تنقید کی ایک مثال

تفسیر

محفلین


ادیب برادری
السلام علیکم

میں نے ظفری صاحب سے ان کی ایک تحریر پر تنقید کی اجازت لی ہے۔ یہاں میں پہلے ان کی تحریر درج کروں گا اور پھر اس پر اپنی تنقید لکھوں گا۔ یاد رہے ظفری نے یہ تحریرگفتگو کے ایک تانے بانے میں لکھی ہے تو ان کا مقصد صرف ایک سوال سے متعلق اپنا خیال پیش کرتا تھا اور یہ انہوں نے ہاتھ کو روک کر لکھی۔ اس لیے ہم ان کو سولی پر نہیں چڑھا رہے ۔ بلکہ ان کی تحریر کو استعمال کرکے ادیب برادری کو بتا رہے ہیں کہ تبصرہ اور تنقید کے رسم و رواج اور اصول ہوتے ہیں۔ میں چاہوں گا دوسرے ادیب اور قاری بھی اس پر تبصرہ لکھیں۔ضروری نہیں کے یہ تنقید ہی ہو۔ آپ بغیر تکنیکی پوائنٹ کوشامل کیے یہ بتاسکتے ہیں کہ میں آپ کو تحریر میں کیا پسند آیا اور آپ کی رائے میں مصنف نےاس تحریر میں موضوع کو اچھی طرح پیش کیا۔ ہمشہ مثبتی لکھیے۔ مثال کے طور پر یہ نا لکھیں کے " مجھے اس بات سے بالکل اتفاق نہیں" ، یہ لکھیں ": ہم یہ دوسرا پہلو سے بھی دیکھ سکتے ہیں جس کو اس تحریر میں شامل کرکے اس کے جواب بھی بتائے جاتے تاکہ قاری کو مسلہء کے دو نوں رخ دیکھنے کو ملتے" وغیرہ

میں آپ سب لوگوں کو مدعو کرتا ہوں ، جن کے نام یہاں ہیں اور جن کے نام یہاں نہیں ہیں۔ وقت کی قید نہیں ۔ اپنے وقت کے لحاظ آپ لکھیں اور یہاں‌ پوسٹ کریں

شکریہ
والسلام
تفسیر

اعجاز صاحب
محمدوارث
ابن سعید
سخنوار
فاتع
عبدالرحمن سید
م م مغل
یونس رضا
خرم شہزاد خرم
زرقا مفتی
سیدہ شگفتہ
ایم بلال

[line]

سوال
" کسی بھی رشتے کی کامیابی اور ناکامی کے کیا عوامل ہو سکتے ہیں"

محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے
ظفری

معاشرے میں انسانوں کے ایک دوسرے سے تعلقات اور روابط کو رشتوں کا نام دیا جاتا ہے ۔ یہ رشتے مخلتف نوعیت کے ہوسکتے ہیں ۔ چونکہ رشتوں کی یہ نوعیت مخلتف ہوتی ہے اس وجہ سے رشتوں میں پختگی ، مضبوطی ، اور دیگر عوامل کے معیار کے مخلتف ہونےکا بھی امکان موجود رہتا ہے ۔ معاشرے سے لیکر خاندان اور خاندان سے لیکر ایک فرد تک رشتوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ اور ہر رشتے کی طنابیں ، احساس سے مزین ہوتی ہیں ۔ اور یہ احساس ، انسان کے اندر اس کی اپنی فطرت ، ذاتی خواہشات اور دلچسپی کا مرہونِ منت ہوتا ہے ۔ چونکہ کسی بھی رشتہ کے وجود کے لیئے ایک سے زائد فرد کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس لیئے کوئی بھی رشتہ ، فریقین کی صورت میں ظہور پذیر ہوجاتا ہے ۔ جہاں مختلف فطرت ، مختلف سوچ ، مختلف نظریات ، مختلف رحجانات اور مخلتف توقعات کارفرما ہوتیں ہیں ۔ چنانچہ اس احساس کی شدت جو کسی بھی رشتے میں ایک بنیاد کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اس میں اتار چڑھاؤ ، وقت اور حالات کی تبدیلی کے ساتھ پیدا ہوتا رہتا ہے ۔ رشتہ کسی بھی نوعیت کا ہو ۔ وہ اسی احساس کی شدت کے گرد گھومتا ہے ۔ ہم اسی احساس کو خلوص ، محبت ، نفرت ، اور دیگر چیزوں سے تعبیر کرتے ہیں ۔ اور اس احساس کی شدت میں کمی وبیشی ہمیں رشتوں میں درجات بنانے پر مجبور کرتی ہے ۔

رشتوں میں کامیابی اور ناکامیابی کا انحصار فریقین کے مابین امیدوں اور توقعات کے توازن پر ہوتا ہے ۔ محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے ۔ احساس کی نوعیت جیسی ہوگی ۔ یہ عوامل بھی اسی سطح پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے ۔ ہر رشتہ میں خلوص اور محبت پائی جاتی ہے ۔ ( میرے نزدیک رشتہ اسی کا نام ہے ) مگر احساس کی نوعیت قدرے مختلف ہوگی ۔ اسی نوعیت پر رشتے کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہوتا ہے ۔ اگر انسان میں یہ احساس ، محبت سے سرشار ہو اور اس میں خلوص اپنی انتہا پر پہنچا ہوا ہو تو اس احساس کی نوعیت انتہائی درجے پر ہوگی ۔ اس صورتحال میں آدمی اس رشتے کو ہمیشہ مقدم رکھے گا جس سے یہ احساس منسلک ہوگا ۔ کم و بیش اگر یہ معاملہ کسی فریقین کے مابین موجود ہو تو رشتے میں ہم آہنگی کے ساتھ اس کی کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں ۔ کیونکہ یہاں امیدوں اور توقعات میں ایسا توازن پیدا ہوجاتا ہے ، جو کبھی بھی اپنے دائرہِ اختیار باہر سفر اختیار نہیں کرتے ۔ اور یہی دائرہ کار رشتوں کو ایک دوسرے کی اہمیت کا احساس دلاتے ہیں ۔ اگر ایسا ہوگا تو رشتہ پائیدار اور دیرپا ہوگا ۔ ورنہ بصورتِ دیگر اس میں دڑاریں پڑنے جانے کا خطرہ پیدا ہوجاتا ہے ۔

میں آپ کو ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں ۔ بات مختصر کروں گا کہ طوالت کی صورت میں موضوع اپنے پیرائے سے باہر نکل جائے گا ۔

فرض کریں کہ آپ ایک آرٹیکٹ ہیں ۔ آپ نے سوچا کہ ایک عمارت بنائی جائے ۔ یہ احساس ہے ۔ آپ نے پوری تندہی سے اس منصوبے " احساس " پر کام کیا کہ کہاں کیسے چوکھٹیں لگائیں جائیں ۔ کہاں کیسا در ہوگا ۔ عمارت کا کلر کیسا ہوگا ۔ غرض یہ کہ آپ نے اس کی بھرپور ڈیزائنگ کی ۔ یہ خلوص ہے ۔ جب عمارت بن کے سامنے آگئی تو یہ محبت ہے ۔ یعنی محبت ایک آؤٹ پٹ ہے ۔ خلوص ایک پروسیجیر ہے ۔ اور احساس ایک پروگرام ہے ۔
اب میری تحریر کے اس جملے کو دیکھیں " محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے ۔ "

میرا خیال ہے کہ اب احساس ، خلوص اور محبت کے درمیان کا تیکنکی فرق واضع ہوگیا ہوگا ۔


[line]
تبصرہ وتنقید

محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے
تفسیراحمد

کچھ دنوں پہلےظفری صاحب کی ایک تحریر پر نظر پڑی۔ تحریر “ کسی بھی رشتے کی کامیابی اور ناکامی کے کیا عوامل ہو سکتے ہیں“ کے جواب میں پیش کی گئی تھی۔ ظفری نہ صرف شاعر ہیں بلکہ ایک اچھے تحریر نگار بھی ہیں۔ اس کا انداز تحقیقانہ ہوتا ہے اور ان کی تحریرمیں پختگی ہوتی ہے۔ ان کے خیالات منتشر نہیں ہوتے بلکہ ایک خیال کو مکمل اور تفصیل سے پیش کرتے ہیں۔ بعض دفعہ ان کے الفاظ انتخاب اسے ہم سروں کے لیے مخصوص کردیتا ۔اور بعض دفعہ وہ اسے عام فہم کردیتے ہیں ۔ اس تحریر کا مرکزی خیال " محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے“ ہے ۔

پہلی دفعہ پڑھنے میں ایسا لگتا ہے کہ ان کا خطاب ہم سر ہیں۔ مگر دوسری دفعہ پڑھنے سے مطلب واضع ہونے لگتا ہے۔ بعض دفعہ ایک تحریر کو سمجھنے کے لیے اسے کئی بار پڑھنا ضروری ہوتا ہے اور یہاں یہی بات ان کے قارئین کے سوالات سے ظاہر ہوتی ہے۔

وہ احساس اور اس کے اردگرد تانا بنتے ہیں ۔ ان کے خیال میں “خلوص ، محبت ، نفرت اور دوسری چیزیں “ احساس کے مختلف درجوں کےنام ہیں۔ اور رشتوں کی کامیابی اور ناکامیابی کا دارومدار احساس پر ہے۔اور احساس کی شدت کا احساس دلاتے ہیں۔

لیکن ان کی تحریر میں احساس کیا ہے؟ ظاہر نہیں ہوتا۔۔۔ وہ ہمیں احساس کی نوعیت بتاتے ہیں۔۔۔ مگر وہ نوعیت کی تعریف بکھری ہوئی ہے۔ احساس میں محبت کی موجودگی کو ظاہر کرتے ہیں اور اس کی بنا پر خلوص کی بلندی کا اظہار کرتے ہیں۔ رشتے سے احساس کے نوعیت کی بنا پر رشتہ کا منسلک ہونا بتاتے ہیں۔ اور “یہ احساس ، انسان کے اندر اس کی اپنی فطرت ، ذاتی خواہشات اور دلچسپی کا مرہونِ منت ہوتا ہے “۔
ان کا کہنا ہے کہ “ہر رشتہ میں خلوص اور محبت پائی جاتی ہے ( میرے نزدیک رشتہ اسی کا نام ہے ) “ کیونکہ پر رشتہ میں خلوص محبت پائی جاتی جاتی ہے اور خلوص و محبت احساس کا ایک درجہ ہیں اس لیے رشتہ احساس ہے۔

اگے چل کر ہماری آسانی کے لیے ایک مثال ہے دیتے ہیں جس میں وہ احساس کو “ پروگرام “ سے خلوص کو “ پروسیجر“ سے اور محبت “ آؤٹ پٹ“ سے نسبت دیتے ہیں ۔۔۔ وہ مضمون کو اس جملے پر ختم کرتے ہیں “ احساس ، خلوص اور محبت کے درمیان کا تیکنکی فرق واضع ہوگیا ہوگا ۔
مثال کے چنے سے یہ ظاہر ہوتا کے اس تحریر میں رشتہ جو ایک عمل ہے اور احساس، خلوص، محبت جو جذبات ہیں کے درمیان ہ تفریق نہیں کرتے۔

ہمیں احساس سے متعلق تمام تفصیل پتہ چل جاتی ہے لیکن احساس کیا ہے ؟ یہ سوال قارئین کے ذہن میں رہ جاتا۔

[line]
 

الف عین

لائبریرین
شکریہ تفسیر کہ مجھ کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔ میں تو اس تانے بانے کو ہمیشہ کی طرح سونگھ کر گزر گیا تھا۔ میں فلسفے سے دور بھاگتا ہوں۔ اس لئے فہرست میں اس تانے بانے کا مطلب کسی بھی رشتے کی کامیابی اور ناکامی کے کیا عوامل ہو سکتے ہیں" کو کلک بھی نہیں کیا تھا۔ اب یہاں اپنا نا دیکھا تو آنا پڑا۔
محب کا الفاظ کا انتخاب اکثر بہت خوب ہوتا ہے۔ پر مزاح تحریریں تو میں نے ان کی اکر پڑھی ہیں، سنجیدہ تحریر یہ پہلی بار دیکھی ہے۔ اور کیوں کہ فلسفیانہ ہے، اس لئے مجھ سے کند ذہن تک درست تفہیم نہیں ہو سکی ہے۔ اس میںسراسر میرا ذہن موردِ الزام ہے۔ کہ اتنی سنجیدہ تحریر پر غور نہیں کر سکتا۔ یا بقول ابنِ صفی، سڑے ہوئے تربوز کے پھٹ جانے کا خطرہ ہو جاتا ہے۔
تشبیہات تو اچھی دی ہیں محب نے، بات سمجھانے کی کوشش بہت کی ہے۔ لیکن پھر بھی اتنی ترسیل ممکن نہیں ہو سکی ہے کہ عام انسان بھی سمجھ سکے۔ جب بات ہی درست سمجھ میں نہ آئے تو کیا کہا جا سکتا ہے کہ احساس اور رشتے کا باہم تعلق کیا ہے محب کی نظر میں۔
 

ظفری

لائبریرین
استادِ محترم ۔۔۔۔۔ تفسیر صاحب نے یہاں جس تحریر کو موضوعِ بحث بنایا ہے وہ محب کی نہیں بلکہ ۔۔۔۔ آپ کے اس نالائق شاگرد کی ہے ۔ :)
 

مغزل

محفلین
ظفری صاحب۔۔ ما شا اللہ خوب تحریر ہے۔۔
آپ نے ایک حساس موضوع پر قلم اٹھا کر مجھ ایسے طفلِ مکتب پر نہ صرف احسان کیا ہے بلکہ
میرے لیے حصولِ علم کے کئی در کھول دیئے ہیں۔۔۔ گو کہ آپ نے مکمل غیر جانداری سے بات کی اور
گفتگو کو محض لفظی دروبست کا اسیر کئے بغیر بڑی خوبصورتی سے نہ صرف ذاتی مشاہدے اور مطالعے
کو سپردِ قلم کیا ہے بلکہ حیطہءِ متعلقہ پر دیگر آراءکو زیر بحث لائے ہیںلیکن یہ موضوع مختصر تحریرکی
وجہ سے خاصا تشنہ ہے۔ میں منتظر ہوں کہ جب الف عین صاحب، وارث صاحب، محسن حجازی صاحب ،
شمشاد صاحب اور دیگر زعماءاس موضوع پر مزید گفتگو فرمائیں ،
میری ناچیز رائے میں آپ کی تحریر پر دو رائے نہیں ہیں بلکہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آپ نے فرمایا۔
میر ی جانب سے مبارکباد وقبول کیجئے۔
ارادت کیش
م۔م۔مغل
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
السلام علیکم تفسیر بھائی بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا
ظفری بھائی آپ کی تحریر "محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے “ بہت اچھا لگا بہت ہی پیارے انداز میں آپ نے محبت خلوص اور احساس کے بارے میں بات کی لیکن بہت ساری باتیں آپ نے مکمل نہیں کی جیسے تفسیر بھائی نے بھی بتایا ہے آپ کی تحریر میں اور عنوان میں بھی مجھے فرق لگا ویسے آپ خود غور کرے آپ نے جو عنوان رکھا ہے اور جو آپ نے مثال دی ہے ان دونوں میں کتنا فرق ہے اور ایک جگہ آپ نے لکھا
اور دیگر عوامل کے معیار کے مخلتف ہونےکا بھی امکان موجود رہتا ہے ۔ معاشرے سے لیکر خاندان اور خاندان سے لیکر ایک فرد تک رشتوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ اور ہر رشتے کی طنابیں ، احساس سے مزین
اور اس کے بعد آپ اسی جگہ پہ یہ بھی لکھتے ہیں
چونکہ کسی بھی رشتہ کے وجود کے لیئے ایک سے زائد فرد کی ضرورت ہوتی ہے اب میرے نزدیک ان دونوں باتوں میں بھی فرق ہے
 

محسن حجازی

محفلین
تحریر ایک الٹے ہرم کی مانند محسوس ہوتی ہے جو آہستہ آہستہ مرکوز ہوتا ہوا ایک نوک پر جا ٹکتا ہے:
محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے
بہرطور میں طفل مکتب بھی نہیں اور تنقید و تخلیق کے اسلوب سے بھی نا بلد ہوں تاہم جو میرا تاثر بنا وہ یہی ہے۔
 

ظفری

لائبریرین
اس سے پہلے کہ میں اپنی اس تحریر کے متعلق کچھ وضاحتیں پیش کروں ۔ میں یہ کہنا چاہوں گا کہ میرے لیئے یہ فخر اور خوشی کی بات ہے کہ تفسیر صاحب نے میری اس تحریر کو موضوعِ بحث بنایا ۔ اور آپ تمام ساتھیوں نے اس دھاگے میں نہ صرف اپنی دلچسپی کا اظہار کیا بلکہ اس کو اپنی مفید رائے اور تعریف سے بھی نوازا ۔ اس کے لیئے میں آپ سب کا ممنون ہوں ۔

جیسا کہ تفسیر بھائی نے کہا کہ " یاد رہے ظفری نے یہ تحریرگفتگو کے ایک تانے بانے میں لکھی ہے تو ان کا مقصد صرف ایک سوال سے متعلق اپنا خیال پیش کرتا تھا اور یہ انہوں نے ہاتھ کو روک کر لکھی ۔ "
تو اس سلسلے میں یہ بات واضع رہے کہ تعبیر صاحبہ کے ایک دھاگے میں جو سوال اٹھایا گیا تھا ۔ میں نے اسی ضمن میں اپنے اس خیال کا اظہار کیا ہے ۔ وہاں صرف رشتوں کی کامیابی اور ناکامیابی کی وجوہات پر روشنی ڈالنا تھا ۔ چنانچہ موضوع اور سوال کی نوعیت کے پیش ِ نظر میری یہ کوشش رہی کہ میں گفتگو کو موضوع کے پیرائے میں رکھوں ۔ اور سوال کا مطلوبہ جواب کسی حد تک واضع بھی کرسکوں ۔ اس سلسلے میں تفسیر صاحب نے میری دو مخلتف پوسٹوں کو کوٹ کیا ہے ۔ پہلی پوسٹ ، دھاگے کے سوال کے ضمن میں تھی اور جبکہ دوسری پوسٹ تعبیر جی اس درخواست کے جواب میں تھی کہ پہلی پوسٹ کا ان پر میرا استدلال واضع نہیں ہوسکا ہے ۔ لہذا میں نے اپنی دوسرے پوسٹ میں اسے ایک مثال سے سمجھانے کی کوشش کی ۔

موضوع بہت حساس اور وسیع ہے ۔ مگر میں نے اس ٹاپک پر مذید طوالت سے گریز کیا ۔ اور اپنی بات کو صرف سوال کے تقاضے کے مطابق ہی رکھا ۔ جس سے میری گفتگو میں کئی ایک پہلو تشنہ رہ گئے ۔ جن میں سے چند ایک کا ذکر تفسیر صاحب نے اپنی تنقید میں کیا ہے ۔ میں اپنی ان باتوں کی وضاحت انشاءاللہ ضرور کروں‌گا ۔

مگر میرے کہنے کا مقصد یہاں صرف یہ تھا کہ میری تحریر میں " محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے " وہ بے شک ایک مرکزی خیال ہے ۔ مگر وہ موضوع ہرگز نہ تھا ۔ موضوع صرف " رشتوں کے حوالے سے کامیابی اور ناکامیابی کی وجوہات " تھا ۔ اب جبکہ گفتگو ، سوال سے نکل کر آگے بہت پھیل چکی ہے تو اس تحریر کو اس مرکزی خیال کے تناظر میں دیکھنا صحیح نہ ہوگا ۔ لہذا اب ہم اس " احساس " کی بات کریں گے ۔ جس کو تفسیر صاحب کے مطابق ، قارئین سجھنے سے قاصر ہیں ۔ انشاء اللہ اگلی نشست میں میری کوشش ہوگی کہ میں اس بارے میں کوئی بھرپور استدلال پیش کر سکوں ۔
 

ظفری

لائبریرین
السلام علیکم تفسیر بھائی بہت اچھا سلسلہ شروع کیا ہے اس سے بہت کچھ سیکھنے کو ملے گا
ظفری بھائی آپ کی تحریر "محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے “ بہت اچھا لگا بہت ہی پیارے انداز میں آپ نے محبت خلوص اور احساس کے بارے میں بات کی لیکن بہت ساری باتیں آپ نے مکمل نہیں کی جیسے تفسیر بھائی نے بھی بتایا ہے آپ کی تحریر میں اور عنوان میں بھی مجھے فرق لگا ویسے آپ خود غور کرے آپ نے جو عنوان رکھا ہے اور جو آپ نے مثال دی ہے ان دونوں میں کتنا فرق ہے اور ایک جگہ آپ نے لکھا
اور دیگر عوامل کے معیار کے مخلتف ہونےکا بھی امکان موجود رہتا ہے ۔ معاشرے سے لیکر خاندان اور خاندان سے لیکر ایک فرد تک رشتوں کا ایک طویل سلسلہ پھیلا ہوا ہوتا ہے ۔ اور ہر رشتے کی طنابیں ، احساس سے مزین
اور اس کے بعد آپ اسی جگہ پہ یہ بھی لکھتے ہیں
چونکہ کسی بھی رشتہ کے وجود کے لیئے ایک سے زائد فرد کی ضرورت ہوتی ہے اب میرے نزدیک ان دونوں باتوں میں بھی فرق ہے
خرم بھائی میں وضاحت کرچکا ہوں کہ یہ تحریر کسی عنوان کو سامنے رکھ کر نہیں لکھی گئی بلکہ ایک سوال کے جواب میں رشتوں کے بارے میں میرا استدلال یا نقطہِ نظر تھا ۔
ہاں ۔۔۔ آپ کی دوسری بات دلچسپ ہے ۔ آپ دونوں باتوں میں جو فرق دیکھ رہے ہیں ۔ اگر اسے اپنے الفاظ میں واضع کردیں تو مجھے بیحد خوشی ہوگی ۔ ہوسکتا ہے اس طرح سوچ کے اور کئی دروازے ہم پر وا ہوں اور ہم کو ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع مل سکے ۔
 
استادِ محترم ۔۔۔۔۔ تفسیر صاحب نے یہاں جس تحریر کو موضوعِ بحث بنایا ہے وہ محب کی نہیں بلکہ ۔۔۔۔ آپ کے اس نالائق شاگرد کی ہے ۔ :)

شکر ہے میں نام کی تصیح کرنے جا رہا تھا کہ اچانک آپ کا میسیج میدان میں کود گیا ۔۔۔۔ :) ویسے تبصرہ تو میں کرونگا کیونکہ تفسیر بھائی نے نام لکھ دیا ہے۔۔۔۔ دوسرے اس لئے بھی کرونگا کیونکہ یہاں حجتی ماحول نظر نہیں آ رہا ہے۔۔۔ ورنہ میں حجتوں سے دور بھاگتا ہوں۔۔۔۔ تیسرے یہ کہ ظفری میں قوت برداشت خاصی سے زیادہ ہے ، تحمل و اعتدال ہے۔۔۔ اور چوتھے اس لئے کہ ۔۔۔۔۔۔

تچھ میں وہ حسن ہے اے جاں کہ بجز عہد وفا
کوئی چارہ ہی نہیں تیرے گرفتار کے پاس

:)
 
سلام میں اس اعزاز پر شکر گزار ہوں کہ اس بندہ ناچیز کو آپ نے اس قابل سمجھا کہ کچھ کہہ سکوں ۔۔۔۔ گو کہ میں اس قابل نہیں ہوں ۔۔۔۔ میرا پروفیشن ادب سے خاصا فاصلے پر ہے بلکہ لکھنے لکھانے کی کوشش کرتا ہوں تو وہ کھٹی میٹھی ہوجاتی ہے۔۔ ۔ ۔اور ایک بات پر میں خوش ہوں کہ لوگ انہیں ٹیبلیٹ اور کیپسول سمجھ کر نگل جاتے ہیں ۔۔۔ اب یہ کتنی ہضم ہوتی ہیں اور کتنی نہیں اس کا اندازہ تو بصورت افاقہ ہی نظر آئے گا جو ابھی تک ۔۔۔۔۔ خیر :)

ظفری کی تحریر ماشااللہ کافی اچھی تھی۔۔۔۔ بات ہے سمجھ کی کہ کان ادھر سے پکڑو یا ادھر سے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں احساس سے ابتدا کرتا ہوں۔۔۔۔

محبت خلوص سے مشروط ہے اور خلوص احساس سے

اصل چیز ہے "محبت" جو کسی بھی رشتے ہی بنیاد ہوتی ہے ۔۔۔۔ "خلوص" حلاوت ہے اس جذبے کی۔۔۔۔۔۔ اور "احساس" محبت اور اسکی حلاوت یعنی خلوص کی ایک مجسم کیفیت کا نام ہے۔۔۔۔ مگر احساس مشروط ہے کسی بھی جذبے کے ہونے سے۔۔۔۔ احساس بذات خود کچھ بھی نہیں مگر یہ جسم میں روح کی مانند ہے کہ جسم صرف اس وقت حرکت کرتا ہے جب روح حرکت کرواتی ہے۔۔۔ جیسے آستیں کی حرکت بازو کی حرکت سے مشروط ہے۔۔۔۔۔ سوچنا یہ ہے کہ بازو کی حرکت کس چیز سے مشروط ہے۔۔۔۔ اگر اس کا جواب روح کی حرکت ہے تو پھر سیدھا سا جواب اجاتا ہے۔۔۔۔ کہ وہ محبت ہے ۔۔۔۔۔

احساس آستین کی حرکت ہے ۔۔۔۔۔
خلوص بازو کی حرکت ہے
اور محبت روح کی حرکت ہے جو ان دونوں کو حرکت پر مجبور کرتا ہے۔۔۔۔۔

اب بات آگے بڑھے تو پھر کچھ اور۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ :)

یہ عبارت کہ جو بے زیر و زبر لکھی گئی
وہی سمجھیں گے جو زیر و زبر جانتے ہیں
 

ظفری

لائبریرین
معافی کا خواستگار ہوں کہ مجھے اپنی یہ تحریر یہاں پوسٹ نہیں کرنی تھی ۔ بلکہ یہ کچھ عجلت میں ہوگیا ۔ مگر اب میں نے یہاں ‌سے اسے حذف کرکے وہیں پوسٹ کردیا ہے ۔ جہاں سے اس بحث کا آغاز ہوا تھا ۔ :)
 

خرم شہزاد خرم

لائبریرین
میں یہ سمجھ رہا تھا کے اس دھاگے میں ظفری بھائی اپنے خیالات کا اظہار نہیں کرے گے کیوں کے ہماری طرف تو صرف سنا جاتا ہے:) حلقہ اربابِ ذوق کی بات کر رہا ہوں
 
Top