تنکا

زیف سید

محفلین
جگوں سے ترے در کے آگے کھڑا ہوں میں
اک دائمی پیاس لے کر
بجھی آس لے کر
مرے جلتے ماتھے کو
صندل ہتھیلی کی سوغات دے
میرے تن کے بیاباں کو
شبنم گلابوں کے باغات دے
میری چھاتی کے بنجر کو اکرام کی سبز برسات دے

شک کی سرحد پہ بھٹکے ہوئے کارواں کو
جرس کی صداؤں سے مسحور کر
روح کے تشنہ پیالے کو معمور کر
تیرہ آنگن کو جگ مگ چنبیلی سے پرنور کر
ایک موہوم سی بوند کو بے کراں کر
مری سُونی دہلیزکو اپنے درشن کی مدرا سے مخمور کر
خشک مٹی کی ڈھیری کو
اپنے مہکتے ہوئے لمس سے جاوداں کر

قیامت کے کہرام میں اک ٹھٹھرتی صدا
برف پاتال میں ٹمٹماتا دیا
تند صدیوں کے جھکڑ میں اڑتی ہوئی ایک دھجی
زمانے کے سیلاب میں ڈوبتی ڈوبتی زندگی

۔۔۔ کوئی تنکا عطا کر
 

الف عین

لائبریرین
اچھی نظم ہے زیف، مدِرا کا میں بھی لکھنے والا تھا مگر سعود نے وہی بات کہہ دی ہے، شکریہ سعود۔
البتہ اس مصرع کو دیکھیں
ایک قطرہء موہوم کو بے کراں کر
‘قطرائے‘ بحر میں آتا ہے۔
 
بھائی !میرا خیال ہے کہ ’’جگوں‘‘کی بجائے کوئی اور مناسب لفظ لایا جائے تو تفہیم اور سلاست کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔’’سرحد پر‘‘بھی ایک ناخوش گوار احساس پیدا ہوتا پے۔اسے’’سرحد پہ ‘‘ہونا چاہیے۔نصرت بخاری
 

زیف سید

محفلین
بھائی !میرا خیال ہے کہ ’’جگوں‘‘کی بجائے کوئی اور مناسب لفظ لایا جائے تو تفہیم اور سلاست کے تقاضے پورے ہو جائیں گے۔’’سرحد پر‘‘بھی ایک ناخوش گوار احساس پیدا ہوتا پے۔اسے’’سرحد پہ ‘‘ہونا چاہیے۔نصرت بخاری

جناب نصرت صاحب: نظم پڑھنے کا شکریہ۔ لمبے وقت کے دورانیے کے لیے ذاتی طور پر مجھے لفظ جُگ بہت پسند ہے۔ سادہ اور مختصر۔

“سرحد پر“ میں ٹائپو ہے جسے میں درست کر رہا ہوں۔

زیف
 
Top