سلیم کوثر بچھائے جال کہیں جمع آب و دانہ کیا۔۔۔۔۔۔۔۔(سلیم کوثر)

ش زاد

محفلین
بچھائے جال کہیں جمع آب و دانہ کیا
پھر اس نے سارے پرندوں کو بے ٹھکانہ کیا​

میں تیرا حکم نہیں‌ ٹالتا مگر مجھ میں
نہ جانے کون ہے جس نے تیرا کہا نہ کیا​

بجز یقیں کوئی چارہ نہیں رہا میرے پاس
کہ پہلی بار تو اُس نے کوئی بہانہ کیا​

ملے جو غم تو انہیں اپنے پاس ہی رکھا
خوشی ملی ہے تو تیری طرف روانہ کیا​

میں مشتِ خاک ستاروں کا ہم نوا ٹھہرا
میں ایک پَل تھا اور اس نے مجھے زمانہ کیا​

(سلیم کوثر)​
 
محفل فورم صرف مطالعے کے لیے دستیاب ہے۔
Top