1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جگر جہل خرد نے دن يہ دکھائے - جگر مراد آبادی

دل پاکستانی نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جون 6, 2009

  1. دل پاکستانی

    دل پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    490
    جھنڈا:
    Pakistan
    جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے
    گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے

    ہائے وہ کيونکر دل بہلائے
    غم بھی جس کو راس نہ آئے

    ضد پر عشق اگر آ جائے
    پانی چھڑکے‘ آگ لگائے

    دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہے
    بھاگے لیکن راہ نہ پائے

    کیسا مجاز اور کیسی حقیقت؟
    اپنے ہی جلوے‘ اپنے ہی سائے

    جھوٹی ہے ہر ايک مسرت
    روح اگر تسکين نہ پائے

    کارِ زمانہ جتنا جتنا
    بنتا جائے‘ بگڑتا جائے

    ضبط محبت، شرطِ محبت
    جی ہے کہ ظالم امڈا آئے

    حسن وہی ہے حسن جو ظالم
    ہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے

    نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو
    روح سنے اور روح سنائے

    راہِ جنوں آسان ہوئی ہے
    زلف و مژہ کے سائے سائے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  2. شاہ حسین

    شاہ حسین محفلین

    مراسلے:
    2,902
    بہت خوب جناب دل پاکستانی شامل کرنے کا بہت شکریہ ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    25,144
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بہت شکریہ سعد، جگر مراد آبادی کی خوبصورت غزل شیئر کرنے کیلیے!

    اگر آپ کے پاس جگر کا مزید کلام ہو تو ضرور شیئر کریں کہ محفل پر انکا کلام بہت کم ہے، نوازش۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  4. دل پاکستانی

    دل پاکستانی محفلین

    مراسلے:
    490
    جھنڈا:
    Pakistan
    شکریہ جناب شاہ صاحب اور جناب محمد وارث صاحب۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. عمران شناور

    عمران شناور محفلین

    مراسلے:
    668
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    جہلِ خرد نے دن یہ دکھائے (جگر مراد آبادی)

    دل پاکستانی صاحب بہت خوب غزل شیئر کی ہے۔ لیکن کچھ غلطیاں تھیں اس لیے پوری غلط پوسٹ کر رہا ہوں۔

    جہلِ خرد نے دن يہ دکھائے
    گھٹ گئے انساں بڑھ گئے سائے

    ہائے وہ کيونکر دل بہلائے
    غم بھی جس کو راس نہ آئے

    ضد پر عشق اگر آ جائے
    پانی چھڑکے‘ آگ لگائے

    دل پہ کچھ ایسا وقت پڑا ہے
    بھاگے لیکن راہ نہ پائے

    کیسا مجاز اور کیسی حقیقت؟
    اپنے ہی جلوے‘ اپنے ہی سائے

    جھوٹی ہے ہر ايک مسرت
    روح اگر تسکين نہ پائے

    کارِ زمانہ جتنا جتنا
    بنتا جائے‘ بگڑتا جائے

    ضبط محبت، شرطِ محبت
    جی ہے کہ ظالم امڈا آئے

    حسن وہی ہے حسن جو ظالم
    ہاتھ لگائے ہاتھ نہ آئے

    نغمہ وہی ہے نغمہ کہ جس کو
    روح سنے اور روح سنائے

    راہِ جنوں آسان ہوئی ہے
    زلف و مژہ کے سائے سائے

    (جگر مراد آبادی)​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 4
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,631
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    بہت خوب! بہت شکریہ عمران شناور صاحب!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. عمران شناور

    عمران شناور محفلین

    مراسلے:
    668
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    شکریہ سخنور جی!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر