برائے اصلاح - اساتذہ کے پیشِ نظر

ملک سعد احمد نے 'اِصلاحِ سخن' کی ذیل میں اس موضوع کا آغاز کیا، ‏فروری 27, 2021

  1. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    اس کے دامن میں اترتے ہیں ستارے اکثر
    وہ جو چاہت سے مرے بال سنوارے اکثر

    غم کے صہرا میں میسر ہو ہی جاتی ہے خوشی
    پیار سے جب وہ مرا نام پکارے اکثر

    اس کی قربت میں نہیں خوف بھی اس لمحے کا
    جس میں رہتے نہیں ہیں لوگ ہمارے اکثر

    گر ملے بیچ سمندر بھی جو طوفاں ہم کو
    اس کی لائے دعا ہی کھینچ کنارے اکثر

    میں نہ لوٹوں تو پریشانی میں وہ تو میری
    جاگتی آنکھوں میں ہی رات گزارے اکثر

    سعد کہتے رہیں کچھ بھی یہ زمانے والے
    بیٹے ہوتے ہیں ماں کے راج دلارے اکثر
     
  2. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
  3. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,851
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اکثر ردیف اکثر بے معنی لگ رہی ہے بطور خاص 'جو' یا 'جب' کے ساتھ تو قطعی غلط ہے
    اس کے دامن میں اترتے ہیں ستارے اکثر
    وہ جو چاہت سے مرے بال سنوارے اکثر
    ... ردیف جیسا اوپر کہا گیا

    غم کے صہرا میں میسر ہو ہی جاتی ہے خوشی
    پیار سے جب وہ مرا نام پکارے اکثر
    ... ردیف، 'ہو ہی' میں تنافر تو ہے ہی، 'ہُہِ' تقطیع ہونا بھی درست نہیں

    اس کی قربت میں نہیں خوف بھی اس لمحے کا
    جس میں رہتے نہیں ہیں لوگ ہمارے اکثر
    .. مفہوم؟

    گر ملے بیچ سمندر بھی جو طوفاں ہم کو
    اس کی لائے دعا ہی کھینچ کنارے اکثر
    .. دعا کے الف کا اسقاط اچھا نہیں
    لائے اس کی ہی دعا کھینچ کنارے اکثر

    میں نہ لوٹوں تو پریشانی میں وہ تو میری
    جاگتی آنکھوں میں ہی رات گزارے اکثر
    ... میری پریشانی؟ یا میری طرف سے پریشانی؟ ہاں، فکر میں میری ہو سکتا ہے
    جاگتی. آنکھوں بھی محاورے کے خلاف ہے. محاورہ آنکھوں ہی آنکھوں میں ہوتا ہے

    سعد کہتے رہیں کچھ بھی یہ زمانے والے
    بیٹے ہوتے ہیں ماں کے راج دلارے اکثر
    .. دوسرا مصرع بحر سے خارج ہے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 1
    • زبردست زبردست × 1
  4. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    ایک عمر ہر انسان پر ایسی ہوتی ہے جس میں ماں ہی بال سنوارتی ہے۔

    یہ دوبارا سمجھا دیجئے

    ہو لمحہ جس میں لوگ آپ کو چھوڑ بھی دیں ،اگر ماں کی قربت حاصل ہو تو ایسے وقت میں بھی انسان کو کسی چیز کا خوف نہیں رہتا

    بہترین تدوین ۔ جزاک اللّہ

    جی اس پر غور کرتا ہوں

    نظر ثانی کیجئے، بہر میں ہے
     
  5. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    یہ شعر ماں کی شان میں کہا گیا تھا؟؟؟

    یہاں کون سے الفاظ سے اشارہ ہوتا ہے کہ ماں کے قرب کا ذکرِ خیر ہو رہا ہے؟؟؟

    میرے بھائی ۔۔۔ استادِ محترم کے مرتبہ کا خیال کریں ۔۔۔ جتنی ہماری آپ کی ملا کر عمر نہیں، اس سے زیادہ ان کا تجربہ ہے ۔۔۔ اگر وہ کہہ رہے ہیں تو ان کو نظرِ ثانی کا کہنے سے پہلے ایک بار یہ دیکھ لیں کہ کہاں غلطی کر رہے ہیں۔ ’’ماں کے‘‘ محض ’’مَکے‘‘ تقطیع ہو رہا ہے!!!
     
    • دوستانہ دوستانہ × 1
  6. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    میں نے یہ غزل لکھی ہی ایسے تھی کہ آخری شعر میں ظاہر ہو کہ ذکر کس کا ہو رہا ہے۔

    جی کسی گستاخی کا مرتکب ہوا ہوں تو معذرت چاہوں گا۔ ں ویسے ہی نہیں گنا جاتا ، ما ، م پر زبر سے مکمل ہو جاتا ہے۔ میں نے اپنے محدود علم کے ساتھ بات کی ہے۔ ظاہر ہے ، نظر ثانی کی بات پر استاد کو میرے علم کا انداذہ ہو جائے گا اور وہ اس کے مطابق جواب دیں گے۔
     
    آخری تدوین: ‏فروری 28, 2021
  7. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    :good1:
     
  8. الف عین

    الف عین لائبریرین

    مراسلے:
    35,851
    جھنڈا:
    India
    موڈ:
    Psychedelic
    اس کو نظم ہی کہیں اور عنوان ماں دے دیں۔
    قربت والے شعر کے علاوہ باقی اشعار سے سمجھا جا سکتا ہے کہ ماں کے بارے میں کہا جا رہا ہے، گو یقین کے ساتھ نہیں۔ماں کے کو مکے باندھا نہیں جا سکتا
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 3
  9. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    جی سر، اس کا عنوان ماں ہی ہے۔ اپ عرض کر رہے ہیں کے ماں کے کو تبدیل کیا جائے گویا ماں کا الف گرانا آپ کی تجویز کے مطابق درست نہیں۔

    میں سر اس شعر پر غور کرتا ہو اور بہتر کرنے کی کوشش کرتا ہوں
     
  10. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    مزید میں اس بارے میں اور علم چاھتا ہو کہ یہ کیسے انداذہ کیا جائے کہ مکے جیسے الفاظ باندھنا درست ہے کہ نہیں مثال کے لئے ، غالب صاحب کا مصرع ہے

    ہر ایک بات پہ کہتے ہو تم کہ تو کیا ہے

    اس میں ہر ایک ۔ ہ ریک میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ اس پوسٹ کا مقصد صرف حصول علم ہے
     
  11. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    اس کو وصالِ الف کہتے ہیں ... یہاں الف گرتا نہیں بلکہ اسکی حرکت اگلے حرف میں ضم ہو جاتی ہے ... اس سے روانی میں خلل نہیں آتا بلکہ اور بڑھ جاتی ہے، اسی لیے یہ اساتذہ کا اسلوب رہا ہے.
     
    آخری تدوین: ‏مارچ 1, 2021
  12. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    جی سمجھ گیا یعنی الف کی آواز ختم نہیں ہوئی بلکہ منتقل ہو گئی ہے۔ صحیح سمجھا ہوں ،،؟
     
  13. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    جی
     
  14. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    ایک اور بات سمجھا دیں کہ لفظ ہر کا ہ الگ کس کلیہ کے مطابق ہوا جبکہ ہر 2 کے وزن والا لفظ ہے
     
  15. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    ہر اگر مفرد ہو تو اس کا وزن 2 ہوگا. تاہم تقطیع ہمیشہ ملفوظی ہوتی ہے. ہر کا تلفظ ہَ+رْ ہوتا ہے. اس کی ر ساکن ہے اس لیے سامنے کے الف سے اس کا وصال ہو گیا.
     
  16. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    جزاک اللّہ
     
  17. ملک سعد احمد

    ملک سعد احمد محفلین

    مراسلے:
    29
    محمّد احسن سمیع :راحل:
    سر یہ کیسا رہے گا

    سعد کہتے رہیں کچھ بھی یہ زمانے والے
    ماں کے ہوتے ہیں پِسر راج دلارے اکثر
     
  18. محمّد احسن سمیع :راحل:

    محمّد احسن سمیع :راحل: محفلین

    مراسلے:
    1,863
    جھنڈا:
    Pakistan
    موڈ:
    Confused
    بیٹے ہی لے کر آئیں تو زیادہ اچھا لگے گا دلارے کے ساتھ
     
    • متفق متفق × 1
  19. سید عاطف علی

    سید عاطف علی لائبریرین

    مراسلے:
    11,743
    جھنڈا:
    SaudiArabia
    موڈ:
    Cheerful
    دونوں مصرع میں اسلوب بیان یکساں رہے تو بہتر ہو گا۔
    اترتے ہیں۔ کی جگہ اترجائیں ہو سکتا ہے ۔ سنوارے کی مناسبت سے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ × 2

اس صفحے کی تشہیر