تاریک دیاروں میں اُجالے کا پتہ ہیں

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
یہ تو معلوم ہے۔
ادائیگی کے فرق پر بات واضح نہیں ہوئی ابھی تک۔
تابش بھائی ، کل جس وقت یہ بات ہورہی تھی تو ہم اورآپ بیک وقت ٹائپ کررہے تھے۔ اس لئے سوالیہ اور جوابی مراسلوں کی ترتیب آگے پیچھے ہوگئی۔
جیسا کہ پہلے لکھا مجھے تو نگاہیں کا قافیہ درست معلوم ہوتا ہے اور معیوب نہیں لگتا ۔ آج تو خاصا مصروف دن گزرا ۔ان شاءا للہ ویک اینڈ پر بیٹھ کرنظائر ڈھونڈتا ہوں ۔
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
مٹِتا ہوا اک نقش ہیں ہم لوحِ جہاں پر
بجھتے ہوئے خاموش ستاروں کی ضیا ہیں
واہ ظہیر بھائی واہ ۔ بہت پرلطف بیان ہے۔
کیا سماں باندھا ہے ۔
آداب! بہت نوازش عاطف بھائی ! آپ کی داد تو سند ہے ۔ بہت بہت شکریہ!
بہت خوب۔
نہایت عمدہ تخلیق ہے۔
“ نگاہیں” کے تلفظ کی کنفیوژن تا حال برقرار ہے۔
بہت شکریہ المٰی ! ذرہ نوازی ہے! اللہ آپ کو خوش رکھے !
نگاہیں کےتلفظ کے مسئلے پر میں جلد ہی کچھ لکھتا ہوں ۔ پہلے میں اسے ٹھیک سے دیکھ لوں ۔
ما شاء اللہ ظہیر صاحب بہت پیاری غزل ہے -ہر شعر عمدہ ،ہر لفظ محبّت میں رچا بسا - قافیہ نگاہیں نے بھی لطف دیا-
نوازش! بہت شکریہ یاسر بھائی ! قدر افزائی پر بہت ممنون ہوں ۔ ذرہ نوازی ہے!
واہ واہ واہ کیا کہنے
بہت بہت شکریہ فرحان بھائی ! اللہ آپ کو خوش رکھے! شاد و آباد رکھے، تمام مشکلات اور پریشانیوں سے دور رکھے! آمین !
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
سر جی "نگاہیں" کو "فضا ہیں، ادا ہیں" کی طرح پڑھنا ہے؟ :)
پھر میرا خیال یہی ہے کہ عبید بھائی کا اشارہ اس جانب نہ تھا، بلکہ ہیں اور نگاہیں کی ادائیگی میں فرق کی جانب ہے۔ :)
“ نگاہیں” کے تلفظ کی کنفیوژن تا حال برقرار ہے۔
ورنہ مرجانے میں کچھ بھید نہیں
ہم کو جینے کی بھی امید نہیں
جام مے خاتمہ جمشید نہیں۔
ذرہ بے پرتو خورشید نہیں۔وغیرہ

عاطف بھائی ، ان نظائر کے لئے بہت شکریہ ۔ لیکن یہ تمام مثالیں تو قافیے میں صوتی تغیر کے بارے میں ہیں جو ایک بالکل ہی علیحدہ مسئلہ ہے ۔ اس موضوع پر پھر بات کریں گے ۔

شعر مذکورہ کا مسئلہ قافیے سے متعلق نہیں بلکہ ردیف سے متعلق ہے ۔ ہم سب جانتے ہی ہیں کہ ردیف کی تکرار ہر شعر کے آخر میں بغیر کسی تغیر کے جوں کی توں ہونی چاہئے ۔ اور یہ تکرار بغیر کسی ملفوظی یا مکتوبی تغیر کے ہونی چاہئے ۔ لیکن اس شعر میں قافیہ معمولہ استعمال کرنے کی وجہ سے ردیف " ہیں " کے تلفظ میں تغیر آگیا ہے ۔ یعنی مکتوبی طور پر تو ردیف قائم ہے لیکن ملفوظی طور پر تبدیل ہوگئی ۔ توسوال یہ ہے کہ ردیف میں ایسا تغیر لانا جائز ہے یا نہیں ۔ تو اب اس سوال کا جواب کیا ہے؟

بدقسمتی سے ابھی تک اس بارے میں کوئی نظیر مجھے نہیں مل سکی ۔ آج کل کتابیں چھاننے کی طرف دل مائل نہیں ہوتا ۔ لیکن میں کوشش جاری رکھوں گا اور اگر کوئی مثال نظر آئی تو ضرور پیش کروں گا ۔
البتہ ذاتی طور پر میں اس شعر میں اس تغیر کو معیوب نہیں سمجھتا ۔ اوپر بھی لکھا ہے کہ تلفظ میں یہ تغیر انتہائی معمولی ہے اور لفظ نگاہیں کو روانی سے پڑھا جائے تو تلفظ بدلنے کا بالکل احساس نہیں ہوتا ۔ شعر کی روانی میں کوئی کمی نہیں ہوتی ۔ چلیں اگر ہم یہ فرض بھی کرلیں کہ ایسا کرنا جائز نہیں اور یہ عیب ہے تو میری نظر میں یہ معمولی سا عیب ہے ۔ اور اس بارے میں عام قاعدہ یہ ہے کہ اگر مجموعی طور پر شعر اچھا ہو تو معمولی نقص یا عیب سے صرفِ نظر کرلیا جاتا ہے ۔

امید ہے کہ اب آپ حضرات کے کلیجے میں ٹھنڈک پڑگئی ہوگی۔ :D

عاطف بھائی ، جو مثالیں آپ نے قافیے میں صوتی تغیرات کی دی ہیں ویسی چند مثالیں قدماء میں تقریباً ہر شاعر کے ہاں مل جاتی ہیں ۔ لیکن ان مثالوں کو اصول نہیں بلکہ استثناء کے طور لیا جاتا ہے ۔ اب اس طرح کے قافیے کی اجازت نہیں دی جاسکتی ۔ قافیہ تو ہم آواز یا ہم صوت الفاظ ہی کا نام ہے ۔ قافیے میں یائے مجہول و معروف و لین یا واؤ معرف و مجہول کا اختلاط اب کوئی بھی درست نہیں سمجھتا ۔ اس بارے میں تفصیلی گفتگو پھر کبھی سہی ۔

سید عاطف علی
محمد تابش صدیقی
عبید انصاری
La Alma
 

سید عاطف علی

لائبریرین
جی ہاں ۔ درست ۔ میں نے تو مثالیں محض تلفظ کی ادائیگی کے پیرائے میں پیش کی تھیں ۔
بقیہ موضوع کی طرف تو شاید اشارہ ہو ہی چکا تھا ۔
 

یاسر شاہ

محفلین
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی


کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابنائے زماں غالبؔ
بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
 
غمِ دنیا سے گر پائی بھی فرصت سر اٹھانے کی
فلک کا دیکھنا تقریب تیرے یاد آنے کی


کہوں کیا خوبیِ اوضاعِ ابنائے زماں غالبؔ
بدی کی اس نے جس سے ہم نے کی تھی بارہا نیکی
دراصل یہ موضوع ہے ہی نہیں۔
شروع سے جو سوال ہے وہ ادائیگی کے حوالے سے ہے۔ قافیہ معمولہ کا نہیں۔ :)
آنے کی اور نیکی میں نے کی آواز ایک ہی ہے۔
جبکہ ہیں اور نگاہیں میں ہیں کی آواز تھوڑی مختلف ہے۔
 

یاسر شاہ

محفلین
دراصل یہ موضوع ہے ہی نہیں۔
شروع سے جو سوال ہے وہ ادائیگی کے حوالے سے ہے۔ قافیہ معمولہ کا نہیں۔ :)
آنے کی اور نیکی میں نے کی آواز ایک ہی ہے۔
جبکہ ہیں اور نگاہیں میں ہیں کی آواز تھوڑی مختلف ہے۔

تابش بھائی آواز نکال کے بتائیں -کیسے مختلف ہے (n)
 
تابش بھائی باریک فرق مائی نے کر دیا ہے ایک کو زیادہ کھینچ کر دوسرے کو کم کھینچ کر ورنہ ہائے مفتوح ہے دونوں <ہیں >میں
کھینچنے کو نظر انداز بھی کریں تو فرق موجود ہے۔ ظہیر بھائی کی بات درست ہے کہ معمولی فرق ہے، مگر فرق نہیں ہے، یہ کیسے کہا جا سکتا ہے؟
نگاہیں کا ی ہیں کی ی کی نسبت کچھ لیٹا ہوا ہے۔
اب اس کے لیے گرائمر کے مخصوص نام گرائمر کا طالب علم نہ ہونے کی وجہ سے نہیں جانتا۔ :)
 
جیسا کہ یہاں پر بھی کچھ ایسا ہی معاملہ تھا۔ اور اچھی گفتگو رہی اس کے ذیل میں آسی صاحب اور عاطف بھائی کی۔
آپ نے پھوڑ، توڑ، جوڑ کے ساتھ دَوڑ کو قافیہ بنانے پر کچھ نہیں فرمایا۔ شاید مناسب نہیں جانا ہو گا، مجھے خیال آ گیا سو توجہ دلا دی۔ معذرت!

میں بھی انسان ہوں آسی بھائی، ضروری نہیں کہ ہر خطا پر میری نظر جائے۔ دوڑ پر واقعی میری نظر نہیں پڑی۔
 

یاسر شاہ

محفلین
نگاہیں کا ی ہیں کی ی کی نسبت کچھ لیٹا ہوا ہے۔

تابش بھائی ابھی تحقیق کر لی ہے -آپ کی بات درست ہے بلکہ یوں کہیں کہ مجھے ہی یہ فرق ابھی سمجھ آیا - :)

میزان سخن از حمید عظیم آبادی میں تقطیع کے باب میں <یائے >کی اقسام پر مفصّل بحث موجود ہے

حاصل بحث یہی ہے کہ ظہیر صاحب کی ردیف <ہیں> میں <یائے لین > ہے جسے ہم بڑی یائے کہتے تھے بچپن میں-اس کی خاصیت ہے کہ نون غنہ سے ماقبل آئے تو اس سے پیچھے والے حرف پر زبر ہوتا ہے جو کہ یہاں< ہائے > ہے-مثالوں میں الفاظ <ہیں> اور <میں> دیے گئے ہیں -

جبکہ <نگاہیں> میں یائے مجہول ہے اوراس کی <ہیں > کی ہائے پر کسرہ (زیر )مجہولہ ہے برخلاف ردیف کے -اس یائے کی آواز نہ <نہیں> کی یائے جیسی ہے اور نہ <میں> کی یائے جیسی بلکہ بین بین ہے -جسے آپ لٹا رہے تھے;)- لہٰذا ردیف ذرا تبدیل ہوئی ہے -اس یائے کا استعمال درج ذیل ہے :

اسمائے جمع تانیث کی علامت :آنکھیں ،نگاہیں وغیرہ
افعال جمع کی علامت : جھانکیں ،دیکھیں وغیرہ


مزید پڑھنے کے لیے کتاب خریدی جائے شاید یہ کتاب ریختہ پر مفت دستیاب نہ ہو - :)
 

الف عین

لائبریرین
قافیہ ہو یا ردیف، 'ہیں'، فعل میں ہ مفتوح ہے، نگاہیں کا ہیں مفتوح نہیں۔ سادہ سی بات ہے اس پر اتنی بحث کیوں؟
 

جاسمن

لائبریرین
بہت ہی خوبصورت غزل۔
زبردست پہ ڈھیروں ڈھیر زبریں۔
تاریک دیاروں میں اُجالے کا پتہ ہیں
ہم لوگ محبت ہیں ، مروت کی ادا ہیں
کافی اشعار تو واقعی آپ پہ منطبق ہیں۔
دستِ محبت میں علمدارِ مساوات!
ہم دُور سے آتی ہوئی مانوس صدا ہیں

ہم نطقِ محبت میں ہیں الفاظِ پذیرائی!
ہم چشمِ اخوت میں عنایت کی نگاہیں !

خوشبو کی طرح پھیلے ہیں ہم راہ گزر پر
تاریکیٔ شب تار میں جگنو کی ضیا ہیں

ہم کفر سمجھتے ہیں حقارت کی نظر کو
نفرت کی زمینوں میں عنایت کی فضا ہیں

کھُل جائے گا اک بابِ اثر دل میں تمہارے
مانگو تو سہی ہم کو ہمی حرفِ دعا ہیں
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
بہت ہی خوبصورت غزل۔
زبردست پہ ڈھیروں ڈھیر زبریں۔

کافی اشعار تو واقعی آپ پہ منطبق ہیں۔
ہمم!!
لگتا ہے کہ خواہرم جاسمن ہر دو ایک ہفتے بعد فاتحہ خوانی کے لیے گورستانِ سخن کا چکر لگاتی ہیں اور واپس آتے دو چار گڑے مردے بھی اکھاڑ لاتی ہیں ۔ :)

بہت شکریہ ، توجہ کے لیے ممنون ہوں ۔ اللہ کریم آپ کو خوش رکھے۔
 

جاسمن

لائبریرین
اللہ اکبر!
ہم تو گلستان سے گل بوٹے لاتے ہیں۔
آسمان سے تارے لاتے ہیں۔
فضاؤں سے جگنو لاتے ہیں۔
ہواؤں میں گھلے پرندوں کے نغمے لاتے ہیں۔
وغیرہ وغیرہ :):):)
 

ظہیراحمدظہیر

لائبریرین
اللہ اکبر!
ہم تو گلستان سے گل بوٹے لاتے ہیں۔
آسمان سے تارے لاتے ہیں۔
فضاؤں سے جگنو لاتے ہیں۔
ہواؤں میں گھلے پرندوں کے نغمے لاتے ہیں۔
وغیرہ وغیرہ :):):)
بھئی وہ آج کل آپ جنوں بھوتوں وغیرہ کے کوچے میں زیادہ آتی جاتی رہتی ہیں تو اس وجہ سے کچھ شبہ سا پیدا ہوگیا تھا ۔ الحمدللہ اب دور ہوگیا ۔ :grin:
 
Top