جامعہ زکریا کے سابق لیکچرار کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی

عرفان سعید

محفلین
یقینا اخلاقیات کے منافی ہے لیکن کیا ایسا کرنا جرم ہے؟ مغربی ممالک جیسے ناروے میں تو قرآن پاک کی توہین کرتے ہوئے اسے آگ تک لگا دی گئی ہے۔ اس کے باوجود اسلام مخالف مظاہرین کو کچھ نہیں کہا گیا۔
عمومی طور پر بات کی جائے تو اخلاقیات کے منافی کوئی اقدام جرم کے درجے میں آئے گا یا نہیں، اس کا فیصلہ اس معاشرے کا رائج قانون کرے گا جہاں یہ اقدام سرزد ہوا۔ ایک ہی اقدام ایک معاشرے میں قابلِ قبول، دوسرے میں ناپسندیدہ اور تیسرے میں قابلِ سزا ہو سکتا ہے۔
مروجہ قانون ٹھیک ہے یا نہیں، اس پر بحث ہو سکتی ہے، لیکن اس سے قطع نظر، فیصلہ رائج قانون کے مطابق ہو گا۔
 
عدالت اور استغاثہ وغیرہ کا یہ بھی خیال ہے کہ قرآن کو مقدس کتاب ماننے سے انکار کرنا اور اسے myths کی کتاب کہنا توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو دفعہ 295 کے تحت اکثر مسلمان دوسرے مذاہب کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ تورات و انجیل تحریف کا شکار ہیں

سوال : اگر مغربی ممالک مع امیریکہ ، ایسا قانون بناتے ہیں کہ جو شخص بی بھی ، حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ بلاسفیمی کا مرتکب ہے ، جس کی سزا موت قرار پائے تو کیا اس قسم کے قانون میں مسلمانوں کے نکتہ نظر سے کوئی برائی ہوگی؟
 

سید عمران

محفلین
سوال : اگر مغربی ممالک مع امیریکہ ، ایسا قانون بناتے ہیں کہ جو شخص بی بھی ، حضرت عیسی علیہ السلام کو خدا کا بیٹا ماننے سے انکار کرتا ہے تو وہ بلاسفیمی کا مرتکب ہے ، جس کی سزا موت قرار پائے تو کیا اس قسم کے قانون میں مسلمانوں کے نکتہ نظر سے کوئی برائی ہوگی؟
کسی کو کوئی اعتراض کیوں ہوگا۔ جس کا ملک اس کا قانون۔
اسی طرح اسلامی ممالک کو بھی چاہیے کہ ایسا قانون بنائیں کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے سے انکار کرے وہ بلاسفیمی کا مرتکب ہے، جس کی سزا موت قرار پائے۔ کیا اس قسم کے قانون میں غیر مسلموں کے نکتہ نظر سے کوئی برائی ہوگی؟
 

جاسم محمد

محفلین
کسی کو کوئی اعتراض کیوں ہوگا۔ جس کا ملک اس کا قانون۔
اسی طرح اسلامی ممالک کو بھی چاہیے کہ ایسا قانون بنائیں کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے سے انکار کرے وہ بلاسفیمی کا مرتکب ہے، جس کی سزا موت قرار پائے۔ کیا اس قسم کے قانون میں غیر مسلموں کے نکتہ نظر سے کوئی برائی ہوگی؟
یعنی مذہبی عقائد سے اختلاف رکھنے پر موت کی سزا سنا دی جائے۔ کیا بات ہے
 

سید ذیشان

محفلین
تفصیلی فیصلہ دیکھ کر تو ڈیفینس کا کیس کافی کمزور لگ رہا ہے۔ زیادہ تر ارگیومنٹ سازش کے بارے میں ہیں۔ جس کو ثابت کرنا شائد اتنا آسان کام نہیں۔ دوسری بات یہ کہ، اگر اکاونٹ ہیک ہو گیا تھا تو ملزم کا پاسورڈ کیسے کام کر رہا تھا۔ پھر بھی ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ جس سیمینار میں یہ باتیں کی گئیں اس میں کیا صرف دو لوگ تھے جن کے بیانات لئے گئے ہیں۔ باقی لوگوں کے بیانات کیوں نہیں لئے۔ ایک اور بات یہ کہ کسی اور کی پوسٹ کو اپنے گروپ میں اجازت دینا اور خود پوسٹ کرنے میں کافی فرق ہے۔ ایسا ممکن پے کہ کوئی شخص محض آزادی اظہار کا حامی ہونے کی وجہ سے پوسٹ ڈیلیٹ نہ کرے، لیکن اصل میں اس کے خیالات مختلف ہوں۔ ظاہرا تو جج نے اس قسم کا کوئی امتیاز نہیں برتا، کیونکہ گستاخانہ پوسٹیں کسی اور یوزر کی ہیں جس کا پتہ نہیں چلایا جا سکا۔
 

جاسم محمد

محفلین
اسی طرح اسلامی ممالک کو بھی چاہیے کہ ایسا قانون بنائیں کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے سے انکار کرے وہ بلاسفیمی کا مرتکب ہے
حسب معمول لُچ تلنے کی کوشش۔ اختلاف اور توہین میں فرق ہوتا ہے۔
رسول اللہ کو خاتم النبیین نہ ماننا توہین ہے؟ اس طرح تو تمام پاکستانی قادیانی اس قانون کی زد میں آکر پھانسی چڑھ جائیں گے۔ الٹے سیدھے تبصرے کرنے سے قبل پہلے انہیں اچھی طرح پڑھ لیا کریں۔
 

فرقان احمد

محفلین
رسول اللہ کو خاتم النبیین نہ ماننا توہین ہے؟ اس طرح تو تمام پاکستانی قادیانی اس قانون کی زد میں آکر پھانسی چڑھ جائیں گے۔ الٹے سیدھے تبصرے کرنے سے قبل پہلے انہیں اچھی طرح پڑھ لیا کریں۔
ہماری معاشرتی و مذہبی اقدار میں توہین کا مفہوم کچھ اور ہے، ناروے میں کچھ اور ہو گا۔ یقینی طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننے والا مسلم نہ ہے اور ایسا نظریہ رکھنے والے غیر مسلم افراد یہاں بالعموم امن و سکون سے رہتے ہیں، الا یہ کہ وہ تضحیک آمیز رویہ اپنا لیں۔ مقدس ہستیوں کے نا زیبا خاکے بنائیں۔ یہ تضحیک و توہین قابل گرفت ہے اور ویسے آپ کے علم میں ہونا چاہیے کہ مضحکہ خیز رویے کسی بھی مہذب ملک میں مستحسن تصور نہیں ہوتے ہیں۔ ہم ادب و تہذیب کے دائرے میں رہ کر بھی اپنی بات دوسرے افراد تک پہنچا سکتے ہیں تاہم جب ہم دیگر افراد کے جذبات کو برانگیختہ کر کے انہیں باقاعدہ اشتعال دلانے لگ جائیں تو پھر معاملات بگڑ بھی سکتے ہیں اور کافی خطرناک رُخ اختیار کر سکتے ہیں، جیسا کہ اس کیس میں ہوا۔
 

جاسم محمد

محفلین
یقینی طور پر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین نہ ماننے والا مسلم نہ ہے اور ایسا نظریہ رکھنے والے غیر مسلم افراد یہاں بالعموم امن و سکون سے رہتے ہیں
199173_96102_800_450_jpg.jpg

annual-persecution-of-ahmadis-report-the-state-sanctioned-apartheid-continues-1462902872-6823.jpg

16661358_303.jpg
 
کسی کو کوئی اعتراض کیوں ہوگا۔ جس کا ملک اس کا قانون۔
اسی طرح اسلامی ممالک کو بھی چاہیے کہ ایسا قانون بنائیں کہ جو شخص حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خاتم النبیین ماننے سے انکار کرے وہ بلاسفیمی کا مرتکب ہے، جس کی سزا موت قرار پائے۔ کیا اس قسم کے قانون میں غیر مسلموں کے نکتہ نظر سے کوئی برائی ہوگی؟

یہ قانون تو پہلے سے موجود ہے۔ اسی کے تحت سزا دی گئی ہے۔ دور جاہلیت میں ایسا ہی ہوتا تھا۔ نبی اکرم صلعم نے اسی ریت کو بدلا کہ کسی بھی برے سلوک پر اف تک نا کی۔

دوسرا سوال: اس شخص کو حضرت زینب اور رسول اکرم کے توہین میز واقعے کا تذکرہ کس توہین آمیز کتاب میں ملا؟ جب عدالت نے فیصلہ دے دیا کہ اس واقعہ کا تذکرہ کرنا رسول اکرم کی توہین ہے تو ان جملہ کتب پر پابندی کب لگائی جائے گی جن کتب میں یہ واقعہ اور اسی قسم کے دوسرے توہین آمیز واقعات موجود ہیں؟
 
آخری تدوین:
حسب معمول لُچ تلنے کی کوشش۔ اختلاف اور توہین میں فرق ہوتا ہے۔

اپ نے درست فرمایا کہ یہ معاملہ توہین کا ہے۔ تو میرا سوال اوپر دیکھ لیجئے اور جواب دیجئے کہ اس توہین آمیز واقعے کا اصل سورس کونسی کتب ہیں؟ اور کیا وجہ ہے کہ جب عدالت نے اس واقعے کو توہین آمیز قرار دے دیا تو پھر ان کتب پر پابندی کیوں نہیں؟
 

سید عمران

محفلین
رسول اللہ کو خاتم النبیین نہ ماننا توہین ہے؟ اس طرح تو تمام پاکستانی قادیانی اس قانون کی زد میں آکر پھانسی چڑھ جائیں گے۔ الٹے سیدھے تبصرے کرنے سے قبل پہلے انہیں اچھی طرح پڑھ لیا کریں۔
ہم نے جس مراسلے کا اقتباس لے کر یہ بات کی اس مراسلہ پر کوئی تبصرہ؟؟؟
 
تیسرا سوال، سوال پوچھنے سے توہین کس طور ممکن ہے۔ پھر تین سوالات کا ڈاکومینٹ، خود عدالت کے مطابق، اس شخص کے کمپیوٹر میں موجود نہیں تھا۔ تو یہ جرم اس شخص کا کس طور قرار پایا؟
 

جاسم محمد

محفلین
ہم نے جس مراسلے کا اقتباس لے کر یہ بات کی اس مراسلہ پر کوئی تبصرہ؟؟؟
فاروق سرور خان نے ایک فرضی بات کہی تھی کہ اگر یورپی اقوام ایسا کرتی ہیں تو مسلم ممالک کا کیا ردعمل ہوگا۔ بجائے اس قانون کو خلاف انسانیت کہنے کے آپ الٹا پاکستان میں اس قسم کا متنازعہ قانون لانے کے حامی نکلے۔
 

سید عمران

محفلین
فاروق سرور خان نے ایک فرضی بات کہی تھی کہ اگر یورپی اقوام ایسا کرتی ہیں تو مسلم ممالک کا کیا ردعمل ہوگا۔ بجائے اس قانون کو خلاف انسانیت کہنے کے آپ الٹا پاکستان میں اس قسم کا متنازعہ قانون لانے کے حامی نکلے۔
ہم نے بھی وہی الفاظ استعمال کیے جو فاروق صاحب نے کیے تھے۔۔۔
شاید تعصبی عینک اسی کو کہتے ہیں۔۔۔
ایک جیسے الفاظ دو جیسے معنی!!!
 
تیسرا سوال، سوال پوچھنے سے توہین کس طور ممکن ہے۔ پھر تین سوالات کا ڈاکومینٹ، خود عدالت کے مطابق، اس شخص کے کمپیوٹر میں موجود نہیں تھا۔ تو یہ جرم اس شخص کا کس طور قرار پایا؟
سوال پوچھنے کے طریقے پہ منحصر ہے۔ عدالت میں بہت مرتبہ جج سوالات کے الفاظ یا نوعیت کو تبدیل کرنے کا کہتے ہیں۔ بہت سے سوال، جاننے کیلئے کئے ہی نہیں جاتے۔
بظاہر لگتا ہے کہ اس شخص کو بہت مرتبہ سمجھایا گیا اور موقع دیا گیا کہ اپنے رویہ سے رجوع کر لے۔ اگر آپ اس قانون سے اختلاف بھی رکھتے ہیں تو اس کو تو پرووکیشن کی سزا بھی ملنی چاہئے۔
 
Top