1. اردو محفل سالگرہ شانزدہم

    اردو محفل کی سولہویں سالگرہ کے موقع پر تمام اردو طبقہ و محفلین کو دلی مبارکباد!

    اعلان ختم کریں

برہمن، حضرت عیسٰی کا گدھا اور مکہ

محمد وارث نے 'علمی و ادبی لطیفے' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 19, 2008

  1. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    یہ تو ساحر کے انگور کھٹے ہیں سرکار، اگر وہ شاہجہان کے مرتبے کا مالک ہوتا تو شاید ام الخبائث کی اینٹیں بنا کر اس کا تاج محل بنواتا :)
     
    • متفق متفق × 1
  2. محمد اسلم

    محمد اسلم محفلین

    مراسلے:
    701
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Sleepy
    انھیں "پینے کا شوق نہیں" تھا،، وہ تو صرف پیتے تھے"غم بھلانے کو"
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  3. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    اور غم یہ تھا کہ یہ ختم کیوں ہو جاتی ہے ;)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 2
  4. محمد ابراہیم خان افغان

    محمد ابراہیم خان افغان محفلین

    مراسلے:
    48
    جھنڈا:
    Pakistan
    ہائے! مدح یار میں ابھی لکھا ہی کیا تھا
    کہ "مدیر" نے یک بیک قلم سرکا دیا
    مدیر صاحب! ہمارے پیغام کو شرف قبولیت ضرور نوازیے گا! ؛-)
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    آپ نے جس مراسلے کا جواب لکھا تھا وہ اور آپ کا بھی دونوں حذف ہو گئے ہیں۔ لطیفہ ہے براہِ کرم اس کو لطیفہ ہی رہنے دیں۔ ہمیں یہاں کوئی محاذ کھولنے کی ضرورت نہیں ہے۔
     
    • متفق متفق × 2
  6. محمد ابراہیم خان افغان

    محمد ابراہیم خان افغان محفلین

    مراسلے:
    48
    جھنڈا:
    Pakistan
    چلو اچھا ہوا کہ نہ رہا بانس اور نہ بجی بانسری! :)

    مانند دو پرند کہ بود مشت و گریباں = دو پرندوں کے مانند جو مشت و گریباں تھے
    گربہ ای بآمد تا دوتاں را بخورد = ایک بلی آئی تو دونوں کو ہڑپ کر گئی
    زِ بخت نہ چکید خونِ بیکساں = خوش قسمتی سے بے چاروں کا خون نہیں بہا
    چو ظالم گرد تا ایں زیاں رابخورد = چونکہ (دونوں) ظالم بن گئے تھے اس لئے اس نقصان سے دوچار ہوئے۔
     
  7. شیخ یونس

    شیخ یونس محفلین

    مراسلے:
    12
    خیر جو بھی تھے سے انکے ہاتھوں اللہ تعالٰی نے جو دین کا کام لیا شاید پورے مغلیہ سلطنت کسی کو اسکا ذرہ نصیب ہوا ہو اسی آج لوگ اور بڑے بڑے علماء کرام انکے نام کے ساتھ رحمت اللہ علیہ لگاتے اور باپ کو قید میں ڈالا تو اسکی بھی اصل لوگ کم ہی جانتے ہیں کیوں جو بندہ خوف خدا دل رکھتا ہو وہ کبھی غلط قدم نہیں اٹھا سکتا ہاں بھول ہوجانا الگ بات ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,492
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    ممکن ہو کچھ تفصیل پیش کیجے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    سیاست اور تخت کے نام پر باپوں بیٹوں بھائیوں کو قتل کرنا ایک عام بات ہے، یہاں تک کے ان کا مصاحب اگر کوئی بے ضرر سا مجذوب شاعر ہے تو اُس کو بھی ساتھ ہی میں۔ بعد میں کچھ کہہ لیں۔
     
    • متفق متفق × 1
  10. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,492
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    سچ کہا.

    کہا یہی جاتا ہے کہ مغلوں میں انتقال اقتدار کبھی بھی خون بہائے بغیر نہ ہو سکا. اور چونکہ بادشاہت تھی تو خونی رشتے الگ پامال ہوتے رہے.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • متفق متفق × 1
  11. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,492
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بے چارہ شاعر :)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    از مردمِ دنیا و ز دنیا شب و روز
    دیگر ہوسم نیست، اماں می طلبم
    سرمد شہید
    دنیا والوں سے اور دنیا سے، شب و روز مجھے کسی اور چیز کی ہوس اور طلب نہیں ہے مگریہ کہ میں (دنیا اور دنیا والوں کے شر سے) امان میں رہوں۔
     
    • زبردست زبردست × 1
  13. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,492
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بہت خوب!

    یہ الگ بات کہ مال و زر اور جاہ و منصب کی ہوس ہی شاعروں کو درباروں تک لے جایا کرتی تھی.
     
  14. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    بابر اور ہمایوں کبھی تختِ ہند پر جم کر نہ بیٹھ سکے، عمر نے وفا نہ کی اور ہمایوں اس قابل بھی نہیں تھا شاید، اکبر بیٹھا اور پھر کام شروع ہو گیا، اکبر اپنے بھائیوں اور بیٹے جہانگیر سے حالتِ جنگ یا کشمکش میں رہا،بس پھر چل سو چل۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  15. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    27,164
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    درست کہا، لیکن سرمد کی تاریخ آپ نے شاید دیکھی نہیں۔ سرمد عالمگیر کے صوفی اور شاعر بھائی دارا شکوہ کا مصاحب تھا نہ کہ درباری۔ دونوں ہم مشرب تھے اور بدقسمتی سے دارا شکوہ عالمگیر کا بھائی بھی تھا۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  16. محمداحمد

    محمداحمد لائبریرین

    مراسلے:
    23,492
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amazed
    بجا فرمایا وارث بھائی

    یہ بات مرے علم میں نہیں ہے. یہ یقیناً استثنائی معاملہ ہے.






    موبائل سے ٹائپ کر رہا ہوں اور یہ بے جا مسکراہٹ مٹ کر نہیں دے رہی. :)
     
    آخری تدوین: ‏مئی 15, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  17. فاخر رضا

    فاخر رضا محفلین

    مراسلے:
    3,655
    عالمگیر بہت متقی اور پرہیزگار آدمی تھا ساری زندگی نہ کوئی نماز چھوڑی نہ بھائی
    ابن انشاء
     
    آخری تدوین: ‏ستمبر 21, 2016
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  18. اے خان

    اے خان محفلین

    مراسلے:
    5,855
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Amused
    نماز پڑھنے سے کوئی متقی نہیں بن جاتا۔
    ہم نے ایسے لوگ دیکھیں ہیں جو کاروبار سود کا کرتے ہیں اور نماز پہلی صف میں
     
  19. ربیع م

    ربیع م محفلین

    مراسلے:
    3,585
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Lonely
    ابھی ایسے لوگ دیکھیں گے جو کاروبار سود کو عین برحق سمجھیں گے ، بس ایک بار یہ لڑی ان کی نظر میں آ جائے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • غمناک غمناک × 1
  20. sani moradabadi

    sani moradabadi محفلین

    مراسلے:
    101
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Cheerful
    حضرت اورنگ زیب عالم گیر علیہ الرحمہ نے
    حضرت شاہ جہاں کو قید میں اس لیے ڈالا کیوں کہ وہ رعایا کا پیسہ تاج محل میں صرف کر رہے تھے
    دارا شکوہ کو اس لیے قتل کروایا کیوں کہ ہندو پنڈتوں کی صحبت دارا شکوہ میں اس قدر جاگزیں ہو گئی تھی کہ وہ عالمگیری اسلامی حکومت میں فتنہ پھیلانے کو تیار تھا
    حضرت سرمد کو اس لیے شہید کروایا کیوں کہ حضرت سرمد حالتِ جذب میں کھلے عام شریعت کی پامالی کا سبب بن رہے تھے
    اور یہ سارے کام ایسے ہیں کہ شریعت ایک حاکم کو یہ کام کرنے پر مجبور کرتی ہے
    ایک آخری بات یہ کہ حضرت اورنگ زیب کو ایک طبقہ مجدد بھی کہتا ہے، دیکھیں کتاب (مجددینِ اسلام نمبر مطبع مجلسِ برکات، جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • غیر متفق غیر متفق × 1

اس صفحے کی تشہیر