بیوی سے محبت

عمر سیف

محفلین
بیوی سے محبت دن بدن بڑھتی ہے، اور خاص کر کڑے دِنوں میں جب آپ دیکھتے ہیں کہ آپ تنہا کھڑے ہیں ہر طرح کے معاملات میں اور صرف ایک ہی شخصیت ہے آپ کو حوصلہ دینے والی، آپ کے دکھ اور تکلیف میں برابر کی شریک، اور آپ کے دل کی بات سمجھنے والی۔ جب آپ اس کی قربانیوں کو دیکھیں گے اور سمجھنے کی کوشش کریں گے تو آپ کے دل میں اس کی محبت بڑھے گی اور جب اسے آپ کی کاوشوں کا احساس ہو گا تو اس کے دل میں آپ کے لیے محبت ضرور بڑھے گی۔

بس ضرورت اس امر کی ہے کہ کہیں بھی، کسی بھی طرح کے حالات میں کمیونیکیشن گیپ نہ آئے۔ اور ذرا سمجھداری کا مظاہرہ کرتے ہوئے خود بھی اس کی کاوشوں کا الفاظ میں اعتراف کریں اور مناسب الفاظ میں اپنی تھکن اور کام کا احساس بھی دلائیں اور اس کی زبانی بھی اس کی تھکن اور کام کا پوچھتے رہیں۔

اور جس طرح محبوبیت کے دور میں محبت کا اظہار کثرت سے کیا جاتا ہے اس سلسلے کو جاری رہنا چاہیے اور بیوی کو بھی بارہا محبت کا احساس دلائیں ہمارا تو مقابلہ رہتا ہے کہ میں آپ سے زیادہ محبت کرتا ہوں نہیں میں آپ سے زیادہ محبت کرتی ہوں۔

میں یہ کہنے میں فخر محسوس کرتا ہوں کہ شادی کے سات سال بعد بھی مجھے اپنی بیوی سے شدید محبت ہے اور اسے بھی مجھ سے اور ہم صرف میاں بیوی نہیں بلکہ محبوب اور محبوبہ ہیں اور شدت سے اس بات کو سمجھتے اور مانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں بنایا ہی ایک دوسرے کے لیے ہے۔ اس سے پہلے تو بس اس دور یا وقت تک پہنچنے کا وقفہ یا دورانیہ تھا۔

ہنسا میں اس بات پہ ہوں کہ بھابھی نے بندوق کی نوک پہ کیا کیا لکھوا دیا۔ امجد میانداد
 
مشکل ہے بھائی، پیاری سے پیاری محبوبہ بھی بیوی کا مرتبہ پاتے ہی کراری ہو جاتی ہے;) دنیا کا مشکل کام بیوی کو قائل کرنا ہے انڈرسٹینڈنگ کیسی۔۔۔ ۔۔۔ ۔! اگر تو آپ کی لو میرج ہو تو پھر تو شادی آپ کی پیار بھری زندگی کا قریب قریب خاتمہ ہے ہاہاہاہا ہاں ایک طریقہ ہے اچھی زندگی گزارنے کا، کہ میرج آپکی ارینج ہو اور پہلے دن بھی بیوی کو بیوی بنا کر رکھیں، پیار ضروری ہو تو میڈیسن کی طرح دیں، ذرا سا پٹری سے اترے تو روایتی شوہر بن جائیں بس بھی نظام ٹھیک چلتا رہے گا:biggrin:
غیر متفق :)
 

الشفاء

لائبریرین
کیا شادی کے بعد ختم ہو جاتی ہے ؟ یہ کیا باتیں پھیلا رکھی ہین کیا انڈرسٹینڈنگ ہو دوستی ہو آزادی ہو معاشی فکروں سے آزاد ہوں تب بھی کیا محبت ختم ہو جاتی ہے ؟ِ کی ابیوی کو محبوبہ بنا کر ہمیشہ نہیں رکھا جا سکتا ؟:rolleyes:


واہ بھیا کیا سوال پوچھا ہے لگتا ہے نازک وقت آن پہنچا ہے۔۔۔:)

آئیے سید الاولین والآخرین علیہ افضل الصلاۃ والتسلیم کی مبارک زندگی سے آپ کے سوال کا جواب ڈھونڈتے ہیں۔۔۔

آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی زوجہ محترمہ کو سواری پر سوار کروانے کے لئے اپنا گھٹنا مبارک موڑ کر بیٹھ جایا کرتے تھے اور وہ آپ کے گھٹنے پر پاؤں رکھ کر سواری پر سوار ہوتی تھیں۔۔۔ ہم بھی اپنی (ہونے والی) بیویوں کے لئے کار کا دروازہ کھول کر اس سنت پر عمل کر سکتے ہیں۔یقین کریں محبت بہت بڑھے گی۔۔۔:)
آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے انس و محبت کے اظہار کے لئے دوڑ بھی لگاتے تھے اور کبھی وہ جیت جاتیں اور کبھی آپ۔ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم۔۔۔
اہل و عیال سے محبت کی ترغیب کے لئے آپ کے ارشاد کا مفہوم ہے کہ آپ کو اس لقمے کا بھی اجر دیا جائے گا جو آپ اپنی اہلیہ کے منہ میں محبت سے ڈالتے ہیں۔۔۔ اب اندازہ کر لیں کہ اس سے محبت بڑھے گی یا کم ہوگی۔۔۔:)

اب کچھ اقتباسات حضرت مولانا محمد یونس پالنپوری کی کتاب بکھرے موتی سے۔۔۔

محبت کی باتیں۔۔۔
ایک مرتبہ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں تشریف فرما تھے۔ آپ نے سیدہ عائشہ صدیقہ سے فرمایا، حمیرا، تم مجھے مکھن اور چھوہارے ملا کر کھانے سے زیادہ محبوب ہو۔ وہ مسکرا کر کہنے لگیں، اے اللہ کے نبی، آپ مجھے مکھن اور شہد ملا کر کھانے سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مسکرا کر فرمایا، حمیرا، تیرا جواب میرے جواب سے زیادہ بہتر ہے۔۔۔:)

بیوی کا پیار بھرا نام رکھنا سنت ہے۔۔۔:)

ایک مرتبہ آپ صل اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر تشریف لائے تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا پیالے میں پانی پی رہی تھیں۔ آپ نے دور سے فرمایا ، حمیرا میرے لئے بھی کچھ پانی بچا دینا۔ ان کا نام تو عائشہ تھا لیکن نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو محبت کی وجہ سے حمیرا کہا کرتے تھے۔۔۔اس سے پتہ چلتا ہے کہ خاوند کو چاہیئے کہ وہ اپنی بیوی کا محبت میں کوئی ایسا نام رکھے جو دونوں کو پسند ہو۔ ایسا نام محبت کی علامت ہوتا ہے اور جب بندہ اس نام سے بیوی کو پکارتا ہے تو بیوی قرب محسوس کرتی ہے۔۔۔ نبی کریم صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جب فرمایا کہ حمیرا ، میرے لئے بھی کچھ پانی بچا دینا تو سیدہ عائشہ صدیقہ نے کچھ پانی پیا اور کچھ پانی بچا دیا۔ نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تشریف لے گئے اور سیدہ نے پیالہ حاضر خدمت کر دیا۔ حدیث پاک میں آیا ہے کہ جب نبی صل اللہ علیہ وآلہ وسلم نے وہ پیالہ ہاتھ میں لیا اور آپ پانی پینے لگے تو رک گئے۔ اور سیدہ سے پوچھا۔ حمیرا ، تو نے کہاں سے منہ لگا کر پانی پیا تھا؟ انہوں نے نشاندہی کی کہ میں نے یہاں سے پانی پیا تھا۔تو آقا علیہ الصلاۃ والسلام نے پیالے کے رخ کو پھیرا اور اپنے مبارک لب اسی جگہ پر لگا کر پانی نوش فرمایا۔ خاوند اپنی بیوی کو ایسی محبت دے گا تو وہ کیونکر گھر آباد نہیں کرے گی۔۔۔:)

کہاں تک سنو گے کہاں تک سناؤں۔۔۔ ہزاروں ہی قصے ہیں کیا کیا بتاؤں۔۔۔

امید ہے کچھ تسلی تو ہو گئی ہو گی۔۔۔:)
 
یہ ہوئی نا بات میں ایسی باتیں سننا چاہتا تھا اور مجھے وہ لوگ دوسری فلاسفی پڑھا رہے ہین ۔
بس میاں بیوی کو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا چاہئے
انڈرسٹینڈنگ کیسے پیدا ہوتی ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں
جہاں میں سمجھتا ہوں میری بیوی سمجھوتہ نہیں کر سکتی وہاں میں کمپرومائز کر لیتا ہوں اور جہاں میں سمجھوتہ نہیں کر سکتا وہاں وہ کمپرومائز کر لیتی ہے بس انڈرسٹینڈنگ کا سارا راز اسی میں مضمر ہے
 

مقدس

لائبریرین
بس میاں بیوی کو ایک دوسرے کے مزاج کو سمجھنا چاہئے
انڈرسٹینڈنگ کیسے پیدا ہوتی ہے۔
میں آپ کو ایک مثال دیتا ہوں
جہاں میں سمجھتا ہوں میری بیوی سمجھوتہ نہیں کر سکتی وہاں میں کمپرومائز کر لیتا ہوں اور جہاں میں سمجھوتہ نہیں کر سکتا وہاں وہ کمپرومائز کر لیتی ہے بس انڈرسٹینڈنگ کا سارا راز اسی میں مضمر ہے
دو سو فیصد متفق بابا جانی
لیکن میں اس کو کمپرومائز نہیں کہتی ، محبت کہتی ہوں ۔۔۔
 

مقدس

لائبریرین
بیٹا جہاں محبت ہوتی ہے ادھر ہی کمپرومائز کیا جاتا ہے :)
بابا جانی کمپرومائز تو ان باتوں پر کیا جاتا ہے ناں جن کو کرنا نہ چاہیں لیکن کر لیتے ہیں کسی کی خاطر۔۔۔۔ لیکن میاں بیوی کے رشتے میں کمپرومائز نہیں محبت ہونی چاہیے کہ آپ کی رضا بھی وہی ہو جو آپ کے شریک حیات کی ہے۔۔۔ آپ دونوں ایک سا سوچتے ہوں، ایک سا دیکھتے ہوں ۔۔۔
 
بیٹا سوچوں میں فرق ہو سکتا ہے طبیعت کا اختلاف ہو سکتا ہے مگر یہ محبت ہی ہے جو ان اختلافی باتوں کو سلجھا دیتی ہے۔
یہ ضروری نہیں ہے کہ میاں بیوی کے خیالات اور طبعیت میں یکسانیت ہو
 
Top