برائے مہربانی نہیں براہِ مہربانی

سجادعلی نے 'تجاویز، آراء و مسائل' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جولائی 2, 2008

  1. سجادعلی

    سجادعلی محفلین

    مراسلے:
    131

    محترم مغل صاحب
    لیجیے آپ کے حکم پر میں آج لائبریری ہو ہی آیا
    1) نورالغات (ازمولوی نورالحسن نیر) ص 1286
    2)علمی ارود لغت جامع(از وارث سرہندی) ص 1399
    ٔ3)علمی اردو لغت متوسط(از وارث سرہندی) ص 1017
    4)فرہنگ تلفظ( از شان الحق حقی) ص877
    5)فرہنگ کارواں(از فضل الٰہی عارف/نظرثانی ڈاکٹرغلام مصطفیٰ خان) ص 716
    ْ6) نسیم الغات۔ص 899

    ان تمام لغات میں مطمح ہی درج ہے۔
    مطمح عربی الاصل ہے جبکہ مطمح‌نظر فارسی ترکیب۔
    نسیم الغات کا آپ نے حوالہ دیا تھا اس میں‌بھی مطمح نظر ہی درج ہے۔

    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  2. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    شکریہ جناب
    اب ایک اور دلیل کہ
    عربی اور فارسی ترکیب (زیر کی اضافت سے ) جائز نہیں
    مطمح کو مفرس کر کے مطمع کیا گیا ہے کہ فارسی کی اضافت روا ہوجائے ۔
    میں دو ایک دلائل اور لاتا ہوں ۔۔ بس ذرا انتظار
    والسلام
     
  3. سجادعلی

    سجادعلی محفلین

    مراسلے:
    131
    توگویاآپ نے ان تمام صاحبان کی محنت کو بھی ضائع ہی سمجھا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  4. سجادعلی

    سجادعلی محفلین

    مراسلے:
    131
    آپ سندھ میں رہتے ہیں ڈاکٹرغلام مصطفیٰ خان کے نام سے ضرور واقف ہوں گے۔ ان کا نظرثانی شدہ کام بھی گویا رد کیا آپ نے۔ ذرا اُن کے علمی مرتبے کا پوچھ لیجیے گا کسی سے۔
    اور پھر نسیم الغات کا حوالہ آپ نے خود دیا تھا فیروزالغات کو غیر مستند قرار دے کر
    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  5. محمد وارث

    محمد وارث لائبریرین

    مراسلے:
    26,694
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Depressed
    محمود مغل صاحب، معذرت کے ساتھ لیکن میں آپ کی 'مطمح' پر بحث کا 'مطمح نظر' سمجھنے سے قاصر ہوں جبکہ سجاد صاحب نے آپ کے مطلوبہ حوالے بھی پیش کر دیئے ہیں۔

    آپ کی اس بحث نے اپنے ذاتی کتب خانے میں موجود لغات کو دیکھنے پر مجھے بھی مجبور کر دیا:

    - لغاتِ کشوری از مولوی سید تصدق حسین رضوی، بیسواں ایڈیشن، 1959، لکھنؤ، انڈیا۔ (اس کتاب کا آپ نے حوالہ مانگا تھا)۔

    ۔مطمح (حائے حطی کے ساتھ): جگہ بلند رکھنے نظر کی، جگہ نظر پڑنے کی (ص 537)۔
    مطمع (عین مہملہ کے ساتھ): جگہ طمع رکھنے کسی چیز کی، جگہ امید اور لالچ کی (ص 538 )۔

    - فرہنگِ آصفیہ از مولوی سید احمد دہلوی، طبع سوم، مکتبہ حسن سہیل لمیٹڈ، لاہور۔ سو سال سے زائد عرصہ گزرنے کے بعد بھی اس لغت کا شمار اردو کی مستند ترین لغات میں ہوتا ہے (اور اسی کا حوالہ آپ نے نہیں مانگا)۔

    مطمح (حائے حطی کے ساتھ): نظر پڑنے کی جگہ (جلد چہارم، ص 367)

    - علمی اردو لغت جامع از وارث سرہندی، علمی کتاب خانہ، لاہور 1993۔ اس کا حوالہ سجاد صاحب نے دے دیا ہے۔ اس لغت کو مشتاق احمد یوسفی موجودہ عہد کی مستند ترین لغت قرار دیتے ہیں۔

    - فیروز اللغات (فارسی، اردو) از مرزا مقبول بیگ بدخشانی، فیروز سنز، 2004۔ گو فیروز اللغات (اردو) کو آپ مستند نہیں مانتے لیکن یاد رہے کہ یہ فارسی لغت ہے اور مرزا مقبول بیگ بدخشانی کے نام کے آگے کسی کی کیا مجال جو سر مارے۔ فیروز سنز کا حصہ اس لغت میں صرف اتنا ہے کہ انہوں نے اس کے کاپی رائٹس حاصل کر کے ڈاکٹر وحید قریشی کی ادارت میں اسے شائع کیا ہے۔

    - مطمح (حائے حطی کے ساتھ): مورد توجہ، مد نظر (ص 1076 )
    - مطمع (عین مہملہ کے ساتھ): جس چیز کی طمع ہو (ص 1076 )


    محترم اب آپ خود ہی فیصلہ فرمائیں کہ اتنے زیادہ نصوص و اسناد کی موجودگی میں 'قیاس' اور 'آپ کی دلیل' کی کیا وقعت ہے :confused:





    والسلام
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 5
  6. فرخ منظور

    فرخ منظور لائبریرین

    مراسلے:
    12,860
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cold
    واہ بہت خوب وارث صاحب - میں نے محمود صاحب سے یہ بھی کہا تھا کہ مطمع کا تو مادہ ہی مختلف ہے اسکا مادہ ط م ع یعنی طمع ہے -
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  7. مغزل

    مغزل محفلین

    مراسلے:
    17,597
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Dunce
    ڈاکڑ غلام مصطفٰے صاحب سے مجھے بھی شرفِ نیاز حاصل ہے ۔
    ان کے کام پر قدغن لگانے سے مجھے علاقہ نہیں ۔ میں تو وہ بات کررہا ہوں
    جو میں نے اردو کانفرنس میں اس موضوع پر ایک اکتا دینے والی بحث سے لی۔
    وگرنہ مجھے کیا تعرض کہ میں جھٹلاتا پھروں۔
    میرا ’’ مطمع ِ نظر‘‘ وہی ہے جو آپ کا ہے۔
    ایک آسان ساکام تھا کہ جب میری بات کی وضاحت میں مراسلہ آیا
    تو میں صرف اقرار کرکے بحث سمیٹ لیتا۔۔۔
    میں نے ایک بھی دلیل اگر اینکی بینکی دی ہو سزا کا سزاوار ہوں۔۔۔
    مسلّمات میں دخل دے کر ہی غالب آج 30 سے زائدعشروں کے بعد بھی
    زندہ ہے ۔۔۔ میرے پاس 1899 اور 1938 کا دیوانِ غالب موجود ہے
    جس میں (عہدِ حاضر کے حساب سے) املا اور امالہ کی اغلاط موجود
    ہیں۔۔ جویریہ مسعود اس پر کام کریں یعنی ( غلطیہائے ) کو غلطی ہائے
    میں تبدیل کریں تو یہ استحقاق انہیں کس نے دیا ۔۔۔ یہ الگ بات کہ
    آج ہم اس تصحیح کو روا مانتے ہیں۔۔۔ 2002 میں جب جنگ نے تحفظات
    کو خدشات کے معنوں میں استعمال کیا ۔۔ تو کس نے ہاتھ روکا۔۔ ڈاکٹر صاحب
    بھی بقیدِ حیات تھے ۔۔۔
    مجھے اس بحث سے کوئی سروکار نہیں۔۔
    نہ تو یہ میری انا کا معاملہ ہے اور نہ ہی بحث برائے بحث کا قائل ۔۔
    لہذا میں آپ احباب کی طرف رجوع کرتاہوں۔
    (ایک وضاحت : میرے پاس مذکورہ لغات کے نسخے موجود ہیں جن میں
    مطمع بھی ہے اور مطمح بھی )

    بہر کیف
    والسلام و علیکم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  8. سجادعلی

    سجادعلی محفلین

    مراسلے:
    131
    مغل صاحب
    سلام مسنون
    میں نے شروع میں عرض کیا تھا کہ
    یہ گفتگو علمی اور تفہیم کے لیے ہے۔اس میں انا اور شرمندہ ہونے کی بات ہی نہیں۔
    آپ کو میری کوئی بات بری لگی ہے تو سرمحفل معافی کا خواست گار ہوں۔

    شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  9. محمد اسامہ سَرسَری

    محمد اسامہ سَرسَری لائبریرین

    مراسلے:
    6,457
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    اسے کہتے ہیں مطمح نظر سے کام لینا۔
     
  10. مسافر چند روزہ

    مسافر چند روزہ محفلین

    مراسلے:
    49
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding
    السلام علیکم​
    مطمح مضاف ہے یہ ٹھیک ہے کہ عربی میں مضاف مجرور نہیں آتا مگر یہ اس صورت میں ہے جب مضاف پر کوئی عامل جر نہ ہو اگر عامل جر آ جائے تو عربی ترکیب زیر کی اضافت سے آتی ہے جیسے عن رسولِ اللہ​
    فارسی ترکیب میں تو کسرہ علامت اضافت ہوئی ہے آپ کہتے ہیں جائز نہیں ہاں مضاف بصورت ہائے گول پر ختم ہو رہا ہو تو ہمزہ زائد ( مکسورہ) لایا جاتا ہے​
    امثال​
    شرح مسلم (مسلم کی شرح
    موضوع کلام (کلام کا موضوع
    شارع لاہور (لاہور کی سڑک
    ہاہ کے ساتھ​
    مقدمۂ فرھنگ (لغت کا مقدمہ
    مدرسۂ اقبال (اقبال کا مدرسۃ
    خانۂ خدا (خدا کا گھر
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. محمد امین صدیق

    محمد امین صدیق محفلین

    مراسلے:
    1,655
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Cheerful
    ایک لفظ ہے ' مخرب الاخلاق' جس کو میں نے ' م خ رب الاخلاق (ملاکر)' کہا لیکن میرے ایک شناسا نے اپنی دانست میں میری اصلاح کی کہ اصل لفظ 'م ح ز ب الاخلاق (ملاکر) 'ہے۔براہ کرم تصحیح فرمائیے گا۔شکریہ
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 12, 2015

اس صفحے کی تشہیر