جامعہ زکریا کے سابق لیکچرار کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی

زیک

مسافر
البتہ قتل ہونے والا وکیل گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے کیس لینے اور انھیں پناہ دینے کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔ اسکا قتل اس کیس کے ساتھ جوڑنا، توہین مذہب کے مجرم کے لیے نرم گوشہ ابھارنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔
Lawyer complains to bar of threats - Newspaper - DAWN.COM
 

زیک

مسافر
جامعہ زکریا میں جمعیت کا ہولڈ نہیں ہے۔
پھر کس اسلامی تنظیم کا ہے؟ جہاں تک یاد پڑتا ہے یہ جامعہ پنجاب یونیورسٹی سے بھی زیادہ رجعت پسند تھی

کیس کا تحریری فیصلہ نامناسب اور توہین آمیز کلمات کی شمولیت کی وجہ سے پبلک نہیں کیا گیا۔
کچھ کانٹ چھانٹ کے ساتھ فیصلہ پبلک ہو سکتا تھا۔ سزائے موت کا فیصلہ پبلک نہ ہونا صحیح نہیں ہے
 
دھمکیاں تو دستاویزی ہو چکی ان سے انکار نہیں۔ قتل کی بابت اشارہ تھا۔
پھر کس اسلامی تنظیم کا ہے؟ جہاں تک یاد پڑتا ہے یہ جامعہ پنجاب یونیورسٹی سے بھی زیادہ رجعت پسند تھی
90 کی دہائی تک اے ٹی آئی کا جنوبی پنجاب کا مضبوط مرکز رہا ہے۔ لیکن گزشتہ دو دہائیوں سے کسی اسلامی یا مذہبی تنظیم کا ہولڈ ٹائپ نہیں۔
 

جاسم محمد

محفلین
اگر ایسا ہوا ہے تو اس لحاظ سے بہت افسوس ناک ہے کہ کسی بھی مذہب کے تقدس کو پامال کرنا بنیادی اخلاقیات کے شدید منافی ہے۔
یقینا اخلاقیات کے منافی ہے لیکن کیا ایسا کرنا جرم ہے؟ مغربی ممالک جیسے ناروے میں تو قرآن پاک کی توہین کرتے ہوئے اسے آگ تک لگا دی گئی ہے۔ اس کے باوجود اسلام مخالف مظاہرین کو کچھ نہیں کہا گیا۔
 

زیک

مسافر
کیس کا تحریری فیصلہ نامناسب اور توہین آمیز کلمات کی شمولیت کی وجہ سے پبلک نہیں کیا گیا۔
https://ia601503.us.archive.org/5/items/thestatevsjunaidhafeez/The State vs Junaid Hafeez.pdf

یہ اصل فیصلہ ہی لگ رہا ہے لیکن سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتا

پورا تو نہیں پڑھا البتہ skim کیا ہے۔ میں وکیل نہیں ہوں لیکن فیصلے میں کئی مسائل واضح ہیں
 

جاسم محمد

محفلین
پورا تو نہیں پڑھا البتہ skim کیا ہے۔ میں وکیل نہیں ہوں لیکن فیصلے میں کئی مسائل واضح ہیں
مثلا کیسے مسائل؟ کیا استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا؟ کیا جج نے فیصلہ سناتے وقت جانبداری سے کام لیا؟
جو توہین آمیزکلمات فیصلہ میں ملزم سے منصوب کئے گئے ہیں اگر وہ صحیح ہیں تو پھر قانون کے مطابق سزا بنتی ہے۔
نوٹ: منفی ریٹنگ دینے سے قبل جان لیں کہ میں اس قانون کے حق میں قطعی نہیں ہوں۔
 

زیک

مسافر
https://ia601503.us.archive.org/5/items/thestatevsjunaidhafeez/The State vs Junaid Hafeez.pdf

یہ اصل فیصلہ ہی لگ رہا ہے لیکن سو فیصد یقین سے نہیں کہہ سکتا

پورا تو نہیں پڑھا البتہ skim کیا ہے۔ میں وکیل نہیں ہوں لیکن فیصلے میں کئی مسائل واضح ہیں
ایسا لگتا ہے کہ اگر محفل پر توہین آمیز مواد کوئی رکن بھی پوسٹ کرے اور ایڈمن اسے حذف نہ کرے اور لائک کر دے تو ایڈمن پر توہین کا مقدمہ بن سکتا ہے۔ اگر پاکستانی قانون کا یہ دعوی ہے تو پھر میرا مشورہ یہی ہو گا کہ محفل اور تمام سوشل میڈیا کو پاکستان اور پاکستانیوں کے لئے بند کر دیا جائے
 

زیک

مسافر
عدالت اور استغاثہ وغیرہ کا یہ بھی خیال ہے کہ قرآن کو مقدس کتاب ماننے سے انکار کرنا اور اسے myths کی کتاب کہنا توہین کے زمرے میں آتا ہے۔ اگر ایسا ہے تو دفعہ 295 کے تحت اکثر مسلمان دوسرے مذاہب کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ تورات و انجیل تحریف کا شکار ہیں
 

جاسم محمد

محفلین
اگر ایسا ہے تو دفعہ 295 کے تحت اکثر مسلمان دوسرے مذاہب کی توہین کے مرتکب ہوتے ہیں جب وہ کہتے ہیں کہ تورات و انجیل تحریف کا شکار ہیں
پاکستانی مسیحیوں کے پاس بہترین موقع ہے کہ اس نکتہ کو عدالت میں اٹھائیں اور اپنے مقدس صحیفہ پر تحریف کا الزام لگانے والے مسلمانوں کو دفعہ 295 کے تحت سزائیں دلوائیں۔ اینج تے فیر اینج سہی!
 
آخری تدوین:

فرقان احمد

محفلین
سرسری طور پر ہی یہ فیصلہ پڑھا جا سکتا ہے اور اس سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ جنید حفیظ نے اپنے خیالات کی ترویج کے لیے صرف انٹرنیٹ کا سہارا نہیں لیا بلکہ اپنے نظریات کی ترویج کے لیے عوامی مقامات کو بھی چُنا۔ کم از کم بنیادی اخلاقیات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ اپنے خیالات و نظریات کو مہذب انداز میں دیگر کے سامنے رکھا جائے۔ تضحیک آمیز رویے کسی بھی معاشرے میں بعینہ قبول نہیں کیے جا سکتے۔ ویسے، یہ بات سچ ہے کہ اس زمانے میں، یعنی 2010 تا 2015 تک، فیس بک پر اسلام کے خلاف توہین آمیز و تضحیک آمیز پوسٹس کی بھرمار ہوتی تھی اور جنید بھی اس رو میں بہہ گیا۔ بعدازاں فیس بک نے اپنی پالیسی کسی حد تک بدلی اور پاکستان میں بھی ایسے افراد کے خلاف کاروائیں کی گئیں۔ ویسے، یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ سپریم کورٹ میں پہنچ کر شاید یہ مقدمہ 'فارغ' ہو جائے گا جس کی وجہ یہ ہے کہ زیادہ تر الزامات فیس بک وغیرہ کے گروپس سے لے کر لگائے گئے ہیں اور یہ ایک کمزور کیس ہے۔ البتہ، جو شہادتیں اور گواہیاں موجود ہیں، ان کی نسبت سے سزا ضرور سنائی جا چکی ہے اور شاید اس میں کچھ کمی ہو جائے۔ ہمیں مستقبل قریب میں، جنید کا ٹھکانہ یورپ کا کوئی ملک دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی ہے کہ نچلی کورٹ ہوش ٹھکانے لگاتی ہے اور اوپری سطح کی کورٹ ٹھور ٹھکانے لگاتی ہے۔
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
یہ تو بات ٹھیک ہے۔ اس لیے ہمارا خیال ہے کہ ایسے تخریبی عناصر کو کچھ پیسہ خرچ کر کے پہلی فرصت میں ایکسپورٹ کر دینا چاہیے۔
اگر یہ قانون کا حصہ بنا دیا گیا تو مجھے ڈر ہے کہ پاکستانی جان بوجھ کر صرف ملک سے فرار ہونے کیلئے جھوٹی موٹی توہین کر دیا کریں گے :)
 

فرقان احمد

محفلین
اگر یہ قانون کا حصہ بنا دیا گیا تو مجھے ڈر ہے کہ پاکستانی جان بوجھ کر صرف ملک سے فرار ہونے کیلئے جھوٹی موٹی توہین کر دیا کریں گے :)
اس مذاق کو سنجیدہ رُخ دینے پر ہم آپ کا ہرگز شکریہ ادا نہ کریں گے۔
 
آخری تدوین:

سید عمران

محفلین
مثلا کیسے مسائل؟ کیا استغاثہ کیس ثابت کرنے میں ناکام رہا؟ کیا جج نے فیصلہ سناتے وقت جانبداری سے کام لیا؟
جو توہین آمیزکلمات فیصلہ میں ملزم سے منصوب کئے گئے ہیں اگر وہ صحیح ہیں تو پھر قانون کے مطابق سزا بنتی ہے۔
نوٹ: منفی ریٹنگ دینے سے قبل جان لیں کہ میں اس قانون کے حق میں قطعی نہیں ہوں۔
اگر آپ کو اس قانون کے مخالفت کا حق حاصل ہے تو دوسروں کو اس قانون کی مخالفت کا حق کیوں نہ حاصل ہو؟؟؟
یقینا اخلاقیات کے منافی ہے لیکن کیا ایسا کرنا جرم ہے؟ مغربی ممالک جیسے ناروے میں تو قرآن پاک کی توہین کرتے ہوئے اسے آگ تک لگا دی گئی ہے۔ اس کے باوجود اسلام مخالف مظاہرین کو کچھ نہیں کہا گیا۔
 

سید عمران

محفلین
پاکستانی مسیحیوں کے پاس بہترین موقع ہے کہ اس نکتہ کو عدالت میں اٹھائیں اور اپنے مقدس صحیفہ پر تحریف کا الزام لگانے والے مسلمانوں کو دفعہ 295 کے تحت سزائیں دلوائیں۔ اینج تے فیر اینج سہی!
تحریف کا الزام ہم کیا لگائیں، یہ تو خود ان کا بالواسطہ ماننا ہے:

کتابِ مقدس یا بائیبل (یونانی τὰ βιβλία) (انگریزی: Bible) یونانی لفظ۔ بمعنی کتب)[2] مسیحیوں کا ایک مذہبی کتب کا مقدس مجموعہ ہے۔ یہ مجموعۂ صحائف مختلف مقامات پر مختلف اوقات میں مختلف مصنفین نے تحریر کیے۔ یہود اور مسیحی بائبل کی کتابوں کو خدائی الہام یا خدا اور انسان کے درمیان رشتے کا ایک مستند ریکارڈ سمجھتے ہیں۔

یہودی بائبل
یہود کے مذہبی ذخیرہ کتب کی بنیاد کتابِ بائبل کا پہلا حصہ ہے۔ جسے پرانا عہد نامہ یا عہدِ عتیق کہا جاتا ہے۔ بائبل کا دوسرا حصہ یعنی نیا عہد نامہ یہودی کتب پر نہیں مسیحی اناجیل اور دیگر مذہبی صحائف پر مشتمل ہے۔ بائبل کا لفظی معنی کتاب مقدس کیا گیا ہے۔ اس کے تراجم دنیا کی بیشتر زبانوں میں ملتے ہیں۔ پرانے عہد نامے کی کتابوں کی ترتیب یہ ہے:
1. تورات جس کا لفظی معنٰی قانون ہے۔ اس میں پانچ کتابیں شامل ہیں:[3] پیدائش، خروج، احبار، گنتی، استثناء۔ ناقدین کے خیال میں یہ تورات اصل تورات نہیں جو کم و بیش چار پانچ بار دنیا سے جل کر اور تباہ و برباد ہو کر ناپید ہو چکی ہے اور یہ بعد کی پیداوار ہے۔ ناقدین کا مزید کہنا ہے کہ عزرا کاہن نے اسے اسیری بابل سے رہائی کے بعد موسٰی سے کافی عرصہ بعد اپنی زبانی یاداشت سے لکھا۔
2. نبییم جس میں بائیس کتابیں شامل ہیں۔ بعض خالص تاریخی اور بعض انبیا کی طرف منسوب ہیں۔ مثلاً یشوع، قضاۃ، سموئیل اول و دوم، سلاطین اول و دوم، تواریخ اول و دوم، یسعیاہ وغیرہ۔
3. کتبیم جس میں بارہ کتابیں شامل ہیں۔ زبور، امثال، ایوب، یرمیاہ، نحمیاہ، دانی ایل، حزقی ایل، نوحہ وغیرہ۔
ان کے علاوہ یہود کی مذہبی کتابوں میں تلمود کا ذکر بار بار آتا ہے۔ یہ روایات، قصص و حکایات، مذہبی احکام، اجتہادات وغیرہ کے مجموعے کا نام ہے۔ جو یہودیوں میں سینہ بسینہ چلا آیا اور دوسری صدی عیسوی میں ایک یہودی عالم یہوداہ ھا ناسی المعروف ربی نے اسے جمع کر ڈالا۔ مشناہ تھا۔ بالفاظ دیگر اسے تورات کی تفسیر کہہ سکتے ہیں۔ اس مجموعے کی مزید تشریح ہوتی رہی اور اُسے جمع کیا گیا تو اس کا نام گمارا رکھا گیا۔ ان دونوں مجموعوں کو تلمود کہا جاتا ہے۔ تلمود کی دو اقسام ہیں ایک شامی جو فلسطین میں تیار ہوا دوسرا بابلی جس کا مواد بزمانہ اسیریِ بابل اکٹھا ہوا۔ یہودیوں میں دونوں معتبر اور مستعمل ہیں۔ مگر اختلاف کے وقت ترجیح شامی کو دیتے ہیں۔

یہ بھی معلوم رہنا لازم ہے کہ پرانے عہد نامے کے دو نسخے ہیں: ایک عبرانی نسخہ جو یہودیوں میں مستعمل اور لائق استناد ہے۔ دوسرا نسخہ یونانی ہے جسے سپتواجنتا کہا جاتا ہے اور مسیحیوں میں معتبر و مستند ہے۔ مسیحیوں کے معتبر نسخے میں بھی پھر ان کے دو بڑے فرقے پروٹسٹنٹ اور کاتھولک کے نزدیک 19 کتب متنازع فیہ ہیں۔ کاتھولک انہیں صحیح مانتے ہیں اور پروٹسٹنٹ جعلی قرار دیتے ہیں۔ جو کتب صرف یونانی نسخے میں زائد ہیں انہیں اپاکرفا کہا جاتا ہے۔ موجودہ بائبل کی کتابوں میں بعض ان کتبِ یہود کا ذکر یا حوالہ موجود ہے جو شامل مجموعہ نہیں ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ کتابیں گم ہو چکی ہیں۔ ان کی تعداد ڈیڑھ درجن تک جا پہنچتی ہے۔ غرض بائبل کی کتب موجودہ و غیر موجودہ کا معاملہ بہت مشکوک ہے۔ رحمت اللہ کیرانوی نے اپنی کتاب ”اظہار الحق“ میں دعویٰ کیا ہے کہ بائبل کی شروع کی پانچ کتب یعنی توارت تحریف اور ترمیم و اضافہ کا شکار ہوئی ہیں اس میں کئی تضاد ہیں۔ رحمت اللہ کیرانوی اظہار الحق میں لکھتے ہیں کہ یہود و مسیحیوں کا ایمان ہے کہ تورات خود موسٰی نے لکھی تو اس میں خود موسٰی کی وفات کا ذکر کیسے ہے اور لکھا ہے کہ آج کے دن تک کوئی ان کی قبر کو نہیں جانتا۔ مصنف کے بقول اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کتاب موسٰی کی وفات کے کافی عرصے بعد مدون ہوئی تھی اور اس کتاب میں بعض ایسے واقعات موجود ہیں جو بعد میں پیش آئے۔
ربط
 

سید عمران

محفلین
نشانیوں والی انجیل یا نشانیوں کی انجیل (انگریزی: Signs Gospel) یا semeia source ایک فرضی انجیل ہے، جو یسوع مسیح کے حالات زندگی پر مشتمل ہے۔ کئی ماہرین علم اس کو یوحنا کی انجیل کی بنیادی دستاویز قرار دیتے ہیں، جو یوحنا نے اپنی انجیل کے لیے بطور ماخذ استعمال کی۔ یہ نظریہ اصول تنقید ماخذ کی بنیاد پر استوار ہے۔ پہلی بار یہ مفروضہ روڈولف بلٹمین کی تفسیر (1941ء) میں اس شائع کیا گیا، جس کے بعد ہی اسے کچھ قبولیت ملی۔
ربط

عہد نامہ جدید میں موجود 4 انجیلوں کو، جنہیں اناجیل متوافقہ کہا جاتا ہے، صرف ان کو ہی مستند اناجیل مانا جاتا ہے اور صرف انہیں ہی حواریوں سے منسوب کیا جاتا ہے، لیکن بہت سے دیگر مسیحی موجود ہیں جو، ان دیگر اناجیل کو مستند مانتے ہیں، عام مسیحی دیگر اناجیل کو ایپو کریفا کتب یا جھوٹی کتب کہتے ہیں اور ان کے ماننے والے مسیحیوں کو بدعتی اور گمراہ قرار دیتے ہیں۔

اناجیل اربعہ:
مرقس کی انجیل
متی کی انجیل
لوقا کی انجیل
یوحنا کی انجیل

اپاکرفا اور جھوٹی اناجیل
غناسطی اناجیل

جزوی طور پر محفوظ اناجیل
نامکمل محفوظ اناجیل
  • حوا کی انجیل – اس کا ذکر صرف ابيفانيوس نے کیا جو تقریباً 440 عیسوی کا ہے، اس نے اس کا ایک مختصر حوالہ دیا ہے۔
  • مانی کی انجیل – تیسری صدی عیسوی – فارس سے منسوب مانی، مانویت کا بانی ہے۔
  • نجات دہندہ کی انجیل (نامعلوم برلن انجیل کے نام سے بھی مشہور) – انتہائی نامکمل 6ویں صدی- جو دوسری صدی کے آخر یا تیسری صدی عیسوی کے شروع کے ایک مسودے کی بنیاد پر ہے۔ ایک مکالمے کی بجائے ایک داستان; کردار ایک بھاری غناسطیت سے بھر پور ہے جو نجات کو ایک خفیہ علم کے حصول سے مشروط کرتا ہے۔
  • قطبی حواریوں کی انجیل – آخر دوسری صدی قبطی زبان میں تحریر – اکثر اس کا ابیونیوں کی انجیل سے اس کا موازنہ کیا جاتا ہے اگرچہ اسے یوحنا کی انجیل کو اناجیل متفقہ کی صورت میں دوبارہ لکھنے کی کوشش کہا جا سکتا ہے۔
نودریافت شدہ
  • مرقس کی خفیہ انجیل – مشکوک: اس کا صرف ایک ماخذ ہے جس وجہ سے اسے جدید جعل سازی قرار دیا جاتا ہے، اس سے پہلے کہ اس کی توثیق کی جا سکتی کہ یہ منظر نامے سے غائب ہو گئی۔
  • انجیل ماتیاس
گم شدہ اناجیل
  • انجیل Cerinthus – ca. 90–120 AD – according to Epiphanius[3] this is a Jewish gospel identical to the انجیل the Ebionites and, apparently, a truncated version of Matthew's Gospel according to the Hebrews.
  • انجیل Apelles – mid-to-late 2nd century; a further edited version of Marcion's edited version of Luke.
  • انجیل ویلنٹائنس
  • انجیل اینکراتیٹس
  • انجیل Andrew – mentioned by only two 5th-century sources (اگستین (ہپو کا) اور Pope Innocent I) who list it as apocryphal.[6]
  • انجیل Barnabas – not to be confused with the 16th century pro-Moslem work of the same name; this work is mentioned only once, in the 5th century Decree of Gelasius which lists it as apocryphal.
  • انجیل Bartholomew – mentioned by only two 5th-century sources which list it as apocryphal.[7]
  • انجیل Hesychius – mentioned only by Jerome and the Decree of Gelasius that list it as apocryphal.[8]
  • انجیل Lucius[8] – mentioned only by Jerome and the Decree of Gelasius that list it as apocryphal.
  • انجیل Merinthus[9] – mentioned only by Epiphanius; probably the انجیل Cerinthus, and the confusion due to a scribal error.
  • An unknown number of other Gnostic gospels not cited by name.[10]
  • انجیل the Adversary of the Law and the Prophets[11]
  • رسولوں کی یادداشتیں – Lost narrative of the life of Jesus, mentioned by جسٹن شہید۔ The passages quoted by Justin may have originated from a gospel harmony of the اناجیل ہمنوا composed by Justin or his school.
ممکنہ طور پر نامعلوم یا کھوئی ہوئی (یا موجودہ) انجیلوں کے ٹکڑے
  • Papyrus Egerton 2 – late 2nd-century manuscript of possibly earlier original; contents parallel John 5:39–47, 10:31–39; Matt 1:40–45, 8:1–4, 22:15–22; Mark 1:40–45, 12:13–17; and Luke 5:12–16, 17:11–14, 20:20–26, but differ textually; also contains incomplete miracle account with no equivalent in canonical Gospels
  • Fayyum Fragment – a fragment of about 100 Greek letters in 3rd century script; the text seems to parallel Mark 14:26–31
  • Oxyrhynchus Papyri – Fragments #1, 654, & 655 appear to be fragments of Thomas; #210 is related to MT 7:17–19 and LK 6:43–44 but not identical to them; #840 contains a short vignette about Jesus and a Pharisee not found in any known gospel, the source text is probably mid 2nd century; #1224 consists of paraphrases of Mark 2:17 and Luke 9:50
  • مسیح کی بیوی کی انجیل – چوتھی صدی کے آس پاس۔
  • Papyrus Berolinensis 11710 – 6th-century Greek fragment, possibly from an apocrpyhal gospel or amulet based on John.
  • Papyrus Cairensis 10735 – 6th–7th century Greek fragment, possibly from a lost gospel, may be a homily or commentary.
  • Papyrus Merton 51 – Fragment from apocryphal gospel or a homily on Luke 6:7.
  • Strasbourg Fragment – Fragment of a lost gospel, probably related to Acts of John۔
وسطی اناجیل
  • ستر کی انجیل – ایک گمشدہ 8ویں –9ویں -صدی کی مانویوں کی تصنیف۔
  • نیکودیمس کی انجیل – ایک اشاعت 10ویں -صدی کی مسیحی عقیدت مندانہ کام۔ بہت سے مختلف نسخوں میں، پہلے حصے 5ویں صدی پر زیادہ انحصار کرتی ہے "اعمال پلاطس (ایکٹ آف پلیٹ)"
  • برنباس کی انجیل – ایک 16ویں -صدی عیسوی کی اناجیل اربعہ کی ہم آہنگی لیے ہوئے، شاید ہسپانوی زبان کی یا ممکنہ طور پر اطالوی میں لکھی گئی۔
جدید اناجیل
ربط
 
Top