احمد ندیم قاسمی تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے

Umair Maqsood

محفلین
تجھے اظہار محبت سے اگر نفرت ہے
تو نے ہونٹوں کو لرزنے سے تو روکا ہوتا
بےنیازی سے مگر کانپتی آواز کے ساتھ
تو نے گھبرا کے میرا نام نہ پوچھا ہوتا
تیرے بس میں تھی اگر مشعل جذبات کی لو
تیرے رخسار میں گلزار نہ بھڑکا ہوتا
یوں تو مجھ سے ہوئیں صرف آب وہوا کی باتیں
اپنے ٹوٹے ہوئے فقروں کو تو پرکھا ہوتا
یونہی بے وجہ ٹھٹھکنے کی ضرورت کیا تھی
دم رخصت اگر یاد نہ آیا ہوتا
تیرا غماز بنا خود تیرا اندازِ خرام
دل نہ سنبھلا تھا تو قدموں کو سنبھالا ہوتا
اپنے بدلے میری تصویر نظر آجاتی
تُو نے اُس وقت اگر آئینہ دیکھا ہوتا
حوصلہ تجھ کو نہ تھا مجھ سے جُدا ہونے کا
ورنہ کاجل تیری آنکھوں میں نہ پھیلا ہوتا

احمد ندیم قاسمی​
 
Top