1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $453.00
    اعلان ختم کریں

جو میرا ہمسفر ہے وہ ہم نوا نہیں ہے-----برائے اصلاح

ارشد چوہدری نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏ستمبر 11, 2019

  1. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین
    عظیم
    خلیل الرحمن
    یاسر شاہ
    -------------
    مفعول فاعلاتن مفعول فاعلاتن
    ------
    جو میرا ہمسفر ہے وہ ہم نوا نہیں ہے
    دل جو مرا لبھائے اُس میں ادا نہیں ہے
    -----------------
    میں نے ہیں دکھ اُٹھائے جس کے لئے ہزاروں
    پرکھا ہے میں نے اُس کو ، اُس میں وفا نہیں ہے
    -------------
    دل کو چُرا کے پھر بھی وہ مانتے نہیں ہیں
    کہتے ہیں کام کر کے یہ تو بُرا نہیں ہے
    -----------------
    دل کو لگا لیا ہے پردیس جا کے اس نے
    رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے
    -------------
    صدمات کا میں ایسے عادی سا ہو گیا ہوں
    میرے لئے یہ صدمہ کچھ بھی نیا نہیں ہے
    --------------
    آساں نہیں ہے جینا تنہا ہی اس جہاں میں
    پھیکی سی زندگی میں کچھ بھی مزا نہیں ہے
    ----------------
    ارشد ہے دور مجھ سے رہتا ہے یاد ہر دم
    اتنا مجھے بتا دے مجھ سے خفا نہیں ہے
    --------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    جو میرا ہمسفر ہے وہ ہم نوا نہیں ہے
    دل جو مرا لبھائے اُس میں ادا نہیں ہے
    -----------------'جو' کے طویل کھینچے جانے کی وجہ سے روانی متاثر لگ رہی ہے۔
    میرا جو ہمسفر ہے
    کیا جا سکتا ہے۔ مگر اگلے ٹکڑے میں بھی مجھے لگتا ہے کہ 'وہ مرا ہمنوا نہیں ہے' ہونا چاہیے
    صرف ہمنوا سے بات نہیں بن رہی۔
    اور دوسرے مصرع میں بھی یہی خامی لگ رہی ہے۔ کہ اس میں 'وہ' ادا نہیں ہے ہونا چاہیے۔

    میں نے ہیں دکھ اُٹھائے جس کے لئے ہزاروں
    پرکھا ہے میں نے اُس کو ، اُس میں وفا نہیں ہے
    -------------جس کے لیے ہزاروں میں.....الخ
    روانی میں بہتر ہو گا
    باقی ٹھیک لگ رہا ہے

    دل کو چُرا کے پھر بھی وہ مانتے نہیں ہیں
    کہتے ہیں کام کر کے یہ تو بُرا نہیں ہے
    -----------------دوسرے میں دل چرانے کے کام کے بارے میں بات ہو رہی ہے تو یہ واضح نہیں ہے۔

    دل کو لگا لیا ہے پردیس جا کے اس نے
    رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے
    -------------ٹھیک

    صدمات کا میں ایسے عادی سا ہو گیا ہوں
    میرے لئے یہ صدمہ کچھ بھی نیا نہیں ہے
    --------------درست ہے یہ بھی
    دوسرے مصرع میں اگر صدمے کی وضاحت بھی ہو جاتی تو بہت خوب ہو جاتا۔ کہ یہ صدمہ کون سا؟

    آساں نہیں ہے جینا تنہا ہی اس جہاں میں
    پھیکی سی زندگی میں کچھ بھی مزا نہیں ہے
    ----------------درست ہے

    ارشد ہے دور مجھ سے رہتا ہے یاد ہر دم
    اتنا مجھے بتا دے مجھ سے خفا نہیں ہے
    --------------دوسرا مصرع واضح نہیں لگ رہا۔ کون بتا دے اور کس کو بتا دے یہ سمجھ نہیں آ رہا
     
  3. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین
    عظیم
    --------------
    میرے تو دل میں کوئی تیرے سوا نہیں ہے
    دل دے دیا ہے تجھ کو میرا رہا نہیں ہے
    ---------
    (مطلع اس لئے تبدیل کر دیا ہے کہ جس طرح آپ چاہ رہے تھے وہ اس بحر میں نہیں آ رہا تھا)
    -----------
    جس کے لئے ہزاروں میں نے ہیں دکھ اُٹھائے
    پرکھا ہے میں نے اس کو ،اُس میں وفا نہیں ہے
    ----------------
    دل کو چُرا کے پھر بھی وہ مانتے نہیں ہیں
    کہتے ہیں دل چُرانا یہ تو بُرا نہیں ہے
    --------
    دل کو لگا لیا ہے پر دیس جا کے اس نے
    رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے
    ----------
    صدمات کا میں ایسے عادی سا ہو گیا ہوں
    میرے لئے یہ صدمہ کچھ بھی نیا نہیں ہے
    ------------یا
    میرے لئے جدائی سہنا ، نیا نہیں ہے
    ---------------
    آساں نہیں ہے جینا تنہا ہی اس جہاں میں
    پھیکی سی زندگی میں کچھ بھی مزا نہیں ہے
    -------------
    ارشد نے دور جا کر مجھ کو بھلا دیا ہے
    چاہے مجھے بھلا دے گر وہ خفا نہیں ہے
    ----------یا
    میرا پیام دینا یہ تو وفا نہیں ہے
    --------------
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    میرے تو دل میں کوئی تیرے سوا نہیں ہے
    دل دے دیا ہے تجھ کو میرا رہا نہیں ہے
    ---------'میرے تو' اچھا نہیں لگ رہا۔ 'اب دل میں میرے کوئی' کیا جا سکتا ہے
    باقی ٹھیک لگ رہا ہے

    جس کے لئے ہزاروں میں نے ہیں دکھ اُٹھائے
    پرکھا ہے میں نے اس کو ،اُس میں وفا نہیں ہے
    ----------------درست ہو گیا ہے

    دل کو چُرا کے پھر بھی وہ مانتے نہیں ہیں
    کہتے ہیں دل چُرانا یہ تو بُرا نہیں ہے
    --------مکمل شعر دوبارہ کہنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔ پہلے مصرع میں 'پھر بھی' عجیب لگ رہا ہے۔ اوردوسرے میں 'یہ تو' ۔

    دل کو لگا لیا ہے پر دیس جا کے اس نے
    رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے
    ----------

    صدمات کا میں ایسے عادی سا ہو گیا ہوں
    میرے لئے یہ صدمہ کچھ بھی نیا نہیں ہے
    ------------یا
    میرے لئے جدائی سہنا ، نیا نہیں ہے
    ---------------اصل شعر دیکھنے میں بہت اچھا ہے۔ لیکن 'یہ صدمہ' کی وجہ سے کام خراب ہو گیا ہے۔
    دوسرے مصرع کے ساتھ بھی بات نہیں بن رہی۔ قافیہ بدل کر دیکھ لیں۔

    آساں نہیں ہے جینا تنہا ہی اس جہاں میں
    پھیکی سی زندگی میں کچھ بھی مزا نہیں ہے
    -------------

    ارشد نے دور جا کر مجھ کو بھلا دیا ہے
    چاہے مجھے بھلا دے گر وہ خفا نہیں ہے
    ----------یا
    میرا پیام دینا یہ تو وفا نہیں ہے
    --------------پہلے کا اختتام بھی 'ہے' پر ہے۔ اسکی جگہ 'کیوں' وغیرہ لایا جا سکتا ہے۔ دوسرے کا متبادل بہتر ہے۔ 'تو' کا طویل ہونا بھی اگر ختم کر سکیں تو مزید بہتر ہو جائے
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,523
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ دو اشعار عظیم سے صرف نظر ہو گئے ہیں
    دل کو لگا لیا ہے پر دیس جا کے اس نے
    رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے
    ----------
    شاید یہ مراد ہو کہ پردیس جا کر محبوب نے 'کسی اور سے' دل لگا لیا ہو! لیکن دوسرے مصرع سے ربط نہیں بنتا۔ اس مجرد مصرع میں بھی 'اب بھی' کے اضافے کی ضرورت ہے

    آساں نہیں ہے جینا تنہا ہی اس جہاں میں
    پھیکی سی زندگی میں کچھ بھی مزا نہیں ہے
    ------------- یہ بھی دو لخت لگتا ہے، تنہا ہی میں ہ کی تکرار بھی اچھی نہیں
     
  6. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,124
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    الف عین
    (شائد اب کچھ بہتر ہوں )
    مجھ کو بھلا دیا ہے پر دیس جا کے اس نے
    رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے
    ----------
    آساں نہیں ہے جینا تنہا تو اس جہاں میں
    پھیکی سی زندگی کا ایسے مزا نہیں ہے
     
  7. عظیم

    عظیم محفلین

    مراسلے:
    6,557
    مجھ کو بھلا دیا ہے پر دیس جا کے اس نے
    رہتا ہے دل میں ہر دم جیسے گیا نہیں ہے
    ----------دوسرے میں 'اب بھی' وغیرہ کی کمی ہے۔
    شاید یوں کچھ بات بن جائے
    دل میں ہے یوں کہ جیسے اب تک گیا نہیں ہے
    مگر پہلے مصرع میں یا دوسرے میں کہیں 'لیکن' وغیرہ کی بھی کمی محسوس ہو رہی ہے

    آساں نہیں ہے جینا تنہا تو اس جہاں میں
    پھیکی سی زندگی کا ایسے مزا نہیں ہے
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    'تنہا تو' میں 'تو' بھرتی کا لگ رہا ہے۔ شاید یوں چل جائے
    تنہا نہیں ہے جینا آسان اس جہاں میں
    دوسرے میں 'پھیکی' اگر تنہائی کی وجہ سے کہا گیا ہے تو یہ صاف ظاہر نہیں ہو رہا۔
    شاید یوں بات بن جائے
    بن دوست زندگی کا کچھ بھی مزا نہیں ہے
     
    • متفق متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر