برائے اصلاح - فلسفیؔ تیرے شہر کے عاشق

فلسفی نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏جنوری 28, 2019

ٹیگ:
  1. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر الف عین اور دیگر احباب سے اصلاح کی گذراش۔

    وہ سرہانے کتاب رکھتے ہیں
    جانے کیا کیا حساب رکھتے ہیں

    جاگ کر جو گزارتے ہیں رات
    وہ بھی آنکھوں میں خواب رکھتے ہیں
    میری تربت پہ باوفا قاتل
    روز تازہ گلاب رکھتے ہیں

    دل کش ان کی ہیں بے حجاب آنکھیں
    وہ جو رخ پر نقاب رکھتے ہیں

    پر شکستہ صحیح، سینے میں
    دل تو ہم بھی جناب رکھتے ہیں

    وہ بھی اہلِ وفا ہیں جو اب تک؟
    فہمِ عیب و صواب رکھتے ہیں

    کیسے تنگ دل ہیں میکدے کے لوگ
    برتنوں میں شراب رکھتے ہیں

    ضبط کی ریت میں دبے آنسو
    بے بسی کا عذاب رکھتے ہیں

    قلبِ مردہ پہ خون کے دھبے
    جانے کیا اضطراب رکھتے ہیں؟

    ہم اکیلے سفر نہیں کرتے
    رنج کو ہم رکاب رکھتے ہیں

    فلسفیؔ تیرے شہر کے عاشق
    خود کو زیرِ عتاب رکھتے ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 8
    • زبردست زبردست × 1
  2. منذر رضا

    منذر رضا محفلین

    مراسلے:
    333
    جھنڈا:
    Pakistan
    واہ!
    لاجواب!
    جتنی داد دی جائے کم ہے۔۔۔عمدہ!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  3. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت شکریہ محترم، آپ کے الفاظ سے ڈھیروں خون بڑھ گیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  4. سید عمران

    سید عمران محفلین

    مراسلے:
    11,342
    جھنڈا:
    Pakistan
    واہ۔۔۔
    کیا خوب کہا ہے!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
    • متفق متفق × 1
  5. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سید صاحب، آپ سب محفلین کا ہی فیض ہے۔ بہت شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,988
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    خوب صورت خوب صورت۔ بہت سی داد۔

    شاید یہاں "سہی"؛کا محل ہے۔

    گو شکستہ سہی پہ سینے میں
    دل تو ہم بھی جناب رکھتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2
  7. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر۔ آپ نے درست فرمایا، "سہی" کا ہی محل ہے۔ ویسے "پہ" بمعنی لیکن کے استعمال سے ناواقف تھا۔ آپ نے مصرعے میں بہترین فٹ کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  8. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,281
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    ماشاء اللہ بہت خوب ہے۔۔ آپ نے سہی کی جگہ صحیح لکھ جو ٹھیک کے معانی میں آتا ہے
    پر شکستہ سہی مگر پھر بھی
    دلتو ہم بھی جناب رکھتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  9. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,281
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    پر شکستہ سہی مگر پھر بھی
    دل تو ہم بھی جناب رکھتے ہیں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  10. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    بہت شکریہ ارشد بھائی، آپ کا عطا کردہ مصرعہ بھی اچھا ہے۔
     
  11. محمد خلیل الرحمٰن

    محمد خلیل الرحمٰن مدیر

    مراسلے:
    7,988
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Festive
    ارشد چوہدری بھائی آپ کے عطا کردہ مصرع میں "پر" اور "مگر" دونوں ہم معنی الفاظ ہیں۔ اسی باعث ہم نے گو استعمال کیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
  12. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,281
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    بھائی میرے ٹوٹے پھوٹے اشعارکو ایک نظر دیکھ لیا کریں تو عنایت ہو گی ۔ابھی ایک غزل پوسٹ کی ہے
     
    • دوستانہ دوستانہ × 2
  13. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    سر یہ "پر" اصل میں "پُر" ہے یعنی پُر شکستہ، کیا یہ ترکیب درست ہے؟
     
  14. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,281
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    میں نے پر وہاں پر پنکھ کے معنوں میں استمال کیا ہے۔۔محترم آپ سے درخواست ہے میں ہر روز آپ کو بھی ٹیگ کرتا ہوں مگرآپ اپنی رائے نہیں دیتے۔۔کیا ناراض ہیں۔ یا اس قابل نہیں سمجھتے۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  15. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    جی ارشد بھائی ضرور۔ اصل میں سر الف عین کے تجزیے کے بعد کچھ کہنے کی ہمت نہیں ہوتی۔ ان سے پہلے کچھ کہہ سکوں تو ضرور عرض کروں گا۔
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  16. ارشد چوہدری

    ارشد چوہدری محفلین

    مراسلے:
    1,281
    جھنڈا:
    UnitedStates
    موڈ:
    Brooding
    ہاں بالکل ان سے پہلے دیکھ لیا کریں تو تصحیح میں مدد ملے گی
     
  17. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,859
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    پر شکستہ صحیح، سینے میں
    دل تو ہم بھی جناب رکھتے ہیں
    بہت گفتگو ہو چکی۔ پُر تو بہرحال غلط ہے۔ خلیل میاں اور ارشد صاحب دونوں کے مجوزہ مصرعے خوب ہیں مگر دونوں کے الگ الگ مفہوم ہیں۔ جو چاہو قبول کر کو۔ 'پہ' بمعنی لیکن بول چال میں اگرچہ نہیں آتا لیکن کلاسیکی شاعری میں بہت استعمال ہوتا ہے ۔ اس کا تلفظ پ پر فتحہ کے ساتھ ہوتا ہے۔ کسرہ کے ساتھ 'پر' کے معنی میں۔بول چال میں 'پر' بھی بمعنی لیکن استعمال ہوتا ہے
    دوسرے اشعار میں
    کیسے تنگ دل ہیں میکدے کے لوگ
    برتنوں میں شراب رکھتے ہیں
    .... تنگ کا گ غائب ہو گیا! برتنوں میں نہیں تو کیا بوریوں میں شراب بھری جانی چاہیے!

    ضبط کی ریت میں دبے آنسو
    بے بسی کا عذاب رکھتے ہیں
    .. سمجھ نہیں سکا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • معلوماتی معلوماتی × 1
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  18. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    شکریہ سر
    جی سر ٹھیک ہے۔
    :D
    سر یہ شعر شاید عجز بیاں کا شکار ہو گیا ہے۔ کہنا یہ چاہ رہا تھا کہ تنگ دل لوگ ناپ تول کر شراب رکھتے ہیں۔ سر ان میں سے کوئی مناسب رہے گا

    تنگ دل میکدے کے ساقی ہیں
    گھونٹ تک کا حساب رکھتے ہیں
    یا
    تنگ دل میکدے کے ساقی ہیں
    ناپ کر جو شراب رکھتے ہیں

    یعنی ضبط کی وجہ سے جو آنسو رکے ہوئے ہیں ان میں بے بسی کا عذاب ہے۔ "ضبط کی ریت" اگر مناسب نہیں تو، یوں مناسب رہے گا۔

    علتِ ضبط میں چھپے آنسو
     
  19. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    33,859
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    تنگ دل میکدے کے ساقی ہیں
    گھونٹ تک کا حساب رکھتے ہیں
    بہتر ہے
    اور
    ضبط جو کر لیے تھے، وہ آنسو
    بہتر نہیں ہو گا؟ سیدھا سادہ جملہ ہو تو بہتر ہے
     
    • زبردست زبردست × 2
  20. فلسفی

    فلسفی محفلین

    مراسلے:
    2,584
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Pensive
    ٹھیک ہے سر
    بہتر نہیں سر بہترین ہے۔

    وہ سرہانے کتاب رکھتے ہیں
    جانے کیا کیا حساب رکھتے ہیں

    جاگ کر جو گزارتے ہیں رات
    وہ بھی آنکھوں میں خواب رکھتے ہیں

    میری تربت پہ باوفا قاتل
    روز تازہ گلاب رکھتے ہیں

    دل کش ان کی ہیں بے حجاب آنکھیں
    وہ جو رخ پر نقاب رکھتے ہیں

    گو شکستہ سہی پہ سینے میں
    دل تو ہم بھی جناب رکھتے ہیں

    وہ بھی اہلِ وفا ہیں جو اب تک؟
    فہمِ عیب و صواب رکھتے ہیں

    تنگ دل میکدے کے ساقی ہیں
    گھونٹ تک کا حساب رکھتے ہیں

    ضبط جو کر لیے تھے، وہ آنسو
    بے بسی کا عذاب رکھتے ہیں

    قلبِ مردہ پہ خون کے دھبے
    جانے کیا اضطراب رکھتے ہیں؟

    ہم اکیلے سفر نہیں کرتے
    رنج کو ہم رکاب رکھتے ہیں

    فلسفیؔ تیرے شہر کے عاشق
    خود کو زیرِ عتاب رکھتے ہیں​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر