تین دن دنیا ندھیرے میں ڈوب جائے گی ؟

نایاب

لائبریرین
news_detail_img-epaper_id-3304-epaper_page_id-38567-epaper_map_detail_id228968.jpg

ربط
 

نایاب

لائبریرین
دن کے وقت رات
Syed Zeeshan Yousaf
تاریخ بتاتی ہے کہ کئی ملکوں اور شہروں میں دن کے وقت اندھیرا چھا گیا۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا؟ ماہرین فلکیات کے پیچیدہ حسابات کے مطابق زمین خلاء میں 18 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گھوم رہی ہے۔ ماہرین کے نظریے کے مطابق خلاء بلکل خالی نہیں ہے بلکہ اس مں زمین کی حرکت اور دیگر تغیرات سے پیدا ہونے والے اربوں چھوٹے چھوٹے غیر شفاف ذرات ادھر ادھر گھوم رہے ہیں۔ اگر یہ یقین کر لیا جائے تو پھر دوپہر کے وقت اندھیرا چھانے کا مظاہرہ کسی حد تک سمجھ میں آ جاتا ہے۔
کائناتی گرد سورج کی روشنی کی راہ میں حائل ہو سکتی ہے جس کی وجہ سے روشنی زمین تک نہیں پہنچ پاتی نتیجتآ سورج کی روشنی دھندلی اور نمایاں طور پر کم ہو جاتی ہے۔ یہ غیر معمولی مظاہرہ کسی وقت بھی ظہور پذیر ہو سکتا ہے۔ ریکارڈ سے پتہ چلتا ہے کہ جب کبھی بھی عین دوپہر کے وقت اندھیرا چھایا وہ دن بادلوں سے مبرا تھا اور اس دن سورج گرہن کا بھی کوئی امکان نہ تھا۔
26 اپریل 1884 کو پیرسٹن(انگلینڈ) میں دوپہر 12 بجے کے قریب ڈرامائی طور پر اندھیرا چھا گیا۔ آسمان بلکل سیاہ ہو گیا تھا ایسا لگتا تھا متفائے بسیط پر کوئی بڑا سا سیاہ پردہ تان دیا گیا ہو۔ شہر کے لوگ پریشانی میں ادھر ادھر بھاگنے لگے۔ جانور آرام کے لئے اپنی اپنی پناہ گاہوں کی طرف چلے گئے۔ عبادت گزار لوگ سجدے میں جھک گئے۔ اور پھر اندھیرا اسی تیزی سے چھٹ گیا جس تیزی سے چھایا تھا سورج کی روشنی دوبارہ زمین پر پڑنے لگی۔ اگرچہ اس مظاہرے کی کئی تعبیریں کی گئیں لیکن عوام کسی سے بھی مطمئن نہ ہو سکی۔ 12 اپریل 1889 کو اٹیکس(فرنی سوٹا)کے شہریوں کو بھی اسی طرح کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ بھی اس کی تشریح نہ کر سکے۔
19 اگست 1763 کی صبح لندن بھی تاریکی میں ڈوب گیا۔ اس مرتبہ اندھیرا اتنا گہرا تھا کہ لوگوں نے لالٹینیں اور موم بتیاں روشن کر لیں۔ ماہرین فلکیات کے زائچوں کے مطابق اس روز سورج گرہن کا کوئی امکان نہیں تھا۔
19 مارچ 1886 کو اوشکائیش میں بھی ایسا ہی ہوا۔ دن کے 3 بجے نامعلوم وجوہ کی بنیاد پر سارا شہر تاریکی میں ڈوب گیا۔ یہ صورت تقریبآ 10 منٹ تک رہی۔ اس دوران آسمان پر سیاہی مائل دھبہ ہوا کے دوش پر مغرب سے مشرق کی طرف اڑتا ہوا دکھائی دیا۔ جب شہر میں سورج کی روشنی عود کر آئی تو پتہ چلا کہ مغرب کے شہروں کو بھی اسی قسم کی صورتِ حال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔
4 دسمبر 1904 کو ممفس(ٹینسن) کے لوگ معمول ک مطابق اپنا کام کر رہے تھے۔ صبح کے 10 بجے اچانک سورج غائب ہو گیا جس کی وجہ سے مکمل تاریکی چھا گئی۔ یہ تاریکی پندرہ منٹ تک چھائی رہی۔ تاریکی کے یہ 15 منٹ شہر کے لوگوں کے لئے خوف و ہراس کے لمحات تھے۔ شہر کے بعض حصوں میں تو لوگوں نے چیخنا چلانا شروع کر دیا تھا۔ بعض دیندار لوگ تو سجدے میں گر گئے انہیں یقین ہو گیا تھا کہ یہ قربِ قیامت کی نشانی ہے۔ شاید نفسیاتی وجوہ کی بنیاد پر اس قلیل الوقوع لیکن خوفناک مظاہرے کا ذمہ دار جنگل کی آگ ، غیر معمولی بادل اور دور کے ریگستانوں کی دھول کو ٹھہرایا گیا۔یہ تشریح بعض موقعوں پر تو تسلیم کر لی گئی مگر بعض دوسرے موقعوں پر یہ بلکل بیکار ثابت ہوئی۔ نتیجتآ قدرت کے اس پر اسرار مظاہرے کی تشریح متنازع ہی رہی۔
اسی طرح کا ایک واقع 24 ستمبر 1950 میں بھی پیش آیا جب تقریبآ تمام ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں سورج کا رنگ پر اسرار طور پر نیلا پڑ گیا ایسا لگتا تھا جیسے سورج کی روشنی کسی نیلے فلٹر سے چھن کر آ رہی ہے۔
26 ستمبر کو سکاٹ لینڈ اور انگلینڈ میں بھی سورج سبزی مائل نیلا دکھائی دیا۔ ڈنمارک میں یہ صورتِ حال کوئی 2 گھنٹے تک رہی۔ لوگ اس قدر خوفزدہ ہو گئے کہ انہیں یقین ہو گیا کہ قیامت آ گئی ہے چنانچ بنکوں کے سامنے اپنا ریسیونگ اکاونٹس نکلوانے کے لئے لوگوں کی لمبیلمبی قطاریں لگ گئیں۔
عوام کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کی گئی کہ سورج کی یہ غیر معمولی کیفیت اس دھوئیں کی بدولت ہے جو البرٹا(کینیڈا) کے جنگل میں آگ لگنے کی وجہ سے فضا میں چھا گیا تھا۔ لیکن اس تشریح میں بھی ایک خامی تھی۔
اگر اس پر اسرار مظاہرے کا ذمہ دار دھواں ہی تھا تو وہ ایک ہی وقت میں امریکہ کے مشرقی حصوں کو بھی تاریک کر رہا تھا اور واشنگٹن کی طرف کے مغربی حصے کو بھی۔ یہ انوکھی ہوا تھی جو دھوئیں کو دو مخالف سمتوں میں پھیلا رہی تھی۔
__________________
بشکریہ
 

شمشاد

لائبریرین
ہاہاہا اس کا مطلب اکٹھی تین چھٹیاں ہوں گی۔

ملک صاحب کو بھی کوئی بتا دو تا کہ وہ اعلان کر دیں کہ ان تین دنوں میں لوڈ شیڈنگ نہیں ہو گی۔
 

عدیل منا

محفلین
مایا قوم کے بارے میں 2 سال قبل آرٹیکل پڑھا تھا، تفصیل یاد نہیں ہے۔ ان کی کتابوں میں بھی جو پیشن گوئی کی گئی ہیں وہ ٪100 رہی ہیں۔ اس میں دسمبر 2012 کے بارے میں بھی ایسا ہی کچھ تھا۔ اسی موضوع پر ایک انگلش مووی بھی بن چکی ہے۔
 

نیرنگ خیال

لائبریرین
پاکستان میں سورج نکلتا ہے اور اسکا نظام اللہ:a5: کے ہاتھ ہے ورنہ میں کہتا کہ واپڈا یہ معجزہ کر دکھائے گا۔ پھر تین دن تو کیا تین مہینے بھی مشکل نہیں :ROFLMAO:
 

سید ذیشان

محفلین
پاکستانی اردو اخبار تو سنسنی پھیلانے میں ذرا دیر نہیں کرتے۔ اور پاکستانی عوام بھی اتنی معصوم ہے کہ ان خبروں پر یقین کر لیتی ہے۔ چند سال پہلے پشاور، کوہاٹ یہاں تک کہ جلال آباد میں سردیوں کی ایک رات لوگوں کے گھر فون آنا شروع ہوئے کہ ایک شدید زلزلے کی پیشن گوئی کی گئی ہے جو رات کسی وقت بھی آ سکتا ہے۔ یہ غالباً 2005 کی بات ہے جب کشمیر میں زلزلہ آیا تھا۔ وہ پوری رات بہت سارے لوگوں نے ٹھٹھرتے ہوئے گھروں سے باہر پارکوں میں گزاری۔ خواتین اور بچے بھی سردی سے بے حال تھے لیکن ڈر کے مارے گھروں کو نہیں جا سکتے تھے۔
 

نایاب

لائبریرین
مایا قوم کے بارے میں 2 سال قبل آرٹیکل پڑھا تھا، تفصیل یاد نہیں ہے۔ ان کی کتابوں میں بھی جو پیشن گوئی کی گئی ہیں وہ ٪100 رہی ہیں۔ اس میں دسمبر 2012 کے بارے میں بھی ایسا ہی کچھ تھا۔ اسی موضوع پر ایک انگلش مووی بھی بن چکی ہے۔
2012ء میں قیامت
تحریر: نجیم شاہ

ایک طویل عرصہ سے میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سال 2012ءکے آخری مہینہ میں دنیا تباہ ہو جائے گی۔ یہ عقیدہ ایک قدیم تہذیب مایا کے ماننے والوں کا ہے ۔ دنیا میں آباد ہر مذہب اور قوم کی اپنی ایک الگ تہذیب و ثقافت ہے جبکہ کئی قدیم تہذیبیں بھی اس دنیا کی بنیاد ہیں۔ایسی ہی ایک تہذیب جو مایا کہلاتی ہے، لاطینی امریکا کے بیشتر ممالک کی سب سے قدیم تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔یہ تہذیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بہت پہلے اس دنیا میں زندہ تھی۔ زیادہ مضبوط شواہد چھ سو قبل مسیح کو مایا تہذیب کے عروج کا نقطہ آغاز بتاتے ہیں جبکہ اس تہذیب کا دوسرا دور تیسری سے دسویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ جنوبی میکسیکو، گوئٹے مالا، ایل سلواڈور سے لے کر بے لائیز اور مغربی ہونڈراس تک کم و بیش ہزاروں کلو میٹر وسیع و عریض خطے پر اس عظیم الشان تہذیب نے جنم لیا۔میکسیکو ایک ایسی پراسرار جگہ ہے جہاں کئی ایسے راز ہیں جو ابھی تک دنیا پر کھل رہے ہیں جبکہ اسکے کچھ باشندے اب بھی قدیم مایا زبانیں بول سکتے ہیں۔
مایا تہذیب زبان، حساب اور ستاروں کے علم میں بہت ترقی یافتہ تھی۔ ان کی تہذیبی اور ثقافتی برتری نے ارد گرد کی دیگر اقوام کو بھی متاثر کیا۔اس تہذیب کے باشندوں نے امریکا میں لکھائی کی ابتداءکی جبکہ اِن کے لکھنے کا طریقہ قدیم مصری زبان سے ملتا جلتا ہے۔ یہ لوگ الفاظ اور تصاویر کو ملا کر لکھی جانے والی زبان کیلئے جانوروں کے بالوں یا پَروں سے بنا ہوا برش استعمال کرتے تھے۔ وہ درختوں کی چھالوں پر لکھتے تھے، جس کی چند کتابیں آج بھی محفوظ ہیں۔ مایا تہذیب کے کلینڈروں میں اٹھارہ مہینے اور ہر مہینے میں بیس دن ہوتے تھے یعنی سال میں تین سو ساٹھ دن۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے کلینڈر ہمارے آج کے عیسوی کلینڈرز سے بہت زیادہ درست ہیں۔ ان کا حساب اتنا درست ہے کہ فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ سورج کب نصف النہار پر ہوگا، سال کے کن حصوں میں دن رات برابر ہونگے، ہمارے نظام شمسی میں دیگر سیارگان کے گزرنے کے راستے اور اوقات کیا ہونگے، زہرہ اور مریخ کے مدان کون کون سے ہیں وغیرہ۔
اس تہذیب کا اپنا حساب کتاب کرنے کا نظام بھی تھا۔ اس نظام میں فقط تین نشانات استعمال ہوتے تھے جس میں لکیر، نقطہ اور سیپ کا نشان شامل ہے۔ اس میں لکیر کے معنی پانچ، سیپ کے معنی صفر اور نقطہ کے معنی ایک ہیں۔ ان تین نشانوں کے ذریعے بغیر پڑھے لکھے لوگ بھی بڑے سے بڑا حساب کتاب کر لیتے تھے۔ مایا تہذیب بظاہر صدیوں پہلے ہی زوال پذیر ہو چکی ہے مگر مایا قوم کی اولادیں آج بھی میسو امریکن علاقوں میں موجود ہیں۔ ان میں بہت سارے لوگ اب بھی مایا مذہب کی بہت سی رسومات پر عمل کرتے ہیں مگر ان کے پیچیدہ رسم الخط کو وہ بھول چکے ہیں۔ اس تہذیب کی سب سے قابل ذکر ایجاد ان کا کلینڈر مانا جاتا ہے۔ مایا کلینڈر کے مطابق 21دسمبر 2012ءکو پانچ ہزار ایک سو چھبیس برس پر مشتمل ایک دور کا خاتمہ ہو رہا ہے لہٰذا اس دن ایک بڑی قدرتی آفت کے ذریعے قیامت برپا ہو جائے گی جبکہ مایا برادری پر تحقیق کرنیوالے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا پانچ عہدوں میں بٹی ہوئی ہے اور مایا لوگ چوتھے عہد میں جی رہے ہیں۔ ان کے کلینڈر کے مطابق چوتھے عہد کو ہمارے آج کے عیسوی کلینڈر کے حساب سے اکیس دسمبر میں ختم ہو جانا ہے اور پھر اس کے بعد دنیا کا آخری اور پانچواں عہد شروع ہو جائیگا۔
ماضی میں ایک عیسائی مبلغ کی طرف سے سن دو ہزارہ گیارہ میں دنیا کے خاتمے کی پیشگوئی بھی غلط ثابت ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال اکیس اکتوبر کا دن خیریت اور سکون سے گزر گیا حالانکہ امریکا سمیت کئی ملکوں میں بہت سے لوگ اس فکر میں تھے کہ اس روز دنیا ختم ہو سکتی ہے کیونکہ ایک عیسائی مبلغ ہیرالڈ کیمپنگ نے پیش گوئی کی تھی کہ اس دن قیامت آ جائے گی۔اس عیسائی مبلغ نے پہلے اکیس مئی کو قیامت آنے کی پیش گوئی کی تھی مگر جب مئی کا وہ دن خیریت سے گزر گیا تو پھر اُس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان سے جمع تفریق میں تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو گئی تھی جسے اب ٹھیک کرلیا گیا ہے لہٰذا اب اکیس اکتوبر دو ہزار گیارہ کو قیامت ہوگی۔ کائنات کے خاتمے کے حوالے سے پیش گوئی کرنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ مغربی دنیا میں ان سے پہلے بھی کئی لوگ قیامت کی ناکام پیش گوئیاں کر چکے ہیں حتیٰ کہ کئی بار سائنسدان بھی مختلف موقعوں پر خلاءمیں بھٹکتے ہوئے کئی بڑے اجرام فلکی کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں قیامت برپا ہونے کی پیش گوئیاں کر چکے ہیں مگر ہر بار کرہ ارض ایسے کسی ممکنہ حادثے سے بچ جاتا رہا ہے۔
 
2012ء میں قیامت
تحریر: نجیم شاہ

ایک طویل عرصہ سے میڈیا کے ذریعے یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سال 2012ءکے آخری مہینہ میں دنیا تباہ ہو جائے گی۔ یہ عقیدہ ایک قدیم تہذیب مایا کے ماننے والوں کا ہے ۔ دنیا میں آباد ہر مذہب اور قوم کی اپنی ایک الگ تہذیب و ثقافت ہے جبکہ کئی قدیم تہذیبیں بھی اس دنیا کی بنیاد ہیں۔ایسی ہی ایک تہذیب جو مایا کہلاتی ہے، لاطینی امریکا کے بیشتر ممالک کی سب سے قدیم تہذیبوں میں شمار ہوتی ہے۔یہ تہذیب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش سے بہت پہلے اس دنیا میں زندہ تھی۔ زیادہ مضبوط شواہد چھ سو قبل مسیح کو مایا تہذیب کے عروج کا نقطہ آغاز بتاتے ہیں جبکہ اس تہذیب کا دوسرا دور تیسری سے دسویں صدی عیسوی تک پھیلا ہوا ہے۔ جنوبی میکسیکو، گوئٹے مالا، ایل سلواڈور سے لے کر بے لائیز اور مغربی ہونڈراس تک کم و بیش ہزاروں کلو میٹر وسیع و عریض خطے پر اس عظیم الشان تہذیب نے جنم لیا۔میکسیکو ایک ایسی پراسرار جگہ ہے جہاں کئی ایسے راز ہیں جو ابھی تک دنیا پر کھل رہے ہیں جبکہ اسکے کچھ باشندے اب بھی قدیم مایا زبانیں بول سکتے ہیں۔
مایا تہذیب زبان، حساب اور ستاروں کے علم میں بہت ترقی یافتہ تھی۔ ان کی تہذیبی اور ثقافتی برتری نے ارد گرد کی دیگر اقوام کو بھی متاثر کیا۔اس تہذیب کے باشندوں نے امریکا میں لکھائی کی ابتداءکی جبکہ اِن کے لکھنے کا طریقہ قدیم مصری زبان سے ملتا جلتا ہے۔ یہ لوگ الفاظ اور تصاویر کو ملا کر لکھی جانے والی زبان کیلئے جانوروں کے بالوں یا پَروں سے بنا ہوا برش استعمال کرتے تھے۔ وہ درختوں کی چھالوں پر لکھتے تھے، جس کی چند کتابیں آج بھی محفوظ ہیں۔ مایا تہذیب کے کلینڈروں میں اٹھارہ مہینے اور ہر مہینے میں بیس دن ہوتے تھے یعنی سال میں تین سو ساٹھ دن۔ حقیقت یہ ہے کہ ان کے بنائے ہوئے کلینڈر ہمارے آج کے عیسوی کلینڈرز سے بہت زیادہ درست ہیں۔ ان کا حساب اتنا درست ہے کہ فوراً معلوم ہو جاتا ہے کہ سورج کب نصف النہار پر ہوگا، سال کے کن حصوں میں دن رات برابر ہونگے، ہمارے نظام شمسی میں دیگر سیارگان کے گزرنے کے راستے اور اوقات کیا ہونگے، زہرہ اور مریخ کے مدان کون کون سے ہیں وغیرہ۔
اس تہذیب کا اپنا حساب کتاب کرنے کا نظام بھی تھا۔ اس نظام میں فقط تین نشانات استعمال ہوتے تھے جس میں لکیر، نقطہ اور سیپ کا نشان شامل ہے۔ اس میں لکیر کے معنی پانچ، سیپ کے معنی صفر اور نقطہ کے معنی ایک ہیں۔ ان تین نشانوں کے ذریعے بغیر پڑھے لکھے لوگ بھی بڑے سے بڑا حساب کتاب کر لیتے تھے۔ مایا تہذیب بظاہر صدیوں پہلے ہی زوال پذیر ہو چکی ہے مگر مایا قوم کی اولادیں آج بھی میسو امریکن علاقوں میں موجود ہیں۔ ان میں بہت سارے لوگ اب بھی مایا مذہب کی بہت سی رسومات پر عمل کرتے ہیں مگر ان کے پیچیدہ رسم الخط کو وہ بھول چکے ہیں۔ اس تہذیب کی سب سے قابل ذکر ایجاد ان کا کلینڈر مانا جاتا ہے۔ مایا کلینڈر کے مطابق 21دسمبر 2012ءکو پانچ ہزار ایک سو چھبیس برس پر مشتمل ایک دور کا خاتمہ ہو رہا ہے لہٰذا اس دن ایک بڑی قدرتی آفت کے ذریعے قیامت برپا ہو جائے گی جبکہ مایا برادری پر تحقیق کرنیوالے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دنیا پانچ عہدوں میں بٹی ہوئی ہے اور مایا لوگ چوتھے عہد میں جی رہے ہیں۔ ان کے کلینڈر کے مطابق چوتھے عہد کو ہمارے آج کے عیسوی کلینڈر کے حساب سے اکیس دسمبر میں ختم ہو جانا ہے اور پھر اس کے بعد دنیا کا آخری اور پانچواں عہد شروع ہو جائیگا۔
ماضی میں ایک عیسائی مبلغ کی طرف سے سن دو ہزارہ گیارہ میں دنیا کے خاتمے کی پیشگوئی بھی غلط ثابت ہو چکی ہے۔ گزشتہ سال اکیس اکتوبر کا دن خیریت اور سکون سے گزر گیا حالانکہ امریکا سمیت کئی ملکوں میں بہت سے لوگ اس فکر میں تھے کہ اس روز دنیا ختم ہو سکتی ہے کیونکہ ایک عیسائی مبلغ ہیرالڈ کیمپنگ نے پیش گوئی کی تھی کہ اس دن قیامت آ جائے گی۔اس عیسائی مبلغ نے پہلے اکیس مئی کو قیامت آنے کی پیش گوئی کی تھی مگر جب مئی کا وہ دن خیریت سے گزر گیا تو پھر اُس نے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ ان سے جمع تفریق میں تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو گئی تھی جسے اب ٹھیک کرلیا گیا ہے لہٰذا اب اکیس اکتوبر دو ہزار گیارہ کو قیامت ہوگی۔ کائنات کے خاتمے کے حوالے سے پیش گوئی کرنے والے وہ اکیلے نہیں ہیں بلکہ مغربی دنیا میں ان سے پہلے بھی کئی لوگ قیامت کی ناکام پیش گوئیاں کر چکے ہیں حتیٰ کہ کئی بار سائنسدان بھی مختلف موقعوں پر خلاءمیں بھٹکتے ہوئے کئی بڑے اجرام فلکی کے زمین سے ٹکرانے کے نتیجے میں قیامت برپا ہونے کی پیش گوئیاں کر چکے ہیں مگر ہر بار کرہ ارض ایسے کسی ممکنہ حادثے سے بچ جاتا رہا ہے۔
نایاب جی اس مرتبہ حالات بہت سخت ہیں۔۔۔۔ویسے نہیں جیسے نظر آرہے ہیں۔۔۔۔بہرحال ہر بندے کی اپنی ایک نظر ہے۔۔۔۔کسی اور بندے کے ساتھ میں بات کرنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔سرکار میرے ناقص علم کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کو ایک زبردست ضرب لگنی والی ہے۔
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
اِک ضربِ ید اللہٰی اِک سجدہٴ شبیری
 

نایاب

لائبریرین
نایاب جی اس مرتبہ حالات بہت سخت ہیں۔۔۔ ۔ویسے نہیں جیسے نظر آرہے ہیں۔۔۔ ۔بہرحال ہر بندے کی اپنی ایک نظر ہے۔۔۔ ۔کسی اور بندے کے ساتھ میں بات کرنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔۔۔ ۔۔سرکار میرے ناقص علم کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کو ایک زبردست ضرب لگنی والی ہے۔
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
اِک ضربِ ید اللہٰی اِک سجدہٴ شبیری
محترم بھائی روحانی بابا
بلاشبہ صاحب نظر یہی سوچ رکھتے ہیں ۔ وہ اس پیشگوئی کی توجیہ اس عالم ظاہری کی مروجہ چار جہات میں سفر مکمل ہونے کے بعد جہت پنجم میں داخلہ کرتے ہیں ۔ جو کہ سرمایہ دارانہ نظام یا مادیت پرستی کے ختم ہوتے اک ایسے نظام کی جانب چل نکلنا ہے جوکہ پچھلے تمام رائج نظاموں کا ملغوبہ کہلا سکتا ہے ۔ اس موضوع پر اس پلیٹ فارم پر بات کرنا اک مشکل امر ہے ۔ کوئی مناسب فیس بک جیسا پلیٹ فارم تلاش کرتے ہیں ۔ وہاں اس پر گفتگو کرتے ہیں ۔
 
نایاب جی اس مرتبہ حالات بہت سخت ہیں۔۔۔ ۔ویسے نہیں جیسے نظر آرہے ہیں۔۔۔ ۔بہرحال ہر بندے کی اپنی ایک نظر ہے۔۔۔ ۔کسی اور بندے کے ساتھ میں بات کرنا وقت کا ضیاع سمجھتا ہوں۔۔۔ ۔۔سرکار میرے ناقص علم کے مطابق سرمایہ دارانہ نظام کو ایک زبردست ضرب لگنی والی ہے۔
اسلام کے دامن میں بس اس کے سوا کیا ہے
اِک ضربِ ید اللہٰی اِک سجدہٴ شبیری
اللہ کرے آپ کے علم میں جو بات آئی ہے وہ سچ ہو۔
 
Top