برائے اصلاح

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏اگست 28, 2018

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر اساتذہ کی خدمت میں اصلاح کی غرض سے

    آنکھ بند کرکے جب ہم انھیں دیکھتے
    ضبط کی کشمکش خواب میں دیکھتے

    کاش بے فکر گل کی طرح ہم کبھی
    باغ میں تتلیاں بلبلیں دیکھتے

    عشق کرتے نہ رانجھا و فرہاد پھر
    دورِ حاضر کی جب بدعتیں دیکھتے

    ہاتھ لگتا جو ان کا زمیں پر اگر
    ذرہء خاک کی رفعتیں دیکھتے

    شعرعمدہ، تخیل کی معراج ہے / ہیں تخیل کی معراج اشعار تو
    ہم بھی کہتے اگر ہم انھیں دیکھتے

    پیٹھ پر وار کو روکنا ہو جنھیں
    چاہیے ان کو اپنی صفیں دیکھتے

    یوں نہ آزاد اڑتے پرندے کبھی
    گرزمیں پر کھنچی سرحدیں دیکھتے​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  2. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,527
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    واہ واہ اچھی غزل ہے ۔ رانجھا و فرہاد کچھ عجیب لگتا ہے حالانکہ درست ہے اایک متبادل یوں ہو سکتا ہے
    فرہاد و وامق کبھی
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر نوازش ہے آپ کی۔ وامق تو میرے فرشتوں کو بھی نہیں معلوم تھا کون ہے۔ انٹرنیٹ پر دیکھا ہے غالبا یونانی عشقیہ کہانی کا کردار ہے؟
    سر دو مصرعے پہلے ہی "کبھی" پر ختم ہو رہے ہیں ان میں فاصلہ رکھا ہے اس کو یوں کہہ سکتے ہیں
    قیس و فرہاد پھر عشق کرتے نہیں
    دورِ حاضر کی جب بدعتیں دیکھتے

    دوسرے مصرعے میں "جب" مناسب ہے یا اس کو "گر" کردوں۔ یعنی
    دورِ حاضر کی گر بدعتیں دیکھتے
     
  4. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر ایک ترکیب یہ ذہن میں آرہی ہے

    عشق کرتے نہ پھر قیس و فرہاد بھی
    دورِ حاضر کی جب بدعتیں دیکھتے
     
  5. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,527
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    میرے خیال میں یہ بہتر ہے
    قیس و فرہاد پھر عشق کرتے نہیں
    دورِ حاضر کی گر بدعتیں دیکھتے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  6. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
     
  7. حسان خان

    حسان خان لائبریرین

    مراسلے:
    17,843
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Bookworm
    داستانوں کے مطابق «وامِق» عذرا کا عاشق تھا، اور فارسی شعری روایت میں «مجنون» و «فرہاد» کی مانند «وامق» بھی ایک مثالی عاشق مانا گیا ہے، اور وامق و عذرا کی داستانِ عشق پر فارسی و تُرکی میں مثنویاں بھی لکھی گئی ہیں۔
    شیخِ اجلّ سعدی شیرازی کی ایک بیت دیکھیے:

    کسی ملامتِ وامِق کند به نادانی
    حبیبِ من که ندیده‌ست رُویِ عذرا را

    (سعدی شیرازی)
    اے میرے حبیب! وہ ہی شخص نادانی سے وامِق کی ملامت کرتا ہے جس نے عذرا کا چہرہ نہ دیکھا ہو۔

    میرے ایک دوست کا نام بھی وامِق ہے۔
     
    آخری تدوین: ‏اگست 29, 2018
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  8. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر معلومات کے لیے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین آج اچانک اس غزل پر دوبارہ نظر پڑ گئی ایسے لگا جیسے مطلع میں پہلے مصرعے کا وزن ٹھیک نہیں۔ لفظ "بند" کا درست وزن "فا" ہے یا "فاع" کیا ہوگا؟
     
  10. سید ذیشان حیدر

    سید ذیشان حیدر محفلین

    مراسلے:
    135
    فاع
     
    • معلوماتی معلوماتی × 1
  11. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ محترم ذیشان صاحب
    سر الف عین اس طرح تو پہلا مصرع بحر سے خارج ہو گیا اس کا یہ متبادل ٹھیک ہو گا

    بند آنکھوں سے جب ہم انھیں دیکھتے
    ضبط کی کشمکش خواب میں دیکھتے
    یا
    بند کر کے جو آنکھیں انھیں دیکھتے
    ضبط کی کشمکش خواب میں دیکھتے
     
    آخری تدوین: ‏نومبر 22, 2018
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  12. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    34,527
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اوہو یہ تو مجھ سے بھی صرفِ نظر ہو گیا!
    پہلا متبادل مطلع زیادہ بہتر لگ رہا ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  13. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
     

اس صفحے کی تشہیر