تحریرِ آبِ زرر۔۔ اعجاز عبید

الف عین نے 'اردو شاعری' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 13, 2007

  1. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تھیں اک سکوت سے ظاہر محبتیں اپنی
    اب آنسوؤں نے بھی بخشیں عنائتیں اپنی
    کہ برگ ہائے خزاں دیدہ جوں اڑائے ہوا
    کشاں کشاں لیے پھرتی ہیں وحشتیں اپنی
    سبھی کو شک ہے کہ خود ہم میں بے وفائی ہے
    کہاں کہاں نہ ہوئی ہیں شکایتیں اپنی
    چلے جہاں سے تھے اب آؤ لوٹ جائیں وہیں
    نکالیں راہوں نے ہم سے عداوتیں اپنی
    کچھ اور کر دے گی بوجھل فضا کو خاموشی
    چلو کہ شور مچائیں شرارتیں اپنی
    ہمارا جو بھی تعلق تھا، اس کے دم سے تھا
    لو آج ختم ہوئیں سب رقابتیں اپنی

    1973ء
     
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دل میں اک بارِ گراں ہے اپنا
    لب سے اترا تو زیاں ہے اپنا
    ہم تو تھے دوشِ ہوا کے راہی
    کیسے صحرا میں نشاں ہے اپنا
    ایک احساس جِلایا تھا کبھی
    اب وہی دشمنِ جاں ہے اپنا
    چھپ کے ہم دیکھتے رہتے تھے جسے
    اب وہی تو نِگَراں ہے اپنا
    اب بھی اشعار تو کہہ لیتے ہیں
    اتنا احساس جواں ہے اپنا
    ذوقؔ کہتے ہیں دکن کو ہی چلیں
    کوئی دلّی میں کہاں ہے اپنا

    1973ء
     
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نہ اپنی آنکھ میں تھا ایک بوند پانی بھی
    نہ جانے کیسے مگر آ گئی روانی بھی
    وہ پھول، پھول کی خوشبو ، وہ رنگ بھیگ چلے
    لو آج بیت گئی ایک رُت سہانی بھی
    وہی بھی اپنی بچھڑنے کی شام بھی لیکن
    وہی تھی ایک نئی صبح کی کہانی بھی
    ہوں تیرے رحم و کرم پر، جَلائے یا کہ بجھائے
    کہ تیرے ہاتھوں میں اب آگ بھی ہے پانی بھی
    وہ دھوپ ہو گی کہ بیتائی سب کی گم ہو گی
    نظر نہ آئے گا جب رنگِ آسمانی بھی

    1973ء
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    کچھ اضطراب سا ہے ، کچھ خلفشار سا ہے
    شاید کہ ربط اس سے کچھ اپنا پیار سا ہے
    ہر رات جلنا بجھنا اپنا نصیب ہے اب
    آنکھوں میں ہے نمی سی دل میں شرار سا ہے
    ملنے کی اس گھڑی میں ہم کیسے بھول جائیں
    ہم بھی ہیں پاک طینت، اور وہ بھی پارسا ہے
    سمجھے تھے ہم ہوائیں کیا کر سکیں گی اپنا
    لیکن بدن میں ہر پل کچھ انتشار سا ہے
    بکھرے فضا میں اس کی باتوں کے سرخ پتّے
    کچھ یوں لگا کہ موسم فصلِ بہار سا ہے

    1974ء
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دو قطروں کی مانند ہیں، مل جائیں گے ہم تم
    اب کے جو کسی موڑ پہ ٹکرائیں گے ہم تم
    کچھ نور بھری انگلیاں حرکت ہمیں دیں گی
    یوں ہو گا کہ اک دھاگے میں بندھ جائیں گے ہم تم
    اندر جو کسی ساز کی دھن کا سا سکوں ہو
    ہر شور بھری بزم سے اُٹھ آئیں گے ہم تم
    جذبات کا بندھن کوئی کمزور نہ ہوگا
    شبنم کی طرح کیسے بکھر جائیں گے ہم تم
    اک چھوٹا سا گھر، ایک بہت نیک سی لڑکی
    اس خواب کی تعبیر پہ مُسکائیں گے ہم تم
    خرگوش ، ہرن، جاگتی سوتی ہوئی گڑیاں
    کس شے کی بھلا اور کمی پائیں گے ہم تم

    1974ء
     
  6. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ان اندھیروں میں چاند آ اُترے
    مسکرا دو اداس ہم بھی ہیں
    پیڑ اندھیرے، یہاں وہاں جگنو
    اور کہیں آس پاس ہم بھی ہیں
    تم وہ ستلج نہیں کہ پاس آؤ
    یوں سدا کے بیاس ہم بھی ہیں
    کیسے لمحے ہیں تم بھی نروس ہو
    اور کچھ بدحواس ہم بھی ہیں
    ایک پل میں حقیقتیں بن جائیں
    ایسی حدِّ قیاس ہم بھی ہیں

    1974ء
     
  7. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نہ کوئی زخم کبھی ہم چھپا سکے تجھ سے
    تمام عمر رہے ایسے سلسلے تجھ سے
    ہزار بار وہ شکوے بھی کر گیا ہوں میں
    جو آج لگتا ہے مجھ کو کبھی نہ تھے مجھ سے
    وہ بات، جب مری بھی گنگ ہو گئی تھی زباں
    رُکے سے لفظ کئی بولتے ہوئے تجھ سے
    تو ایک گہرے سمندر کی موج ہے معلوم
    میں شعلہ شعلہ ہوں، پھر بھی ملوں گلے تجھ سے
    مسافتوں کی تھکن سے وہ بات کہہ نہ سکے
    جو میلوں دور سے کہنے کو آئے تھے تجھ سے
    لکھوں تو صفحے کے صفحے سیاہ کر ڈالوں
    میں کچھ بھی کہہ نہ سکوں تیرے سامنے تجھ سے

    1974ء
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    ایک اک شاخ پر دیپ چمکے وہ طلسمی تماشہ کریں ہم
    دونوں چُپ چاپ کھڑکی میں بیٹھے، چاندنی سے سویرا کریں ہم
    ایک چھوٹا سہانا سا آنگن۔ چائے کی گنگناتی پبالی
    مسکراتی ہوئی ایک لڑکی۔ اور اب کیا تمنّا کریں ہم
    کیا پتہ تھا کہ اپنی دعائیں اتنی جلدی حقیقت بنیں گی
    تم حنا سے ہتھیلی میں لکھ دو ’شکر ادا اب خدا کا کریں ہم‘
    اپنا اک چمپئی آسماں ہو، جس پہ اک سرخ سا چاند چمکے
    اک سنہرے جزیرے پہ بیٹھے۔ نام پانی پہ لکھّا کریں ہم
    اپنے ہونٹوں سے لکھ دو ہوا پر کوئی پیغام میرے لیے تم
    اور اپنی مسرّت کے آنسو بادلوں سے روانہ کریں ہم
    لمحہ لمحہ ۔۔۔ پھر ایک اور لمحہ ۔۔۔ کتنا طولانی پہ قافلہ ہے
    کرنیں ، پِھر کرنیں ۔۔۔ کچھ اور کرنیں ۔۔ رات بھر یوں نہایا کریں ہم
    پیار کے ننھے سے جگنوؤں نے (خون کے ساتھ جو بہہ رہے تھے)
    کردیا اتنا روشن، جو چاہیں، چاند بن کر اجالا کریں ہم

    1974ء
     
  9. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    نئے سفر میں ، جو پچھلے سفر کے ساتھی تھے
    پھر آئے یاد کہ اس رہگزر کے ساتھی تھے
    کہوں بھی کیا مجھے پل بھر میں جو بکھیر گئے
    ہوا کے جھونکے مری عمر بھر کے ساتھی تھے
    ستارے ٹوٹ گئے ، اوس بھی بکھر سی گئی
    یہی تھے جو مری شام و سحر کے ساتھی تھے
    شفق کے ساتھ بہت دیر تک دکھائی دیئے
    وہ سارے لوگ جو بس رات بھر کے ساتھی تھے
    یہ کیسی ہجر کی شب ، وہ بھی ساتھ چھوڑ گئے
    جو چاند تارے مری چشمِ تر کے ساتھی تھے

    1974ء
     
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ جرم ہے تو کوئی سخت حکمِ شاہی دے
    مری وفا کی مجھے عمر بھر سزا ہی دے
    بہت عظیم ہے ، مانا، تو اے ہوا ، مددے
    ہمیں بھی ایک دو پل زعمِ کج کلاہی دے
    ہر ایک موج نے سر ڈال کر دعا مانگی
    کہ ٹھہرے ٹھہرے سے پانی کو رنگِ کاہی دے
    تجھی کو ٹوٹ کے چاہوں، ترے لیئے ہی جُڑوں
    کرے نہ پیار، تو پھر مجھ کو یہ دعا ہی دے
    جز اک گلِ خزاں شاعر کے پاس کیا تحفہ
    جز ایک قطرۂ خون اور کیا سپاہی دے
    اندھیرے آئنے بننے کو مضطرب ہیں عبیدؔ
    کوئی نشانِ افق صبح کا پتا ہی دے

    1974ء
     
  11. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    (چھند ’’ دوبا‘‘)

    موجیں بولیں چوم لیں، پھول بھری اک ناؤ
    چپکے چپکے رو دیا، پانی پانی بہاؤ
    اونچے سُروں میں چھیڑ دی متوالوں نے ہیر
    دھیمے دھیمے جل اٹھا ، بیچ میں ایک الاؤ
    ابھی ابھی تو گھنٹیاں مجھ میں بجتی تھیں
    تھمتے ہی برسات کے ، یہ کیسا ٹھہراؤ
    کچھ کہنے کو بچا نہیں ، پھر بھی کچھ تو ہے
    جلتی بجھتی رات میں گیت ہی کوئی سناؤ
    ایسا ہو کہ یہ خامشی، بن نہ سکے آزار
    چپ کب تک بیٹھے رہیں، برتن ہی کھنکاؤ

    1974ء
     
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    زمین رک سی گئی تھی تو آسمان ٹھہرا
    ہمیں گزرتے گئے رہ گیا جہاں ٹھہرا
    سبھی یہ سمجھے کہ منزل نہیں ملی ہم کو
    ہمارے سر میں جو سودا تھا رائیگاں ٹھہرا
    ہزار بار صدا دی سکوت نے لیکن
    مری رگوں کا لہو قافلہ کہاں ٹھہرا
    وہ اک سحر کہ سب افراد گھر کے روئے تھے
    پھر اس کے بعد نہ میرا کوئی مکاں ٹھہرا
    وہ سیل تھا کہ خبر تھی نہ بہنے والوں کی
    شمول کس کا ہوا کب، کوئی کہاں ٹھہرا

    1974ء
     
  13. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    سو غموں کا ترا اک غم ہی مداوا نکلا
    تجھ کو قاتل میں سمجھتا تھا، مسیحا نکلا
    سوچتا تھا کہ رکھوں سبز غموں کی فصلیں
    اور آنکھوں میں جو دریا تھا وہ پیاسا نکلا
    بے تعلق سے گزرتے گئے چپ چاپ سبھی
    ایک بادل بھی زمیں کا نہ شناسا نکلا
    دیکھنے، ٹوٹ کے، دھرتی پہ ستارے اترے
    رات آنکھوں سے عجب ایک تماشہ نکلا
    رات پھر جیسے کئی خوف کے سوراخوں سے
    ایک لشکر سا سنبھالے ہوئے نیزہ نکلا

    1974ء
     
  14. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    (ساقی فاروقی کے لیے)

    دھند کا آنکھوں پر ہوگا پردا اک دن
    ہوجائیں گے ہم سب بے چہرا اک دن
    جس مُٹھّی میں پھول ہے اس کو بند رکھو
    کھل کر یہ جگنو بن جائے گا اک دن
    آنکھیں مل مل کر دیکھیں گے خواب ہے کیا
    ایسے رنگ دکھائے گی دنیا اک دن
    چاند ستارے کہیں ڈبوئے جائیں گے
    خوشبو پر لگ جائے گا پہرا اک دن
    ہو جائیں گے ختم خزانے اشکوں کے
    یوں نکلے گا اپنا دیوالا اک دن
    اس کے پاس اگا دو کوئی اور درخت
    پیڑ یہ ہو جائے گا ہریالا اک دن

    1974ء
     
  15. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    خوشبوؤں کا ہے عجب سحر کہ پتھّر بہکے
    موج پر پھول کھلا اور سمندر مہکے
    بد نصیبی تھی کہ جاں اپنی معطّر نہ ہوئی
    ورنہ ان آنکھوں میں ہر لمحہ گلِ تر مہکے
    جان پہچان ہوئی، ہاتھ ملے، ہونٹ ہلے
    بجھی آنکھوں کے کنول پھر بھی نہ کھِل کر مہکے
    مدتیں ہو گئیں اشکوں سے بھگوئے لیکن
    اپنا خس خانۂ جاں ہے کہ برابر مہکے
    روحِ خوشبو ابھی زندہ ہے یہ احساس نہ تھا
    ہم وہ پتّے تھے جو چُٹکی سے مَسل کر مہکے
    میری شہ رگ میں بسی تھی تری خوشبو شاید
    ورنہ کیوں خون میں نہایا ہوا خنجر مہکے

    1974ء
     
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دھوپ ایسی تھی کہ کھِلتے ہوئے چہرے اترے
    تتلیوں کے سے کئی رنگ قبا سے اترے
    گھُل گئے ابر، دھنک، چاند ،ستارے جس میں
    ایسے دریا کے بھلا کون کنارے اترے
    ڈھونڈھنے نکلے تھے کچھ بھٹکی صداؤں کے بھنور
    شام آئی تو سبھی کوہِ ندا سے اترے
    دے دیا کس نے بھلا بھیگتی آنکھوں کا پتہ
    آسمانوں سے زمینوں پہ ستارے اترے
    شام کچھ کہتی سی، کچھ سنتی سی خاموشی تھی
    جاگتے سوتے سمندر میں سفینے اترے
    زندگی بدر کا میدان ہوئی جیسے عبیدؔ
    یوں کمک آئی کہ اندیکھے فرشتے اترے

    1974ء
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اور پھر ایک شب آئے گی
    جب کہ دنیا اجڑ جائے گی
    دیکھئے کتنے دن تک رہے
    درد کی دل سے ہم سائیگی
    کیا خبر تھی کہ جینے کے دکھ
    موت بھی آکے دہرائے گی
    سارے پتّے بکھر جائیں گے
    ان کو پھر برف ڈھک جائے گی
    اب تو آنکھیں بھی خالی ہوئیں
    ہائے ، اپنی یہ کم مانگی

    1974ء
     
  18. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    جو نہ خود اپنا پتہ جانتے ہیں
    خود کو وہ سمت نما جانتے ہیں
    اپنے اس رشتے کی پاکیزگی کو
    شبنم و گل بھی خدا جانتے ہیں
    پھول چپکے سے کھلا ڈالے گی
    تجھ کو ہم بادِ صبا جانتے ہیں
    کیا پتہ، عشق اذیت ہے کہ لطف
    ہم بس اک حرفِ وفا جانتے ہیں
    تجھ کو کیوں چاہا، یہ ہم سے مت پوچھ
    ہم تجھے تجھ سے سوا جانتے ہیں
    1974ء
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یگوں لکھتا رہا اپنی کہانی
    طلائی دائروں سے نیلا پانی
    فضا میں رنگ تم نے کیا بکھیرے
    سنہری دن ہوئے راتیں سہانی
    شفق لو پھوٹتی ہے جس جگہ سے
    وہیں جاتے ہیں رستے آسمانی
    یوں آنکھیں خشک ہوں گی کیا خبر تھی
    کہ سب ڈھونڈیں گے چمکیلی روانی
    سجا دیں کیاریاں کانٹوں کی ہم نے
    کبھی آئی نہ ہم کو باغبانی

    1974ء
     
  20. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,993
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    دو غزلہ ..... ایک (پیارے ناصر کاظمی کی یاد میں)
    راکھ ہی راکھ کوئی شعلہ نہیں
    سانس ہے پھر بھی کوئی زندہ نہیں
    جانے کیوں ہم چھپائے پھرتے ہیں
    ایسا رشتہ کہ جس کا پردہ نہیں
    راتوں رات ایک کھِنچ گئی دیوار
    ایسی جس میں کوئی دریچہ نہیں
    ہے نصیبے میں وہ سکوت کہ جو
    کسی طوفاں کا پیش خیمہ نہیں
    کیا پتہ میں بھی بھول جاؤں تجھے
    تو بھی انسان ہے، فرشتہ نہیں
    مجھ کو سب کچھ لگا سنہرا سا
    اس میں موسم کا کچھ کرشمہ نہیں
    ’درد دل دو ، صدا لگاتے ہیں
    اور ہاتھوں میں کوئی کاسہ نہیں
     

اس صفحے کی تشہیر