جنہیں ہم کبھی بھلا نہ سکے۔۔۔!

حسرت جاوید

محفلین
ہاں، وہ کہ جن سے بچھڑنا شاید مقدر ہوتا ہے، ایسے لوگ زندگی میں ملا کرتے ہیں اور پھر ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتے ہیں؛ ذہن و دل سے بھی گویا بسر سے جاتے ہیں تاہم جب یک دم ان کی یاد آتی ہے تو پھر وہ بے طرح یاد آتے ہیں؛ کسی پل چین سکون نہیں ملتا ۔۔۔ ایسے لوگ شاید ہر ایک کی زندگی میں آیا کرتے ہیں ۔۔۔ لیکن بات تو احساس کی شدت کی ہے ۔۔۔ کسی کے لیے یہ سب کچھ بے معنی ہوتا ہے اور کسی کے لیے وصل اور ہجر کے یہ پل خاص اہمیت اختیار کر لیتے ہیں ۔۔۔!!!

ارے وہ جون ایلیا بھی تو کہہ گئے ہیں نا ۔۔۔

یہ مجھے چین کیوں نہیں پڑتا
ایک ہی شخص تھا جہان میں کیا
کیا خوب بیان فرمایا ہے۔
 

حسرت جاوید

محفلین
حسرت ہی نہ رہ جائے کہیں۔۔۔ آیا ہوتا تو دل پہ کوئی نقش تو رہتا نا۔ البتہ آنے کی توقع کی جا سکتی ہے
توقع کریں گے تو توقع میں ٹریپ ہو کر رہ جائیں گے اور کئی خوبصورت چیزیں مس ہو جائیں گی، اس کا نقصان یہ بھی ہے کہ اس صورتحال میں نا امیدی بڑھتی جائے گی۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن جب ہم اس توقع کے فریم سے باہر نکل کر زندگی گزارنا سیکھ جاتے ہیں تو زندگی ہمیں وہ خوبصورت چیزیں بھی دیتی ہے جن کی ہم نے توقع نہیں کی ہوتی۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
توقع کریں گے تو توقع میں ٹریپ ہو کر رہ جائیں گے اور کئی خوبصورت چیزیں مس ہو جائیں گی، اس کا نقصان یہ بھی ہے کہ اس صورتحال میں نا امیدی بڑھتی جائے گی۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن جب ہم اس توقع کے فریم سے باہر نکل کر زندگی گزارنا سیکھ جاتے ہیں تو زندگی ہمیں وہ خوبصورت چیزیں بھی دیتی ہے جن کی ہم نے توقع نہیں کی ہوتی۔
شاید توقع کی بجائے ہمیں امید لفظ استعمال کرنا چاہئیے تھا۔
نہیں نہیں ہم توقع کے ٹریپ میں آ کر زندگی کا ایک بھی خوبصورت لمحہ مِس نہیں کرنا چاہتے۔ اچھا ہوا کہ وقت رہتے آپ نے اس طرف ہماری توجہ دلا دی۔ کیونکہ ہم زندگی کو اس کی تمامتر خوبصورتی کے ساتھ گزارنا چاہتے ہیں۔ بلکہ یوں کہنا مناسب ہو گا کہ ہر منفی بات سے بھی مثبت پہلو نکالنا ۔۔۔ اور ہر دکھ میں بھی سُکھ تلاش کرنا سیکھ رہے ہیں۔
 

شمشاد

لائبریرین
توقع کریں گے تو توقع میں ٹریپ ہو کر رہ جائیں گے اور کئی خوبصورت چیزیں مس ہو جائیں گی، اس کا نقصان یہ بھی ہے کہ اس صورتحال میں نا امیدی بڑھتی جائے گی۔ اگرچہ یہ ایک مشکل کام ہے لیکن جب ہم اس توقع کے فریم سے باہر نکل کر زندگی گزارنا سیکھ جاتے ہیں تو زندگی ہمیں وہ خوبصورت چیزیں بھی دیتی ہے جن کی ہم نے توقع نہیں کی ہوتی۔
hasrat اردو محفل میں خوش آمدید۔

اپنا تعارف تو دیں تاکہ دوسرے اراکین اردو محفل آپ سے متعارف ہو سکیں۔

یہ رہا تعارف کا زمرہ
 

حسرت جاوید

محفلین
ہر منفی بات سے بھی مثبت پہلو نکالنا ۔۔۔ اور ہر دکھ میں بھی سُکھ تلاش کرنا سیکھ رہے ہیں۔
یہ نیچرل بیحوئر نہیں ہے اور انسان ایک دن ان تمام "مثبت" چیزوں سے اکتا جاتا ہے جو اس نے "منفی" چیزوں سے اخذ کی ہوتی ہے۔ وہ رہیے جو آپ ہیں، جیسا آپ کو محسوس ہوتا ہے۔ منفی کو منفی ہی سمجھیں اور مثبت کو مثبت۔ در حقیقت زندگی محض مثبت چیز کا نام نہیں ہے اور جب ہم محض مثبت کی الوژن پہ چلتے ہیں تو جلد یا بدیر تھک جاتے ہیں، بور ہو جاتے ہیں۔ زندگی مثبت و منفی کا مد و جزر ہے۔ میری ذاتی رائے میں دونوں سیچوئیشنز کو ایسے ہی ایکسپٹ کیا جانا چاہیے، جیسے وہ ہیں۔ زندگی اس صورت میں بہت آسان اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔
 

حسرت جاوید

محفلین
hasrat اردو محفل میں خوش آمدید۔

اپنا تعارف تو دیں تاکہ دوسرے اراکین اردو محفل آپ سے متعارف ہو سکیں۔

یہ رہا تعارف کا زمرہ
شکریہ محترم، میں جب مناسب سمجھوں گا کہ مجھے خود روشناس کرانا چاہیے تو میں بلا جھجک خود کو متعارف کرا دوں گا۔ ابھی مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
 

شمشاد

لائبریرین
شکریہ محترم، میں جب مناسب سمجھوں گا کہ مجھے خود روشناس کرانا چاہیے تو میں بلا جھجک خود کو متعارف کرا دوں گا۔ ابھی مجھے اس کی ضرورت محسوس نہیں ہو رہی۔
جیسے آپ کی مرضی۔

ویسے تعارف کروانے میں کوئی خدشہ بھی نہیں۔
 

حسرت جاوید

محفلین
جیسے آپ کی مرضی۔

ویسے تعارف کروانے میں کوئی خدشہ بھی نہیں۔
اور میرے نزدیک شاید ابھی اس کی ضرورت بھی نہیں۔ کسی شخص کو ذاتی طور پر جاننے کا یا خود کو روشناس کرانے کا مجھے کوئی اشتیاق نہیں۔ ہاں البتہ کوشش رہے گی کسی کی ذات کو میری وجہ سے کوئی مسئلہ نہ ہو۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
یہ نیچرل بیحوئر نہیں ہے اور انسان ایک دن ان تمام "مثبت" چیزوں سے اکتا جاتا ہے جو اس نے "منفی" چیزوں سے اخذ کی ہوتی ہے۔ وہ رہیے جو آپ ہیں، جیسا آپ کو محسوس ہوتا ہے۔ منفی کو منفی ہی سمجھیں اور مثبت کو مثبت۔ در حقیقت زندگی محض مثبت چیز کا نام نہیں ہے اور جب ہم محض مثبت کی الوژن پہ چلتے ہیں تو جلد یا بدیر تھک جاتے ہیں، بور ہو جاتے ہیں۔ زندگی مثبت و منفی کا مد و جزر ہے۔ میری ذاتی رائے میں دونوں سیچوئیشنز کو ایسے ہی ایکسپٹ کیا جانا چاہیے، جیسے وہ ہیں۔ زندگی اس صورت میں بہت آسان اور خوبصورت ہو جاتی ہے۔
عین ممکن ہے کہ ہم اپنی بات کی وضاحت نہیں کر پائے۔
ہماری سوچ یا ہمارا رویہ کچھ اس طرح سے ہے کہ کوئی دکھ ملتا ہے، کسی کی جدائی سہنی پڑتی ہے تو اس کا اتنا ہی دکھ کرتے ہیں کہ دل کا بوجھ قدرے ہلکا ہو جائے۔ یہ نہیں کہ زندگی کا روگ بنا کر بیٹھ رہیں۔ اللہ پاک کی مدد سےجلدی اس سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔دھوکہ کھانے کے بعد بھی سنبھل جاتے ہیں بجائے واویلا کرنے کے۔ یہ نہیں کہ جفا کا دُکھ سہنے کا صدمہ نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ سانپ نکل جانے کے بعد لکیر کو پیٹا نہیں کرتے۔
باقی رہے زندگی کے معاملات تو صبر و شکر کے ساتھ ہر صورت ِ حال کو قبول کرتے ہیں چاہے وہ منفی ہو یا مثبت۔ یکسانیت تو کسی بھی صورت موافق نہیں ہے۔ تبھی تو اب تک تازہ دم ہیں اور مختلف مقاصد لے کر زندگی کے ساتھ رواں دواں ہیں۔
 

حسرت جاوید

محفلین
عین ممکن ہے کہ ہم اپنی بات کی وضاحت نہیں کر پائے۔
ہماری سوچ یا ہمارا رویہ کچھ اس طرح سے ہے کہ کوئی دکھ ملتا ہے، کسی کی جدائی سہنی پڑتی ہے تو اس کا اتنا ہی دکھ کرتے ہیں کہ دل کا بوجھ قدرے ہلکا ہو جائے۔ یہ نہیں کہ زندگی کا روگ بنا کر بیٹھ رہیں۔ اللہ پاک کی مدد سےجلدی اس سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔دھوکہ کھانے کے بعد بھی سنبھل جاتے ہیں بجائے واویلا کرنے کے۔ یہ نہیں کہ جفا کا دُکھ سہنے کا صدمہ نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ سانپ نکل جانے کے بعد لکیر کو پیٹا نہیں کرتے۔
باقی رہے زندگی کے معاملات تو صبر و شکر کے ساتھ ہر صورت ِ حال کو قبول کرتے ہیں چاہے وہ منفی ہو یا مثبت۔ یکسانیت تو کسی بھی صورت موافق نہیں ہے۔ تبھی تو اب تک تازہ دم ہیں اور مختلف مقاصد لے کر زندگی کے ساتھ رواں دواں ہیں۔
زبردست۔ بہت خوبصورت سوچ کی مالک ہیں اور بہت ہی احسن طریقے سے وضاحت کی ہے۔
 

ہانیہ

محفلین
عین ممکن ہے کہ ہم اپنی بات کی وضاحت نہیں کر پائے۔
ہماری سوچ یا ہمارا رویہ کچھ اس طرح سے ہے کہ کوئی دکھ ملتا ہے، کسی کی جدائی سہنی پڑتی ہے تو اس کا اتنا ہی دکھ کرتے ہیں کہ دل کا بوجھ قدرے ہلکا ہو جائے۔ یہ نہیں کہ زندگی کا روگ بنا کر بیٹھ رہیں۔ اللہ پاک کی مدد سےجلدی اس سے نکل کر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں۔دھوکہ کھانے کے بعد بھی سنبھل جاتے ہیں بجائے واویلا کرنے کے۔ یہ نہیں کہ جفا کا دُکھ سہنے کا صدمہ نہیں ہوتا۔ مختصر یہ کہ سانپ نکل جانے کے بعد لکیر کو پیٹا نہیں کرتے۔
باقی رہے زندگی کے معاملات تو صبر و شکر کے ساتھ ہر صورت ِ حال کو قبول کرتے ہیں چاہے وہ منفی ہو یا مثبت۔ یکسانیت تو کسی بھی صورت موافق نہیں ہے۔ تبھی تو اب تک تازہ دم ہیں اور مختلف مقاصد لے کر زندگی کے ساتھ رواں دواں ہیں۔

جی یہ تو پرسنل معاملات ہوئے۔۔۔ کہ چلو دھوکہ کھایا تو سبق بھی سیکھا۔۔۔۔اپنے لئے صبر کرنا شاید آسان ہوتا ہے۔۔۔لیکن اب اجتماعی معاملات ہیں۔۔۔۔جیسے کوئی دوکاندار ملاوٹ کر کے کچھ بیچتا ہے۔۔۔۔اور مجھ سمیت میرے گھر والے اس وجہ سے بیمار ہوتے ہیں۔۔۔۔میں شاید یہ سوچ کر خود کے لئے صبر کر لوں۔۔۔۔کہ غریب ہے ۔۔۔مجبوری میں ایسا کر رہا ہے۔۔۔۔یا اس کی بدنامی ہوگی اگر اس کے بارے میں سب کو بتایا۔۔۔۔لیکن پھر کبھی دوبارہ اس کی ملاوٹ کی وجہ سے سب بیمار ہوتے ہیں۔۔۔۔تو کیا پھردوبارہ مثبت پہلو تلاش کیا جانا چاہئے؟۔۔۔کہ اگر اس کی برائی کے بارے میں سب کو بتایا۔۔۔یا اسے روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔تو اس کی بدنامی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور ملک کی بدنامی بھی ہوگی۔۔۔۔بے شک اس کی وجہ سے سب کو نقصان پہنچتا رہے۔۔۔؟
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
جی یہ تو پرسنل معاملات ہوئے۔۔۔ کہ چلو دھوکہ کھایا تو سبق بھی سیکھا۔۔۔۔اپنے لئے صبر کرنا شاید آسان ہوتا ہے۔۔۔لیکن اب اجتماعی معاملات ہیں۔۔۔۔جیسے کوئی دوکاندار ملاوٹ کر کے کچھ بیچتا ہے۔۔۔۔اور مجھ سمیت میرے گھر والے اس وجہ سے بیمار ہوتے ہیں۔۔۔۔میں شاید یہ سوچ کر خود کے لئے صبر کر لوں۔۔۔۔کہ غریب ہے ۔۔۔مجبوری میں ایسا کر رہا ہے۔۔۔۔یا اس کی بدنامی ہوگی اگر اس کے بارے میں سب کو بتایا۔۔۔۔لیکن پھر کبھی دوبارہ اس کی ملاوٹ کی وجہ سے سب بیمار ہوتے ہیں۔۔۔۔تو کیا پھردوبارہ مثبت پہلو تلاش کیا جانا چاہئے؟۔۔۔کہ اگر اس کی برائی کے بارے میں سب کو بتایا۔۔۔یا اسے روکنے کی کوشش کی۔۔۔۔تو اس کی بدنامی کے ساتھ ساتھ معاشرے اور ملک کی بدنامی بھی ہوگی۔۔۔۔بے شک اس کی وجہ سے سب کو نقصان پہنچتا رہے۔۔۔؟
بات چونکہ اپنے اپنے تجربے اور مشاہدے کی ہو رہی تھی اپنی ذات کے حوالے سے ۔۔ تو ہم نے اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جواب دیا اور ساتھ میں بتا بھی دئیے معاملات۔
جہاں تک اجتماعی معاملات کا تعلق ہے اور خاص طور پر ایسے معاملات جن کا ذکر آپ نے کیا۔ تو ان میں مثبت رویہ یہ ہو گا کہ ایسے کاموں اور ایسی ملاوٹوں کی روک تھام کی جائے۔
 

ہانیہ

محفلین
بات چونکہ اپنے اپنے تجربے اور مشاہدے کی ہو رہی تھی اپنی ذات کے حوالے سے ۔۔ تو ہم نے اسی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے جواب دیا اور ساتھ میں بتا بھی دئیے معاملات۔
جہاں تک اجتماعی معاملات کا تعلق ہے اور خاص طور پر ایسے معاملات جن کا ذکر آپ نے کیا۔ تو ان میں مثبت رویہ یہ ہو گا کہ ایسے کاموں اور ایسی ملاوٹوں کی روک تھام کی جائے۔

شکریہ سسٹر۔۔۔یعنی برائی کی روک تھام کے لئے جو ہو سکتا ہے کرنا چاہئے۔۔۔۔اب ایک چیز یہ سمجھ آتی یے۔۔۔۔کہ سوشل میڈیا کے ذریعے شعور اجاگر کیا جائے۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو جو پڑھے گا ۔۔۔۔اور اگر اس نے پہلے کبھی اس روک تھام کے لئے کچھ نہیں کیا ہوگا۔۔۔۔۔تو وہ شاید کچھ کرنے لگ جائےگا۔۔۔۔اب زیادہ تر مجھے کہا جاتا ہے کہ میں منفیت پھیلا رہی ہوں۔۔۔۔ملک و قوم کا نام بدنام کر رہی ہوں۔۔۔۔لیکن جب منفی کو منفی نہیں سمجھا جائے گا۔۔۔۔۔تو اسے کوئی روکنے کی پھر کوشش ہی کیوں کرے گا۔۔۔۔لیکن یہ بات سمجھ ہر کوئی نہیں پاتا ہے۔۔۔۔
 
Top