جامعہ زکریا کے سابق لیکچرار کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی

جاسم محمد

محفلین
جامعہ زکریا کے سابق لیکچرار کو توہین مذہب کے الزام میں سزائے موت سنا دی گئی
نمائندہ ایکسپریس ایک گھنٹہ پہلے
1925546-Executionphansi-1576994456-802-640x480.JPG

ملزم جنید حفیظ کے خلاف 13 مارچ 2013 میں مذہبی منافرت پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، پولیس تھانہ الپہ ۔ فوٹو: فائل

ملتان: توہین مذہب اور شان خداوندی میں گستاخی کے الزام میں گرفتار جامعہ زکریا کے سابق وزیٹنگ لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت سنا دی گئی۔

ایڈیشنل سیشن جج ملتان کاشف قیوم نے توہین مذہب اور شان خداوندی میں گستاخی کے الزام میں گرفتار جامعہ زکریا کے سابق وزیٹنگ لیکچرار جنید حفیظ کے خلاف محفوظ فیصلہ سنا دیا۔

عدالت نے ملزم جنید حفیظ کو تعزیرات پاکستان کی دفعہ 295 سی میں سزائے موت، 295 بی میں عمر قید اور 295 اے میں 10 سال قید کے ساتھ مجموعی طور پر 6لاکھ روپے جرمانہ ادا کرنے کی سزا کا حکم سنایا ہے جبکہ عدم ادائیگی جرمانہ کی صورت میں مزید 6ماہ قید کا حکم سنایا ہے۔

فاضل عدالت میں پولیس تھانہ الپہ کے مطابق ملزم جنید حفیظ کے خلاف 13 مارچ 2013 میں مذہبی منافرت پھیلانے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔
 

جاسم محمد

محفلین
توہین مذہب کے مقدمے میں سزائے موت پانے والے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کون ہیں؟
عارف شمیم بی بی سی اردو، لندن
  • 22 دسمبر 2019
_110276336_fc769db9-3d5f-43fa-8ba6-5e6e28811840.jpg

پاکستان میں پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کی بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے سابق لیکچرار جنید حفیظ کو پنجاب کی ایک عدالت نے توہین مذہب کے مقدمے میں موت کی سزا سنائی ہے۔

جنید حفیظ کون ہیں؟
جنید حفیط جنوبی پنجاب کے ایک شہر راجن پور میں پیدا ہوئے۔ جنید حفیظ نے ڈیرہ غازی خان ڈویژن میں پری میڈیکل میں ٹاپ کیا اور کنگ ایڈروڈ میڈیکل کالج میں داخلہ لے لیا۔ لیکن ایم بی بی ایس کے پہلے ہی سال کے بعد انھیں احساس ہوا کہ ان کا دل طب کی کتابوں میں نہیں بلکہ لٹریچر کی رومانیت میں ہے۔

انھوں نے سنہ 2006 میں میڈیکل کی تعلیم چھوڑ دی اور بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی میں انگلش لٹریچر کے شعبہ میں داخلہ لے لیا۔ ان کے تعلیمی کیریر میں حاصل کردہ اچھے نمبروں کی وجہ سے انھیں فل برائٹ سکالرشپ پروگرام کے لیے منتخب کیا گیا اور وہ امریکہ میں اپنی ماسٹرز کی ڈگری مکمل کرنے چلے گئے۔

انھوں نے جیکسن سٹیٹ یونیورسٹی سے امریکی لٹریچر، فوٹوگرافی اور تھیئٹر میں تعلیم حاصل کی اور پھر واپس پاکستان آ گئے۔

سنہ 2011 میں انھوں نے بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی کے انگلش ڈیپارٹمنٹ میں بطور وزیٹنگ لیکچرار اپنی خدمات انجام دینا شروع کر دیں اور ساتھ ہی اپنی ایم فل کی ڈگری کے لیے پڑھائی کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

ان کا تھسیز یعنی مکالہ ’این ایتھنوگرافک سٹڈی آف میسکولینیٹی ان پوپولر سنیما ان ملتان‘ یعنی ’ملتان کے مقبول سنیما میں مردانگی سے متعلق نسلی جغرافیے کا ایک جائزہ‘ تھا۔

برطانوی نژاد پاکستانی اور جنید حفیظ کیس
جنید حفیظ پر یہ بھی الزام ہے کہ وہ لبرل خیالات کے لوگوں کو یونیورسٹی میں بلا کر مذہبی منافرت کے مرتکب ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک واقعہ پاکستانی نژاد برطانوی مصنفہ قیصرہ شاہراز کے بہاؤ الدین یونیورسٹی میں بلائے جانے کا ہے۔

قیصرہ کو یونیورسٹی کی ایک تقریب میں بلایا گیا جسے منعقد کرنے والوں میں جنید حفیظ بھی شامل تھے۔ اس تقریب کی اجازت وائس چانسلر سے لی گئی تھی اور اس سے شعبہ انگلش لٹریچر کی سربراہ شیریں زبیر سمیت مختلف لوگوں نے خطاب کیا جن میں قیصرہ شاہراز بھی بطور مہمان سپیکر شامل تھیں۔ اس کے بعد میں کچھ لوگوں نے الزام لگایا کہ اس میں حفیظ نے ایسے کلمات کہے ہیں جن سے مذہب کی دل آزاری ہوتی ہے۔

13 مارچ 2013 کو جنید کو توہینِ مذہب کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا جبکہ شعبۂ انگلش کی سربراہ شیریں زبیر ملک چھوڑ کر چلی گئیں۔

سوشل میڈیا پر دل آزاری
جنید حفیظ پر سوشل میڈیا پر مذہبی دل آزاری پر مبنی تبصرہ کرنے کا مقدمہ 13 مارچ 2013 میں درج کیا گیا تھا۔ سکیورٹی خدشات کے باعث اپریل 2014 کو کیس کی سماعت سینٹرل جیل میں کرنے کی ہدایات جاری ہوئیں۔

مقدمے کا آغاز سنہ 2014 میں ہوا جبکہ استغاثہ نے اس میں تیرہ شہادتیں دی تھیں۔ جس میں یونیورسٹی کے دیگر استاد، طالب علم اور پولیس کی شہادتیں بھی شامل ہیں۔

جنید پر الزام ہے کہ انھوں نے بعض لوگوں کے ساتھ مل کر ’نام نہاد لبرلز آف پاکستان‘ نامی ایک فیس بک صفحہ بنایا تھا جس پر انھوں نے ’ملا منافق‘ نامی ایک یوزر کے مذہبی شخصیات کے متعلق نازیبہ کمنٹس (تبصرے) کو نہ صرف ڈلیٹ نہیں کیا بلکہ ’لائک‘ بھی کیا تھا۔

پولیس نے اپنی تحقیقات کے دوران اس صفحے کو ایک بڑی شہادت بنایا اور اسی بنیاد پر جیند حفیظ کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی کمپیوٹر کی بھی چھان بین کی گئی۔

’ملا منافق‘ کی پوسٹ 10 فروری 2013 کو لگائی گئی لیکن اس پر احتجاج 13 مارچ کو شروع ہوا۔

اب یہ صفحہ اور پوسٹ فیس بک پر نہیں ہیں۔

_110111286_rashid.jpg

Image captionوکیل صفائی راشد رحمان کو سات مئی 2014 کو ملتان میں ان کے چیمبر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا تھا

جنید حفیظ کے وکیل

جنید حفیظ کے پہلے وکیل تو شروع ہی میں کیس چھوڑ گئے لیکن اس کے بعد ایک اور وکیل اور ملتان میں انسانی حقوق کے کارکن راشد رحمٰن نے ان کا مقدمہ لڑنے کا فیصلہ کیا۔

راشد رحمان کو مئی 2014 میں ان کے دفتر میں گولیاں مار کر ہلاک کر دیا گیا۔

ستمبر 2014 میں جنید حفیظ کی طرف سے ایک پیٹیشن دائر کی گئی کہ ان کی جان کو خطرے کی بنا پر ان کا مقدمہ ملتان کی بجائے لاہور بھیجا جائے۔ لیکن ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے اسے مسترد کر دیا۔

انتہائی حساس حالات کی وجہ سے اس مقدمے کا ٹرائل ملتان سنٹرل جیل میں ہوا اور ان کے نئے وکیل کو ہر پیشی پر وہیں جانا پڑتا۔ اس مقدمے کا فیصلہ بھی ملتان جیل میں ہی سنایا گیا۔

جنید حفیظ کی سزا
پاکستان میں پنجاب کے جنوبی شہر ملتان کی بہاؤ الدین ذکریا یونیورسٹی کے لیکچرار جنید حفیظ کے خلاف توہین مذہب کے مقدمے کا محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے انھیں سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کاشف قیوم نے سنیچر کو سنٹرل جیل ملتان میں اس مقدمے کے فیصلے میں جیند حفیظ کو دفعہ 295 اے، بی اور سی کا مرتکب قرار دیتے ہوئے پھانسی کی سزا، عمر قید، دس سال قید اور پانچ لاکھ روپے جرمانہ کی سزا سنائی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’جیند حفیظ کی تینوں سزاؤں پر عملدرآمد ایک ساتھ شروع ہو گا۔ جس میں عمر قید اور قید کی سزا پوری ہونے پر پھانسی کی سزا دی جائے گی۔‘
 

جاسم محمد

محفلین
جنید حفیظ کو سزا: انصاف ممکن نہیں تھا
22/12/2019 سید مجاہد علی 1


ملتان کے ایڈیشنل سیشن جج حافظ کاشف قیوم نے توہین مذہب کیس میں بہاؤالدین ذکریا یونیورسٹی کےسابق لیکچرار جنید حفیظ کو سزائے موت کا حکم دیا ہے۔ انہیں توہین مذہب کے قانون 295 کی شقات اے، بی اور سی کا مجرم قرار دیتے ہوئے عمر قید، دس سال قید بامشقت اور پانچ لاکھ جرمانہ کی سزا کاحکم بھی دیا گیا ہے۔

پاکستان میں توہین مذہب کا معاملہ اتنا حساس اور سنگین بنادیا گیا ہے کہ یہ بات طے ہو چکی ہے کہ ملکی عدالتی نظام میں کوئی زیریں عدالت کسی بھی ایسے شخص کو بری کرنے کا حوصلہ نہیں کر سکتی جس پر بدقسمتی سے توہین مذہب کا الزام عائد کردیا جائے۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اگر کوئی ملزم گروہی“انصاف” سے بچ کر عدالت کے روبرو اپنی بے گناہی کی دہائی دینے کے لئے زندہ بچ جاتا ہے تو اسے“خوش نصیب” ہی کہا جائے گا۔ مذہبی انتہاپسندی اور جذباتی گمرہی کی ایک ایسی فضا ملک میں قائم ہو چکی ہے کہ الزام لگنے کے بعد متعلقہ شخص کسی دلیل اور ثبوت کے بغیر گناہ گار اور سزائے موت کا مستحق قرار دیا جاتا ہے۔ ایسے متعدد معاملات کا حوالہ موجود ہے جب کسی ملزم کو یا تو ہجوم نے مار دیا یا اسے پولیس کی حراست یا جیل میں قتل کردیا گیا۔ جنید حفیظ بھی شاید اسی لئے زندہ ہیں کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا تھا۔ گو کہ قید تنہائی کے نفسیاتی اور ذہنی اثرات کا اندازہ کرنا آسان نہیں ہے لیکن توہین مذہب کے الزام میں قید کسی شخص کی “حفاظت” کا شاید یہی واحد طریقہ باقی بچا ہے۔ ورنہ جیل میں سنگین اخلاقی اور دیگر فوجداری مقدمات میں قید لوگوں کا جذبہ ایمانی بھی اس قدر توانا ہوتا ہے کہ وہ توہین مذہب کے کسی ملزم کی زندگی لینا عین باعث رحمت سمجھتے ہیں۔ ایسے کسی موقع پر جیل حکام اور عملہ کی دینداری اور ایمان ان کی دنیاوی ذمہ داری پر حاوی ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے توہین مذہب قوانین متعصبانہ اور بنیادی انسانی اصولوں سے متصادم ہیں۔ ملک کے فوجی آمر ضیا الحق نے اپنی سیاسی ضرورتوں کے لئے ان قوانین میں ترمیم کی تھی۔ اس کے بعد کوئی سیاسی حکومت ملک میں پیدا کئے گئے ہیجان اور اضطرار کی وجہ سے ان قوانین میں کوئی رد و بدل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ اسی طرح ملک کی اعلی ترین عدالتوں نے اگرچہ عالمی دباؤ اور سنگین ناانصافی کے الزام سے بچنے کے لئے بعض معاملات میں ملزموں کو بری ضرور کیا ہے لیکن اعلی عدلیہ بھی ان قوانین کے حوالے سے کوئی ایسی رولنگ دینے میں کامیاب نہیں ہوسکی کہ توہین مذہب کےالزام میں گرفتار ہونے والوں کے لئے زیریں عدالتیں بھی انصاف کے تقاضے پورے کر سکیں اورایسے بدنصیبوں کو مقدمہ کے انتظار میں برس ہا برس تک جیل میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

سپریم کورٹ نے موت کی سزا پانے والی عیسائی خاتون آسیہ بی بی کو گزشتہ برس بری کیا تھا اور ناقص شہادتوں اور استغاثہ کی کوتاہیوں کی نشاندہی کی تھی لیکن کوئی سیشن جج یہ حوصلہ نہیں کرسکتا کیوں کہ سخت ترین سزا دیے بغیر اس کی اپنی جان کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔ جنید حفیظ کے پہلے وکیل دفاع راشد رحمان کو اپریل 2014 میں مقدمہ کی سماعت کے دوران تین افراد نے دھمکی دی کہ اگر وہ اس مقدمہ سے دست بردار نہ ہوئے تو وہ اگلی سماعت تک زندہ نہیں بچیں گے۔ راشد رحمان نے جج کی توجہ اس دھمکی کی طرف مبذول کروائی لیکن عقلمند منصف نے خاموشی اختیار کرنا مناسب سمجھا۔ راشد رحمان کو 7 مئی 2014 کو ان کے دفتر میں قتل کردیا گیا۔ تاہم ملک کا نظام عدل نہ ان کےقاتلوں کو گرفتار کرسکا، نہ ان افراد سے بازپرس ہو سکی جنہوں نے عدالت میں راشد رحمان کو دھمکیدی تھی اور نہ ہی اس جج سے جواب طلب کیا گیا کہ اس نے کس طرح اپنی عدالت میں قتل کی دھمکی دینے والوں کو نظرانداز کیا۔ اس صورت حال میں جنید حفیظ انصاف کی امید کیسے کر سکتا تھا۔

اس کے بعد سے اس مقدمہ میں 9 جج تبدیل ہوئے اور دو وکلائے صفائی نے دھمکیوں کے بعد مقدمہ سے دست بردار ہونے کا اعلان کر دیا۔ عالمی دباؤ اور ہیومن رائٹس کمیشن کی مسلسل کوششوں کے بعد اس مقدمہ کی عجلت میں سماعت مکمل کر کے ایک ایسے الزام میں سزا دی گئی ہے جس کے گواہ صرف سرکاری اہلکار ہیں۔ جنید حفیظ پر سب سے پہلے یونیورسٹی طلبہ کے ایک گروہ نے الزام لگایا تاہم بعد میں کہا گیا کہ انہوں نے فیس بک پر نازیبا کلمات لکھے تھے اور اب سزا دیتے ہوئے استغاثہ کے اس مؤقف پر انحصار کیا گیا ہے کہ اسے جنید حفیظ کے کمپیوٹر سے مذہب بیزار مواد ملا تھا۔

جنید حفیظ کو موت کی سزا کے علاوہ عمر قید اور دس برس قید کی سزا دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ گو یہ سزائیں بیک وقت شروع ہوں گی لیکن ان میں لگ بھگ سات برس کی وہ مدت شامل نہیں ہوگی جوجنید حفیظ اس فیصلہ کے انتظار میں جیل میں گزار چکا ہے۔ جج صاحب کے خیال میں توہین مذہب کے مرتکب کو قانون کی شق 382 بی کے تحت یہ رعایت نہیں دی جا سکتی کیوں کہ اسلام میں اس کی گنجائش نہیں ہے۔ گویا تعزیرات پاکستان کے تحت کام کرنے والا جج توہین عدالت کے ملزم کو سزا دیتے ہوئے شریعت کا ماہر اور مفتی بھی بن سکتا ہے اور کوئی اس کو چیلنج نہیں کر سکتا۔

استغاثہ کے وکیل نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ جنید حفیظ کو عمر قید اور دس برس قید مکمل ہونے کے بعد پھانسی دی جائے گی۔ فیصلہ کے اس پہلو میں پرویز مشرف کی سزا میں پیرا 66 پر شریعت و انسانیت کی توہین تلاش کرنے والے حکومتی اور فوجی ترجمانوں کو کیا سزا کے اس طریقہ میں بھی بربریت اورشرف انسانیت سے کم تر ہونے کا کوئی پہلو دکھائی دیتا ہے کہ ایک شخص کو اس خوف میں جینا ہے کہ جب حکام کے خیال میں اس کی عمر قید ختم ہوگی تو اسے پھانسی پر لٹکایا جائے گا؟ اس موقع پر طاری سکوت حکومت اور معاشرہ کے دوغلے پن اور سفاک ذہنیت کا واضح ثبوت ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے کہ انسانیت کے علمبردار وزیر قانون اور اٹارنی جنرل جو جسٹس وقار کو ایک غیر موزوں پیرا لکھنے پر معزول کروانے کے درپے ہیں، اس ایڈیشنل سیشن جج کے خلاف انضباطی اقدام کرکے اسے فارغ کریں جو انصاف کے مسلمہ اصول سے کمتر فیصلہ دینے کا مرتکب ہؤا ہے۔

پاکستان کے وزیر اعظم دنیا میں اسلامو فوبیا کے خلاف کام کرنا چاہتے ہیں۔ اسلام کے خلاف کہیں کوئی نازیبا کلمہ کہا جائے تو وزارت خارجہ بیان جاری کرتی ہے لیکن اگر حکومت اپنے ہی بلاسفیمی قانون کو مذاق بنانے کا موجب بنے گی تو دنیا میں کوئی بھی پاکستانیوں کے نعرہ نما مطالبوں کو تسلیم نہیں کرے گا۔ ان قوانین کے جائز یا ناجائز ہونے پر بات کئے بغیر بھی یہ سوال تو کیا جا سکتا ہے کہ کیا ان کا ذمہ دارانہ اطلاق کرنے کے لئے کوئی اقدام کئے گئے ہیں۔ کیا اس بات کو یقینی بنانے کی کبھی ضرورت محسوس نہیں کی جائے گی کہ پاکستان کے اپنے شہریوں کو غلط الزام کے بعد انصاف ملنے کی امید ہو۔ توہین مذہب ایک ایسا الزام ہے جس میں ضمانت کا حق ختم کردیا گیا ہے۔ تو کیا حکومت اور ملک کے چیف جسٹس پر یہ ذمہ داری عائد نہیں ہوتی کہ وہ ان الزامات کی جلد از جلدسماعت کو یقینی بنائیں۔ یہ انتظام کیا جائے کہ ایک مقررہ مدت میں فیصلہ دیا جائے یا ملزم کو رہا کیا جائے۔

دنیا کے مسلمانوں کو اسلامو فوبیا سے بچانے کے لئے ضروری ہے کہ مملکت پاکستان اپنے شہریوں کے حق عقیدہ و رائے کی آزادی کو تسلیم کرے اور مروجہ قوانین کے تحت انہیں حقیقی انصاف میسر ہو۔ جنید حفیظ کو دی گئی سزا واضح کرتی ہے کہ پاکستان کا نظام ان دونوں نکات کی تکریم کا اہتمام کرنے میں ناکام ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
کیا یہ بدقسمتی کی بات نہیں ہے کہ ہم اپنے مخالفین کے وکلاء کو بھی جینے کا حق نہیں دے رہے ہیں۔ ہمیں شبہ ہے کہ آیا توہین مذہب ہوئی بھی ہے یا نہیں؟ بہتر ہو گا کہ اس معاملے کی تہہ میں جایا جائے۔ چونکہ معاملہ عدالت کا ہے، اس لیے سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لے کر اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔ یہاں ہر دوسرے تیسرے فرد پر یہ الزام لگا دیا جاتا ہے جب کہ حقائق بسا اوقات اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ مزید یہ کہ، توہین مذہب کس حد تک ہوئی ہے! ہم یہ نہیں کہتے کہ یہ شخص بے گناہ ہے، تاہم، انصاف کے تقاضے پورے کرنا کس کا فرض ہے؟ ہم تو بس ایک بے قابو ہجوم بن گئے ہیں۔ ایک شخص پر الزام لگا دیا جائے تو اسے مجرم تصور کر لیا جاتا ہے اور انصاف کے تقاضے پورے کرنے کی زحمت بھی نہیں کی جاتی ہے۔ انتہائی افسوس ناک!
 
آخری تدوین:

جاسم محمد

محفلین
چونکہ معاملہ عدالت کا ہے، اس لیے سپریم کورٹ کو از خود نوٹس لے کر اس معاملے کا جائزہ لینا چاہیے۔
اس کیس کا انجام بھی آسیہ مسیح والا ہی ہوگا۔ یعنی بغیر کسی جرم کے ۹ سال کی کال کوٹھڑی اور پھر سپریم کورٹ سے باعزت رہائی۔ اس دوران ملزم کو شریف، زرداری خاندان کی طرح عدالت سے ضمانتیں بھی نہیں مل سکتی کہ مشتعل عوام اسے بھرے چوک میں الٹا لٹکا دے گی۔
 

زیک

مسافر
ہمیں شبہ ہے کہ آیا توہین مذہب ہوئی بھی ہے یا نہیں؟ بہتر ہو گا کہ اس معاملے کی تہہ میں جایا جائے۔
مزید یہ کہ، توہین مذہب کس حد تک ہوئی ہے!
توہین کے معاملے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ توہین کی مکمل نوعیت کا ذکر بھی وکیل، عدالت، اخبار کو ٹارگٹ بنا دیتا ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
توہین کے معاملے میں ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ توہین کی مکمل نوعیت کا ذکر بھی وکیل، عدالت، اخبار کو ٹارگٹ بنا دیتا ہے۔
کمزور ریاستی نظام کی ایک اور قباحت! جہاں معاملات کو اپنے ہاتھ میں لے کر، از خود سزا دینے کی روش عام ہے۔ سننے میں یہ بھی آیا ہے کہ کسی ذاتی رنجش کے باعث بھی کسی خاص فرد کو ٹارگٹ کر لیا جاتا ہے اور ایسے فرد پر توہین مذہب کا الزام لگا دیا جاتا ہے۔ اب اسی معاملے میں دیکھیے کہ اگر مدعیان حق پر ہوتے تو کیا اس وکیل کی جان لیتے!

خیال رہے کہ اس معاشرے میں، یہ بھی ممکن ہے کہ ہم اعلانیہ دائیں بازو سے متعلق افراد پر بھی توہین مذہب کا الزام لگ جائے، پھر ہم جو چاہے، عذر تراشتے پھریں۔ سوشل میڈیا کے مجاہد تب تک چین سے نہ بیٹھیں گے، جب تک پھانسی کا پھندا ہمارے گلے میں فٹ نہ ہو جائے۔ کیا المیہ ہے!
 

عدنان عمر

محفلین
دوسرا نقطہِ نظر:

‏گزشتہ سے پیوستہ
فروری 2013 میں قیصرہ شیراز صاحبہ جو کہ شیریں زبیر کی دعوت پر یونیورسٹی غالبااپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں تشریف لائیں تو IMS کے کانفرنس ہال میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو پروگرام شروع کرنے کا کہا تو جنید حفیظ طاقت اور خمار کے نشے میں دُھت مائیک کی جانب بڑھا اور تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا جو میں پوری ایمانداری سے آپ تک پہنچا رہاہوں۔
In the name of Allah who is always ...... without any leave and who's ...... ........ is
..taken as his
بسم اللہ کا ایسا مذاک اڑانے پر ساری کی ساری آڈئینس ششدر رہ گئی کہ یہ آدمی کر کیا رہا ہے۔
کانفرنس ختم ہوگئی اور بعد میں طلباء نے اسکے خلاف احتجاج کیا اور شیریں زبیر سے جنید حفیظ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں زبیر ٹال مٹول کرنے لگی۔ اسکے بعد جنید حفیظ کے گروپ so called liberals of Pakistan میں ایک توہین آمیز پوسٹ آئی جس میں حضور صلی اللہ علیہہ وسلم کو نعوذباللہ peace be upon کی بجائے be upon.... لکھا گیا جس پر طلباء نے جنید حفیظ کو پوسٹ ہٹانے کا کہا لیکن اُس نے پوسٹ نہ ہٹائی جس پر طلباء نے 12 مارچ کو ایک تحریری درخواست وی سی کو جمع کروادی جس میں کہا گیا کہ اگر جنید حفیظ کو نہ ہٹایا گیا تو کل طلباء پر امن احتجاج کریں گے۔ شیریں زبیر کو اس ساری کاروائی کا پتہ چلا تو اس نے جنید حفیظ کو یونیورسٹی کا قاسم ہال چھوڑ کےاپنے گھر میں ٹہرنے کا کہا جس پر جنید حفیظ شیریں زبیر کے گھر چلا گیا کیونکہ شیریں نے پہلی ہے طلباء کو دھمکا رکھا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو نکال دیا جائے گا جس پر طلباء خائف بھی تھے اور شیریں زبیر نے یہ سوچا کہ معاملہ رفع دفع کرکے جنید حفیظ کو دوبارہ پھر واپس بلا لے گی۔ لیکن جنید حفیظ کی حرکتیں یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں پھیل چُکی تھیں اور 13 مارچ کی صبح تقریبا پندرہ سو کا مجمعہ احتجاج کرتا ہوا وی سی آفس پہنچ گیا جس میں سب ڈیپارٹمنٹس کے طلباء شامل تھے۔ موقعہ پر ڈی سی او ملتان، سی پی اور ملتان،انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار پہنچے جن کو جنید حفیظ سے متعلق تمام مواد فراہم کیا گیا۔ شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو امریکن ایمبیسی کی راہ دکھائی اور اپنے گھر سے فرار ہونے کا کہہ دیا۔ جنید حفیظ کو راستے میں جاتے ہوئے ساہیوال سے گرفتار کر لیا گیا۔ جنید حفیظ نے اپنے اعترافی بیان میں پولیس کے آگے سب کُچھ قبول کر لیا۔ جنید حفیظ کو جب گرفتار کیا گیا تووہ لاہور والے امریکی کونسلیٹ سے رابطے میں تھا۔
جنید حفیظ پر مقدمہ چلا لگ بھگ بیس کے قریب گواہان پیش ہوئے جن میں سے ایم اے انگلش کے طالب علم اور پی ایچ ڈی پروفیسر بھی شامل تھے۔ جنید حفیظ کے اکاؤنٹ سے وہ سارا مواد ریکور کیا گیا اور اسکے لیپ ٹاپ سے وہ مواد نکالا گیا جو وہ پوسٹ کرتا تھا اور یہ مواد آج بھی پولیس فائل کا حصہ ہے ۔ اگر کسی کو جنید حفیظ سے ذاتی دُشمنی ہوتی تو وہ موقعے کا بھرپور فائدہ اُٹھا سکتا تھا کیونکہ ان سارے واقعات کے رونما ہونے کے دوران جنید حفیظ یونیورسٹی آتا جاتا تھا۔ جہاں تک جنید حفیظ کے وکیل راشد رحمان کا تعلق ہے وہ این جی او کا وکیل تھا اور سب سے زیادہ کیس اُسکے پاس گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے ہوتے تھے اب نجانے کون کمبخت اس سارے کھیل میں اپنی دشمنی نکال گیا کیونکہ جنید حفیظ مُلتان کچہری میں کوئی دس سے پندرہ دفعہ پیش ہُوا لیکن اس دوران کبھی کسی نے جنید حفیظ کیخلاف نہ تو کمرہ عدالت میں اور نہ کچہری کے احاطے میٓں نعرہ تک لگایا۔ یہ کیس بڑی خاموشی سے چل رہا تھا کہ اچانک راشد رحمان کا قتل ہوگیا جسکا نقصان اس کیس کو ہُوا کیونکہ اسکے بعد مدعی وکلاء پر پریشر مزید بڑھ گیا اور اُن پر جھوٹی ایف آئی آرز بھی ہوئیں جنکو بعد میں بے بُنیاد قرار دے کر خارج کردیا گیا۔ جُنید حفیظ کیخلاف کوئی ایک بھی ایسا گواہ نہیں جو ان پڑھ ہو بلکہ تمام گواہ پڑھے لکھے طلباء ہیں لہذا خامخواہ میں توہین رسالت کے مجرم کو ہیرو بناکر پیش کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنید حفیظ کو ایک خاص طبقہ کی حمایت حاصل ہے جو یہ جانتا ہے کہ یہ کیس درست ہے لہذا عدالت میں آ کر ثبوت پیش کرنے کی بجائے فیس بُک پر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جنید حفیظ کے وکلاء جان بوجھ کر کیس کو طول دے رہے ہیں۔ گواہ اپنے بیان قلمبند6 کرواچکے،گواہوں پر جرح بھی مکمل ہو چُکی۔ اب صرف دو ہے گواہان پر جرح رہتی لیکن جنید حفیظ کے وکیل پیش نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس جرح کے بعد فیصلہ ہونا ہے۔ جنید حفیظ اپنے حق میں ایک بھی گواہ پیش نہ کر سکا یونیورسٹی کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی جنید حفیظ کو مجرم قراردیا اور شیریں کو اسکا ذمہ دارٹھہرایا لہذا شیریں یونیورسٹی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بیرون ملک فرار ہوگئی۔ جنید کے بعض دوستوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنید حفیظ امریکہ سے واپس آکر خاصا اُداس تھا
‎#copied

نوٹ: اس مراسلے میں بعض مقامات پر میں نے انتہائی گستاخانہ کلمات حذف کیے ہیں۔ باقی جیسا موصول ہوا یہاں پیش کر دیا ہے۔
 

فرقان احمد

محفلین
دوسرا نقطہِ نظر:

‏گزشتہ سے پیوستہ
فروری 2013 میں قیصرہ شیراز صاحبہ جو کہ شیریں زبیر کی دعوت پر یونیورسٹی غالبااپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں تشریف لائیں تو IMS کے کانفرنس ہال میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو پروگرام شروع کرنے کا کہا تو جنید حفیظ طاقت اور خمار کے نشے میں دُھت مائیک کی جانب بڑھا اور تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا جو میں پوری ایمانداری سے آپ تک پہنچا رہاہوں۔
In the name of Allah who is always ...... without any leave and who's ...... ........ is
..taken as his
بسم اللہ کا ایسا مذاک اڑانے پر ساری کی ساری آڈئینس ششدر رہ گئی کہ یہ آدمی کر کیا رہا ہے۔
کانفرنس ختم ہوگئی اور بعد میں طلباء نے اسکے خلاف احتجاج کیا اور شیریں زبیر سے جنید حفیظ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں زبیر ٹال مٹول کرنے لگی۔ اسکے بعد جنید حفیظ کے گروپ so called liberals of Pakistan میں ایک توہین آمیز پوسٹ آئی جس میں حضور صلی اللہ علیہہ وسلم کو نعوذباللہ peace be upon کی بجائے be upon.... لکھا گیا جس پر طلباء نے جنید حفیظ کو پوسٹ ہٹانے کا کہا لیکن اُس نے پوسٹ نہ ہٹائی جس پر طلباء نے 12 مارچ کو ایک تحریری درخواست وی سی کو جمع کروادی جس میں کہا گیا کہ اگر جنید حفیظ کو نہ ہٹایا گیا تو کل طلباء پر امن احتجاج کریں گے۔ شیریں زبیر کو اس ساری کاروائی کا پتہ چلا تو اس نے جنید حفیظ کو یونیورسٹی کا قاسم ہال چھوڑ کےاپنے گھر میں ٹہرنے کا کہا جس پر جنید حفیظ شیریں زبیر کے گھر چلا گیا کیونکہ شیریں نے پہلی ہے طلباء کو دھمکا رکھا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو نکال دیا جائے گا جس پر طلباء خائف بھی تھے اور شیریں زبیر نے یہ سوچا کہ معاملہ رفع دفع کرکے جنید حفیظ کو دوبارہ پھر واپس بلا لے گی۔ لیکن جنید حفیظ کی حرکتیں یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں پھیل چُکی تھیں اور 13 مارچ کی صبح تقریبا پندرہ سو کا مجمعہ احتجاج کرتا ہوا وی سی آفس پہنچ گیا جس میں سب ڈیپارٹمنٹس کے طلباء شامل تھے۔ موقعہ پر ڈی سی او ملتان، سی پی اور ملتان،انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار پہنچے جن کو جنید حفیظ سے متعلق تمام مواد فراہم کیا گیا۔ شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو امریکن ایمبیسی کی راہ دکھائی اور اپنے گھر سے فرار ہونے کا کہہ دیا۔ جنید حفیظ کو راستے میں جاتے ہوئے ساہیوال سے گرفتار کر لیا گیا۔ جنید حفیظ نے اپنے اعترافی بیان میں پولیس کے آگے سب کُچھ قبول کر لیا۔ جنید حفیظ کو جب گرفتار کیا گیا تووہ لاہور والے امریکی کونسلیٹ سے رابطے میں تھا۔
جنید حفیظ پر مقدمہ چلا لگ بھگ بیس کے قریب گواہان پیش ہوئے جن میں سے ایم اے انگلش کے طالب علم اور پی ایچ ڈی پروفیسر بھی شامل تھے۔ جنید حفیظ کے اکاؤنٹ سے وہ سارا مواد ریکور کیا گیا اور اسکے لیپ ٹاپ سے وہ مواد نکالا گیا جو وہ پوسٹ کرتا تھا اور یہ مواد آج بھی پولیس فائل کا حصہ ہے ۔ اگر کسی کو جنید حفیظ سے ذاتی دُشمنی ہوتی تو وہ موقعے کا بھرپور فائدہ اُٹھا سکتا تھا کیونکہ ان سارے واقعات کے رونما ہونے کے دوران جنید حفیظ یونیورسٹی آتا جاتا تھا۔ جہاں تک جنید حفیظ کے وکیل راشد رحمان کا تعلق ہے وہ این جی او کا وکیل تھا اور سب سے زیادہ کیس اُسکے پاس گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے ہوتے تھے اب نجانے کون کمبخت اس سارے کھیل میں اپنی دشمنی نکال گیا کیونکہ جنید حفیظ مُلتان کچہری میں کوئی دس سے پندرہ دفعہ پیش ہُوا لیکن اس دوران کبھی کسی نے جنید حفیظ کیخلاف نہ تو کمرہ عدالت میں اور نہ کچہری کے احاطے میٓں نعرہ تک لگایا۔ یہ کیس بڑی خاموشی سے چل رہا تھا کہ اچانک راشد رحمان کا قتل ہوگیا جسکا نقصان اس کیس کو ہُوا کیونکہ اسکے بعد مدعی وکلاء پر پریشر مزید بڑھ گیا اور اُن پر جھوٹی ایف آئی آرز بھی ہوئیں جنکو بعد میں بے بُنیاد قرار دے کر خارج کردیا گیا۔ جُنید حفیظ کیخلاف کوئی ایک بھی ایسا گواہ نہیں جو ان پڑھ ہو بلکہ تمام گواہ پڑھے لکھے طلباء ہیں لہذا خامخواہ میں توہین رسالت کے مجرم کو ہیرو بناکر پیش کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنید حفیظ کو ایک خاص طبقہ کی حمایت حاصل ہے جو یہ جانتا ہے کہ یہ کیس درست ہے لہذا عدالت میں آ کر ثبوت پیش کرنے کی بجائے فیس بُک پر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جنید حفیظ کے وکلاء جان بوجھ کر کیس کو طول دے رہے ہیں۔ گواہ اپنے بیان قلمبند6 کرواچکے،گواہوں پر جرح بھی مکمل ہو چُکی۔ اب صرف دو ہے گواہان پر جرح رہتی لیکن جنید حفیظ کے وکیل پیش نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس جرح کے بعد فیصلہ ہونا ہے۔ جنید حفیظ اپنے حق میں ایک بھی گواہ پیش نہ کر سکا یونیورسٹی کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی جنید حفیظ کو مجرم قراردیا اور شیریں کو اسکا ذمہ دارٹھہرایا لہذا شیریں یونیورسٹی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بیرون ملک فرار ہوگئی۔ جنید کے بعض دوستوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنید حفیظ امریکہ سے واپس آکر خاصا اُداس تھا
‎#copied

نوٹ: اس مراسلے میں بعض مقامات پر میں نے انتہائی گستاخانہ کلمات حذف کیے ہیں۔ باقی جیسا موصول ہوا یہاں پیش کر دیا ہے۔
سر! ابھی تک ہمارے پاس پہلا نقطہء نظر نہیں پہنچا ہے۔ کیا جنید حفیظ نے اب تک یہ اقرار کر رکھا ہے کہ اس پر توہین مذہب کے لگائے گئے الزامات درست ہیں۔ جناب! اسلام میں تو یہ اجازت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گناہ پر نادم ہو تو اس کے لیے نرمی کا معاملہ رکھا جاتا ہے۔ اگر آپ کے علم میں جنید کا موقف ہو تو اس کی بھی شراکت کیجیے گا، شکریہ!
 

عرفان سعید

محفلین
In the name of Allah who is always ...... without any leave and who's ...... ........ is
..taken as his
بسم اللہ کا ایسا مذاک اڑانے پر ساری کی ساری آڈئینس ششدر رہ گئی کہ یہ آدمی کر کیا رہا ہے۔
کانفرنس ختم ہوگئی اور بعد میں طلباء نے اسکے خلاف احتجاج کیا اور شیریں زبیر سے جنید حفیظ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں زبیر ٹال مٹول کرنے لگی۔ اسکے بعد جنید حفیظ کے گروپ so called liberals of Pakistan میں ایک توہین آمیز پوسٹ آئی جس میں حضور صلی اللہ علیہہ وسلم کو نعوذباللہ peace be upon کی بجائے be upon.... لکھا گیا
اگر ایسا ہوا ہے تو اس لحاظ سے بہت افسوس ناک ہے کہ کسی بھی مذہب کے تقدس کو پامال کرنا بنیادی اخلاقیات کے شدید منافی ہے۔
 

عدنان عمر

محفلین
کیا جنید حفیظ نے اب تک یہ اقرار کر رکھا ہے کہ اس پر توہین مذہب کے لگائے گئے الزامات درست ہیں۔
جنید کے موقف کا مجھے قطعی علم نہیں۔ ویسے اگر ملزم صحتِ جرم سے انکار کرے لیکن اس پر جرم ثابت ہو جائے تو کیا اسے سزا نہیں دی جا سکتی؟
جناب! اسلام میں تو یہ اجازت ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے گناہ پر نادم ہو تو اس کے لیے نرمی کا معاملہ رکھا جاتا ہے۔
اس معاملے میں اسلام کیا کہتا ہے یہ تو علمائے کرام ہی بتا سکتے ہیں۔ ویسے کیا یہ شخص اپنے گناہ پر نادم ہے؟ اس بارے میں آپ کچھ جانتے ہوں تو ضرور ہمیں آگاہ کیجیے گا۔
 
یہ ایک فیس بک پیج کا مسئلہ نہیں ہے۔ اس کیس کی بے شمار جزئیات ہیں، جن کا ذکر اوپر دئیے کسی بھی خبر، کالم، مراسلے میں نہیں ہے۔ ان کو جانے بغیر کوئی رائے قائم کرکے مراسلہ جاری کردینا مناسب نہیں۔ وقت ملا تو اس پر ایک تفصیلی مراسلہ لکھوں گا۔


البتہ قتل ہونے والا وکیل گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے کیس لینے اور انھیں پناہ دینے کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا۔ اسکا قتل اس کیس کے ساتھ جوڑنا، توہین مذہب کے مجرم کے لیے نرم گوشہ ابھارنے کی کوشش ہو سکتا ہے۔


نوٹ: یہ مراسلہ ایک گھنٹے سے زائد وقت تک بجلی اور نیٹ کے مسائل کی وجہ سے پوسٹ نہیں ہو پایا تھا۔ اس دوران عدنان عمر بھائی نے ایک تفصیلی مراسلہ پوسٹ کر دیا۔ جزاک اللہ۔

یہی معلومات کچھ کمی بیشی کے ساتھ میرے پاس بھی موجود تھیں۔
 
آخری تدوین:

زیک

مسافر
دوسرا نقطہِ نظر:

‏گزشتہ سے پیوستہ
فروری 2013 میں قیصرہ شیراز صاحبہ جو کہ شیریں زبیر کی دعوت پر یونیورسٹی غالبااپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں تشریف لائیں تو IMS کے کانفرنس ہال میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو پروگرام شروع کرنے کا کہا تو جنید حفیظ طاقت اور خمار کے نشے میں دُھت مائیک کی جانب بڑھا اور تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا جو میں پوری ایمانداری سے آپ تک پہنچا رہاہوں۔
In the name of Allah who is always ...... without any leave and who's ...... ........ is
..taken as his
بسم اللہ کا ایسا مذاک اڑانے پر ساری کی ساری آڈئینس ششدر رہ گئی کہ یہ آدمی کر کیا رہا ہے۔
کانفرنس ختم ہوگئی اور بعد میں طلباء نے اسکے خلاف احتجاج کیا اور شیریں زبیر سے جنید حفیظ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں زبیر ٹال مٹول کرنے لگی۔ اسکے بعد جنید حفیظ کے گروپ so called liberals of Pakistan میں ایک توہین آمیز پوسٹ آئی جس میں حضور صلی اللہ علیہہ وسلم کو نعوذباللہ peace be upon کی بجائے be upon.... لکھا گیا جس پر طلباء نے جنید حفیظ کو پوسٹ ہٹانے کا کہا لیکن اُس نے پوسٹ نہ ہٹائی جس پر طلباء نے 12 مارچ کو ایک تحریری درخواست وی سی کو جمع کروادی جس میں کہا گیا کہ اگر جنید حفیظ کو نہ ہٹایا گیا تو کل طلباء پر امن احتجاج کریں گے۔ شیریں زبیر کو اس ساری کاروائی کا پتہ چلا تو اس نے جنید حفیظ کو یونیورسٹی کا قاسم ہال چھوڑ کےاپنے گھر میں ٹہرنے کا کہا جس پر جنید حفیظ شیریں زبیر کے گھر چلا گیا کیونکہ شیریں نے پہلی ہے طلباء کو دھمکا رکھا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو نکال دیا جائے گا جس پر طلباء خائف بھی تھے اور شیریں زبیر نے یہ سوچا کہ معاملہ رفع دفع کرکے جنید حفیظ کو دوبارہ پھر واپس بلا لے گی۔ لیکن جنید حفیظ کی حرکتیں یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں پھیل چُکی تھیں اور 13 مارچ کی صبح تقریبا پندرہ سو کا مجمعہ احتجاج کرتا ہوا وی سی آفس پہنچ گیا جس میں سب ڈیپارٹمنٹس کے طلباء شامل تھے۔ موقعہ پر ڈی سی او ملتان، سی پی اور ملتان،انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار پہنچے جن کو جنید حفیظ سے متعلق تمام مواد فراہم کیا گیا۔ شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو امریکن ایمبیسی کی راہ دکھائی اور اپنے گھر سے فرار ہونے کا کہہ دیا۔ جنید حفیظ کو راستے میں جاتے ہوئے ساہیوال سے گرفتار کر لیا گیا۔ جنید حفیظ نے اپنے اعترافی بیان میں پولیس کے آگے سب کُچھ قبول کر لیا۔ جنید حفیظ کو جب گرفتار کیا گیا تووہ لاہور والے امریکی کونسلیٹ سے رابطے میں تھا۔
جنید حفیظ پر مقدمہ چلا لگ بھگ بیس کے قریب گواہان پیش ہوئے جن میں سے ایم اے انگلش کے طالب علم اور پی ایچ ڈی پروفیسر بھی شامل تھے۔ جنید حفیظ کے اکاؤنٹ سے وہ سارا مواد ریکور کیا گیا اور اسکے لیپ ٹاپ سے وہ مواد نکالا گیا جو وہ پوسٹ کرتا تھا اور یہ مواد آج بھی پولیس فائل کا حصہ ہے ۔ اگر کسی کو جنید حفیظ سے ذاتی دُشمنی ہوتی تو وہ موقعے کا بھرپور فائدہ اُٹھا سکتا تھا کیونکہ ان سارے واقعات کے رونما ہونے کے دوران جنید حفیظ یونیورسٹی آتا جاتا تھا۔ جہاں تک جنید حفیظ کے وکیل راشد رحمان کا تعلق ہے وہ این جی او کا وکیل تھا اور سب سے زیادہ کیس اُسکے پاس گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے ہوتے تھے اب نجانے کون کمبخت اس سارے کھیل میں اپنی دشمنی نکال گیا کیونکہ جنید حفیظ مُلتان کچہری میں کوئی دس سے پندرہ دفعہ پیش ہُوا لیکن اس دوران کبھی کسی نے جنید حفیظ کیخلاف نہ تو کمرہ عدالت میں اور نہ کچہری کے احاطے میٓں نعرہ تک لگایا۔ یہ کیس بڑی خاموشی سے چل رہا تھا کہ اچانک راشد رحمان کا قتل ہوگیا جسکا نقصان اس کیس کو ہُوا کیونکہ اسکے بعد مدعی وکلاء پر پریشر مزید بڑھ گیا اور اُن پر جھوٹی ایف آئی آرز بھی ہوئیں جنکو بعد میں بے بُنیاد قرار دے کر خارج کردیا گیا۔ جُنید حفیظ کیخلاف کوئی ایک بھی ایسا گواہ نہیں جو ان پڑھ ہو بلکہ تمام گواہ پڑھے لکھے طلباء ہیں لہذا خامخواہ میں توہین رسالت کے مجرم کو ہیرو بناکر پیش کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنید حفیظ کو ایک خاص طبقہ کی حمایت حاصل ہے جو یہ جانتا ہے کہ یہ کیس درست ہے لہذا عدالت میں آ کر ثبوت پیش کرنے کی بجائے فیس بُک پر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جنید حفیظ کے وکلاء جان بوجھ کر کیس کو طول دے رہے ہیں۔ گواہ اپنے بیان قلمبند6 کرواچکے،گواہوں پر جرح بھی مکمل ہو چُکی۔ اب صرف دو ہے گواہان پر جرح رہتی لیکن جنید حفیظ کے وکیل پیش نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس جرح کے بعد فیصلہ ہونا ہے۔ جنید حفیظ اپنے حق میں ایک بھی گواہ پیش نہ کر سکا یونیورسٹی کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی جنید حفیظ کو مجرم قراردیا اور شیریں کو اسکا ذمہ دارٹھہرایا لہذا شیریں یونیورسٹی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بیرون ملک فرار ہوگئی۔ جنید کے بعض دوستوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنید حفیظ امریکہ سے واپس آکر خاصا اُداس تھا
‎#copied

نوٹ: اس مراسلے میں بعض مقامات پر میں نے انتہائی گستاخانہ کلمات حذف کیے ہیں۔ باقی جیسا موصول ہوا یہاں پیش کر دیا ہے۔
اس کاپی پیسٹ ہٹ جاب کا سورس؟
 

زیک

مسافر
دوسرا نقطہِ نظر:

‏گزشتہ سے پیوستہ
فروری 2013 میں قیصرہ شیراز صاحبہ جو کہ شیریں زبیر کی دعوت پر یونیورسٹی غالبااپنی کتاب کی تقریب رونمائی کے سلسلے میں تشریف لائیں تو IMS کے کانفرنس ہال میں ایک تقریب رکھی گئی جس میں شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو پروگرام شروع کرنے کا کہا تو جنید حفیظ طاقت اور خمار کے نشے میں دُھت مائیک کی جانب بڑھا اور تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا جو میں پوری ایمانداری سے آپ تک پہنچا رہاہوں۔
In the name of Allah who is always ...... without any leave and who's ...... ........ is
..taken as his
بسم اللہ کا ایسا مذاک اڑانے پر ساری کی ساری آڈئینس ششدر رہ گئی کہ یہ آدمی کر کیا رہا ہے۔
کانفرنس ختم ہوگئی اور بعد میں طلباء نے اسکے خلاف احتجاج کیا اور شیریں زبیر سے جنید حفیظ کو ہٹانے کا مطالبہ کیا جس پر شیریں زبیر ٹال مٹول کرنے لگی۔ اسکے بعد جنید حفیظ کے گروپ so called liberals of Pakistan میں ایک توہین آمیز پوسٹ آئی جس میں حضور صلی اللہ علیہہ وسلم کو نعوذباللہ peace be upon کی بجائے be upon.... لکھا گیا جس پر طلباء نے جنید حفیظ کو پوسٹ ہٹانے کا کہا لیکن اُس نے پوسٹ نہ ہٹائی جس پر طلباء نے 12 مارچ کو ایک تحریری درخواست وی سی کو جمع کروادی جس میں کہا گیا کہ اگر جنید حفیظ کو نہ ہٹایا گیا تو کل طلباء پر امن احتجاج کریں گے۔ شیریں زبیر کو اس ساری کاروائی کا پتہ چلا تو اس نے جنید حفیظ کو یونیورسٹی کا قاسم ہال چھوڑ کےاپنے گھر میں ٹہرنے کا کہا جس پر جنید حفیظ شیریں زبیر کے گھر چلا گیا کیونکہ شیریں نے پہلی ہے طلباء کو دھمکا رکھا تھا کہ احتجاج کرنے والوں کو نکال دیا جائے گا جس پر طلباء خائف بھی تھے اور شیریں زبیر نے یہ سوچا کہ معاملہ رفع دفع کرکے جنید حفیظ کو دوبارہ پھر واپس بلا لے گی۔ لیکن جنید حفیظ کی حرکتیں یونیورسٹی کے تمام ڈیپارٹمنٹس میں پھیل چُکی تھیں اور 13 مارچ کی صبح تقریبا پندرہ سو کا مجمعہ احتجاج کرتا ہوا وی سی آفس پہنچ گیا جس میں سب ڈیپارٹمنٹس کے طلباء شامل تھے۔ موقعہ پر ڈی سی او ملتان، سی پی اور ملتان،انٹیلی جنس اداروں کے اہلکار پہنچے جن کو جنید حفیظ سے متعلق تمام مواد فراہم کیا گیا۔ شیریں زبیر نے جنید حفیظ کو امریکن ایمبیسی کی راہ دکھائی اور اپنے گھر سے فرار ہونے کا کہہ دیا۔ جنید حفیظ کو راستے میں جاتے ہوئے ساہیوال سے گرفتار کر لیا گیا۔ جنید حفیظ نے اپنے اعترافی بیان میں پولیس کے آگے سب کُچھ قبول کر لیا۔ جنید حفیظ کو جب گرفتار کیا گیا تووہ لاہور والے امریکی کونسلیٹ سے رابطے میں تھا۔
جنید حفیظ پر مقدمہ چلا لگ بھگ بیس کے قریب گواہان پیش ہوئے جن میں سے ایم اے انگلش کے طالب علم اور پی ایچ ڈی پروفیسر بھی شامل تھے۔ جنید حفیظ کے اکاؤنٹ سے وہ سارا مواد ریکور کیا گیا اور اسکے لیپ ٹاپ سے وہ مواد نکالا گیا جو وہ پوسٹ کرتا تھا اور یہ مواد آج بھی پولیس فائل کا حصہ ہے ۔ اگر کسی کو جنید حفیظ سے ذاتی دُشمنی ہوتی تو وہ موقعے کا بھرپور فائدہ اُٹھا سکتا تھا کیونکہ ان سارے واقعات کے رونما ہونے کے دوران جنید حفیظ یونیورسٹی آتا جاتا تھا۔ جہاں تک جنید حفیظ کے وکیل راشد رحمان کا تعلق ہے وہ این جی او کا وکیل تھا اور سب سے زیادہ کیس اُسکے پاس گھر سے بھاگی ہوئی لڑکیوں کے ہوتے تھے اب نجانے کون کمبخت اس سارے کھیل میں اپنی دشمنی نکال گیا کیونکہ جنید حفیظ مُلتان کچہری میں کوئی دس سے پندرہ دفعہ پیش ہُوا لیکن اس دوران کبھی کسی نے جنید حفیظ کیخلاف نہ تو کمرہ عدالت میں اور نہ کچہری کے احاطے میٓں نعرہ تک لگایا۔ یہ کیس بڑی خاموشی سے چل رہا تھا کہ اچانک راشد رحمان کا قتل ہوگیا جسکا نقصان اس کیس کو ہُوا کیونکہ اسکے بعد مدعی وکلاء پر پریشر مزید بڑھ گیا اور اُن پر جھوٹی ایف آئی آرز بھی ہوئیں جنکو بعد میں بے بُنیاد قرار دے کر خارج کردیا گیا۔ جُنید حفیظ کیخلاف کوئی ایک بھی ایسا گواہ نہیں جو ان پڑھ ہو بلکہ تمام گواہ پڑھے لکھے طلباء ہیں لہذا خامخواہ میں توہین رسالت کے مجرم کو ہیرو بناکر پیش کرنےکی کوشش کی جارہی ہے۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ جنید حفیظ کو ایک خاص طبقہ کی حمایت حاصل ہے جو یہ جانتا ہے کہ یہ کیس درست ہے لہذا عدالت میں آ کر ثبوت پیش کرنے کی بجائے فیس بُک پر لوگوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ جنید حفیظ کے وکلاء جان بوجھ کر کیس کو طول دے رہے ہیں۔ گواہ اپنے بیان قلمبند6 کرواچکے،گواہوں پر جرح بھی مکمل ہو چُکی۔ اب صرف دو ہے گواہان پر جرح رہتی لیکن جنید حفیظ کے وکیل پیش نہیں ہوتے۔ کیونکہ اس جرح کے بعد فیصلہ ہونا ہے۔ جنید حفیظ اپنے حق میں ایک بھی گواہ پیش نہ کر سکا یونیورسٹی کی اپنی تحقیقاتی کمیٹی نے بھی جنید حفیظ کو مجرم قراردیا اور شیریں کو اسکا ذمہ دارٹھہرایا لہذا شیریں یونیورسٹی کمیٹی کی رپورٹ آنے کے بعد بیرون ملک فرار ہوگئی۔ جنید کے بعض دوستوں کا یہ بھی کہنا تھا کہ جنید حفیظ امریکہ سے واپس آکر خاصا اُداس تھا
‎#copied

نوٹ: اس مراسلے میں بعض مقامات پر میں نے انتہائی گستاخانہ کلمات حذف کیے ہیں۔ باقی جیسا موصول ہوا یہاں پیش کر دیا ہے۔
اس بہتان تراشے میں جمیعت کا کیا رول تھا اور ہے؟
 
اس بہتان تراشے میں جمیعت کا کیا رول تھا اور ہے؟
ا۔ جامعہ زکریا میں جمعیت کا ہولڈ نہیں ہے۔
ب۔ اب یہ بہتان تراشہ نہیں ایک اختتام شدہ توہین مذہب کیس کا خلاصہ ہے۔
ج۔ کیس کا تحریری فیصلہ نامناسب اور توہین آمیز کلمات کی شمولیت کی وجہ سے پبلک نہیں کیا گیا۔
 
Top