تیرے بنا یوں گھڑیاں بیتیں۔۔۔

گُلِ یاسمیں

لائبریرین

زیک

مسافر
عثمان ، زیک کیا کسی ملک کی شہریت حاصل کرتے ہوئے اس بات پر حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ کسی اور ملک سے دلی وابستگی نہیں رکھ سکتے یا یہ کہ جس ملک کی شہریت حاصل کر رہے ہیں اس سے زیادہ کسی اور ملک سے محبت کرنا منع ہے؟؟
امریکا کی شہریت لیتے ہوئے حلف
 

عثمان

محفلین
عثمان ، زیک کیا کسی ملک کی شہریت حاصل کرتے ہوئے اس بات پر حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ کسی اور ملک سے دلی وابستگی نہیں رکھ سکتے یا یہ کہ جس ملک کی شہریت حاصل کر رہے ہیں اس سے زیادہ کسی اور ملک سے محبت کرنا منع ہے؟؟
ایک سے زائد ممالک سے دلی وابستگی پر کوئی سوال نہیں اٹھایا گیا۔
سوال صرف یہ ہے کہ جس ملک کو آپ نے اپنی رضامندی سے تمام آسائشات قبول کرتے ہوئے اپنا مستقل مسکن بنایا اسے اپنی شناخت کا بنیادی حصہ بنانے پر ہچکچاہٹ کیسی؟
 

زیک

مسافر
عثمان ، زیک کیا کسی ملک کی شہریت حاصل کرتے ہوئے اس بات پر حلف اٹھانا پڑتا ہے کہ کسی اور ملک سے دلی وابستگی نہیں رکھ سکتے یا یہ کہ جس ملک کی شہریت حاصل کر رہے ہیں اس سے زیادہ کسی اور ملک سے محبت کرنا منع ہے؟؟
وابستگی اور محبت سے تو کوئی نہیں روک سکتا اور آجکل دہری شہریت بھی عام ہوتی جا رہی ہے لیکن یہ عجیب بات مانی جائے گی کہ کوئی رہتا ایک ملک میں ہو، شہریت بھی اسی ملک کی ہو، ٹیکس اور بینیفٹس بھی وہیں کے، سفر کے لئے پاسپورٹ بھی اسی ملک کا لیکن محبت کا دعوی صرف اور صرف دوسرے ملک کا۔ (یہ جنرل بات ہے کسی خاص شخص کے لئے نہیں)۔ دوسری بات یہ ہے کہ کچھ لوگ کسی ملک سے تعلق صرف نسلی بنیاد پر مانتے ہیں یہ تو صریحاً نسل پرستی ہے۔
 

گُلِ یاسمیں

لائبریرین
وابستگی اور محبت سے تو کوئی نہیں روک سکتا اور آجکل دہری شہریت بھی عام ہوتی جا رہی ہے لیکن یہ عجیب بات مانی جائے گی کہ کوئی رہتا ایک ملک میں ہو، شہریت بھی اسی ملک کی ہو، ٹیکس اور بینیفٹس بھی وہیں کے، سفر کے لئے پاسپورٹ بھی اسی ملک کا لیکن محبت کا دعوی صرف اور صرف دوسرے ملک کا۔ (یہ جنرل بات ہے کسی خاص شخص کے لئے نہیں)۔ دوسری بات یہ ہے کہ کچھ لوگ کسی ملک سے تعلق صرف نسلی بنیاد پر مانتے ہیں یہ تو صریحاً نسل پرستی ہے۔
محبت کے دعوے محض نسل پرستی کی بنیاد پر نہیں ہوتے۔۔۔ کچھ یادیں جڑی ہوتی ہیں اپنے وطن سے۔۔۔ بس اسی وجہ سے۔

ویسے اب تو دہری نیشنیلٹی بھی رکھی جا سکتی ہے نا۔۔ فیر تے کوئی مسئلہ ہی باقی نہیں رہے گا۔
 

زیک

مسافر
یہ تو بقول سہیل وڑائچ کھلا تضاد ہو گیا ۔ :)
اب اگر پتا چلا کہ عبدالقدیر 786 کراچی میں پیدا نہیں ہوئے تو معاملہ اور بگڑ جائے گا:
جی زیک صاحب آپ کا ملک وہی مانا جائے گا جہاں پر آپ پیدا ہوئے ہیں۔ یہ تو گورنمنٹ نے قانون بنایا ہوا ہے کہ پانچ یا دس سال اگر کوئی ہمارے ملک میں رہ لے گا تو اُسے ہم اپنا شہری مان لیں گے لیکن اصل میں وہ اُس شہر یا ملک کا تو نہیں ہوگا اسی لئے اُسے چاھئیے کہ وہ اپنے ملک کے ساتھ وفاداری بھی کرے اور اپنے اصل وطن کو فراموش نہ کرے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
دوسری بات یہ ہے کہ کچھ لوگ کسی ملک سے تعلق صرف نسلی بنیاد پر مانتے ہیں یہ تو صریحاً نسل پرستی ہے۔
لیکن صریح نسل پرستی تو اس وقت کہا جانا چاہیئے جب آپ اِس بنیاد پر کسی اور کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی کرنے لگ جائیں ۔
یہ میری رائے ہے ۔
البتہ اسے وطن پرستی ضرور کہہ سکتے ہیں اور یہ تازہ خداؤں میں سے ایک ہے ۔ بقول علامہ۔
 

محمد عبدالرؤوف

لائبریرین
اور یہ تازہ خداؤں میں سے ایک ہے ۔ بقول علامہ۔
میرے خیال میں علامہ صاحب کا بھی یہ نظریہ نہیں ہو گا کہ وطن کی محبت اسے خدا تصور کرنا ہے ۔ ہاں یہ ہو سکتا ہے جب وطن کی خاطر احکام الہی کا سودا کیا جانے لگے
 

زیک

مسافر
لیکن صریح نسل پرستی تو اس وقت کہا جانا چاہیئے جب آپ اِس بنیاد پر کسی اور کے ساتھ کسی بھی قسم کی زیادتی کرنے لگ جائیں ۔
یہ میری رائے ہے ۔
البتہ اسے وطن پرستی ضرور کہہ سکتے ہیں اور یہ تازہ خداؤں میں سے ایک ہے ۔ بقول علامہ۔
اگر پاکستانی نژاد کے امریکی، کینیڈین یا جرمن نہ ہونے پر اصرار ہو تو یہ نسل پرستی ہو گی نہ کہ وطن پرستی۔
 
آخری تدوین:

سید عاطف علی

لائبریرین
اگر پاکستانی نژاد کے امریکی، کینیڈین یا جرمن نہ ہونے ہر اصرار ہو تو یہ نسل پرستی ہو گی نہ کہ وطن پرستی۔
پاکستانی یا جرمن یا امریکی کوئی نسلیں تو نہیں ۔ وطنیت ہی کی شکلیں ہیں ۔
چلیں اس معاملے میں عثمان کی رائے لیتے ہیں کہ وہ وطن پرستی یا نسل پرستی کی بیچ میں خطِ فاصل کس طرح کھینچتے ہیں ۔
میرے خیال میں یہ تو طے ہی ہے کہ کہ وطن پرستی اور نسل پرستی دونوں تعصُّب کی شکلیں ہیں ۔
 
Top