جانے کب میخانہ یہ دل بنے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!!

نور وجدان

لائبریرین
بچپن میں جامِ محبت سے آشنائی نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی چہرہ محبوب سا لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ محبت کے لفظ سے ''چڑ'' تھی ۔ ایک خود ساختہ وعدہ کیا ہوا تھا خود سے کہ محبت میں بربادی ہے اور بربادی کون کرنا چاہے گا۔۔۔۔۔۔۔!

کلاس میں کئ لڑکیاں محبت میں گرفتار تھیں ۔ جس کو محبت ہوتی ، اس سے دوری ہوجاتی ۔ ایک دن کہ بھی دیا :

''یار ! آپ کیسے لوگ ہو ؟ اسکول پڑھنے آتے ہو ، پڑھو اور جاؤ گھر ، یہ کیا جوگ پالے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اس طرح تعمیر رک جائے گی۔ اور اس '' محبت'' کی نفرت میں سارا دھیان خشک باتوں اور فلسفیانہ باتوں میں الجھا لیا ۔ جس سے دماغ کچھ زیادہ ہی خشک ہوگیا۔ خشک باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بس کچھ زیادہ ہی خشکی ہوگئ ۔۔۔۔!


ہر بار ''ٹوکنے'' پر ایک جواب ملتا کہ ''ہم'' ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس لیے برباد نہیں ہیں ہم ۔۔۔۔! جہاں میں ایسے ایسے آئے ہیں ، جن کا محبت نے کچھ نہ چھوڑا۔۔۔!

تب سے ''ارادہ'' کرلیا کہ '' محبت'' دراصل ایک ''نفرت'' ہے اس ''محبت و نفرت '' کے کھیل میں ''وقت'' بڑا سیانہ ہے ۔ سو ہم منکر اور ہماری '' موحد'' سے نفرت بڑھتی ہی گئی۔۔۔۔ جانے کیوں مسلمان گھرانے کی پیداوار ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
شاید اس لیے کہ ایک انسان کے کئی موحد کیوں ؟؟ اب یہ سوال بڑا تڑپاتا تھا۔۔۔۔ محبت میں ''احد'' کا کلمہ بھی نہیں اور کثرت بھی بڑی ہے ۔ دل نے کہا کہ '' عاشقی بڑی بدنام شے ہے ۔ اس سے دوری ہی بھلی ۔ اقبال کا شعر بڑا یاد آتا ہے اس موقع پر۔۔۔۔۔!

کثرت میں ہوگیا وحدت کا راز مخفی
جگنو میں جو چمک ہے وہ پھول میں مہک ہے ۔۔۔۔


ایک ''وقت'' اور سو ''کرب'' ۔۔۔ منظروں سے محبت ، راستوں کے درمیان کھڑے ہو کر ، حسین شاہراہوں کی دلکشی پر غور کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہرے بھرے درخت ، لہلہاتے کھیت ، ندی کی '' چھن چھن '' کرتی آواز اور میرا سانس۔۔۔۔۔ اکثر تھم سا جاتا ۔۔۔!!! جب بھی پہاڑوں پر جاتی ، کسی پہاڑ سے کھڑے ہوکر نیچے وادی کو دیکھتے ۔۔۔۔! دل کرتا یہیں مرجاؤں مگر اس حسین وادی کی قید سے نہ نکلوں ، پھر ایک اور وادی سے گزر ہوا۔۔۔ وہ اس سے زیادہ حسین ۔۔۔۔۔۔ '' میں'' ۔۔۔!!! میں اب راستوں کے درمیاں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بلکہ راستے پر کھڑی ، پل پل کو محسوس کرتی ، سموتی ، ان ''پلوں'' میں مقید ہوتی گئ۔۔۔۔۔!!

وادیاں۔۔۔! یہ کوہسار ، یہ جھرنے ، سبزے پر بیٹھنا، سب کا سب ۔۔۔! سب ہی تعمیر و فطرت کے رخ بنتے رہے اور بارشوں کے بعد آسمان پر قزح کے رنگ امڈنے لگے ۔ ''میں'' ۔۔۔! ''میں ہوں''، اور ہوگئ میں رنگوں کی دیوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔! سارے رنگ میرے اپنے ، سارے سپنے اپنے اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔! اکبھی درختوں کے پاس سے گزر کر، ندی کی چٹان کے پر بیٹھ کر ایک درخت سے ٹیک لگا لیتی اور لمحوں خواب میں گزار دیتی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔!

ایک دن غلطی سے شام تک بیٹھی رہی ، شام کے بعد چاند نے مجھے اور میں نے اسے دیکھ لیا۔ ساری حکمتیں ''منکرینِ نفرت '' کی ختم ، محبت سے نفرت کا فلسفہ ختم اور ''احد'' کا تصور دل میں خواب بھرنے لگا ۔۔۔ یوں میرا وقت چاند کو تاکتے تاکتے گزرنے لگا۔۔۔۔! چاند بہت حسین تھا ، چاند تھا اور رات کے وقت ، چاند کا حسن اور نمایاں ہوجاتا ۔۔۔۔۔! میں نے محبت کا کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہوگئی ۔۔۔۔!

اسلام لانے کے بعد ''مومن '' بننے کا درجہ نہ مل سکا اور ڈگمگا گئی ۔۔ وہ کہتے ہیں نا۔۔۔۔۔ ہاں جی ۔۔۔! وہ کہتے ہیں کہ محبت میں ''شک '' کی منزل ختم کرنی پڑتی ہے ، تب عشق نصیب ہوتا ہے ۔ اور ''میں'' شروع سے ''شکی''' ۔۔۔۔۔۔۔! کبھی یقین نہ کرنے والی ۔۔۔۔! آغاز محبت میں شک نے بیج بو دیا۔۔۔۔۔! اور محبت نے منہ موڑ لیا۔۔۔۔! مگر ہوا یوں کہ ۔۔۔۔کہ ۔۔محبت کو منانے کے چکر میں '' مسافر'' ہی رہی اور منزل نہ ملی ۔۔۔ منزل ''کھو'' گئی جبکہ راستہ بڑا صاف ستھرا تھا۔۔۔۔۔۔ ۔۔!!! اب یہ حال ہے کہ مسافتیں ختم ہی نہیں ہوتی ، دل تیقن کے ساتھ ''کلمہ'' پڑھتا ہے ، مگر ''رخ '' جو مڑ جائے تو واپس کون آئے ۔۔۔؟؟؟

کون واپس آیا؟؟؟؟ عقل والے چلے گئے اور محبت والے آگئے ، دل سے منطقیں اڑا کر ، دیوانہ بنا گئے ۔ اب دیوانہ ، کیا جانے دنیا کا حال ۔۔۔۔۔ کہ یہ دنیا الٹی ہے کہ سیدھی۔۔۔!!! یہ چپٹی ہے یا گول ۔۔۔ ۔۔!!!

ارے ۔۔۔۔!دنیا تو دنیا ہے ، عشق کا پیالہ یا زہر کا ۔۔۔ پینا ہے ، آنکھ بند کی ، ساری حسیات کو مفلوج کرکے ، اس کو کڑوے گھونٹ کی طرح نگلا۔۔۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ اس کا تھوڑا سا حصہ زبان نے چکھ لیا، وہ کڑوا بھی تھا ، مگر ''مے'' بھی ، نشہ تھا یا کیف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! مست ایک قطرے نے بنا کر ، پیاسا بنا کر صحرا کا عادی بنا دیا۔۔۔۔!!! اب شراب کے سوا کچھ اچھا ہی نہیں لگتا کہ دل کرتا ، شراب ، شراب اور بس شراب ۔۔۔!!

اتنا تو پتا ہے کہ ، منکر نہیں ہوں میں ، ملحد نہیں ہوں میں ۔۔۔۔۔ ! اتنا جانتی ہوں ۔۔۔۔ اس سے آگے کا پتا نہیں چلتا اور بس یہ احساس ہوتا ہے کہ محبت گھونٹ گھونٹ ملے تو نشہ ٹوٹ کر چڑھتا ہے ۔۔۔۔۔۔! اس کے بعد کوئی ''تکثیریت ''کا قائل ہو یا ''احد'' کا ۔۔۔۔۔ دل میں عزت پیدا ہوگی ، ہر نفس کے لیے ۔۔۔ ارے ، اب بھی نہ بدلتے تو پھر کب۔۔۔؟؟

اور پھر جو بھی ملا ، جیسا بھی ، کبھی کسی کے دل کے مندر کو دکھانے کی کوشش نہ کی کہ ڈر لگتا ہے کہ اندر چاہے کتنے بھی شیشے ہوں ، ایک شیشہ ''اُس '' کا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔! کہیں ''وہ '' نہ ٹوٹ جائے ۔۔۔۔!! پھر ، پھر سے منکر کا درجہ نہ مل جائے ۔۔۔ احترام، احترام ، بس احترام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

'' وہ'' شیشہ ایک دن اپنا ''شیش محل '' بنا ئے گا۔ مگر جام تو ''تکثیریت'' سے ملے گا، جو جتنا تڑپے گا، اتنا حسن محل کا بڑھے گا۔بس درد کی ''شدت' سے بنتے محل کاایک دن'' در ''وا'' ہونا ہے ، عاشق دروازے پر کھڑا ہے ۔۔۔۔ جانے کب وا ہوجائے ، جانے کبھی خامشی کا سکوت ٹوتے ، جانے کب ، جانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! جانے کب میخانہ یہ دل بنے گا۔۔۔ جانے کب۔۔۔۔؟؟؟
 
آخری تدوین:

نایاب

لائبریرین
حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ جو بھی پھیلاؤ ہے یہ سب محبت کا ہی کرشمہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اک خوبصورت تحریر پر بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
 

نور وجدان

لائبریرین
حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ سب کچھ جو بھی پھیلاؤ ہے یہ سب محبت کا ہی کرشمہ ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔
اک خوبصورت تحریر پر بہت سی دعاؤں بھری داد
بہت دعائیں
پھیلا ہے سب نیلا نیلا، سبز سبز اور سرخ سرخ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
تسلیمات۔۔۔۔۔۔!
 

بزم خیال

محفلین
بہت خوبصورت تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی باتیں انتہائی سادگی سے بیان کر دی گئیں۔۔۔۔۔۔
اپنی تحریر ’’عشق وفا کہاں ‘‘ میں لکھے یہ الفاظ یاد آ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’’’روح بیچاری اپنے زور پر آسمانوں کی طرف محو پرواز ہوتی ہے۔جس کی قوت بندشوں سے زیادہ آزادی کی تڑپ ہوتی ہے۔جس کے لئے شدت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اسے دنیاوی خواہشات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس فنا کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا جائےتو روح کی بقا کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔
جسم بھوک اور ہوس کے دائرے میں رقصاں رہتا ہے۔یہ مکڑی کی طرح ایسا جال بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے فریب میں زندگی کا مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ روح کے لمس کے سفر پر فاصلوں کا اندازہ وقت اور رفتار سے جانچ کر رکھنا ضروری ہے۔جنہیں علم کی تشنگی ہے وہ عالم سے رجوع کریں۔ بھوک رکھنے والے آگ سے ،ہوس و حرص کے پجاری حسن و جمال سے۔
مگر جنہیں درِ کائنات تک پہنچنا ہوتا ہے وہ دستک سے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے میں خیر و شر کی عظیم کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے۔جسم حیلے بہانےسے ضرورتوں مجبوریوں ان کہی کہانیوںمحرومیوں نا انصافیوں کےرونے دھونے سے لمس خیال کو عشق حقیقی میں پرونے سے روکتا ہے۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کا صرف یہ جہاں کھلا ہے۔ جن کی بند آنکھ کھلی ہے ان کے لئے ایک الگ جہاں بھی کھلا ہے۔جن کا لفظ احاطہ نہیں کر سکتے۔‘‘‘‘
 

نور وجدان

لائبریرین
بہت خوبصورت تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بہت سی باتیں انتہائی سادگی سے بیان کر دی گئیں۔۔۔۔۔۔
اپنی تحریر ’’عشق وفا کہاں ‘‘ میں لکھے یہ الفاظ یاد آ گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
’’’’روح بیچاری اپنے زور پر آسمانوں کی طرف محو پرواز ہوتی ہے۔جس کی قوت بندشوں سے زیادہ آزادی کی تڑپ ہوتی ہے۔جس کے لئے شدت کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جو اسے دنیاوی خواہشات کی فنا سے حاصل ہوتی ہے۔اگر اس فنا کو زندگی کا حاصل سمجھ لیا جائےتو روح کی بقا کے سفر کو روکا نہیں جا سکتا۔
جسم بھوک اور ہوس کے دائرے میں رقصاں رہتا ہے۔یہ مکڑی کی طرح ایسا جال بنتا ہے کہ اس کی خوبصورتی کے فریب میں زندگی کا مقصد فنا ہو جاتا ہے۔ روح کے لمس کے سفر پر فاصلوں کا اندازہ وقت اور رفتار سے جانچ کر رکھنا ضروری ہے۔جنہیں علم کی تشنگی ہے وہ عالم سے رجوع کریں۔ بھوک رکھنے والے آگ سے ،ہوس و حرص کے پجاری حسن و جمال سے۔
مگر جنہیں درِ کائنات تک پہنچنا ہوتا ہے وہ دستک سے آنے کی اطلاع دیتے ہیں۔وہاں تک پہنچنے میں خیر و شر کی عظیم کشمکش سے گزرنا پڑتا ہے۔جسم حیلے بہانےسے ضرورتوں مجبوریوں ان کہی کہانیوںمحرومیوں نا انصافیوں کےرونے دھونے سے لمس خیال کو عشق حقیقی میں پرونے سے روکتا ہے۔جن کی آنکھیں کھلی ہیں ان کا صرف یہ جہاں کھلا ہے۔ جن کی بند آنکھ کھلی ہے ان کے لئے ایک الگ جہاں بھی کھلا ہے۔جن کا لفظ احاطہ نہیں کر سکتے۔‘‘‘‘
مجھے یہ بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کون ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نام آپ کا معلوم نہیں ۔۔۔۔۔۔باتیں بڑی مفکروں والوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! کون ہو۔۔۔۔!!!

اپنا تعارف کروادیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

عشق وفا کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تحریر شریک کردیں ۔۔۔

یہ تو پتا نہیں کہ سادگی سے بیان کی مگر ۔۔اگر سادگی ہے تو یہ بھی ہے '' سادگی میں حسن ہے ''
 

بزم خیال

محفلین
مجھے یہ بتائیں ۔۔۔۔۔۔۔۔آپ کون ہو۔۔۔۔۔۔۔۔؟ نام آپ کا معلوم نہیں ۔۔۔۔۔۔باتیں بڑی مفکروں والوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ! کون ہو۔۔۔۔!!!

اپنا تعارف کروادیں آپ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

عشق وفا کہاں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یہ تحریر شریک کردیں ۔۔۔

یہ تو پتا نہیں کہ سادگی سے بیان کی مگر ۔۔اگر سادگی ہے تو یہ بھی ہے '' سادگی میں حسن ہے ''
نام محمودالحق اردو فورمز پر بزم خیال کی آئی ڈی سے شئیرنگ کرتا ہوں۔
نہ تو فلسفی ہوں اور نہ ہی مفکر ۔۔۔۔البتہ مولانا رومی اور علامہ اقبال کی فکر سے ضرور متاثر ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خیال ذہن میں آئے لکھ دیتا ہوں جو سمجھ آئے کہہ دیتا ہوں۔
بناوٹ تصنع کی عادت جو نہیں ہے تو پھر سادگی ہی کہا جا سکتا ہے۔۔۔
تحریر ابھی شئیر کئے دیتا ہوں۔
 

نور وجدان

لائبریرین
نام محمودالحق اردو فورمز پر بزم خیال کی آئی ڈی سے شئیرنگ کرتا ہوں۔
نہ تو فلسفی ہوں اور نہ ہی مفکر ۔۔۔۔البتہ مولانا رومی اور علامہ اقبال کی فکر سے ضرور متاثر ہوں۔۔۔۔۔۔۔۔ جو خیال ذہن میں آئے لکھ دیتا ہوں جو سمجھ آئے کہہ دیتا ہوں۔
بناوٹ تصنع کی عادت جو نہیں ہے تو پھر سادگی ہی کہا جا سکتا ہے۔۔۔
تحریر ابھی شئیر کئے دیتا ہوں۔
تعارف بہت ہی بھرپور ہے ۔ جزاک اللہ ۔۔۔!
افکار آپ کے مل بھی رہے ہیں ان سے ۔۔۔!
''عادت'' عادت بدل جاتی ہے ، فطرت نہیں بدلتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

سادگی کہیں یا تصنع ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ فرق پڑتا ہے ۔۔۔ پڑے تو کیا ؟
 

شزہ مغل

محفلین
بچپن میں جامِ محبت سے آشنائی نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی چہرہ محبوب سا لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ محبت کے لفظ سے ''چڑ'' تھی ۔ ایک خود ساختہ وعدہ کیا ہوا تھا خود سے کہ محبت میں بربادی ہے اور بربادی کون کرنا چاہے گا۔۔۔۔۔۔۔!

کلاس میں کئ لڑکیاں محبت میں گرفتار تھیں ۔ جس کو محبت ہوتی ، اس سے دوری ہوجاتی ۔ ایک دن کہ بھی دیا :

''یار ! آپ کیسے لوگ ہو ؟ اسکول پڑھنے آتے ہو ، پڑھو اور جاؤ گھر ، یہ کیا جوگ پالے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اس طرح تعمیر رک جائے گی۔ اور اس '' محبت'' کی نفرت میں سارا دھیان خشک باتوں اور فلسفیانہ باتوں میں الجھا لیا ۔ جس سے دماغ کچھ زیادہ ہی خشک ہوگیا۔ خشک باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بس کچھ زیادہ ہی خشکی ہوگئ ۔۔۔۔!


ہر بار ''ٹوکنے'' پر ایک جواب ملتا کہ ''ہم'' ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس لیے برباد نہیں ہیں ہم ۔۔۔۔! جہاں میں ایسے ایسے آئے ہیں ، جن کا محبت نے کچھ نہ چھوڑا۔۔۔!

تب سے ''ارادہ'' کرلیا کہ '' محبت'' دراصل ایک ''نفرت'' ہے اس ''محبت و نفرت '' کے کھیل میں ''وقت'' بڑا سیانہ ہے ۔ سو ہم منکر اور ہماری '' موحد'' سے نفرت بڑھتی ہی گئی۔۔۔۔ جانے کیوں مسلمان گھرانے کی پیداوار ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
شاید اس لیے کہ ایک انسان کے کئی موحد کیوں ؟؟ اب یہ سوال بڑا تڑپاتا تھا۔۔۔۔ محبت میں ''احد'' کا کلمہ بھی نہیں اور کثرت بھی بڑی ہے ۔ دل نے کہا کہ '' عاشقی بڑی بدنام شے ہے ۔ اس سے دوری ہی بھلی ۔ اقبال کا شعر بڑا یاد آتا ہے اس موقع پر۔۔۔۔۔!

کثرت میں ہوگیا وحدت کا راز مخفی
جگنو میں جو چمک ہے وہ پھول میں مہک ہے ۔۔۔۔


ایک ''وقت'' اور سو ''کرب'' ۔۔۔ منظروں سے محبت ، راستوں کے درمیان کھڑے ہو کر ، حسین شاہراہوں کی دلکشی پر غور کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہرے بھرے درخت ، لہلہاتے کھیت ، ندی کی '' چھن چھن '' کرتی آواز اور میرا سانس۔۔۔۔۔ اکثر تھم سا جاتا ۔۔۔!!! جب بھی پہاڑوں پر جاتی ، کسی پہاڑ سے کھڑے ہوکر نیچے وادی کو دیکھتے ۔۔۔۔! دل کرتا یہیں مرجاؤں مگر اس حسین وادی کی قید سے نہ نکلوں ، پھر ایک اور وادی سے گزر ہوا۔۔۔ وہ اس سے زیادہ حسین ۔۔۔۔۔۔ '' میں'' ۔۔۔!!! میں اب راستوں کے درمیاں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بلکہ راستے پر کھڑی ، پل پل کو محسوس کرتی ، سموتی ، ان ''پلوں'' میں مقید ہوتی گئ۔۔۔۔۔!!
یہ تو آپ نے میرے ہی من کی باتیں کہہ دیں۔
یہی وہ دور تھا جب میں نے لکھا تھا
؎ محبت اک تماشا ہے، تماشے عام ہوتے ہیں
تماشائے محبت میں، سبھی بدنام ہوتے ہیں
 

نور وجدان

لائبریرین
یہ تو آپ نے میرے ہی من کی باتیں کہہ دیں۔
یہی وہ دور تھا جب میں نے لکھا تھا
؎ محبت اک تماشا ہے، تماشے عام ہوتے ہیں
تماشائے محبت میں، سبھی بدنام ہوتے ہیں

یہاں غور کرکے ، ایک عرض کروں۔۔۔''ایک ''اور'' کردیا ہے ''اپنا'' ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ !!!
وہ دور ۔۔۔ کونسا دور؟ اب گزر گیا ہے ؟؟
یعنی ۔۔۔ آپ کی دل کی باتیں ۔۔ پھر تو خوش نصیبی ہے ، کہ دل کو دل سے راہ ہوتی ہے ، اس قابل کہ آپ کے دل سے ملاقات ہوگئی ۔

نور سعدیہ شیخ اتنی زبردست تحریر اور عنوان تو اس سے بھی زیادہ زبردست۔۔۔
:applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause::applause:
تشکر۔۔!
 

آوازِ دوست

محفلین
خوبصورت اور پُرکشش شخصیات اور چیزوں کی کشش محبت نہیں ہوتی یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ ہم کششِ ثقل کو محبت قرار دے ڈالیں۔ بچپن تو بہت معصوم اور بھولا بھالاہوتا ہے بڑی بات ہے کہ آپ بچپن میں ہی اتنی سمجھدار تھیں۔ ہم تو بچپن میں ہر شادی پر دُلہا سےزیادہ اشتیاق سے دُلہن دیکھنے کے خواہشمند رہتے تھے اور جیسے تیسے ہماری خواہش کا بھرپور احترام کیا جاتا رہا ۔ ذرا بڑے ہوئے اور فلموں سے تعارف حاصل ہوا تو ہر خوبصورت لڑکی اپنی ہیروئن لگنے لگی۔ پھر اور اوپر ہوئے تو کُچھ قِصوں، کہانیوں اور افسانوں میں ہمارا نام آنے لگا۔ یونیورسٹی میں ایک ساتھی اچھی لگی تو شادی ہی کر لی :) دِل مگر مئےخانہ نہ بنا ۔ انسان کی روحانی دُنیا ایک الگ ہی چیز ہے ۔عملی زندگی میں ہمیں جا بجا گُمان پر حقیقت کا خیال آتا ہے اور اکثر ہمیں وہی کُچھ نظر آتا ہے جو ہم دیکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں :)
 

نایاب

لائبریرین
انسان کی روحانی دُنیا ایک الگ ہی چیز ہے ۔عملی زندگی میں ہمیں جا بجا گُمان پر حقیقت کا خیال آتا ہے اور اکثر ہمیں وہی کُچھ نظر آتا ہے جو ہم دیکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں
حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
 

نور وجدان

لائبریرین
خوبصورت اور پُرکشش شخصیات اور چیزوں کی کشش محبت نہیں ہوتی یہ ایسے ہی ہے جیسا کہ ہم کششِ ثقل کو محبت قرار دے ڈالیں۔ بچپن تو بہت معصوم اور بھولا بھالاہوتا ہے بڑی بات ہے کہ آپ بچپن میں ہی اتنی سمجھدار تھیں۔ ہم تو بچپن میں ہر شادی پر دُلہا سےزیادہ اشتیاق سے دُلہن دیکھنے کے خواہشمند رہتے تھے اور جیسے تیسے ہماری خواہش کا بھرپور احترام کیا جاتا رہا ۔ ذرا بڑے ہوئے اور فلموں سے تعارف حاصل ہوا تو ہر خوبصورت لڑکی اپنی ہیروئن لگنے لگی۔ پھر اور اوپر ہوئے تو کُچھ قِصوں، کہانیوں اور افسانوں میں ہمارا نام آنے لگا۔ یونیورسٹی میں ایک ساتھی اچھی لگی تو شادی ہی کر لی :) دِل مگر مئےخانہ نہ بنا ۔ انسان کی روحانی دُنیا ایک الگ ہی چیز ہے ۔عملی زندگی میں ہمیں جا بجا گُمان پر حقیقت کا خیال آتا ہے اور اکثر ہمیں وہی کُچھ نظر آتا ہے جو ہم دیکھنا چاہ رہے ہوتے ہیں :)
بات بہت گہری اور مدلل کرتے ہیں ۔ ملتان کی فضا کا اثر ہے نا۔۔ ! آپ بھی ملتان سےہیں نا۔۔۔!!!
آپ کی دلہن دیکھنے کی معصومانہ خواہش بھی عاقلانہ تھی ۔۔۔ ذرا تو سوچیے نا۔۔۔۔۔۔۔!!

حق ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دعائیں
درست کہا۔
کیا خوب تحریر ہے ۔۔۔۔۔ زبردست۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ڈھیروں داد و تحسین

نوازش ۔۔۔!
 

متلاشی

محفلین
بچپن میں جامِ محبت سے آشنائی نہ ہوئی اور نہ ہی کوئی چہرہ محبوب سا لگا۔ اس کے ساتھ ساتھ محبت کے لفظ سے ''چڑ'' تھی ۔ ایک خود ساختہ وعدہ کیا ہوا تھا خود سے کہ محبت میں بربادی ہے اور بربادی کون کرنا چاہے گا۔۔۔۔۔۔۔!

کلاس میں کئ لڑکیاں محبت میں گرفتار تھیں ۔ جس کو محبت ہوتی ، اس سے دوری ہوجاتی ۔ ایک دن کہ بھی دیا :

''یار ! آپ کیسے لوگ ہو ؟ اسکول پڑھنے آتے ہو ، پڑھو اور جاؤ گھر ، یہ کیا جوگ پالے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!

اس طرح تعمیر رک جائے گی۔ اور اس '' محبت'' کی نفرت میں سارا دھیان خشک باتوں اور فلسفیانہ باتوں میں الجھا لیا ۔ جس سے دماغ کچھ زیادہ ہی خشک ہوگیا۔ خشک باتیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بس کچھ زیادہ ہی خشکی ہوگئ ۔۔۔۔!


ہر بار ''ٹوکنے'' پر ایک جواب ملتا کہ ''ہم'' ساتھ ساتھ پڑھتے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔! اس لیے برباد نہیں ہیں ہم ۔۔۔۔! جہاں میں ایسے ایسے آئے ہیں ، جن کا محبت نے کچھ نہ چھوڑا۔۔۔!

تب سے ''ارادہ'' کرلیا کہ '' محبت'' دراصل ایک ''نفرت'' ہے اس ''محبت و نفرت '' کے کھیل میں ''وقت'' بڑا سیانہ ہے ۔ سو ہم منکر اور ہماری '' موحد'' سے نفرت بڑھتی ہی گئی۔۔۔۔ جانے کیوں مسلمان گھرانے کی پیداوار ہونے کے باوجود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
شاید اس لیے کہ ایک انسان کے کئی موحد کیوں ؟؟ اب یہ سوال بڑا تڑپاتا تھا۔۔۔۔ محبت میں ''احد'' کا کلمہ بھی نہیں اور کثرت بھی بڑی ہے ۔ دل نے کہا کہ '' عاشقی بڑی بدنام شے ہے ۔ اس سے دوری ہی بھلی ۔ اقبال کا شعر بڑا یاد آتا ہے اس موقع پر۔۔۔۔۔!

کثرت میں ہوگیا وحدت کا راز مخفی
جگنو میں جو چمک ہے وہ پھول میں مہک ہے ۔۔۔۔


ایک ''وقت'' اور سو ''کرب'' ۔۔۔ منظروں سے محبت ، راستوں کے درمیان کھڑے ہو کر ، حسین شاہراہوں کی دلکشی پر غور کرتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! ہرے بھرے درخت ، لہلہاتے کھیت ، ندی کی '' چھن چھن '' کرتی آواز اور میرا سانس۔۔۔۔۔ اکثر تھم سا جاتا ۔۔۔!!! جب بھی پہاڑوں پر جاتی ، کسی پہاڑ سے کھڑے ہوکر نیچے وادی کو دیکھتے ۔۔۔۔! دل کرتا یہیں مرجاؤں مگر اس حسین وادی کی قید سے نہ نکلوں ، پھر ایک اور وادی سے گزر ہوا۔۔۔ وہ اس سے زیادہ حسین ۔۔۔۔۔۔ '' میں'' ۔۔۔!!! میں اب راستوں کے درمیاں نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! بلکہ راستے پر کھڑی ، پل پل کو محسوس کرتی ، سموتی ، ان ''پلوں'' میں مقید ہوتی گئ۔۔۔۔۔!!

وادیاں۔۔۔! یہ کوہسار ، یہ جھرنے ، سبزے پر بیٹھنا، سب کا سب ۔۔۔! سب ہی تعمیر و فطرت کے رخ بنتے رہے اور بارشوں کے بعد آسمان پر قزح کے رنگ امڈنے لگے ۔ ''میں'' ۔۔۔! ''میں ہوں''، اور ہوگئ میں رنگوں کی دیوانی ۔۔۔۔۔۔۔۔! سارے رنگ میرے اپنے ، سارے سپنے اپنے اپنے ۔۔۔۔۔۔۔۔! اکبھی درختوں کے پاس سے گزر کر، ندی کی چٹان کے پر بیٹھ کر ایک درخت سے ٹیک لگا لیتی اور لمحوں خواب میں گزار دیتی ۔۔۔۔۔ ۔۔۔!

ایک دن غلطی سے شام تک بیٹھی رہی ، شام کے بعد چاند نے مجھے اور میں نے اسے دیکھ لیا۔ ساری حکمتیں ''منکرینِ نفرت '' کی ختم ، محبت سے نفرت کا فلسفہ ختم اور ''احد'' کا تصور دل میں خواب بھرنے لگا ۔۔۔ یوں میرا وقت چاند کو تاکتے تاکتے گزرنے لگا۔۔۔۔! چاند بہت حسین تھا ، چاند تھا اور رات کے وقت ، چاند کا حسن اور نمایاں ہوجاتا ۔۔۔۔۔! میں نے محبت کا کلمہ پڑھ لیا اور مسلمان ہوگئی ۔۔۔۔!

اسلام لانے کے بعد ''مومن '' بننے کا درجہ نہ مل سکا اور ڈگمگا گئی ۔۔ وہ کہتے ہیں نا۔۔۔۔۔ ہاں جی ۔۔۔! وہ کہتے ہیں کہ محبت میں ''شک '' کی منزل ختم کرنی پڑتی ہے ، تب عشق نصیب ہوتا ہے ۔ اور ''میں'' شروع سے ''شکی''' ۔۔۔۔۔۔۔! کبھی یقین نہ کرنے والی ۔۔۔۔! آغاز محبت میں شک نے بیج بو دیا۔۔۔۔۔! اور محبت نے منہ موڑ لیا۔۔۔۔! مگر ہوا یوں کہ ۔۔۔۔کہ ۔۔محبت کو منانے کے چکر میں '' مسافر'' ہی رہی اور منزل نہ ملی ۔۔۔ منزل ''کھو'' گئی جبکہ راستہ بڑا صاف ستھرا تھا۔۔۔۔۔۔ ۔۔!!! اب یہ حال ہے کہ مسافتیں ختم ہی نہیں ہوتی ، دل تیقن کے ساتھ ''کلمہ'' پڑھتا ہے ، مگر ''رخ '' جو مڑ جائے تو واپس کون آئے ۔۔۔؟؟؟

کون واپس آیا؟؟؟؟ عقل والے چلے گئے اور محبت والے آگئے ، دل سے منطقیں اڑا کر ، دیوانہ بنا گئے ۔ اب دیوانہ ، کیا جانے دنیا کا حال ۔۔۔۔۔ کہ یہ دنیا الٹی ہے کہ سیدھی۔۔۔!!! یہ چپٹی ہے یا گول ۔۔۔ ۔۔!!!

ارے ۔۔۔۔!دنیا تو دنیا ہے ، عشق کا پیالہ یا زہر کا ۔۔۔ پینا ہے ، آنکھ بند کی ، ساری حسیات کو مفلوج کرکے ، اس کو کڑوے گھونٹ کی طرح نگلا۔۔۔ اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ وہ اس کا تھوڑا سا حصہ زبان نے چکھ لیا، وہ کڑوا بھی تھا ، مگر ''مے'' بھی ، نشہ تھا یا کیف تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! مست ایک قطرے نے بنا کر ، پیاسا بنا کر صحرا کا عادی بنا دیا۔۔۔۔!!! اب شراب کے سوا کچھ اچھا ہی نہیں لگتا کہ دل کرتا ، شراب ، شراب اور بس شراب ۔۔۔!!

اتنا تو پتا ہے کہ ، منکر نہیں ہوں میں ، ملحد نہیں ہوں میں ۔۔۔۔۔ ! اتنا جانتی ہوں ۔۔۔۔ اس سے آگے کا پتا نہیں چلتا اور بس یہ احساس ہوتا ہے کہ محبت گھونٹ گھونٹ ملے تو نشہ ٹوٹ کر چڑھتا ہے ۔۔۔۔۔۔! اس کے بعد کوئی ''تکثیریت ''کا قائل ہو یا ''احد'' کا ۔۔۔۔۔ دل میں عزت پیدا ہوگی ، ہر نفس کے لیے ۔۔۔ ارے ، اب بھی نہ بدلتے تو پھر کب۔۔۔؟؟

اور پھر جو بھی ملا ، جیسا بھی ، کبھی کسی کے دل کے مندر کو دکھانے کی کوشش نہ کی کہ ڈر لگتا ہے کہ اندر چاہے کتنے بھی شیشے ہوں ، ایک شیشہ ''اُس '' کا بھی ہے ۔۔۔۔۔۔! کہیں ''وہ '' نہ ٹوٹ جائے ۔۔۔۔!! پھر ، پھر سے منکر کا درجہ نہ مل جائے ۔۔۔ احترام، احترام ، بس احترام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!

'' وہ'' شیشہ ایک دن اپنا ''شیش محل '' بنا ئے گا۔ مگر جام تو ''تکثیریت'' سے ملے گا، جو جتنا تڑپے گا، اتنا حسن محل کا بڑھے گا۔بس درد کی ''شدت' سے بنتے محل کاایک دن'' در ''وا'' ہونا ہے ، عاشق دروازے پر کھڑا ہے ۔۔۔۔ جانے کب وا ہوجائے ، جانے کبھی خامشی کا سکوت ٹوتے ، جانے کب ، جانے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔!!!! جانے کب میخانہ یہ دل بنے گا۔۔۔ جانے کب۔۔۔۔؟؟؟
واہ بہت خوب آپ کی یہ تحریر باقی تحریروں میں سے سب سے زیادہ اچھی لگی ۔۔۔۔!
زبان کی روانی، الفاظ کا چناؤ، بیان کی عمدگی ، منظر کشی سب بہت خوب ہے

اسی پر میرا ایک شعر
وہی سنسان رستے ہیں ، وہی گمنام منزل ہے
چلا تھا جس جگہ سے میں ، اسی رہ پر کھڑا ہوں پھر
 

نور وجدان

لائبریرین
واہ بہت خوب آپ کی یہ تحریر باقی تحریروں میں سے سب سے زیادہ اچھی لگی ۔۔۔۔!
زبان کی روانی، الفاظ کا چناؤ، بیان کی عمدگی ، منظر کشی سب بہت خوب ہے

اسی پر میرا ایک شعر
وہی سنسان رستے ہیں ، وہی گمنام منزل ہے
چلا تھا جس جگہ سے میں ، اسی رہ پر کھڑا ہوں پھر
سب سے پہلے تو شکریہ کہ آپ نے تحریر پڑھ کر اتنا اچھا سا تبصرہ کر دیا۔۔۔۔ اس بات کو ماننے سے انکار کہاں کیا جاسکتا ہے کہ اگر تحریر قاری کو اچھے لگی تو لکھنے والے کو خوشی محسوس ہوتی ہے ۔ مجھے اس کو ماننے میں کوئی تامل نہیں ہے ۔ اس لیے اچھا لگا ۔اس سے زیادہ اچھا وہ شعر لگا جو آپ نے دیا ہے ۔۔۔ ''ہم منزل سمجھ بیٹھے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ، وہ منزل نہیں ہیں ''
 
آخری تدوین:
Top