جوشِ الفت میں وہ قطرے کا فنا ہو جانا -آغا شاعر قزلباش دہلوی

کاشفی

محفلین
غزل​
(آغا شاعر قزلباش دہلوی)​
​
جوشِ الفت میں وہ قطرے کا فنا ہو جانا ​
اُس پہ دریا کا وہ لب تشنہ سوا ہوجانا​
​
کوئی انداز ہے! رہ رہ کے ، خفا ہوجانا​
اپنے بندوں سے، یہ کھچنا کہ خدا ہوجانا​
​
ضبطِ غم سے مری آہوں کے شرارے کجلائے​
بے ہوا، کام ہے شعلے کا فنا ہوجانا​
​
اپنے نیرنگیء انداز کا اعجاز تو دیکھ​
ابھی شوخی تھی، ابھی اس کا حیا ہوجانا​
​
اس زمانے میں نہیں کوئی کسی کا ہمدرد​
دل کے دو حرف ہیں، اُن کو بھی جدا ہوجانا​
​
ضعف سے اُٹھ نہیں سکتا تیرا بیمار فراق!​
اے اجل! تو ہی کرم کر کے ذرا ہو جانا​
​
شاعرِ زا ر نہیں کوئی بھی معیار مرا​
پھر بھی مشہور ہے کھوٹے کا کھرا ہو جانا​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top