بادۂ کہن۔ مولوی احمد علی

الف عین

لائبریرین
قدیم گمشدہ غزل، قبل از ۱۹۰۹ء
پوری کوئی کسی کی تمنا ہوئی تو کیا
اک شاخ شاخسار میں پھولی پھلی تو کیا
کل خار و خس پہ بیٹھ کے روئے گی زار زار
پھولوں پہ آج بیٹھ کے بلبل ہنسی تو کیا
باتیں کریں ہمیں جو کوئی رازداں ملے
سوتوں کے آگے رام کہانی کہی تو کیا
سانچے گرو کا پنتھ ہے من خاک میں ملاؤ
سائیں جی راکھ آپ نے تن پر ملی تو کیا
خرمن کے انتظار میں بجلی ہے بے قرار
اے ابر تیرے فیض سے گنگا بہی تو کیا
طے ہونے والی راہ میں ناداں مسافرو
راحت ملی تو کیا جو مصیبت سہی تو کیا
یہ رسم ہے کہ آپ ملے ضبط کو بچائے
کم ظرف شمع اشک بہاتی جلی تو کیا
جینے کا لطف جب ہے کہ ہو یار ہمکنار
مرنے کی آرزو میں کٹی زندگی تو کیا
احمدؔ کلام وہ ہے جو کرلے دلوں میں گھر
اس طرح یہ جناب نے کی دل لگی تو کیا
 

الف عین

لائبریرین
ناتمام غزل، قبل از ۱۹۰۹ء
جہاں میں بے بہا نعمت ہے صحبت آشناؤں کی
مگر ملنے کے لائق آشنا مشکل سے ملتا ہے
وہ میرے قتل کے درپے فدا ہونے کا میں خواہاں
کوئی کس دل سے ملتا ہے کوئی کس دل سے ملتا ہے
خس و خاشاک آنکھوں سے نکلواکر تجھے دیکھیں
جو کہتے ہیں ترا چہرہ مہ کامل سے ملتا ہے
کہاں قسمت گلے تجھ سے ملے یہ بھی غنیمت ہے
کہ جھک جھک کر ترا خنجر ترے بسمل سے ملتا ہے
تماشا بن گیا ڈوبا ہوا پیکاں کلیجے میں
کوئی بسمل سے ملتا ہے کوئی قاتل سے ملتا ہے
 

الف عین

لائبریرین
ایضاً قبل از ۱۹۰۹ء

وائے ناکامی کہ شد آغاز من انجام من
اندریں مردم کہ چوں آزاد باید ریستن
احمد از بوسیدن لب ہائے جاناں آرزوست
ہمچو نئے با نالہ و فریاد باید ریستن
خوبیِ کالانگر جوشِ خریداراں ببیں
آں چناں را با چنیں بیداد باید ریستن

یک شعر
دلم غرق خیالش محو دیدار ست پنداری
بخود ہم ننگرد از خویش بیزارست پنداری
مزید یک شعر
بہ رنج و راحتِ گیتی عبث گرفتاری
کہ قدر و قیمتِ ایں ہا چناں کہ دانی نیست
 

الف عین

لائبریرین
گمشدہ غزل،قبل ۱۹۰۲ء

سہ چلے ہم عمر کے آزار سوتے جاگتے
کٹ گئی یہ راہِ ناہموار سوتے جاگتے
دل پریشاں دن کو ہے خواب پریشاں رات کو
کل نہیں پڑتی مجھے اے یار سوتے جاگتے
مدعا یہ ہے ٹھہرنے میں نہیں کچھ اختیار
نبض ہم کو دے رہی ہے تار سوتے جاگتے
چشم دل ہوتی ہے واجب چشم سر ہوتی ہے بند
مجھ کو حاصل ہے ترا دیدار سوتے جاگتے
پھر بھی پرہیز و دوا سے جی چراتا ہے بشر
موت کے منہ میں ہے یہ بیمار سوتے جاگتے
ہم عناں ہیں ناز شاہی و نیاز بندگی
پاس رہتے ہیں مرے سرکار سوتے جاگتے
حبِّ دنیا دشمن جاں ہو گئی احمد علی
کھائے جاتی ہے مجھے مردار سوتے جاگتے
ایضاً
کیا سر میں ترے سودے نے گھر آہستہ آہستہ
وبالِ سر ہوا یہ دردِ سر آہستہ آہستہ
لطافت کا بھلا ہو خوف ہے کانٹے نہ چبھ جائیں
گل عارض پہ پھرتی ہے نظر آہستہ آہستہ
 

الف عین

لائبریرین
گمشدہ غزل،قبل ۱۹۰۲ء

سہ چلے ہم عمر کے آزار سوتے جاگتے
کٹ گئی یہ راہِ ناہموار سوتے جاگتے
دل پریشاں دن کو ہے خواب پریشاں رات کو
کل نہیں پڑتی مجھے اے یار سوتے جاگتے
مدعا یہ ہے ٹھہرنے میں نہیں کچھ اختیار
نبض ہم کو دے رہی ہے تار سوتے جاگتے
چشم دل ہوتی ہے واجب چشم سر ہوتی ہے بند
مجھ کو حاصل ہے ترا دیدار سوتے جاگتے
پھر بھی پرہیز و دوا سے جی چراتا ہے بشر
موت کے منہ میں ہے یہ بیمار سوتے جاگتے
ہم عناں ہیں ناز شاہی و نیاز بندگی
پاس رہتے ہیں مرے سرکار سوتے جاگتے
حبِّ دنیا دشمن جاں ہو گئی احمد علی
کھائے جاتی ہے مجھے مردار سوتے جاگتے

ایضاً

کیا سر میں ترے سودے نے گھر آہستہ آہستہ
وبالِ سر ہوا یہ دردِ سر آہستہ آہستہ
لطافت کا بھلا ہو خوف ہے کانٹے نہ چبھ جائیں
گل عارض پہ پھرتی ہے نظر آہستہ آہستہ


ضائع شدہ چند بند قبل از ۱۹۰۹ء
زمانہ دیکھ لیا سیر کی دیار دیار
ہوا نصیب نہ پل بے خمار و گل بے خار
ظلام و نور بہم نیش و نوش ہیں توّام
ہوئے ہیں شاہ کے ہمدم جہاں کے افکار
کلاہ دار سروں کو ہے دردِ سر لازم
کلاہ دار نہ بیمار ہوں تو ہیں بیمار
مگر مریض جہاں کے یہی صحیح مریض
نہ ہوں طبیب تو ہوجائے زندگی آزار
یہ جاگ جائیں تو ہوجائے عام چین کی نیند
اگر یہ سوئیں تو فتنے تمام ہوں بیزار
معین مذہب و ملّت امیر مستعصم
رقم طراز ہے عباسیوں کا نامہ نگار
ہوئے سریرِ خلافت پہ جب جلوس نواز
بدل چکی تھی بہت آسمان کی رفتار
کبھی زمیں میں دباتا ہے یہ نفیس گہر
کبھی زمیں سے اٹھاتا ہے یہ خسیس غبار
صغار نوحہ کناں تھے کبار نغمہ زناں
یہ میگسار وہ بیچارے زیست سے بیزار
نوائے حال کے جو گوش دل تھے محرمِ راز
ہر ایک سمت سے وہ سن رہے تھے یہ آواز

ایضاً

دیے ہیں دیس نکالے معاشیوں کو عبث
نکل سکیں تو نکالیں دلوں سے کینوں کو
میسر آئی جواہر مآب کان تو کیا
کریں تلاش معارف مآب سینوں کو
جوان و پیر کے مدنظر رہے یہ پند
ہر آنچہ خود نہ پسندی بہ دیگرے مپسند
 

الف عین

لائبریرین
قدیم گمشدہ

حذر ہے عدل کے ان سے فرس نشینوں کو
مہم ہے سخت گدھوں پر کسیں نہ زینوں کو
حریر پوش تن و توش پر ہیں اتراتے
شرف مکاں سے ملا ہے انہی مکینوں کو
خودی سے بیخود اور اس بیخودی سے ہیں غافل
کوئی کہے تو چڑھاتے ہیں آستینوں کو
دل ان سے کون ملائے کہ یہ فرش ابرو
ملائے رکھتے ہیں اپنی جبیں سے چینوں کو
نہ ہوں فلک سے بلندی طلب کہ یہ تارے
ملے ہیں خاک پہ رکھی ہوئی جبینوں کو
گہر فروش بہت معتبر سہی لیکن
خریدتے ہیں تو خود آنک لیں نگینوں کو
 

الف عین

لائبریرین
ناتمام

راز کی بات رازدار سے پوچھ
حال گلزار کا بہار سے پوچھ
صبر سرمایہ مسرت ہے
عربستاں کے روزہ دار سے پوچھ
رمز حب الوطن من الایماں
دور افتادہ دیار سے پوچھ

ناتمام

سراسر کامیابی ہے محبت اے ستم پرور
چھری گردن پہ چلتی پھر بھی لب پر آفریں ہوتی
ہر اک جلوہ نیا ہے وصل بھی ہوتا تو کیا ہوتا
کبھی راحت نہیں ملتی کبھی تسکیں نہیں ہوتی
سمجھتا میں کہ پہنچے پاؤں میرے چرخ ہفتم پر
اگر اس کے قدم کی خاک پر میری جبیں ہوتی
 

الف عین

لائبریرین
ناتمام قدیم قبل از ۱۹۰۹ء

ستم اس لیے ہیں مجھ پر کہ الم سے کل نہ آئے
اُسے زہر دے رہے ہو کہ جسے اجل نہ آئے
مری حق گزاریاں یہ کہ رہوں مدام شاکی
تری پاس داریاں وہ کہ جبیں پہ بل نہ آئے
مرے ناصبور دل کو یہی آرزو تھی زیبا
جو کیوں تو آن جائے نہ کیوں تو کل نہ آئے

ایضاً ارتجالاً، ناتمام

دھن دولت شان اور شوکت سے سب امیدیں بے فائدہ ہیں
غافل ناداں گر تجھ کو خواہش چین کی ہو تو مرکر دیکھو
تو کس کو ڈھونڈتا پھرتا ہے دریا دریا جنگل جنگل
ہے تو یہی ہے جہاں جو کچھ ہے ذرا آپے سے اپنے گزر کر دیکھ
آنکھ کے اک ادنیٰ سے ذرے میں بے گنتی سورج مخفی ہیں
آنکھیں تو دل کی کھول ذرا پھر اس دنیا پر نظر کر دیکھ

قبل از ۱۹۲۳ء

دریا کی تہ میں منزلِ مقصود ہے نہاں
کشتی ہماری بیچ میں ڈوبے تو پار ہو
نادان زاہدوں کی رسائی وہاں کہاں
فردون جس کی راہ میں اک سبزہ زار ہو
احمد صف فعال میں بیٹھے ہیں دیکھنا
جیسے کہ زیبِ صدر کوئی شہریار ہو
ایک شعر
جو حال ہے دل کا وہ بیاں ہو نہیں سکتا
کہنے سے بھی یہ راز عیاں ہو نہیں سکتا
 

الف عین

لائبریرین
ناتمام و گمشدہ، ۱۹۲۵ء

زخموں سے تپاں شوق شہادت میں رواں بھی
بسمل تری نظروں کے چنیں بھی ہے چناں بھی
اللہ کرم اب تو مری تشنہ لبی پر
ساقی ہے شب قدر بھی ماہِ رمضاں بھی
پروانے کے انداز ہیں بچوں کا تماشہ
پُھنک جائیے اس طرح کہ اٹھے نہ دھواں بھی
اس راہ سے آگے ہے بہت رند کی منزل
جس راہ میں اک سبز خیاباں ہے جناں بھی
 

الف عین

لائبریرین
ناتمام

یہاں بقا ہے فنا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
طبیب مری دوا ہو تو ہو نہ ہو تو ہو
ہمیں تو حقِ محبت سے کچھ نہیں سروکار
یہ قرض تم سے ادا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
مری مراد ہے تم پر نثار ہوجانا
تمھیں خیال مرا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
ہمیں تو نگہتِ گل کی امید کافی ہے
چمن میں بادِ صبا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
مری وفا ہے طبیعی کسی غرض سے نہیں
کسی کو پاسِ وفا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
غنی ہوئے جو ملی دیدِ یار کی دولت
یہ ملک و مال ہے کیا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
وہ اپنی چال چلیں گے کچھ اس کی فکر نہیں
جہاں میں حشر بپا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
مجھے تو آپ سے عرضِ نیاز لازم ہے
قبول میری دعا ہو تو نہ ہو تو نہ ہو
ہماری زیست ہماری نہیں تمھاری ہے
اگر تمھاری رضا ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
سوال خوئے رضا کے خلاف ہے احمدؔ
وہ آپ جلوہ نما ہو تو ہو نہ ہو تو نہ ہو
*****
 

الف عین

لائبریرین
تشکر جناب ع واحد اور ڈاکٹر شاہد ماہلی۔ ڈائریکٹر، غالب اکیڈمی دہلی
ان پیج سے تبدیلی، تدوین، اور ای بک کی تخلیق: اعجاز عبید
اردو لائبریری ڈاٹ آرگ، کتابیں ڈاٹ آئی فاسٹ نیٹ داٹ کام اور کتب ڈاٹ 250 فری ڈاٹ کام کی مشترکہ پیشکش
 
Top