بن ضرورت کے کون آتا ہے

loneliness4ever

محفلین
السلام علیکم معزز احباب

امید اور دعا ہے اہل فورم خیر سے ہونگے
اور فقیر کی جسارت برداشت کرنے کو تیار ہونگے

احباب اور اساتذہ کی توجہ اور اصلاحی نگاہ کا طالب ہوں
امید ہے عنایت کا سلسلہ فقیر کے نام رہے گا

بن ضرورت کے کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے

آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے

غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے

گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے

عام سی بات کا ہو چرچا کیوں
دل تو اکثر ہی ٹوٹ جاتا ہے

فاعلاتن مفاعلن فعلن

توجہ کا طالب
س ن مخمور

 

loneliness4ever

محفلین
عزیز اور محترم اساتذہ
الف عین ، محمد یعقوب آسی ، محمد اسامہ سَرسَری ، مزمل شیخ بسمل، محمد خلیل الرحمٰن

دیگر احباب
ابن رضا ، کاشف اسرار احمد ،@ادب دوست ، راحیل فاروق
سید عاطف علی ، فاروق احمد بھٹی ،@فاتح

معذرت ان تمام احباب سے جن کے نام بندہ لکھنے سے رہ گیا

اللہ آباد و بے مثال رکھے تمام احباب و اساتذہ کو ۔۔۔۔ آمین
 

loneliness4ever

محفلین
خوب ہے ...بس تھوڑا سا یہ واضح کردیں اس مصرے میں آج بھی ہے یا آج ابھی ہے .. ...کہیں الف مس تو نہیں ہوگیا یا ایسے ہی ہے...


اکمل زیدی صاحب آداب !! فقیر ممنون ہے اس درجہ توجہ پانے پر
خوب توجہ دلائی یہ ’’ بھی ‘‘ ہی لکھا ہے اور اگر یوں قابل قبول نہیں
تو اس بھی کو ’’ تک ‘‘ سے بدلا جا سکتا ہے ورنہ ’’آج بھی ‘‘ کو
’’ اب تلک ‘‘ سے بدلا جا سکتا ہے
 

loneliness4ever

محفلین

سید عاطف علی

لائبریرین
لفظی طور پر بن ضرورت کے بعد "کے" کا استعمال اگرچہ اتنا خاص عیب نہیں البتہ مجرد "بن ضرورت" زیادہ بہتر لگتا ہے خصوصاً شعر ی زبان میں ۔ اور معنوی اعتبار سے مطلع دونوں مصرعوں سے واضح اور بلند ہونا چاہیے مجھے کچھ کمی محسوس ہوئی۔۔
باقی اشعار میں معمولی لفظی بہتری کی گنجائش ہے مثلا کتنا کا الف گرتا ہوا محسوس ہو رہا ہے چھوٹی بحر میں ایسے لہجے کو بہت سنبھا ل کر رکھا جاتا ہے ۔ ۔
گزرا کل مین بھی یہی بات ہے اور معنوی لطافت بھی کم ہے۔
آخری شعر اچھا ہے ۔ اور کیوں کی جگہ کیا رکھا جائے تع سوسرا مصرع ذرا زیادہ چمک سکتا ہے ۔
مجموعی غزل بہر حال اچھی ہے ۔ ۔ ۔
 

شکیب

محفلین
خوب غزل کہی ہے بھائی۔
آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
زبردست۔
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
تھوڑا odd سا لگ رہا ہے۔
دستخط:
دل کا ایسا اچھا ہوں
جیسے اب تک بچہ ہوں
اچھا اور بچہ کا قافیہ؟
اوور آل غزل بہت پسند آئی۔ زورِ قلم والا مصرع میری طرف سے۔:)
 
بن ضرورت کے کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے
مطلع دو لخت سا محسوس ہو رہا ہے۔ پہلے مصرع میں ضرورت کا ذکر ہے تو دوسرا مصرع گیت سنا رہا ہے! تُک سمجھ نہیں آیا بھائی !
آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
میرے خیال میں "ذریعہ" کے بجائے "سبب" زیادہ رواں لفظ ہوتا۔
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے
روانی کی کمی ہے۔ ذرا سی محنت سے شعر بہتر ہو سکتا ہے۔ الفاظ اور ان کی نشست دونوں پر غور کریں۔
گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے
لفظ" گزرا " کی تکرار ایسی بھلی نہیں لگی۔ یہاں بھی بہتری آ سکتی ہے۔
عام سی بات کا ہو چرچا کیوں
دل تو اکثر ہی ٹوٹ جاتا ہے
"عام باتوں کا تذکرہ کیا ہو؟"۔۔ ایک تجویز جسے آپ مسترد بھی کر سکتے ہیں۔
کل ملا کر ایک اچھی کوشش ہے۔ ذرا سی محنت سے اور نکھر سکتی ہے۔
 
سید عاطف علی اور کاشف اسرار احمد کی آراء بہت متوازن اور مفید ہیں۔ امید ہے کہ صاحبِ کلام توجہ فرمائیں گے۔

شعر میں بالعموم اور غزل میں بالخصوص ہر سطح پر جمالیات کی بہت اہمیت ہے۔ لفظیات، اصوات، قوافی، معانی، معاملہ بندی، مضمون آفرینی اور جتنے عناصر غزل کے ہیں، کوشش یہ ہونی چاہئے وہاں "چلے گا یار" کو جگہ نہ دی جائے۔ شعر کہنا ہم نے اختیار کیا ہے ہم پر ڈالا نہیں گیا؛ جب ایک عمل اختیار کیا ہے تو اس میں اپنی صلاحیتوں کی حد تک تکمیل کی کوشش لازم ٹھہری۔
 
اپنی گزارشات غزل کے اشعار کے ساتھ شامل کر دی ہیں۔

بن ضرورت کے کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے
دوسرے شعروں کی نسبت مطلع کہنا ہے میرے لئے تو ہمیشہ مشکل رہا ہے۔ یہ آپ کی غزل کا بقول شخصے "مکھڑا" ہے۔ ایک شاعر رُخ زیبا کی محبوبیت اور جمالیات سے صرفِ نظر نہیں کر سکتا، نہ کرنا چاہئے۔ قاری کی توجہ یہاں جذب نہیں ہو گی تو وہ بقیہ غزل کو بھی توجہ سے نہیں پڑھے گا۔

آگ تو محض اک ذریعہ ہے
گھر تو انسان ہی جلاتا ہے
اس میں ایک تو اظہار کی کمزوری ہے اور دوسرے ایک خلافِ واقعہ امر قطعیت کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ "انسان ہی"؟ آتش زنی اور آتش زدگی میں کسی ایک کو قطعی طور پر خارج کرنا مقصود ہے تو اس کا جواز لے کے آئیے۔ پہلا مصرع یہاں محض مصرع برائے مصرع رہ گیا۔ لفظ ذریعہ کی بجائے اگر بہانہ ہوتا تو شاید مصرع کچھ سنبھل جاتا۔ فرض کیجئے یہ شعر یوں ہوتا:
آگ تو محض اک بہانہ ہے
گھر تو انسان خود جلاتا ہے
مضمون کچھ بدل گیا ہے، دیکھ لیجئے گا۔


غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے
یہاں زبان اور روزمرہ کا مسئلہ آن پڑا۔ بھلا بمعنی چاہے یا خواہ؟ اسے بھلے کہتے ہیں بھلا نہیں کہتے۔ دوسرا مصرع "بھول بھی تو جاتا ہے" کا تقاضا ہے کہ پہلے مصرعے کے مضمون سے مطابقت پیدا کی جائے۔

گزرا کل آج بھی نہیں گزرا
وقت ملتے ہی پھر رلاتا ہے
"گزرا کل" یہاں انگریزی سے ترجمے والے اسلوب کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں تھی۔ کل کا غم یا بے کلی یا کیفیت آج بھی قائم ہے۔ لفظ "گزرا" کس لئے؟ صوتیت میں الف کے دب جانے سے ثقالت در آئی۔ وقت ملنے کی شرط کیوں؟ یا تو کہئے وقت بے وقت، یا کچھ مضبوط اظہاریہ لائیے۔ آپ ایک عام سی بات کو خاص اور بہت خاص بات کو عام بنا کر بھی پیش کر سکتے ہیں، مگر آپ کو کوئی غیر ملفوظ جواز لانا ہو گا، قاری کو ایک بات کہے بغیر سجھانی ہو گی۔

عام سی بات کا ہو چرچا کیوں
دل تو اکثر ہی ٹوٹ جاتا ہے
دل ٹوٹنا عام سی بات نہیں ہے صاحب! اس کا تو ادراک بھی شاید دل گزشت سے مشروط ہے، ویسے نہیں پتہ چلتا کہ یہ کتنا بڑا سانحہ ہوتا ہے!۔ "عام سی بات" سے یہاں آپ کی مراد اگر "اکثر" ہے تو وہ اگلے مصرعے میں آ گیا۔ "اکثر ہی" کی لفظیات اہلِ ذوق پر گراں گزر سکتی ہے۔ پہلے مصرعے میں مقصود آپ کا غالباً یہ ہے اتنا چرچا کیوں، مگر اس کے بیان میں چھوٹی بحر آڑے آ گئی۔

چھوٹی بحر میں لکھنا مشکل ہوتا ہے۔ اور اگر آپ ایک بات کامیابی سے کر جاتے ہیں تو اس کی بندش بہت چست ہوتی ہے اور ایک خوش ذوق قاری کو لمبی بحر کی نسبت زیادہ مضبوطی سے اپنی گرفت میں لیتی ہے۔ تاہم یہ اصولِ قطعی نہیں؛ اس کا انحصار بھی آپ کی فکری لسانی فنی مہارت اور چابک دستی پر ہے۔

دعاؤں کا طالب رہا کرتا ہوں۔
 
آخری تدوین:

loneliness4ever

محفلین
فقیر تمام احباب کی آمد پر مسرور و ممنون ہے
اور امید کرتا ہے عنایت کا یہ سلسلہ مستقل رہے گا

عزیز اور محترم
محمد یعقوب آسی ، کاشف اسرار احمد ، سید عاطف علی
کی قیمتی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے فقیر کی عقل جہاں تک پہنچی
وہ ایک مرتبہ پھر خدمت میں حاضر ہے


اب ترے بعد کون آتا ہے
گیت خلوت کا گھر سناتا ہے

آگ تو محض اک بہانہ ہے
گھر تو انسان خود جلاتا ہے

غم کی پرواہ کس نے کرنی ہے
دل اسے بھول بھی تو جاتا ہے

دور مجھ سے تو ہو گیا ایسے
ساتھ رہ کر بھی یاد آتا ہے

سانحہ روز کا ہے چرچا کیا
دل تو کہتے ہیں ٹوٹ جاتا ہے

ایک احساس ہے محبت کا
وقت بے وقت جو رلاتا ہے

وقت اچھا ہو یا برا سید
وہ تو آخر گزر ہی جاتا ہے

 
عزیز اور محترم
محمد یعقوب آسی ، کاشف اسرار احمد ، سید عاطف علی
کی قیمتی رائے کو سامنے رکھتے ہوئے فقیر کی عقل جہاں تک پہنچی
وہ ایک مرتبہ پھر خدمت میں حاضر ہے

ایسی بھی کیا جلدی! کچھ دن اپنے شعروں کے ساتھ گزارئیے۔ ان کو دیکھئے، پرکھئے! آپ کے شعر آپ پر بہت کچھ کھولیں گے۔
 

سید عاطف علی

لائبریرین
اردو میں "پرواہ" نہیں "پروا" ہے۔
میرے خیال میں دونوں ٹھیک ہیں کہ لا پروائی کے بجائے لا پرواہی لکھا اور بولا جاتا ہے اگرچہ کہنے بولنے میں اتنا خاص خیال ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ سو شعر میں ٹھیک کہا جاسکتا ہے ۔
شعر میں "کس نے " کرنی البتہ اچھا نہیں لگے گا ۔کس کو کرنی ہوناچاہیے۔یا پھر کون کرتا ہے ۔
 
میرے خیال میں دونوں ٹھیک ہیں کہ لا پروائی کے بجائے لا پرواہی لکھا اور بولا جاتا ہے اگرچہ کہنے بولنے میں اتنا خاص خیال ملحوظ نہیں رکھا جاتا۔ سو شعر میں ٹھیک کہا جاسکتا ہے ۔
شعر میں "کس نے " کرنی البتہ اچھا نہیں لگے گا ۔کس کو کرنی ہوناچاہیے۔یا پھر کون کرتا ہے ۔

میرے محدود علم کے مطابق: پنجابی والے "پرواہ" کہتے ہیں، اردو والے "پروا"۔
"نے" اور "کو" کا مسئلہ بھی اس سے ملتا جلتا ہے۔ اچھے خاصے معروف شعرا اور نثر نگار بھی اب "کو" کی جگہ "نے" لکھنے لگے ہیں۔

تحفظات میرے بھی قریب قریب وہی ہیں، جو آپ کے ہیں۔
مگر ۔۔ ۔۔ بات وہی ہے نقارخانے والی۔ اپنا کام ہے نشان دہی کر دینا، شاعر جانے اور اس کی ترجیحات جانیں۔
 

الف عین

لائبریرین
دو باتیں مزید میری طرف سے۔
گیت تو خوشی کا ہونا چاہئے، اگر خلوت منفی چیز مانی جائے تو یہ نوحہ ہونا چاہئے۔ اس کے علاوہ بیان م یں ’گھر سنانا‘ چہ معنی دارد؟
غم بھلا کتنا ہی بڑا کیوں ہو
یہ تو الٹی بات ہو گئی، کہنا یہ تھا کہ غم کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو
 
Top