برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 13, 2019

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذراش۔

    ملا کے شہدِ ارتباط نفرتوں کے زہر میں
    میں قندِ عشق بیچتا ہوں تلخیوں کے شہر میں

    نہ دوستوں کے پیار میں، نہ حامیوں کی ہاں میں ہے
    نشہ ہے قربتوں کا جو ناصحوں کے قہر میں

    محبتوں کے ساحلوں پہ ڈوبنے کی وجہ سے
    ہے اضطراب بحر زیست کی ہر ایک لہر میں

    کفن کا انتظام ہو شہیدِ رنج کے لیے
    وہ ڈوب کر جو مر گیا ہے حسرتوں کی نہر میں

    روایتِ قدیم کی اک آخری کتاب تھی
    چراغِ نو سے جل گئی جو انقلابِ دہر میں

    جہاں کے باسیوں کو بس کہانیوں کا شوق ہو
    وہاں کے فلسفیؔ کا ہے کیا وقار شہر میں؟​
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 14, 2019
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  2. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
     
  3. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,469
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    زبردست--- واقعی انقلابِ نو نے پرانی روایتوں کو جلا دیا ہے۔۔ ساری غزل زبردست ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  4. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    خالد محمود چوہدری
    محترم فقط مصرعے کے اقتباس کا مطلب عاجز نہیں سمجھا۔ اگر غلطی ہے تو نشاندہی فرما دیں۔

    جی ارشد بھائی بالکل درست سمجھے ایسا ہی ہے۔ پسند کے لیے بہت شکریہ۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 14, 2019
  5. خالد محمود چوہدری

    خالد محمود چوہدری محفلین

    مراسلے:
    11,929
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    غلطی کی نشاندہی کی اوقات نہیں ۔ مصرع پسند آیا
     
  6. میمٓ-ب

    میمٓ-ب محفلین

    مراسلے:
    14
    میں اس قابل نہیں کہ آپ کی شاعری پر تبصرہ کر سکوں۔ مگر مجھے شاعری کا جتنا علم ہے (جو کہ نہ ہونے کے برابر ہے) میں سمجھتا ہوں اس شعر کو اوجِ کمال حاصل ہے۔ کافی خوبصورت شعر ہے پڑھتے ہی دل میں اتر جانے والا، جتنی تعریف کی جائے کم ہے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  7. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت شکریہ محترم۔ میں سمجھا شاید آپ کسی غلطی کی نشاندہی کرنا چاہ رہے ہیں جو عاجز کو اپنی کم عقلی کی وجہ سے نظر نہیں آ رہی۔

    بہت شکریہ محترم
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,298
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بظاہر تو کوئی غلطی نظر نہیں آ رہی۔
    بحر ہے مفاعلن چار بار، لیکن کہیں کہیں تیسرے مفاعلن کی جگہ فاعلن ہو گیا ہے۔ اسے خود دیکھیں
    یہ بحر بھی دو ٹکڑوں میں منقسم ہے اس لیے بہتر ہے کہ بات مکمل ہو جائے ایک ہی ٹکڑے میں۔
    ہے حسرتوں میں ہ ح کی تکرار اچھی نہیں
     
  9. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جی سر دوبارہ دیکھتا ہوں۔
    سر کیا ایک ہی رکن کی چار بار تکرار میں بھی بحر منقسم ہوتی ہے؟ جبکہ یہ اصول ہم بحر متدارک یا متقارب میں تو استعمال نہیں کرتے۔
    ہے کی جگہ تھا لگا دیتا ہوں سر۔
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 14, 2019
  10. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,298
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    یہ بحر عجیب ہے
    پہلا مصرع دیکھو
    شہدِ ارتبا.... طنفرتوں
    میں اگرچہ لفظ ٹوٹ رہا ہے لیکن کیونکہ مفاعلن کو مفاعلان بھی کیا جا سکتا ہے اس لیے ٹوٹتا ہوا نہیں لگتا
    اسی طرح مطلع کا ہی دوسرا مصرع
    لیکن بحر زیست.. کی ہر ایک لہر
    میں بات ٹوٹتی محسوس ہوتی ہے
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر میں تو یہ سمجھ رہا تھا کہ ایک ہی رکن کی چار بار تکرار والی بحر دو حصوں میں منقسم نہیں ہوتی۔ آپ کی "عجیب" والی بات سے یہ اخذ کروں کہ دو حصوں والا اصول اس خاص بحر پر لاگو ہوتا ہے۔ کج فہمی کی معافی چاہتا ہوں۔
    جی سر دوبارہ دیکھتا ہوں غزل کو۔
     
  12. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین ، اب دیکھیے

    ملا کے شہدِ ارتباط، نفرتوں کے زہر میں
    میں قندِ عشق بیچتا ہوں، تلخیوں کے شہر میں

    نہ دوستوں کے پیار میں، نہ حامیوں کی ہاں میں ہے
    نشہ محبتوں کا ہے، جو ناصحوں کے قہر میں

    محبتوں کے ساحلوں پہ، ڈوبنے کی وجہ سے
    تڑپ ہے بحرِ زیست کی، عجب ہر ایک لہر میں

    کفن کا انتظام ہو، شہیدِ رنج کے لیے
    وہ ڈوب کر ہے مر گیا، جو حسرتوں کی نہر میں

    روایتِ قدیم کی، اک آخری کتاب تھی
    چراغِ نو سے جل گئی، جو انقلابِ دہر میں

    جہاں کے باسیوں کو بس، کہانیوں کا شوق ہو
    وہاں کے فلسفیؔ کو کون، پوچھتا ہے شہر میں؟
     
    آخری تدوین: ‏جنوری 14, 2019
  13. سید عاطف علی

    سید عاطف علی محفلین

    مراسلے:
    8,520
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    خوب غزل ہے فلسفی صاحب ،
    زمرے کی مناسبت سے البتہ :
    یہاں نشست کچھ بہتر ہوسکے گی ۔جیسے
    وہ مر گیاہے ڈوب کر ،
    وہ آخری کتاب تھی ۔ یہاں معرفہ کا انداز زیادہ موافق ہو گا نفس مضمون سے ۔
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  14. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت شکریہ عاطف بھائی۔ اپنی نظر میں تو سب ہی اچھا لگتا ہے۔ لیکن اساتذہ اور بڑوں کی راہنمائی کا یہ فائدہ ہوتا ہے کہ وہ اغلاط بھی نظر آنے لگتی ہے جو پہلے خوبی لگ رہی تھیں۔ تبدیلیوں کے بعد حاضر ہے۔

    ملا کے شہدِ ارتباط، نفرتوں کے زہر میں
    میں قندِ عشق بیچتا ہوں، تلخیوں کے شہر میں

    نہ دوستوں کے پیار میں، نہ حامیوں کی ہاں میں ہے​
    نشہ محبتوں کا ہے، جو ناصحوں کے قہر میں


    محبتوں کے ساحلوں پہ، ڈوبنے کی وجہ سے​
    تڑپ ہے بحرِ زیست کی، عجب ہر ایک لہر میں


    کفن کا انتظام ہو، شہیدِ رنج کے لیے​
    وہ مر گیا ہے ڈوب کر، جو حسرتوں کی نہر میں


    روایتِ قدیم کی، وہ آخری کتاب تھی
    چراغِ نو سے جل گئی، جو انقلابِ دہر میں

    جہاں کے باسیوں کو بس، کہانیوں کا شوق ہو​
    وہاں کے فلسفیؔ کو کون، پوچھتا ہے شہر میں؟
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    12,344
    جھنڈا:
    Pakistan
    واہ!!!
    عدنان بھائی کچھ قدر کریں!!!
     
    • پر مزاح پر مزاح × 1
  16. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,298
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    بہت خوب ہو گئی ہے غزل
    نشہ محبتوں کا ہے، جو ناصحوں کے قہر میں
    کو بھی بدل دیں
    جو نشہ ہے محبتوں کا، ناصحوں کے قہر میں
    نشّہ درست تلفظ ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  17. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
    ٹھیک ہے سر
     
  18. سفیر آفریدی

    سفیر آفریدی محفلین

    مراسلے:
    403
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Brooding

اس صفحے کی تشہیر