بھیا، ابھی چلتا ہوں ذرا رائتہ کھا لوں۔

شمشاد نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 21, 2008

  1. شمشاد

    شمشاد لائبریرین

    مراسلے:
    206,243
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Relaxed
    رائتہ

    ایک مشاعرے میں دعوت خورد و نوش کا اہتمام تھا ۔ دیگر شعراء تو کھانے سے فارغ ہو کر پنڈال میں پہنچ رہے تھے لیکن اسرار الحق مجاز اور معین احسن جذبی ابھی مصروف تھے۔ منتطمین میں سے ایک نے آ کر جذبی سے چلنے کی درخواست کی۔

    جذبی نے کہا : " بھیا، ابھی چلتا ہوں ذرا رائتہ کھا لوں۔"

    اور مجاز اتنی سے بات سنتے ہی ایک دم سنجیدہ ہو کر کہنے لگے " جذبی، اس رائتہ کے مضمون کو اقبال اپنے ہاں یوں نظم کرتا :

    حیف شاہیں رائتہ پینے لگا​

    اور اختر شیرانی کا مصرع ہوتا :

    رائتہ جو رخ سلمٰی پہ بکھر جاتا ہے​

    اور جوش یوں کہتے :

    رائتہ کھا کر وہ شاہ کج کلاہاں آ گیا​

    اور فراق یہ انداز اختیار کرتے :

    ٹپک رہا ہے دھندلکوں سے رائتہ کم کم​

    اور فیض احمد فیض کہتے :

    تیری انگشت حنائی میں اگر رائتہ آئے
    ان گنت ذائقے یلغار کریں مثل رقیب​

    اور میں خود یوں نظم کرتا :

    بنت شب دیک جنوں رائتہ کی جائی ہو
    میری مغموم جوانی کی توانائی ہو​

    اور تمہیں تو واقعی یہی کہنا چاہیے تھا :

    ابھی چلتا ہوں ذرا رائتہ کھا لوں تو چلوں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
    • زبردست زبردست × 1
  2. حسن علوی

    حسن علوی محفلین

    مراسلے:
    5,533
    موڈ:
    Amused
    بہت خوب۔ شعراء اور ادیبوں کے ادبی چٹکلے بھی اپنی مثال آپ ہوتے ہیں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,568
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    واہ واہ شمشاد صاحب، کیا ارشاد فرمایا ہے واہ واہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1

اس صفحے کی تشہیر