو مدار نیتیوں پر ہے تو ہمارا یہ ایمان ہونا چاہیے کہ اگر ہم اپنے گھر میں 2 رکعت نماز پڑھیں خشوع خضوع کے ساتھ تو اللہ اس پر قادر ہے کہ مسجد الحرام میں پڑھنے والے اس سعودی سے زیادہ ثواب ہمیں دے۔۔۔کیوں کہ اللہ ہماری شکل ' عقل پیسے کو نہیں دیکھتے بلکہ ہمارے دلوں کو' عملوں کو ' نیتوں کو دیکھتے ہیں۔۔۔
 

طالوت

محفلین
صفر نتیجے کی ہی وجہ سے میں بھی لمبی چوڑی بحث میں نہیں پڑتا اب ۔۔
700 گنا والی آیت اگر آپ یہاں پیش کر سکیں تو ۔۔۔
وسلام
 

سارا

محفلین
سورہ البقرہ آیت نمبر 261 ۔۔۔

ترجمہ : جو لوگ اپنا مال اللہ تعالٰی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس دانے جیسی ہے جس میں سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو دانے ہوں ' اور اللہ تعالٰی جسے چاہے بڑھا چڑھا کر دے اور اللہ تعالٰی کشادگی والا اور علم والا ہے۔۔''
 
Top