تیرگی کیوں نہ ختم ہو جاتی ۔ ۔ ۔ برائے اصلاح

صابرہ امین

لائبریرین
معزز اساتذہ کرام

الف عین ، محمد خلیل الرحمٰن ، سید عاطف علی


آپ سے نظر کرم کی درخواست ہے ۔ ۔ ایک ماہ پہلے لکھی گئ کوشش کو اپنے طور پر درست کیا ہے ۔ ۔ بتائیے کچھ کامیابی ہوئ یا نہیں ۔ ۔

شکریہ

تیرگی کیوں نہ ختم ہو جاتی
بخت میرا نہ کیوں چمک جاتا
رشک کرتیں بلند یا ں مجھ پر
اور ہمالہ بھی تکتا رہ جاتا
میں جو ہوتا نبی ﷺ کی خاک پا
یا کہ ادنیٰ غلام ہی ہوتا
کاش ہوتا بلال(رضي الله عنه) کی آذاں
یا کہ صدیق(رضي الله عنه) کی وفا ہوتا
کاش ہوتا عمر(رضي الله عنه) کا اک آنسو
یا کہ عثمان(رضي الله عنه) کے لہو کی بوند
فاطمہ(رضي الله عنہا) کے عیال کے صد قے
کاش ہوتا علی(رضي الله عنه) کا میں سایہ
دل بیتاب چاندنی کے ساتھ
چاند بھی کھیلنے کو مانگے ہے
تیری رحمت جو میرے ساتھ رہے
کیوں نہ پھر بات میری بن جائے
تیری قدرت کے کارخا نے سے
مانگتا ہوں تیرے خزا نے سے
میرے اللہ کرم یہ خاص تو کر
"اس ذ رہ خاکی کو آفتاب تو کر"
 
آخری تدوین:
مانگتا ہوں تیرے خزا نے سے
حمد ، نعت اور مناجات کے اشعار تو اچھے ہیں ۔ لیکن وہی بات کہ ردیف قافیے کو منظم طریقے سے پیش نہیں کیا ۔ اس کو ایک پابند طریقے سے رکھیں تو اچھا نمونہ نظر آئے ۔ابھی اس وجہ سے بکھرا ہوا تاثر نظر آتا ہے ۔
مانگتا ہوں تیرے خزا نے سے
یہاں ترے لکھیں ۔تیرے لکھنا درست نہیں ۔
"اس ذ رہ خاکی کو آفتاب تو کر"
اس میں کچھ غلطی ہے خود ہی دیکھیں ۔ فاعلاتن مفاعلن فعلن کے مطابق نہیں ۔
رشک کرتی بلند یا ں مجھ پر
یہاں شاید کرتی کی جگہ کرتیں کہنا چاہا ہے آپ نے ۔
 

صابرہ امین

لائبریرین
یہاں ترے لکھیں ۔تیرے لکھنا درست نہیں ۔

۔
بالکل بجا فرمایا۔۔۔
تیری قدرت کے کارخا نے سے
مانگتا ہوں ترے خزا نے سے




یہاں شاید کرتی کی جگہ کرتیں کہنا چاہا ہے آپ نے ۔
۔
صحیح فرمایا ۔ ۔
رشک کرتیں بلندیاں مجھ پر
اور ہمالہ بھی تکتا رہ جاتا

حمد ، نعت اور مناجات کے اشعار تو اچھے ہیں ۔ لیکن وہی بات کہ ردیف قافیے کو منظم طریقے سے پیش نہیں کیا ۔ اس کو ایک پابند طریقے سے رکھیں تو اچھا نمونہ نظر آئے ۔ابھی اس وجہ سے بکھرا ہوا تاثر نظر آتا ہے ۔
۔

چند اشعار کچھ اسطرح درست کیےہیں ۔ ۔ کیا کچھ تنظیم آئ ہے؟

تیرگی کیوں نہ دور ہو جا تی
یہ سیاہی بھی نور ہو جاتی
ٹوٹا تارا نہ کیوں دمک جاتا
بخت میرا نہ کیوں چمک جاتا
اس جہاں میں نہ ہوتا مجھ جیسا
بے مثال اور یکتا رہ جاتا
رشک کرتیں بلندیاں مجھ پر
اور ہمالہ بھی تکتا رہ جاتا


دلِ ناداں تو چاندنی کے ساتھ
چاند بھی کھیلنے کو مانگے ہے
تیری رحمت کی کوئ حد ہی نہیں
کیوں نہ پھر بھاگ میرا جاگے ہے
تیری قدرت کے کارخا نے سے
مانگتا ہوں ترے خزا نے سے
مرے اللہ کرم یہ خاص تو کر
میری قسمت کو ماہتاب تو کر
میں ہوں اک ذرہ میرے مولا مجھے
اپنی رحمت سے آفتاب تو کر

باقی اشعار پر کام جاری ہے ۔ ۔
 
آخری تدوین:
ماشاء اللہ، اچھی نظم ہے۔

ٹوٹا تارا نہ کیوں دمک جاتا
بخت میرا نہ کیوں چمک جاتا
میرے خیال میں اگر یہاں ردیف جاتا کی بجائے اٹھتا کرلیں تو شعر اور بہتر ہوجائے گا۔

اور ہمالہ بھی تکتا رہ جاتا
یہ مصرعہ بحر سے خارج ہورہا ہے۔ ہمالہ کی ہ ادا نہیں ہورہی، جو درست نہیں۔

دلِ ناداں تو چاندنی کے ساتھ
چاند بھی کھیلنے کو مانگے ہے
یہ شعر نظم کے عمومی اسلوب سے زیادہ میل کھاتا محسوس نہیں ہوتا۔ اگر ممکن ہو تو اس کی جگہ کچھ اور فکر کرکے دیکھئے۔


دعاگو،
راحلؔ
 

صابرہ امین

لائبریرین
ماشاء اللہ، اچھی نظم ہے۔
بہت شکریہ ۔ ۔ :):) آپ کا نام بھی ٹیگ کرنے کی کوشش کی مگر ہو کے نہ دیا ۔ ۔ نجانے کیوں ۔ ۔ پر دعا رنگ لے آئ ۔ ۔ الحمد للہ
میرے خیال میں اگر یہاں ردیف جاتا کی بجائے اٹھتا کرلیں تو شعر اور بہتر ہوجائے گا۔
بہت خوب ۔ ۔ ۔ !!
ٹوٹا تارا نہ کیوں دمک اٹھتا
بخت میرا نہ کیوں چمک اٹھتا
یہ مصرعہ بحر سے خارج ہورہا ہے۔ ہمالہ کی ہ ادا نہیں ہورہی، جو درست نہیں۔
یہ بات سمجھ نہ سکی کہ ابھی کچھ زیادہ معلوم نہیں ۔ ۔ تقطیع سیکشن اور اصلاح سیکشن پرکوئ غلطی نہیں دکھتی ۔ ۔ براہ کرم اس کی وضاحت کیجیئے گا ۔ ۔
یہ شعر نظم کے عمومی اسلوب سے زیادہ میل کھاتا محسوس نہیں ہوتا۔ اگر ممکن ہو تو اس کی جگہ کچھ اور فکر کرکے دیکھئے۔
کیا یہ بہتر رہے گا ۔ ۔

تیرے در پر جھکا ہے سر یا رب
میرا دل تجھ سے اتنا مانگے ہے
تری رحمت کی آس رکھتا ہوں
کیوں نہ پھر بھاگ میرا جاگے ہے
 
آخری تدوین:

صابرہ امین

لائبریرین
اساتذہ کرام

یہ تو طے ہوا کہ کسی بگڑی چیز کو صحیح کرنا جوئے شیر لانے سے کم نہیں۔ مگر یہ بھی ایک تجربہ ہے جو کہ دماغ کوایک الگ نہج پر سوچنے پر مجبور کر رہا ہے ۔ ۔ مصلحت میرے رب کی ۔ ۔

بیچ کے اشعار میں اگر ترنم کو نظرانداز کرتے ہوئے کم سے کم قافیہ "ا" کی آواز کو رکھا جائے تو کیسا رہے گا ۔ جیسا کہ علامہ اقبال کی نظم ہے ۔

ٹہنی پہ کسی شجر کی تنہا
بلبل تھا کوئی اداس بیٹھا
کہتا تھا کہ رات سر پہ آئ
اڑنے چگنے میں دن گذارا
پہنچوں کِس طرح آشیاں تک
ہر چیز پہ چھا گیا اندھیرا



میں جو ہوتا نبی ﷺ کی خاکِ پا ( ا )
یا کہ ادنیٰ غلام ہی ہوتا ( ا )

کاش ہوتا بلال(رضي الله عنه) کی آذاں
یا کہ صدیق(رضي الله عنه) کی وفا ہوتا ( ا )

کاش ہوتا عمر(رضي الله عنه) کا اک آنسو ( و )
یا کہ عثمان(رضي الله عنه) کا وہ بہتا لہو ( و )
یا
کاش آنسو عمر(رضي الله عنه) کا میں ہوتا
یا کہ عثمان(رضي الله عنه) کا لہو ہوتا ( ا )

فاطمہ(رضي الله عنہا) کے عیال کے صد قے
کاش ہوتا علی(رضي الله عنه) کا میں سایا ( ا )
 
آخری تدوین:
بہت شکریہ ۔ ۔ :):) آپ کا نام بھی ٹیگ کرنے کی کوشش کی مگر ہو کے نہ دیا ۔ ۔
ایک بار جامعہ کراچی میں ہفتہ طلبہ کے سلسلے میں مشاعرہ ہورہا تھا۔ ہم بھی شریکِ شرکاء تھے۔ جناب ضیاءالحق قاسمی مرحوم نظامت فرما رہے تھے۔ ہمارا نام پکارا گیا، جب ہم اسٹیج پر پہنچے تو حضرت پوچھنے لگے کی کیا چاروں آگئے ہیں؟ :)
سو تخلص رکھنے کے شوق میں نام اتنا طویل ہوگیا ہے کہ ٹیگ کرنے سے بھی ٹیگ نہیں ہوتا :)

یہ بات سمجھ نہ سکی کہ ابھی کچھ زیادہ معلوم نہیں ۔ ۔ تقطیع سیکشن اور اصلاح سیکشن پرکوئ غلطی نہیں دکھتی ۔ ۔ براہ کرم اس کی وضاحت کیجیئے گا ۔ ۔
عروض ویب سائٹ کی تقطیع پر کلیتاً بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے، وہ بسا اوقات غلطی کرجاتی ہے۔

فاعلاتن ۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔ فعلن
او ر ہمالہ۔۔۔ بِ تک تا رہ ۔۔۔ جا تا
پہلے رکن کو دیکھئے۔ یہاں ہمالہ کی ہ ادائیگی کے لئے کوئی ہجا دستیاب نہیں۔ ہاں، اور کو اُر تقطیع کریں (جو غالباً عروض کی ویب سائٹ نے کیا ہوگا) تو وزن پورا ہوجائے گا، مگر یہ صورت پسندیدہ نہیں۔

بیچ کے اشعار میں اگر ترنم کو نظرانداز کرتے ہوئے کم سے کم قافیہ "ا" کی آواز کو رکھا جائے تو کیسا رہے گا ۔ جیسا کہ علامہ اقبال کی نظم ہے ۔
اقبالؔ کی نظم میں آزاد قافیہ ہیں، تاہم ایک ہی قافیہ کی تکرار نہیں ہے، جیسے آپ کے اشعار میں نیچے آرہی ہے۔ ۔ ’’ہوتا‘‘ کے ساتھ لکھا، بیٹھا، سایہ، نکھرا وغیرہ قافیہ ہوسکتے ہیں، تاہم ایک ہی لفظ کو اگر دو متصل مصرعوں یا قطعہ بند اشعار میں دہرایا جائے گا تو وہ ردیف قرار پائے گا۔

میں جو ہوتا نبی ﷺ کی خاکِ پا ( ا )
یا کہ ادنیٰ غلام ہی ہوتا ( ا )

کاش ہوتا بلال(رضي الله عنه) کی آذاں
یا کہ صدیق(رضي الله عنه) کی وفا ہوتا ( ا )
چونکہ یہ دو اشعار قطعہ بند ہوگئے ہیں، اس لئے ہوتا کو یہاں ردیف مانا جائے گا۔

کاش آنسو عمر(رضي الله عنه) کا میں ہوتا
یا کہ عثمان(رضي الله عنه) کا لہو ہوتا ( ا )

فاطمہ(رضي الله عنہا) کے عیال کے صد قے
کاش ہوتا علی(رضي الله عنه) کا میں سایا ( ا )
یہاں بھی پہلے دو مصرعوں میں ہوتا کو ردیف ہی مانا جائے گا۔ اس سے پہلے جو غیر مردف صورت آپ نے لکھی ہے، وہ بہتر ہے۔ بس ’’اک‘‘ اور ’’وہ‘‘ جیسے بھرتی کے الفاظ سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
ایک اور بات یہ کہ سیدہ فاطمہؓ کے عیال کے صدقے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سایا ہونا فصیح بیان معلوم نہیں ہوتا۔ اس پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی سیدہ فاطمہؓ کے عیال کے صدقے ہونے کا بیان الگ سے، مستقلاً ہونا چاہیئے۔

دعاگو،
راحلؔ
 
فاعلاتن ۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔ فعلن
او ر ہمالہ۔۔۔ بِ تک تا رہ ۔۔۔ جا تا

محّمد احسن سمیع راحل بھائی ۔
یہاں اور کو مختصر باندھا گیا ہے جو درست ہے اور یہ اسلوب عام بھی ہے اور بحر کے عین مطابق بھی ہے ۔ ویسے عروض ڈاٹ کام پر مکمل مشینی انحصار درست نہیں ،یہ البتہ درست ہے ۔
تو اور آرائش خم کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
غالب۔
 
محّمد احسن سمیع راحل بھائی ۔
یہاں اور کو مختصر باندھا گیا ہے جو درست ہے اور یہ اسلوب عام بھی ہے اور بحر کے عین مطابق بھی ہے ۔ ویسے عروض ڈاٹ کام پر مکمل مشینی انحصار درست نہیں ،یہ البتہ درست ہے ۔
تو اور آرائش خم کاکل
میں اور اندیشہ ہائے دور دراز
غالب۔
جی عاطف بھائی، آپ کی بات بالکل ٹھیک ہے اور دوسرے مراسلے میں وضاحت بھی کر دی تھی، مگر مجھے ذاتی طور پر اتنا پسند نہیں اس لئے غالبا پہلا تاثر یہ قائم ہوا. ویسے میری اپنی کیا حیثیت! عموما استاذی اعجاز صاحب بھی اس سے احتراز کا مشورہ دیتے ہیں.
 

صابرہ امین

لائبریرین
ایک بار جامعہ کراچی میں ہفتہ طلبہ کے سلسلے میں مشاعرہ ہورہا تھا۔ ہم بھی شریکِ شرکاء تھے۔ جناب ضیاءالحق قاسمی مرحوم نظامت فرما رہے تھے۔ ہمارا نام پکارا گیا، جب ہم اسٹیج پر پہنچے تو حضرت پوچھنے لگے کی کیا چاروں آگئے ہیں؟ :)
سو تخلص رکھنے کے شوق میں نام اتنا طویل ہوگیا ہے کہ ٹیگ کرنے سے بھی ٹیگ نہیں ہوتا :)

محترم محمّد احسن سمیع :راحل: صاحب

آداب

چند باتیں جو دنوں سے حیرت زدہ کیئے ہوئ تھیں آج واضح ہو گئیں ۔ ۔ ہم یہ سوچ کر حیرت زدہ تھے کہ کوئ خرطومی یعنی سوڈانی اردو سے کیوں دلچسپی رکھتا ہے ۔ ۔!! پھر نام نے مشکل میں ڈال دیا ۔ ۔ سوچا کہ شائد اس ملک میں چند اچھے ناموں کو جمع کر کے ایک دو رموز اوقاف کی علامات لگا کر نام رکھے جاتے ہوں کہ ہر ملک کا دستور الگ اور ہماری معلومات محدود ۔ ۔ مگر، مگر، مگر یہ جان کر "شدید" خوشی ہوئ کہ آپ دنیا کے سب سے خوبصورت شہر کرا چی کے نکلے ۔ ۔ !!


( یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے ۔ ۔؟؟ ( استادِ محترم نظرانداز کیجیئے گا کہ دل کے زخم کا شائد کوئ ٹانکا ادھڑ گیا ہے ۔ ۔ ))


تو اس محفل میں


" خوب گذرے گی جو مل بیٹھیں گے ایک دو درجن کراچی والے۔ ۔ ۔"


( بحر کو نظرانداز کر کے خیالات کی آفرینیوں میں گم ہونے کا وقت ہوا چاہتا ہے ۔ ۔ ۔ :LOL::D:p)

عروض ویب سائٹ کی تقطیع پر کلیتاً بھروسہ نہیں کرنا چاہیئے، وہ بسا اوقات غلطی کرجاتی ہے۔

فاعلاتن ۔۔۔ مفاعلن ۔۔۔ فعلن
او ر ہمالہ۔۔۔ بِ تک تا رہ ۔۔۔ جا تا
پہلے رکن کو دیکھئے۔ یہاں ہمالہ کی ہ ادائیگی کے لئے کوئی ہجا دستیاب نہیں۔ ہاں، اور کو اُر تقطیع کریں (جو غالباً عروض کی ویب سائٹ نے کیا ہوگا) تو وزن پورا ہوجائے گا، مگر یہ صورت پسندیدہ نہیں۔


مکمل مشینی انحصار سے اجتناب برتا جائے گا ۔ ۔ (لکھ تو دیا اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ ۔:unsure::unsure::unsure: ) مگر یہ ہمالہ والے مصرے پر سر عاطف کا کہا مان لینے کی استدعا ہے کہ جیسے جیسے ذہن کے قفل کھلیں گے ویسے ویسے آپ سب کی تمام باتیں بھی سمجھ آ جائیں گی ۔ ۔ ۔ انشااللہ، کہ بھرپور کوششیں جاری ہیں ۔ ۔



اس سے پہلے جو غیر مردف صورت آپ نے لکھی ہے، وہ بہتر ہے۔


آج کافی باتیں سمجھ آئیں ۔ ۔تو اس لیئے غیر مردف صورت ہی رہنے دیتے ہیں ۔ ۔


ایک اور بات یہ کہ سیدہ فاطمہؓ کے عیال کے صدقے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا سایا ہونا فصیح بیان معلوم نہیں ہوتا۔ اس پر بھی نظر ثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ یعنی سیدہ فاطمہؓ کے عیال کے صدقے ہونے کا بیان الگ سے، مستقلاً ہونا چاہیئے۔


بجا فرمایا ۔ ۔ اسطرح کا ردوبدل صحیح ہے آپ کے خیال میں ۔ ۔


کاش ہوتا حسین کی للکار
یا کہ ہوتا علی کا میں سایا


آپ کی اور سر عاطف سمیت تمام اساتذہِ کرام تمام تر رہنمائ کا تہہ دل سے ایک بار پھر شکریہ:):):)
 
آخری تدوین:

صابرہ امین

لائبریرین
معزز اساتذہِ کرام
آداب
ذہن اور شعور کی آج تک کی بھرپور صلاحیت کا تمام تر استعمال کرتے ہوئے یہ صورت نکلی ہے ۔ ۔ آپ سب سے نظر کرم کی درخواست ہے ۔ ۔

تیرگی کیوں نہ دور ہو جا تی
یہ سیاہی بھی نور ہو جاتی

ٹوٹا تارا نہ کیوں دمک اٹھتا
بخت میرا نہ کیوں چمک اٹھتا

اس جہاں میں نہ ہوتا مجھ جیسا
بے مثال اور یکتا رہ جاتا

رشک کرتیں بلندیاں مجھ پر
اور ہمالہ بھی تکتا رہ جاتا

کاش ہوتا نبیﷺ کی خاک پا
یا کہ ادنیٰ غلام ہی ہوتا

کاش ہوتا بلال (رضي الله عنه) کی آذاں
یا کہ صدیق(رضي الله عنه) کی وفا ہوتا

کاش ہوتا عمر(رضي الله عنه) کا اک آنسو
یا کہ عثمان(رضي الله عنه) کا وہ بہتا لہو

کاش ہوتا حسین(رضي الله عنه) کی للکار
یا کہ ہوتا علی(رضي الله عنه) کا میں سایا

تیرے در پر جھکا ہے سر یا رب
میرا دل تجھ سے اتنا مانگے ہے

تری رحمت کی آس رکھتا ہوں
کیوں نہ پھر بھاگ میرا جاگے ہے

تیری قدرت کے کارخا نے سے
مانگتا ہوں ترے خزا نے سے

مرے اللہ کرم یہ خاص تو کر
میری قسمت کو ماہتاب تو کر

میں ہوں اک ذرہ میرے مولا مجھے
اپنی رحمت سے آفتاب تو کر

(آمین)
 
آخری تدوین:
ہم یہ سوچ کر حیرت زدہ تھے کہ کوئ خرطومی یعنی سوڈانی اردو سے کیوں دلچسپی رکھتا ہے ۔ ۔!!
ویسے سوڈانی بھی ہمیں سوڈانی ہی سمجھتے ہیں، اکثر بلاتوقف و تکلف رواں عربی میں گفتگو شروع کردیتے ہیں :)

کاش ہوتا حسین(رضي الله عنه) کی للکار
یا کہ ہوتا علی(رضي الله عنه) کا میں سایا
دوسرے مصرعے کا قافیہ نہیں مل رہا کسی اور شعر کے ساتھ۔ یوں سوچ کر دیکھیں۔
خاکِ پاپوشِ حیدرِ کرارؓ
یا کچھ اور ۔۔۔

مرے اللہ کرم یہ خاص تو کر
میری قسمت کو ماہتاب تو کر

میں ہوں اک ذرہ میرے مولا مجھے
اپنی رحمت سے آفتاب تو کر
پہلے مصرعے میں ردیف بغیر قافیہ کے آ رہا ہے، جو مناسب نہیں۔ الفاظ کی ترتیب اسطرح بدل دیں کہ مصرعے کے آخر میں ردیف کے الفاظ نہ آئیں۔ مثلاً
میرے اللہ کرم یہ کر مجھ پر
یا کچھ اور

دعاگو،
راحلؔ
 

صابرہ امین

لائبریرین
کاش ہوتا حسین(رضي الله عنه) کی للکار

"یا کہ ہوتا علی(رضي الله عنه) کا میں سایا"

کی جگہ
یا علی(رضي الله عنه) کی دو دھاری وہ تلوار
یا
یا علی (رضي الله عنه) کی لپکتی وہ تلوار



اگرچہ آپ کا مصرعہ بہتر ین ہے ۔ ۔ مگر خاکِ پا پہلے استعمال ہو چکا ہے اس لیئے
خاکِ پاپوشِ حیدرِ کرارؓ

کی جگہ

یا کہ شمشیرِ حیدرِ کرارؓ

مناسب رہے گا یا نہیں۔ ۔ ۔



۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مرے اللہ کرم یہ خاص تو کر
میری قسمت کو ماہتاب تو کر

کے بجائے
مرے اللہ کرم کا طالب ہوں
میری قسمت کو ماہتاب تو کر

مناسب رہے گا یا نہیں ۔ ۔

شکریہ

رہنمائ کی منتظر
 
کی جگہ
یا علی(رضي الله عنه) کی دو دھاری وہ تلوار
یا
یا علی (رضي الله عنه) کی لپکتی وہ تلوار
پہلے آپشن میں دو دھاری میں و اور ی دونوں ساقط ہورہی ہیں جس سے روانی متاثر ہو رہی ہے.
علاوہ ازیں دونوں آپشنز میں تلوار سے پہلے "وہ" بھرتی کا معلوم ہوتا ہے، یعنی اگر وہ نکال دیں تب بھی مفہوم مکمل ادا ہوتا ہے. اگر وہ سے کسی خاص تلوار کا ذکر مطلوب ہے تو پھر بات واضح نہیں ہوتی کہ کس تلوار کی بات ہورہی ہے. اسی لئے اس طرح کے حشو و زوائد سے احتراز کرنا چاہیئے.

خاکِ پاپوشِ حیدرِ کرارؓ

کی جگہ

یا کہ شمشیرِ حیدرِ کرارؓ
بالکل مناسب ہے.

مرے اللہ کرم یہ خاص تو کر
میری قسمت کو ماہتاب تو کر

کے بجائے
مرے اللہ کرم کا طالب ہوں
میری قسمت کو ماہتاب تو کر

مناسب رہے گا یا نہیں ۔ ۔
یہ بھی درست ہے.

دعاگو،
راحل.
 

الف عین

لائبریرین
مجھے ایک ترکیب مزید پسند نہیں آئی.۔ خاکِ پا 'خاکے پا' تقطیع ہوتا ہے جو اچھا نہیں لگتا، اس کی بھی بہتری کی سوچیں
 

صابرہ امین

لائبریرین
مجھے ایک ترکیب مزید پسند نہیں آئی.۔ خاکِ پا 'خاکے پا' تقطیع ہوتا ہے جو اچھا نہیں لگتا، اس کی بھی بہتری کی سوچیں
رہنمائ کیجیئے اب مناسب ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔

میں نہ ہوتا مگر جو یوں ہوتا
خاکِ پاپوشِ مصطفیٰ ﷺ ہوتا
 

صابرہ امین

لائبریرین
معزز اساتذہِ کرام
آداب
آپ سب کی رہنمائ کے باعث یہ صورت نکلی ہے ۔ ۔ آپ سب کا بے حد شکریہ ۔ ۔!!
جزاک اللہ


تیرگی کیوں نہ دور ہو جا تی
یہ سیاہی بھی نور ہو جاتی

ٹوٹا تارا نہ کیوں دمک اٹھتا
بخت میرا نہ کیوں چمک اٹھتا

اس جہاں میں نہ ہوتا مجھ جیسا
بے مثال اور یکتا رہ جاتا

رشک کرتیں بلندیاں مجھ پر
اور ہمالہ بھی تکتا رہ جاتا

میں نہ ہوتا مگر جو یوں ہوتا
خاکِ پاپوشِ مصطفیٰ ﷺ ہوتا

کاش ہوتا بلال (رضي الله عنه) کی آذاں
یا کہ صدیق(رضي الله عنه) کی وفا ہوتا

کاش ہوتا عمر(رضي الله عنه) کا اک آنسو
یا کہ عثمان(رضي الله عنه) کا وہ بہتا لہو

کاش ہوتا حسین(رضي الله عنه) کی للکار
یا کہ شمشیرِ حیدرِ کرارؓ

تیرے در پر جھکا ہے سر یا رب
میرا دل تجھ سے اتنا مانگے ہے

تری رحمت کی آس رکھتا ہوں
کیوں نہ پھر بھاگ میرا جاگے ہے

تیری قدرت کے کارخا نے سے
مانگتا ہوں ترے خزا نے سے

مرے اللہ کرم کا طالب ہوں
میری قسمت کو ماہتاب تو کر

میں ہوں اک ذرہ میرے مولا مجھے
اپنی رحمت سے آفتاب تو کر

(آمین)
 
Top