1. احباب کو اردو ویب کے سالانہ اخراجات کی مد میں تعاون کی دعوت دی جاتی ہے۔ مزید تفصیلات ملاحظہ فرمائیں!

    ہدف: $500
    $420.00
    اعلان ختم کریں
  2. اردو محفل سالگرہ چہاردہم

    اردو محفل کی یوم تاسیس کی چودہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

جون ایلیا جون ایلیا کے قطعات

محمد بلال اعظم نے 'پسندیدہ کلام' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اکتوبر 3, 2012

  1. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    جون ایلیا کے قطعات
    جون ایلیا اردو شاعری کا ایک بہت بڑا نام اور ان کے قطعات اردو اپنی مثال آپ ہیں۔​
    ان کے قطعات سے میرا انتخاب آپ سب کی سماعتوں کی نذر:​
    اپنی انگڑائیوں پہ جبر نہ کر
    مجھ پہ یہ قہر ٹوٹ جانے دے
    ہوش میری خوشی کا دشمن ہےتو
    مجھے ہوش میں نہ آنے دے
    -------------------------
    نشہ ناز نے بے حال کیا ہے تم کو
    اپنے ہے زور میں کم زور ہوئی جاتی ہو
    میں کوئی آگ نہیں، آنچ نہیں، دھوپ نہیں
    کیوں پسینہ میں شرابور ہوئی جاتی ہو
    -------------------------

    بات ہی کب کسی کی مانی ہے
    اپنی ہٹ پوری کر کے چھوڑو گی
    یہ کلائی یہ جسم اور یہ کمر
    تم صراحی ضرور توڑو گی
    -------------------------

    تم ہو جاناں شباب و حسن کی آگ
    آگ کی طرح اپنی آنچ میں گم
    پھر مرے بازوؤں پہ جھک آئیں
    لو اب مجھے جلا ہی ڈالو تم
    -------------------------
    آپ کی تلخ نوائی کی ضرورت ہی نہیں​
    میں تو ہر وقت ہی مایوسِ کرم رہتا ہوں​
    آپ سے مجھ کو ہے اک نسبتِ احساسِ لطیف​
    لوگ کہتے ہیں ، مگر میں تو نہیں کہتا ہوں​

    -------------------------
    چڑھ گیا سانس جھک گئیں نطریں​
    رنگ رخسار میں سمٹ آیا​
    زکر سن کر مری محبت کا​
    اتنے بیٹھے تھے ، کون شرمایا ؟​

    -------------------------
    تم زمانے سے لڑ نہیں سکتیں​
    خیر یہ راز آج کھول دیا​
    وہ اجازت کہ جا رہو ہوں میں​
    تم نے باتوں میں زہر کھول دیا​

    -------------------------
    دور نظروں سے خلوتِ دل میں​
    اس طرح آج اُن کی یاد آئی​
    ایک بستی کے پار شام کا وقت​
    جیسے بجتی ہو شہنائی​

    -------------------------
    ہیں بے طور یہ لوگ تمام​
    ان کے سانچہ میں نہ ڈھلو​
    میں بھی یہاں سے بھاگ چلوں​
    تم بھی یہاں سے بھاگ چلو​

    -------------------------

    عشق سمجھے تھے جس کو وہ شاید
    تھا بس اک نارسائی کا رشتہ
    میرے اور اُس کے درمیاں نکلا
    عمر بھر کی جدائی کا رشتہ
    -------------------------

    ہے یہ بازار جھوٹ کا بازار
    پھر یہی جنس کیوں نہ تولیں ہم
    کر کے اک دوسرے سے عہدِ وفا
    آؤ کچھ دیر جھوٹ بولیں ہم
    -------------------------

    کون سود و زیاں کی دنیا میں
    دردِ غربت کا ساتھ دیتا ہے
    جب مقابل ہوں عشق اور دولت
    حُسن دولت کا ساتھ دیتا ہے
    -------------------------
    یہ تیرے خط تیری خوشبو یہ تیری خواب و خیال
    متاعِ جاں ہیں ترے قول و قسم کی طرح
    گزشتہ سال انہیں میں نے گِن کے رکھا تھا
    کسی غریب کی جوڑی ہوئی رقم کی طرح
    -------------------------

    ہر بار تجھ سے ملتے وقت
    تجھ سے ملنے کی آرزو کی ہے
    تیرے جانے کے بعد بھی میں نے
    تیری خوشبو سے گفتگو کی ہے
    -------------------------
    سال ہا سال اور اِک لمحہ
    کوئی بھی تو نہ اِن میں بل آیا
    خود ہی اِک در پہ میں نے دستک دی
    خود ہی لڑکا سا میں نکل آیا
    -------------------------


    میری عقل و ہوش کی سب حالتیں
    تم نے سانچے میں جنوں کے ڈھال دیں
    کر لیا تھا میں نے عہدِ ترکِ عشق
    تم نے پھر بانہیں گلے میں ڈال دیں
    -------------------------

    تم جب آؤ گی کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
    میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
    میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
    میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
    -------------------------
    جو رعنائی نگاہوں کے لئے فردوسِ جلوہ ہے
    لباس مفلسی میں کتنی بے قیمت نظر آتی
    یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
    یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی
    -------------------------

    شرم ، دہشت ، جھجک ، پریشانی
    ناز سے کام کیوں نہیں لیتیں
    آپ،وہ،جی،مگر ’’یہ سب کیا ہے‘‘
    تم مرا نام کیوں نہیں لیتیں
    -------------------------

    عجب تھا اس کی دلداری کا انداز
    وہ برسوں بعد جب مجھ سے مِلا ہے
    بَھلا میں پوچھتا اس سے تو کیسے
    متاعِ جاں! تمہارا نام کیا ہے
    -------------------------

    تیری یادوں کے راستے کی طرف
    اک قدم بھی نہیں بڑھوں گا میں
    دل تڑپتا ہے تیرے خط پڑھ کر
    اب ترے خط نہیں پڑھوں گا میں
    -------------------------

    لہو روتے نہ اگر ہم دمِ رخصت یاراں
    کیا عجب تھا کہ کوئی اور تماشہ کرتے
    چلو اچھا ہے کہ وہ بھی نہیں نزدیک اپنے
    وہ جو ہوتا تو اُسے بھی نہ گوارا کرتے
    -------------------------

    نشۂ ناز نے بے حال کیا ہے تم کو
    اپنے ہی زور میں کمزور ہوئی جاتی ہو
    میں کوئی آگ نہیں، آنچ نہیں، دھوپ نہیں
    کیوں پسینہ میں شرابور ہوئی جاتی ہو
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
    • زبردست زبردست × 3
  2. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    21,505
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ واہ​
    حسنِ انتخاب کی داد لینا نہ بھولیے محمد بلال اعظم
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    محبت ہے آپ کی احمد بھائی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. امیداورمحبت

    امیداورمحبت محفلین

    مراسلے:
    3,057
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    زبردست ۔۔۔۔۔۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  5. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,262
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    ایک قطعہ میں سے شعر تو میں آج اپنے پیغام میں بھی لکھ چکا ہوں۔

    بہت ہی شاہکار کلام ہے کچھ تو۔
     
    • متفق متفق × 2
  6. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    شکریہ محب بھائی۔
    اور وہ کونسا شعر ہے جو آُ نے لکھا ہے؟
     
  7. باباجی

    باباجی محفلین

    مراسلے:
    3,844
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Curmudgeon
    واہ بہت خوب شیئرنگ بلال
    مزہ آگیا
     
  8. محب علوی

    محب علوی لائبریرین

    مراسلے:
    11,262
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    یہاں تو جاذبیت بھی ہے دولت ہی کی پروردہ
    یہ لڑکی فاقہ کش ہوتی تو بدصورت نظر آتی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  9. محمد بلال اعظم

    محمد بلال اعظم لائبریرین

    مراسلے:
    10,219
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Angelic
    بہت شکریہ
     
  10. محمد عمر لودھی

    محمد عمر لودھی محفلین

    مراسلے:
    1
    تم جب آؤ گی کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
    میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
    میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
    میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
     
  11. فرحان محمد خان

    فرحان محمد خان محفلین

    مراسلے:
    2,050
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheeky
    یہ جون کا قعطہ نہیں ان کی نظم کا حصہ ہے جس کا نام رمز
    رمز
    تم جب آؤ گی کھویا ہوا پاؤ گی مجھے
    میری تنہائی میں خوابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
    میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمہیں
    میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں


    ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
    ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن
    مژدۂ عشرت انجام نہیں پا سکتا
    زندگی میں کبھی آرام نہیں پا سکتا​
     
    آخری تدوین: ‏اگست 2, 2017
    • زبردست زبردست × 1

اس صفحے کی تشہیر