جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی ۔۔۔۔۔عبدالعزیز راقم

راقم

محفلین
اساتیذِ محترم، السلام علیکم!
چند دن پہلے کہی گئی ایک غزل پوسٹ مارٹم کی خواہش مند ہے:

جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی

خون مسلم کا ارزاں ہوا اس قدر
اس کی سرخی ہر اک چیز میں آ گئی

ہو گیا بھائی بھائی کا دشمن یہاں
دَورِ ظلمت میں ایسی ہوا آگئی

بھوکے بچے بھی مارے ہیں جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی

کیسے مِٹ پائے گی یہ زمیں کی ہوس
جانے کتنے زمیں یہ بشر کھا گئی

جا چھپے ہیں وہ ماؤں کی آغوش میں
خوف سے بچوں میں یہ ادا آ گئی

ہوں گے راقم یہاں پھر اجالے کبھی؟
سوچ کر روح میری یہ تھرا گئی
 

مغزل

محفلین
رسید حاضر است ، راقم صاحب ، پہلی قراءت میں غزل اپنا تاثر خوب دیتی ہے ، وزن کا مسئلہ کوئی نہیں ، ہاں کہیں کہیں حشو وزوائد غزل کے تاثر کو کم کرنے پر کمربستہ دکھائی دیتے ہیں ان سے جان چھڑائی جاسکتی ہے ، ایک جگہ زبان کا بیان غزل کے چاند کو گہنارہا ہے اسے دور کیا جائے تو غزل اپنی چھب دکھا کر کسی کا بھی دل موہ سکتی ہے ، صراحت اور جراحت دو مختلف عمل ہیں ، آپ پورسٹ مارٹم کا لفظ نہ لکھا کیجے ہمیں شرمندگی ہوتی ہے ، امید ہے بندگانِ غزل کو یہ غزل اپنی جانب مائل کرلے گی ۔ غزل پر مبارکباد، گر قبول افتد زہے عز و شرف۔ والسلام
 

الف عین

لائبریرین
محمود، پوسٹ مارٹم میرے ہی الفاظ ہیں، مذاق میں بولتا ہوں اصلاح کے لئے، کیونکہ تصدیق یافتہ استادِ سخن نہیں ہوں نا!!
جیسا محمود (مغل)نے لکھا ہے، کچھ حچشو و زوائد ہیں، ان کی نشان دہی کر دیتا ہوں جو مجھ کو محسوس ہوئے ہیں، اور کچھ باقی ہوں تو محمود مغل متوجہ ہوں۔

جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی
دونوں مصرع کچھ الگ الگ نہیں لگ رہے (جسے دو لخت کہتے ہیں
دوسرے مصرع میں ایطاا کا احتمال ہے، کھا اور چھا کے ساتھ بھا، تھا قوافی ہو سکتے ہلیں۔ لیکن وہ یہاں نہیں ہیں۔ ویسے یہ ایطائے خفی میں آئے گا، جلی نہیں۔ وارث کا خیال جاننا چاہوں گا۔

خون مسلم کا ارزاں ہوا اس قدر
اس کی سرخی ہر اک چیز میں آ گئی
پہلا مصرع زیادہ رواں ہو سکتا ہے محض ترتیب بدلنے سے
خون مسلم کا اس درجہ ارزاں ہوا
یا
اس قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
دوسرے مصرع میں بھی ’ہر اک چیز‘ اچھا نہیں لگ رہا، کچھ اور سوچیں۔

ہو گیا بھائی بھائی کا دشمن یہاں
دَورِ ظلمت میں ایسی ہوا آگئی
دورِ ظلمت کا ہوا سے تعلق؟

بھوکے بچے بھی مارے ہیں جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی
درست تو ہے، بہتری کی گنجائش ہے۔

کیسے مِٹ پائے گی یہ زمیں کی ہوس
جانے کتنے زمیں یہ بشر کھا گئی
دوسرا مصرع الٹے معانی دے رہا ہے، ظاہرا مراد یہ ہے کہ بشر نے زمیں کو کھا لیا،
یوں ہو سکتا ہے
جانے کتنے بشر یہ زمیں کھا گئی
اگرچہ اس میں بھی ’یہ‘ بھرتی کا ہے۔

جا چھپے ہیں وہ ماؤں کی آغوش میں
خوف سے بچوں میں یہ ادا آ گئی
ادا تو مثبت معنوں میں‌لیا جاتا ہے، وہ خوف سے کیوں؟ اس کے علاوہ ’بچوں‘ میں واؤ کا گرنا بھی مستحسن نہیں۔ آغوش کی جگہ گود آ سکے تو بہتر ہو۔ اور وہ بھی جمع میں ’ماؤں کوگودوں‘ یا محض ’ماں کی گود‘۔

ہوں گے راقم یہاں پھر اجالے کبھی؟
سوچ کر روح میری یہ تھرا گئی
پہلا مصرع تمنائی ہے ہا شکیہ؟ دوسرے مصرع سے ظاہر ہے کہ مطلب ہے کہ یہاں اجالے کبھی نہیں ہوں گے۔ اسی قسم کا مصرع کہیں۔
 

راقم

محفلین
غزل " جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی " میں کی گئی ترامیم

السلام علیکم، استاذِ محترم!
کچھ ترامیم کرنے کے بعد غزل ارسال ہے، رہنمائی/ اصلاح مطلوب ہے۔
مطلع کا دوسرا مصرع فی الحال سمجھ میں نہیں آ رہا ہے، پھر کوشش کروں گا۔ اگر کچھ اشارہ دے دیں تو شاید جلد ہی کچھ ممکن ہو سکے بصورتِ دیگر انتظار ہی کرنا پڑے گا۔

جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی

اس قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
اس کی سرخی گلستان تک آ گئی

مار ڈالے ہیں بچے بھی جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی

کب مٹےگی بھلا یہ زمیں کی ہوس
جانے کتنے بشر اب تلک کھا گئی

بچے چھپتے پھریں ماں کی آغوش میں
خوف کی ایک بَدلی ہر طرف چھا گئی

چار سُو پھیلی تاریکی راقم یہاں
"چاند" سے اس وطن کو بھی گہنا گئی
 

الف عین

لائبریرین
مطلع کا بعد میں سوچا جائے گا۔
س قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
اس کی سرخی گلستان تک آ گئی
گلستان‘ سے زیادہ ’گلستاں‘ رواں اور فصیح ہے۔ اس لئے
اس کی سرخی گلستاں تلک آ گئی
کیا جا سکتا ہے

کب مٹےگی بھلا یہ زمیں کی ہوس
جانے کتنے بشر اب تلک کھا گئی
کو

کب مٹےگی بھلا اس زمیں کی ہوس
سے مطلب زیادہ واضح ہو سکتا ہے۔

جانے کتنے بشر اب تلک کھا گئی
میں اب بھی بہتری کی گنجائش ہے

خوف کی ایک بَدلی ہر طرف چھا گئی
تو بحر سے خارج ہو گیا، کیا ٹائپو ہے؟

چار سُو پھیلی تاریکی راقم یہاں
"چاند" سے اس وطن کو بھی گہنا گئی
یہ شعر مجھ کو اب بھی اچھا نہیں لگ رہا۔ ویسے عروض کے لحاظ سے درست ہے۔
 

راقم

محفلین
کل پھر اس غزل پر سوچوں گا

استاذِ محترم، السلام علیکم!
رہنمائی کے لیے شکر گزار ہوں۔ کل اس غزل کو بہتر بنانے کی پھر کوشش کروں گا۔
والسلام
 

راقم

محفلین
ترامیم کے بعد غزل

استاذِ محترم، السلام علیکم!
غزل میں کچھ تبدیلیاں کر کے دوبارہ پوسٹ کر رہا ہوں۔ مطلع حذف کیا جا سکتا ہے۔ بغیر مطلع کے ہی فی الحال ٹھیک ہے۔
ملاظہ فرما لیجیے:

جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی


اس قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
اس کی رنگت گلستان میں آ گئی

"گلستان" کو "گلستاں" کرنے سے یہ مصرع بے وزن نہیں ہو جائے گا، کیوں کہ نون غنہ تو تقطیع میں شمار نہیں ہوتا؟

مار ڈالے ہیں بچے بھی جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی

کب مٹےگی بھلا اس زمیں کی ہوس
کتنے چھوٹے بڑے اب تلک کھا گئی

بچے چھپتے پھریں ماں کی آغوش میں
ان پہ اب ہر گھڑی خوف کی آ گئی

ہو رہا ہے یہاں خون انصاف کا
ظلم کی ایک کالی گھٹا چھا گئی

پوچھ لیتے ہیں راقم ہمیں بھی کبھی
ان کی عادت یہی تو ہمیں بھا گئی
 

الف عین

لائبریرین
’گلستان‘ پر اعتراض کیا تھا کہ وہ مکمل اچھا نہیں لگ رہا ہے، گلستاں محاورے میں آتا ہے۔ یہ کہا تھا ، یہ نہیں کہ گلستاں ’وزن‘ میں آتا ہے۔ دوسرا مصرع درست کیا جا سکتا ہے، مثلاّ
اس کی سرخی چمن در چمن آ گئی
یا
اس کی رنگت چمن در چمن آ گئی

بچے چھپتے پھریں ماں کی آغوش میں
ان پہ اب ہر گھڑی خوف کی آ گئی
دونوں مصرعوں میں کسی لفظ کی کمی کا احساس ہوتا ہے۔ خاص کر دوسرے مصرع میں مغاورے کا استعمال بھی درست نہیں لگ رہا، خوف کی گھڑی آتی ہے درست ہے، لیکن وہ ’ہر‘ گھڑی کس طرح ہو سکتی ہے۔
پوچھ لیتے ہیں راقم ہمیں بھی کبھی
ان کی عادت یہی تو ہمیں بھا گئی
’عادت یہی تو‘ رواں بھی نہیں ہے، اور محاورہ بھی ’یہی عادت‘ ہے۔ ’عادت‘ کی جگہ ’ادا‘ بھی لایا جا سکتا ہے، کچھ سوچو اس سلسلے میں۔
 

راقم

محفلین
غزل نئی ترامیم کے ساتھ

السلام علیکم، استاذ محترم!
آپ کے حکم کے مطابق کچھ ترامیم کی ہیں، دیکھ کر بتائیے کہ کچھ بہتری ہوئی ہے کہ نہیں؟ شکریہ
والسلام

جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی


اس قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
اس کی رنگت چمن در چمن میں آ گئی

مار ڈالے ہیں بچے بھی جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی

کب مٹےگی بھلا اس زمیں کی ہوس
کتنے چھوٹے بڑے اب تلک کھا گئی

بچے چھپتے پھریں ماں کی آغوش میں
خوف کی ان پہ ایسی گھڑی آ گئی

چار سُو پھیلی راقم یہ آلودگی
چاند سے اس وطن کو بھی گہنا گئی

ہو رہا ہے یہاں خون انصاف کا
ظلم کی ایک کالی گھٹا چھا گئی

پوچھ لیتے ہیں راقم ہمیں بھی کبھی
ان کی اک یہ ادا ہی ہمیں بھا گئی
(یا )
بس یہی اک ادا تو ہمیں بھا گئی
 

الف عین

لائبریرین
س کی رنگت چمن در چمن میں آ گئی

تو بحر سے خارج ہے، محض چمن در چمن میں کافی ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں بات کے نا مکمل ہونے کا احساس ہو۔ باقی ترمیمات اچھی ہیں۔
ان کی اک یہ ادا ہی ہمیں بھا گئی
(یا )
بس یہی اک ادا تو ہمیں بھا گئی
میں ’ہی‘ اور ’تو‘ کچھ بھرتی کے لگ رہے ہیں۔ کچھ اور سوچیں۔
کیا یوں بہتر ہو گا۔۔
آپ کی بس یہی اک ادا بھا گئی
 

راقم

محفلین
بہت بہت شکریہ، استاذ محترم

س کی رنگت چمن در چمن میں آ گئی

تو بحر سے خارج ہے، محض چمن در چمن میں کافی ہے۔ ممکن ہے کہ اس میں بات کے نا مکمل ہونے کا احساس ہو۔ باقی ترمیمات اچھی ہیں۔
ان کی اک یہ ادا ہی ہمیں بھا گئی
(یا )
بس یہی اک ادا تو ہمیں بھا گئی
میں ’ہی‘ اور ’تو‘ کچھ بھرتی کے لگ رہے ہیں۔ کچھ اور سوچیں۔
کیا یوں بہتر ہو گا۔۔
آپ کی بس یہی اک ادا بھا گئی

السلام علیکم، استاذ محترم!
"چمن در چمن میں" لفظ 'میں' ٹائپ میں غلطی کی وجہ سے آ گیا تھا۔ 'در' اور 'میں' تو مترادف الفاظ ہیں۔
"آپ کی بس یہی اک ادا بھا گئی"، آپ نے واقعی بہت اچھی ترمیم فرمائی ہے۔ استاذ بھی واقعی استاذ ہی ہوتے ہیں۔ اس کے لیے کچھ اور بھی شکریہ۔
1۔ ایک مسئلہ اور ہو گیا ہے، وہ یہ کہ دو اشعار میں تخلص کا استعمال ہو گیا ہے، جس کی طرف میں نے پہلے توجہ نہیں دی اور شاید آپ کی نظر میں بھی یہ نہیں آ سکا۔ اس کا کوئی حل تجویز فرما دیجیے۔ کیا ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟
اگر جائز نہ ہو تو ایک شعر "راقم" کی بجائے کوئی اور لفظ استعمال کر لیا جائے۔
2۔ مطلع کو غزل میں سے نکال ہی دوں؟


جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی


اس قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
اس کی رنگت چمن در چمن آ گئی

مار ڈالے ہیں بچے بھی جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی

کب مٹےگی بھلا اس زمیں کی ہوس
کتنے چھوٹے بڑے اب تلک کھا گئی

بچے چھپتے پھریں ماں کی آغوش میں
خوف کی ان پہ ایسی گھڑی آ گئی

چار سُو پھیلی راقم یہ آلودگی
چاند سے اس وطن کو بھی گہنا گئی

ہو رہا ہے یہاں خون انصاف کا
ظلم کی ایک کالی گھٹا چھا گئی

پوچھ لیتے ہیں راقم ہمیں بھی کبھی
آپ کی بس یہی اک ادا بھا گئی
 

الف عین

لائبریرین
مطلع
جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی
مایوس نہ ہوں، کچھ بہتر صورت بعد میں نکل سکتی ہے، فی الحال کولڈ سٹوریج میں ڈال دیں۔
مقطع کا دوہرایا جانا میں نے بھی نہیں دیکھا تھا، میرے خیال میں ’گہنا گئی‘ والا مقطع نکال ہی دیں۔
 

راقم

محفلین
جی استاذِ محترم! بالکل بجا ارشاد فرمایا

مطلع
جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی
مایوس نہ ہوں، کچھ بہتر صورت بعد میں نکل سکتی ہے، فی الحال کولڈ سٹوریج میں ڈال دیں۔
مقطع کا دوہرایا جانا میں نے بھی نہیں دیکھا تھا، میرے خیال میں ’گہنا گئی‘ والا مقطع نکال ہی دیں۔

اس قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
اس کی رنگت چمن در چمن آ گئی

مار ڈالے ہیں بچے بھی جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی

کب مٹےگی بھلا اس زمیں کی ہوس
کتنے چھوٹے بڑے اب تلک کھا گئی

بچے چھپتے پھریں ماں کی آغوش میں
خوف کی ان پہ ایسی گھڑی آ گئی

ہو رہا ہے یہاں خون انصاف کا
ظلم کی ایک کالی گھٹا چھا گئی

پوچھ لیتے ہیں راقم ہمیں بھی کبھی
آپ کی بس یہی اک ادا بھا گئی
 

راقم

محفلین
جی استاذِ محترم! بالکل بجا ارشاد فرمایا

مطلع
جانے دنیا کو کس کی نظر کھا گئی
ہر طرف جو یہ کالی گھٹا چھا گئی
مایوس نہ ہوں، کچھ بہتر صورت بعد میں نکل سکتی ہے، فی الحال کولڈ سٹوریج میں ڈال دیں۔
مقطع کا دوہرایا جانا میں نے بھی نہیں دیکھا تھا، میرے خیال میں ’گہنا گئی‘ والا مقطع نکال ہی دیں۔

السلام علیکم، استاذِ محترم!
مطلع کو فی الحال سرد خانے میں ڈال دیا ہے۔ اگر کچھ بن گیا تو آپ سے رابطہ کر کے اصلاح لے لوں گا۔
ایک مقطع آپ کے حکم کے مطابق حذف کر کے غزل کی تازہ ترین صورت یہ بنتی ہے:

اس قدر خون مسلم کا ارزاں ہوا
اس کی رنگت چمن در چمن آ گئی

مار ڈالے ہیں بچے بھی جلاد نے
دیکھ کر آدمیت بھی شرما گئی

کب مٹےگی بھلا اس زمیں کی ہوس
کتنے چھوٹے بڑے اب تلک کھا گئی

بچے چھپتے پھریں ماں کی آغوش میں
خوف کی ان پہ ایسی گھڑی آ گئی

ہو رہا ہے یہاں خون انصاف کا
ظلم کی ایک کالی گھٹا چھا گئی

پوچھ لیتے ہیں راقم ہمیں بھی کبھی
آپ کی بس یہی اک ادا بھا گئی
 

خوشی

محفلین
غزل کا پوسٹ مارٹم زیادتی ھے پوسٹ مارٹم تو مردوں کا ہوتا ھے اور غزل زندہ ہوتی ھے کوئی اور لفظ تجویز کریں ،

نٹ بولٹ کس دیں:biggrin:
 
Top