تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو -راحیلؔ فاروق

تم جو کہو مناسب، تم جو بتاؤ سو ہو
اب عشق ہو گیا ہے، میری بلا سے جو ہو

سنتے تھے عاشقی میں خطرہ ہے جان کا بھی
نیت ملاحظہ ہو، ہم نے کہا "چلو، ہو!”

نازک تھا آبگینہ پر کھیل کھیل ہی میں
چوٹ ایسی پڑ گئی ہے پتھر تڑخ کے دو ہو

ڈھے جائے گی کسی دن دل کی عمارت آخر
کچھ گھر پہ بھی توجہ، اے گھر کے باسیو! ہو

مدت کے بعد ان سے باتیں ہوئیں بھی تو کیا
ہم بے وفا تھے؟ اچھا! تم با وفا تھے؟ اوہو!

کوچے میں جو بظاہر فریاد ہے گدا کی
شاید وہ سب سنانا مقصود آپ کو ہو

کرتے ہیں بات اس سے، کہتے ہیں حال تیرا
ٹک دم چھری تلے لے، راحیلؔ! صبح تو ہو​
راحیلؔ فاروق
راحیل بھائی کی اپنی آواز میں
 

عینی مروت

محفلین
ڈھے جائے گی کسی دن دل کی عمارت آخر
کچھ گھر پہ بھی توجہ، اے گھر کے باسیو! ہو


وااااہ کیا لکھا ہے
بہت خوب!
 

محمد وارث

لائبریرین
شکریہ جناب کلام اور ویڈیو ارسال فرمانے کے لیے۔

راحیل صاحب کی زیارت اور آواز سننے کا شرف ہمیں حاصل ہو چکا ہے، یہیں محفل پر ان کی تصاویر بھی دیکھی ہیں اور ان کا ایک مضمون بھی ان کی آواز میں سنا تھا۔ آج ان کو مشاعرہ پڑھتے ہوئے بھی دیکھ لیا۔

لیکن صحیح معنوں میں جس چیز کی زیارت کا شرف اس ویڈیو سے حاصل ہوا ہے وہ "ڈیجیٹل" بیاض ہے۔ :)
 
شکریہ جناب کلام اور ویڈیو ارسال فرمانے کے لیے۔

راحیل صاحب کی زیارت اور آواز سننے کا شرف ہمیں حاصل ہو چکا ہے، یہیں محفل پر ان کی تصاویر بھی دیکھی ہیں اور ان کا ایک مضمون بھی ان کی آواز میں سنا تھا۔ آج ان کو مشاعرہ پڑھتے ہوئے بھی دیکھ لیا۔

لیکن صحیح معنوں میں جس چیز کی زیارت کا شرف اس ویڈیو سے حاصل ہوا ہے وہ "ڈیجیٹل" بیاض ہے۔ :)
شکریہ سر آپ کا بھی :)
 
Top